"قاسم سلیمانی" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
م
م (سپاہ قدس کی سپہ سالاری)
(ایک ہی صارف کا 3 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 32: سطر 32:
 
'''قاسم سلیمانی''' (1957-2020ء) ایران کے [[سپاہ قدس]] کے سربراہ تھے۔ [[ایران عراق جنگ]] میں آپ 41 برگیڈ (ثاراللہ) کی قیادت کر رہے تھے۔
 
'''قاسم سلیمانی''' (1957-2020ء) ایران کے [[سپاہ قدس]] کے سربراہ تھے۔ [[ایران عراق جنگ]] میں آپ 41 برگیڈ (ثاراللہ) کی قیادت کر رہے تھے۔
  
جنرل قاسم سلیمانی سنہ 2001ء کو [[جمہوری اسلامی ایران]] کے سپریم لیڈر [[آیت‌اللہ خامنہ ای]] کے حکم سے [[سپاہ قدس]] کے سپہ سالار منصوب ہوئے۔ عراق اور شام میں [[داعش]] کے ظہور کے بعد قاسم سلیمانی سپاه قدس کے کمانڈر کی حیثیت سے ان ملکوں میں حاضر ہو کر عوامی رضاکار فورسز کو منظم کر کے داعش کے خلاف مقابلہ کیا۔ سلیمانی 3 جنوری سنہ 2020ء کو بغداد ایئرپورٹ پر امریکی حملے میں اپنے ساتھیوں سمیت شہید ہوئے۔
+
جنرل قاسم سلیمانی سنہ 2001ء کو [[جمہوری اسلامی ایران]] کے سپریم لیڈر [[آیت‌اللہ خامنہ ای]] کے حکم سے [[سپاہ قدس]] کے سپہ سالار منصوب ہوئے۔ عراق اور شام میں [[داعش]] کے ظہور کے بعد قاسم سلیمانی سپاه قدس کے کمانڈر کی حیثیت سے ان ملکوں میں حاضر ہو کر عوامی رضاکار فورسز کو منظم کر کے داعش کے خلاف مقابلہ کیا۔ سلیمانی 3 جنوری سنہ 2020ء کو بغداد ایئرپورٹ کے قریب امریکی حملے میں اپنے ساتھیوں سمیت شہید ہوئے۔
  
 
24 جنوری 2011ء کو آپ میجر جنرل کے عہدے پر فائز ہوئے۔
 
24 جنوری 2011ء کو آپ میجر جنرل کے عہدے پر فائز ہوئے۔
سطر 41: سطر 41:
 
جنرل قاسم سلیمانی 3 جنوری 2020ء کو امریکی حملے میں عراق کے رضاکار فورس [[حشد الشعبی]] کے نائب سپہ سالار [[ابو مہدی المہندس]] سمیت بعض دیگر ساتھیوں کے ساتھ  بغداد میں شہید ہوئے۔<ref>[https://fa.abna24.com/news/%d8%a7%d8%ae%d8%a8%d8%a7%d8%b1-%d8%a2%d8%b3%db%8c%d8%a7%db%8c-%d8%ba%d8%b1%d8%a8%db%8c-%d9%88-%d8%ae%d8%a7%d9%88%d8%b1%d9%85%db%8c%d8%a7%d9%86%d9%87/%d8%b3%d8%b1%d9%84%d8%b4%da%a9%d8%b1-%d9%82%d8%a7%d8%b3%d9%85-%d8%b3%d9%84%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%a8%d9%87-%d8%b4%d9%87%d8%a7%d8%af%d8%aa-%d8%b1%d8%b3%db%8c%d8%af_763017.html «اخبار لحظہ بہ لحظہ از شہادت حاج "قاسم سلیمانی" و "ابومہدی المہندس" و واکنش‌ها به آن»]</ref>
 
جنرل قاسم سلیمانی 3 جنوری 2020ء کو امریکی حملے میں عراق کے رضاکار فورس [[حشد الشعبی]] کے نائب سپہ سالار [[ابو مہدی المہندس]] سمیت بعض دیگر ساتھیوں کے ساتھ  بغداد میں شہید ہوئے۔<ref>[https://fa.abna24.com/news/%d8%a7%d8%ae%d8%a8%d8%a7%d8%b1-%d8%a2%d8%b3%db%8c%d8%a7%db%8c-%d8%ba%d8%b1%d8%a8%db%8c-%d9%88-%d8%ae%d8%a7%d9%88%d8%b1%d9%85%db%8c%d8%a7%d9%86%d9%87/%d8%b3%d8%b1%d9%84%d8%b4%da%a9%d8%b1-%d9%82%d8%a7%d8%b3%d9%85-%d8%b3%d9%84%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%a8%d9%87-%d8%b4%d9%87%d8%a7%d8%af%d8%aa-%d8%b1%d8%b3%db%8c%d8%af_763017.html «اخبار لحظہ بہ لحظہ از شہادت حاج "قاسم سلیمانی" و "ابومہدی المہندس" و واکنش‌ها به آن»]</ref>
  
==ایران اور عراق جنگ کے دوران==
+
==ایران عراق جنگ کے دوران==
قاسم سلیمانی ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سنہ 1980ء کو [[سپاہ پاسدارن انقلاب اسلامی]] میں بھرتی ہوئے اور [[ایران عراق جنگ]] کے دوران کرمان میں کئی بٹالین کو جنگی تربیت دے کر مورچوں کی طرف روانہ کیا۔<ref>[https://www.asriran.com/fa/news/574404 «روایت زندگی و کارنامہ سردار قاسم سلیمانی».]</ref> مختصر عرصے کے لئے انہوں نے سپاہ قدس کے آذربایجان غربی برگیڈ کی کمان سنبھالی۔<ref>[https://snn.ir/fa/news/741813 «قاسم سلیمانی مورد احترام دوستان و دشمنانش است».]</ref> جنرل سلیمانی سنہ 1981ء کو سپاہ پاسداران کے اس وقت کے سپہ سالار، [[محسن رضایی]] کے حکم سے سپاہ قدس کے 41ویں برگیڈ ثاراللہ کے سربراہ منصوب ہوئے۔<ref>[https://www.asriran.com/fa/news/574404 «روایت زندگی و کارنامہ سردار قاسم سلیمانی».]</ref> ایران کے خلاف عراق کی مسلط کرده جنگ کے دوران مختلف عملیات من جملہ والفجر 8، کربلا 4 اور کربلا 5 کے کمانڈروں میں شامل تھے۔<ref>[https://www.yjc.ir/fa/news/5528591 «سردار سلیمانی و کسانی کہ لقب "مردی در سایہ" را بہ او می‌دہند».]</ref> عملیات کربلا 5 ایران، عراق جنگ کی سب سے اہم عملیات میں سے تھی جو عراق کی بعثی حکومت کی سیاسی اور نظامی تضعیف اور ایران کی نظامی قدرت میں اضافہ کے باعث بنی<ref>[https://www.yjc.ir/fa/news/6790956 «روایت جالب سردار سلیمانی از امدادہای الہی در عملیات کربلای ۵».]</ref>
+
قاسم سلیمانی ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سنہ 1980ء کو [[سپاہ پاسدارن انقلاب اسلامی]] میں بھرتی ہوئے اور [[ایران عراق جنگ]] کے دوران کرمان میں کئی بٹالین کو جنگی تربیت دے کر مورچوں کی طرف روانہ کیا۔<ref>[https://www.asriran.com/fa/news/574404 «روایت زندگی و کارنامہ سردار قاسم سلیمانی».]</ref> مختصر عرصے کے لئے انہوں نے سپاہ قدس کے آذربایجان غربی برگیڈ کی کمان سنبھالی۔<ref>[https://snn.ir/fa/news/741813 «قاسم سلیمانی مورد احترام دوستان و دشمنانش است».]</ref> جنرل سلیمانی سنہ 1981ء کو سپاہ پاسداران کے اس وقت کے سپہ سالار، [[محسن رضایی]] کے حکم سے سپاہ قدس کے 41ویں برگیڈ ثاراللہ کے سربراہ منصوب ہوئے۔<ref>[https://www.asriran.com/fa/news/574404 «روایت زندگی و کارنامہ سردار قاسم سلیمانی».]</ref> ایران کے خلاف عراق کی مسلط کرده جنگ کے دوران مختلف آپریشنز من جملہ والفجر 8، کربلا 4 اور کربلا 5 نامی آپریشن کے کمانڈروں میں شامل تھے۔<ref>[https://www.yjc.ir/fa/news/5528591 «سردار سلیمانی و کسانی کہ لقب "مردی در سایہ" را بہ او می‌دہند».]</ref> عملیات کربلا 5 ایران، عراق جنگ کی سب سے اہم آپریشنز میں سے تھیں جو عراق کی بعثی حکومت کی سیاسی اور فوجی طاقت کو کمزور کرنے اور ایران کی فوجی قدرت میں اضافہ کے باعث بنی<ref>[https://www.yjc.ir/fa/news/6790956 «روایت جالب سردار سلیمانی از امدادہای الہی در عملیات کربلای ۵».]</ref>
  
جنرل سلیمانی [[ایران، عراق جنگ]] کے خاتمے کے بعد سنہ 1989ء کو دوبارہ [[کرمان]] واپس آئے اور ایران کے مشرقی باڈر سے ایران میں داخل ہونے ہونے والے مسلح گروہوں کے ساتھ مقابلہ کیا۔<ref name=":0">[https://www.yjc.ir/fa/news/5528591 «سردار سلیمانی و کسانی که لقب "مردی در سایہ" را بہ او می‌دہند».]</ref> جنرل سلیمانی [[سپاہ قدس]] کی سربراہی پر منصوب ہونے سے پہلے [[ایران]] اور [[افغانستان]] کے باڈر پر منشیات سمگلینگ کرنے والے گروہوں کے ساتھ برسر پیکار رہے۔<ref name=":0" />
+
جنرل سلیمانی [[ایران، عراق جنگ]] کے خاتمے کے بعد سنہ 1989ء کو دوبارہ [[کرمان]] واپس آئے اور ایران کے مشرقی باڈر سے ایران میں داخل ہونے ہونے والے دہشتگرد مسلح گروہوں کے ساتھ مقابلہ کیا۔<ref name=":0">[https://www.yjc.ir/fa/news/5528591 «سردار سلیمانی و کسانی که لقب "مردی در سایہ" را بہ او می‌دہند».]</ref> جنرل سلیمانی [[سپاہ قدس]] کی سربراہی پر منصوب ہونے سے پہلے [[ایران]] [[افغانستان]] کے باڈر پر منشیات سمگلینگ کرنے والے سمگلروں کے ساتھ برسر پیکار رہے۔<ref name=":0" />
  
  
سطر 50: سطر 50:
  
 
== سپاہ قدس کی سپہ سالاری==
 
== سپاہ قدس کی سپہ سالاری==
قاسم سلیمانی سنہ 1998ء کو ایران کے سپریم لیڈر [[سید علی حسینی خامنہ ای|آیت‌اللہ خامنہ ای]] کی طرف سے [[سپاہ پاسداران انقلاب]] کے قدس برگیڈ کے سربراہ منصوب ہوئے۔<ref>[https://www.asriran.com/fa/news/574404 «روایت زندگی و کارنامہ سردار قاسم سلیمانی».]</ref> اسرائیلی خصوصی اطلاعاتی مرکز کی رپورٹ کے مطابق سپاہ قدس برگیڈ کو سنہ 1990ء میں [[ایران]] سے باہر کاروائیوں میں اضافے کی غرض سے تشکیل دیا گیا تھا اور جنرل احمد وحیدی کے بعد جنرل قاسم سلیمانی اس برگیڈ کے دوسرے سپہ سالار تھے۔<ref name=":1">بہمن، «نقش نیروی قدس در حل بحران‌ہای غرب آسیا»، ص۲۴-۲۵.</ref> اس رپورٹ کے مطابق جنرل قاسم سلیمانی نے [[مشرق وسطی]] میں ایرانی اثر رسوخ میں اضافہ، خاص کر اس منطقے میں رونما ہونے والے واقعات یعنی [[اسلامی بیداری]] کی تحریک (بہار عربی) میں نہایت کلیدی کردار ادا کیا۔<ref name=":1" /> اسی طرح اس رپورٹ میں آیا ہے کہ ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کی مظبوط حکمت عملی کے طفیل [[عراق]]، [[شام]] اور [[انصاراللہ یمن]] کی حمایت میں اپنے اثر و رسوخ میں بہت حد تک اضافہ کیا ہے۔<ref name=":1" />
+
قاسم سلیمانی سنہ 1998ء کو ایران کے سپریم لیڈر [[سید علی حسینی خامنہ ای|آیت‌اللہ خامنہ ای]] کی طرف سے [[سپاہ پاسداران انقلاب]] کے قدس برگیڈ کے سربراہ منصوب ہوئے۔<ref>[https://www.asriran.com/fa/news/574404 «روایت زندگی و کارنامہ سردار قاسم سلیمانی».]</ref> اسرائیلی خصوصی اطلاعاتی مرکز کی رپورٹ کے مطابق سپاہ قدس برگیڈ کو سنہ 1990ء میں [[ایران]] سے باہر کاروائیوں میں اضافے کی غرض سے تشکیل دیا گیا تھا اور جنرل احمد وحیدی کے بعد جنرل قاسم سلیمانی اس برگیڈ کے دوسرے سپہ سالار تھے۔<ref name=":1">بہمن، «نقش نیروی قدس در حل بحران‌ہای غرب آسیا»، ص۲۴-۲۵.</ref> اس رپورٹ کے مطابق جنرل قاسم سلیمانی نے [[مشرق وسطی]] میں ایرانی اثر رسوخ میں اضافہ، خاص کر اس منطقے میں رونما ہونے والے واقعات یعنی [[اسلامی بیداری]] کی تحریک (بہار عربی) میں نہایت کلیدی کردار ادا کیا۔<ref name=":1" /> اسی طرح اس رپورٹ میں آیا ہے کہ ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کی مضبوط حکمت عملی کے طفیل [[عراق]]، [[شام]] اور [[انصاراللہ یمن]] کی حمایت میں اپنے اثر و رسوخ میں بہت حد تک اضافہ کیا ہے۔<ref name=":1" />
 
{{نقل قول| عنوان =| نقل‌ قول = '''[[آیت‌اللہ خامنہ ای]] کی طرف سے داعش کی نابودی کے بعد جنرل قاسم سلیمانی کے خط کے جواب سے اقتباس:'''
 
{{نقل قول| عنوان =| نقل‌ قول = '''[[آیت‌اللہ خامنہ ای]] کی طرف سے داعش کی نابودی کے بعد جنرل قاسم سلیمانی کے خط کے جواب سے اقتباس:'''
  
سطر 62: سطر 62:
  
 
===نشان ذوالفقار دریافت کرنا===
 
===نشان ذوالفقار دریافت کرنا===
10 مارچ سنہ 2019ء کو ایران کے سپریم لیڈر [[آیت‌اللہ خامنہ ای]] کی طرف سے جنرل سلیمانی کو - ایران کے سب سے اعلی فوجی اعزاز - نشان ذوالفقار سے نوازا گیا۔<ref>[https://www.yjc.ir/fa/news/6861497 «سردار سلیمانی نشان ذوالفقار را از رہبر انقلاب دریافت کرد+ تصویر نشان».]</ref> اسلامی جمہوری ایران کے فوجی اعزاز دینے سے مربوط قانون کے مطابق یہ نشان ان کمانڈروں کو اور فوجی آفیسروں کو دیا جاتا ہے جن کی حکمت عملی مختلف فوجی عملیات میں نتیجہ خیز ثابت ہوں۔<ref>[https://www.farsnews.com/news/13971220000613 ««نشان عالی ذوالفقار» بہ چہ کسانی دادہ می ‌شود؟»]</ref>ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد جنرل سلیمانی پہلے شخص ہیں جنہوں نے یہ نشان دریافت کئے ہیں۔<ref>[https://www.yjc.ir/fa/news/6861497 «سردار سلیمانی نشان ذوالفقار را از رہبر انقلاب دریافت کرد+ تصویر نشان».]</ref>
+
10 مارچ سنہ 2019ء کو ایران کے سپریم لیڈر [[آیت‌اللہ خامنہ ای]] کی طرف سے جنرل سلیمانی کو - ایران کے سب سے اعلی فوجی اعزاز - نشان ذوالفقار سے نوازا گیا۔<ref>[https://www.yjc.ir/fa/news/6861497 «سردار سلیمانی نشان ذوالفقار را از رہبر انقلاب دریافت کرد+ تصویر نشان».]</ref> اسلامی جمہوری ایران کے فوجی اعزاز دینے سے مربوط قانون کے مطابق یہ نشان ان کمانڈروں کو اور فوجی آفیسروں کو دیا جاتا ہے جن کی حکمت عملی مختلف فوجی آپریشنز میں نتیجہ خیز ثابت ہوں۔<ref>[https://www.farsnews.com/news/13971220000613 ««نشان عالی ذوالفقار» بہ چہ کسانی دادہ می ‌شود؟»]</ref>ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد جنرل سلیمانی پہلے شخص ہیں جنہوں نے یہ نشان دریافت کیا ہے۔<ref>[https://www.yjc.ir/fa/news/6861497 «سردار سلیمانی نشان ذوالفقار را از رہبر انقلاب دریافت کرد+ تصویر نشان».]</ref>
  
 
==عالمی مقبولیت==
 
==عالمی مقبولیت==

نسخہ بمطابق 09:09, 16 جنوری 2020

قاسم سلیمانی
سردار سلیمانی.JPG
کوائف
نام قاسم
لقب سلیمانی
تاریخ پیدائش 11 مارچ 1957ء
آبائی شہر صوبہ کرمان، رابُر شہر
ملک ایران
تاریخ وفات 3 جنوری 2020ء
مقام وفات بغداد ہوائی اڈے کے قریب
علت وفات امریکی ہوائی حملہ
آرامگاہ کرمان
اولاد دو بیٹے ایک بیٹی
دین اسلام
مذہب شیعہ
پیشہ فوجی جنرل
اطلاعات سیاسی
مناصب سپاہ قدس کے کمانڈر
پیشرو احمد وحیدی
جانشین اسماعیل قاآنی
علمی و دینی معلومات


قاسم سلیمانی (1957-2020ء) ایران کے سپاہ قدس کے سربراہ تھے۔ ایران عراق جنگ میں آپ 41 برگیڈ (ثاراللہ) کی قیادت کر رہے تھے۔

جنرل قاسم سلیمانی سنہ 2001ء کو جمہوری اسلامی ایران کے سپریم لیڈر آیت‌اللہ خامنہ ای کے حکم سے سپاہ قدس کے سپہ سالار منصوب ہوئے۔ عراق اور شام میں داعش کے ظہور کے بعد قاسم سلیمانی سپاه قدس کے کمانڈر کی حیثیت سے ان ملکوں میں حاضر ہو کر عوامی رضاکار فورسز کو منظم کر کے داعش کے خلاف مقابلہ کیا۔ سلیمانی 3 جنوری سنہ 2020ء کو بغداد ایئرپورٹ کے قریب امریکی حملے میں اپنے ساتھیوں سمیت شہید ہوئے۔

24 جنوری 2011ء کو آپ میجر جنرل کے عہدے پر فائز ہوئے۔

سوانح حیات

قاسم سلیمانی ولد حسن 11 مارچ 1957ء کو ایران کے صوبہ کرمان کے مضافات میں رابُر نامی شہر کے سلیمانی قبیلے میں متولد ہوئے۔ 18 سال کی عمر میں محکمہ آب رسانی میں ملازمت شروع کی۔[1] ایران کے اسلامی انقلاب کے دوران وہ مشہد کے رضا کامیاب نامی عالم دین سے آشنا ہوئے جس نے ان کو انقلابی سرگرمیوں میں شامل کیا۔[2] ان کے بھائی سہراب سلیمانی کے بقول، جنرل قاسم سلیمانی، ایرانی میں اسلامی انقلاب کے دوران کرمان میں ہونے والے مظاہروں اور احتجاجات کرانے والوں میں سے تھے۔[3]

جنرل قاسم سلیمانی 3 جنوری 2020ء کو امریکی حملے میں عراق کے رضاکار فورس حشد الشعبی کے نائب سپہ سالار ابو مہدی المہندس سمیت بعض دیگر ساتھیوں کے ساتھ بغداد میں شہید ہوئے۔[4]

ایران عراق جنگ کے دوران

قاسم سلیمانی ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سنہ 1980ء کو سپاہ پاسدارن انقلاب اسلامی میں بھرتی ہوئے اور ایران عراق جنگ کے دوران کرمان میں کئی بٹالین کو جنگی تربیت دے کر مورچوں کی طرف روانہ کیا۔[5] مختصر عرصے کے لئے انہوں نے سپاہ قدس کے آذربایجان غربی برگیڈ کی کمان سنبھالی۔[6] جنرل سلیمانی سنہ 1981ء کو سپاہ پاسداران کے اس وقت کے سپہ سالار، محسن رضایی کے حکم سے سپاہ قدس کے 41ویں برگیڈ ثاراللہ کے سربراہ منصوب ہوئے۔[7] ایران کے خلاف عراق کی مسلط کرده جنگ کے دوران مختلف آپریشنز من جملہ والفجر 8، کربلا 4 اور کربلا 5 نامی آپریشن کے کمانڈروں میں شامل تھے۔[8] عملیات کربلا 5 ایران، عراق جنگ کی سب سے اہم آپریشنز میں سے تھیں جو عراق کی بعثی حکومت کی سیاسی اور فوجی طاقت کو کمزور کرنے اور ایران کی فوجی قدرت میں اضافہ کے باعث بنی[9]

جنرل سلیمانی ایران، عراق جنگ کے خاتمے کے بعد سنہ 1989ء کو دوبارہ کرمان واپس آئے اور ایران کے مشرقی باڈر سے ایران میں داخل ہونے ہونے والے دہشتگرد مسلح گروہوں کے ساتھ مقابلہ کیا۔[10] جنرل سلیمانی سپاہ قدس کی سربراہی پر منصوب ہونے سے پہلے ایران افغانستان کے باڈر پر منشیات سمگلینگ کرنے والے سمگلروں کے ساتھ برسر پیکار رہے۔[10]


جنرل قاسم سلیمانی کو 24 جنوری سنہ 2011ء کو جمہوری اسلامی ایران کے سپریم لیڈر آیت‌اللہ خامنہ ای کی طرف سے میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی۔[11]

سپاہ قدس کی سپہ سالاری

قاسم سلیمانی سنہ 1998ء کو ایران کے سپریم لیڈر آیت‌اللہ خامنہ ای کی طرف سے سپاہ پاسداران انقلاب کے قدس برگیڈ کے سربراہ منصوب ہوئے۔[12] اسرائیلی خصوصی اطلاعاتی مرکز کی رپورٹ کے مطابق سپاہ قدس برگیڈ کو سنہ 1990ء میں ایران سے باہر کاروائیوں میں اضافے کی غرض سے تشکیل دیا گیا تھا اور جنرل احمد وحیدی کے بعد جنرل قاسم سلیمانی اس برگیڈ کے دوسرے سپہ سالار تھے۔[13] اس رپورٹ کے مطابق جنرل قاسم سلیمانی نے مشرق وسطی میں ایرانی اثر رسوخ میں اضافہ، خاص کر اس منطقے میں رونما ہونے والے واقعات یعنی اسلامی بیداری کی تحریک (بہار عربی) میں نہایت کلیدی کردار ادا کیا۔[13] اسی طرح اس رپورٹ میں آیا ہے کہ ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کی مضبوط حکمت عملی کے طفیل عراق، شام اور انصاراللہ یمن کی حمایت میں اپنے اثر و رسوخ میں بہت حد تک اضافہ کیا ہے۔[13]

آیت‌اللہ خامنہ ای کی طرف سے داعش کی نابودی کے بعد جنرل قاسم سلیمانی کے خط کے جواب سے اقتباس:

آپ نے داعش جیسی سرطانی اور مہلک غدے کو نابود کر کے نہ فقط مشرق وسطی کے ممالک بلکہ پوری دنیا اور پوری انسانیت کی بہت بڑی خدمت کی ہیں۔[14]

عراق اور شام میں حاضری اور داعش سے مقابلہ

قاسم سلیمانی عراق[15] اور شام میں داعش کے خلاف برسر پیکار کمانڈروں میں سے تھے۔[16] داعش ایک سلفی دہشتگر گروہ ہے جو عراق میں صدام کے سقوط کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی خلاء کے نتیجے میں وجود میں آیا۔[17] ایران نے مشرق وسطی میں امن و امان کی بحالی کے لئے اس گروہ کے ساتھ مقابلہ شروع کیا۔ ایسنا نیوز کے مطابق سنہ 2011ء میں جنرل سلیمانی کی قیادت میں فاطمیون برگیڈ اور زینبیون برگیڈ نے داعش سے مقابلہ کرنے کے لئے شام کا رخ کیا۔[18][19] اسی طرح سنہ 2014ء میں عراق کے شہر موصل پر داعش نے قبضہ کیا اور قریب تھا کہ عراق کا دارالحکومت بغداد بھی ان کے قبضے میں آجائے؛ ایسے میں جنرل قاسم سلیمانی نے عراق کی رضا کار فورس حشد الشعبی کو منظم کرتے ہوئے داعش کو عراق سے نکال باہر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ عراق کے اس وقت کے وزیر اعظم حیدر العبادی نے داعش کو شکست دینے میں عراق کے اصلی ترین اتحادیوں میں جنرل قاسم سلیمانی کا نام لیتے ہیں۔[20][21]

کتاب "حاج قاسم" کی جلد

جنرل قاسم سلیمانی کے 21 نومبر سنہ 2017ء کو ایران کے داخلی اخبارات میں شایع ہونے والے خط میں آیت اللہ خامنہ ای کی خدمت میں داعش کی نابودی کا اعلان کیا اور عراقی کی سرحد پر واقع شام کے البوکمال نامی شہر میں شام کا پرچم لہرانے کی خبر دی۔[22]

اسرائیلی اخبار ہارتز، نے جنرل سلیمانی پر اسرائیل اور دنیا کے یہودیوں کے خلاف میزائل حملے کا الزام لگایا۔[23]

نشان ذوالفقار دریافت کرنا

10 مارچ سنہ 2019ء کو ایران کے سپریم لیڈر آیت‌اللہ خامنہ ای کی طرف سے جنرل سلیمانی کو - ایران کے سب سے اعلی فوجی اعزاز - نشان ذوالفقار سے نوازا گیا۔[24] اسلامی جمہوری ایران کے فوجی اعزاز دینے سے مربوط قانون کے مطابق یہ نشان ان کمانڈروں کو اور فوجی آفیسروں کو دیا جاتا ہے جن کی حکمت عملی مختلف فوجی آپریشنز میں نتیجہ خیز ثابت ہوں۔[25]ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد جنرل سلیمانی پہلے شخص ہیں جنہوں نے یہ نشان دریافت کیا ہے۔[26]

عالمی مقبولیت

سنہ 2019ء کو امریکی اخبار فارین پالیسی نے جنرل قاسم سلیمانی کا نام دنیا کے 100 منتخب دفاعی مفکروں میں شامل کیا۔[27]

مزید مطالعہ

کتاب "حاج قاسم (جستاری در خاطرات حاج قاسم سلیمانی)"، 167 صفحات پر مشتمل کتاب ہے جو ایران اور عراق جنگ کے دوران جنرل قاسم سلیمانی کے بعض تحریر نسخوں اور تقریروں پر مشتمل ہے۔۔یہ کتاب انتشارات "یا زہرا(س)" نے سنہ 2016ء میں منتشر کیا۔[28] اس کتاب کا عربی زبان میں ترجمہ بھی ہوا ہے جسے جمعیت المعارف لبنان نے منتشر کیا ہے۔[29]

حوالہ جات

  1. «روایت زندگی و کارنامہ سردار قاسم سلیمانی».
  2. مؤمنیان، «شہیدی کہ سردار سلیمانی را با انقلابیون علیہ شاہ پیوند داد».
  3. «سردار سلیمانی چگونہ زندگی می‌کند؟».
  4. «اخبار لحظہ بہ لحظہ از شہادت حاج "قاسم سلیمانی" و "ابومہدی المہندس" و واکنش‌ها به آن»
  5. «روایت زندگی و کارنامہ سردار قاسم سلیمانی».
  6. «قاسم سلیمانی مورد احترام دوستان و دشمنانش است».
  7. «روایت زندگی و کارنامہ سردار قاسم سلیمانی».
  8. «سردار سلیمانی و کسانی کہ لقب "مردی در سایہ" را بہ او می‌دہند».
  9. «روایت جالب سردار سلیمانی از امدادہای الہی در عملیات کربلای ۵».
  10. 10.0 10.1 «سردار سلیمانی و کسانی که لقب "مردی در سایہ" را بہ او می‌دہند».
  11. «ہمہ سرلشکرہای نیروہای مسلح ایران/ قاسم سلیمانی، رشید، ایزدی، شمخانی و...».
  12. «روایت زندگی و کارنامہ سردار قاسم سلیمانی».
  13. 13.0 13.1 13.2 بہمن، «نقش نیروی قدس در حل بحران‌ہای غرب آسیا»، ص۲۴-۲۵.
  14. «پاسخ رہبر انقلاب بہ نامہ سرلشکر قاسم سلیمانی دربارہ پایان سیطرہ داعش».
  15. «حقایقی ناشنیدہ از حضور سردار قاسم سلیمانی در عراق»۔
  16. «تصاویری از سردار سلیمانی در نبرد با داعش.»
  17. نباتیان، زمینہ ہای فکری سیاسی جریان بعثی تکفیری داعش، ۱۳۹۳ش، ص۸۷.
  18. «اعترافات مامور سابق FBI دربارہ سردار سلیمانی.»
  19. Soufan, «Qassem Soleimani and Iran’s Unique Regional Strategy», 2018.
  20. «اعترافات مامور سابق FBI دربارہ سردار سلیمانی.»
  21. Soufan, «Qassem Soleimani and Iran’s Unique Regional Strategy», 2018.
  22. «نامہ سرلشکر قاسم سلیمانی بہ رہبر انقلاب دربارہ پایان سیطرہ داعش»..
  23. «Who Is Qasem Soleimani, the Head of Iran's Quds Force That Attacked Israel».
  24. «سردار سلیمانی نشان ذوالفقار را از رہبر انقلاب دریافت کرد+ تصویر نشان».
  25. ««نشان عالی ذوالفقار» بہ چہ کسانی دادہ می ‌شود؟»
  26. «سردار سلیمانی نشان ذوالفقار را از رہبر انقلاب دریافت کرد+ تصویر نشان».
  27. سالاری، «یورو نیوز».
  28. «بخش‌های خواندنی کتاب «حاج قاسم»».
  29. «انتشار ترجمہ عربی کتاب «حاج قاسم» در لبنان».

مآخذ

  • Soufan، Ali، «Qassem Soleimani and Iran’s Unique Regional Strategy»، The Combating Terrorism Center، NOVEMBER 2018، VOLUME 11، ISSUE 10، تاریخ بازدید: ۲۴ دی ۱۳۹۷۔
  • «Who Is Qasem Soleimani, the Head of Iran's Quds Force That Attacked Israel»، در سایت روزنامہ ہائارتز، تاریخ درج مطلب: ۱۳ می‌۲۰۱۸، تاریخ بازدید: ۲۴ دی ۱۳۹۷۔
  • «اعترافات مامور سابق FBI دربارہ سردار سلیمانی»، در خبرگزاری ایسنا،‌ تاریخ درج مطلب: ۲۸ آبان ۱۳۹۷، ۱۱ بہمن ۱۳۹۷۔
  • «انتشار ترجمہ عربی کتاب «حاج قاسم» در لبنان»، در سایت خبری مشرق، تاریخ درج مطلب: ۰۷ اسفند ۱۳۹۶، تاریخ بازدید: ۱۴ بہمن ۱۳۹۷۔
  • «بخش‌ہای خواندنی کتاب «حاج قاسم»، در خبرگزاری مہر، تاریخ درج مطلب: ۱۳ آذر ۱۳۹۴، تاریخ بازدید: ۱۴ بہمن ۱۳۹۷۔
  • «تصاویری از سردار سلیمانی در نبرد با داعش»، در پایگاہ خبری آفتاب، تاریخ درج مطلب: ۰۱ آذر ۱۳۹۶، تاریخ بازدید:‌ ۱۱ بہمن ۱۳۹۷۔
  • «پاسخ رہبر انقلاب بہ نامہ سرلشکر قاسم سلیمانی دربارہ پایان سیطرہ داعش»، در پایگاہ اطلاع‌رسانی دفتر حفظ و نشر آثار آیت اللہ خامنہ‌ای، تاریخ درج مطلب: ۳۰ آبان ۱۳۹۶، ۱۴ بہمن ۱۳۹۷۔
  • «حقایقی ناشنیدہ از حضور سردار قاسم سلیمانی در عراق»، در خبرگزاری فارس، تاریخ درج مطلب: ۷ آذر ۱۳۹۳، تاریخ بازدید: ۱۱ بہمن ۱۳۹۷۔
  • «روایت جالب سردار سلیمانی از امدادہای الہی در عملیات کربلای ۵»، در سایت باشگاہ خبرنگاران جوان، تاریخ درج مطلب:‌۱۹ دی ۱۳۹۷، تاریخ بازدید، ۱۳ بہمن ۱۳۹۷۔
  • «روایت زندگی و کارنامہ سردار قاسم سلیمانی»، در سایت عصر ایران، تاریخ درج مطلب: ۲ آذر ۱۳۹۶، تاریخ بازدید: ۷ بہمن ۱۳۹۷۔
  • «سردار سلیمانی چگونہ زندگی می‌کند؟»در سایت نہاد نمایندگی مقام معظم رہبری دانشگاہ آزاد اسلامی قزوین، تاریخ بازدید: ۸ بہمن ۱۳۹۷۔
  • «سردار سلیمانی و کسانی کہ لقب "مردی در سایہ" را بہ او می‌دہند»، در سایت باشگاہ خبرنگاران جوان، تاریخ درج مطلب: ۱۷ اسفند ۱۳۹۴، تاریخ بازدید: ۷ بہمن ۱۳۹۷۔
  • «قاسم سلیمانی مورد احترام دوستان و دشمنانش است»، در سایت خبرگزاری دانشجو، تاریخ بازدید: ۷ بہمن ۱۳۹۷۔
  • «نامہ سرلشکر قاسم سلیمانی بہ رہبر انقلاب دربارہ پایان سیطرہ داعش»، در پایگاہ اطلاع‌رسانی دفتر حفظ و نشر آثار آیت اللہ خامنہ‌ای، تاریخ درج مطلب: ۳۰ آبان ۱۳۹۶، تاریخ بازدید: ۱۱ بہمن ۱۳۹۷۔
  • «ہمہ سرلشکرہای نیروہای مسلح ایران/ قاسم سلیمانی، رشید، ایزدی، شمخانی و۔۔۔»، در سایت خبرآنلاین،‌ تاریخ درج مطلب: ۱ شہریور ۱۳۹۶، تاریخ بازدید: ۱۱ بہمن ۱۳۹۷۔
  • بہمن، شعیب، «نقش نیروی قدس در حل بحران‌ہای غرب آسیا»، در مجلہ مطالعات راہبردی جہان اسلام، شمارہ ۶۹، بہار ۱۳۹۶۔
  • سالاری، مسعود، «فارین پالیسی»، در سایت یورو نیوز، تاریخ درج مطلب: ۲۵ ژانویہ ۲۰۱۹، تاریخ بازدید: ۲۷ ژانویہ ۲۰۱۹۔
  • مؤمنیان، معصومہ، ««شہیدی کہ سردار سلیمانی را با انقلابیون علیہ شاہ پیوند داد»، در خبرگزاری فارس، تاریخ درج مطلب: ۸ آبان ۱۳۹۷، تاریخ بازدید: ۸ بہمن ۱۳۹۷۔
  • نباتیان، محمداسماعیل و مختار شیخ‌حسینی، زمینہ‌ہای فکری- سیاسی جریان بعثی-تکفیری داعش، مجمع جہانی اہل بیت، اسفند ۹۳ش۔