"عزائم" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
(احکام)
(ایک ہی صارف کا 6 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 7: سطر 7:
 
شیعہ فقہاء کے مطابق [[سورہ سجدہ]] کی آیت نمبر 15، [[سورہ فصلت]] کی آیت نمبر 37، [[سورہ نجم]] کی آیت نمبر 62 اور [[سورہ علق]] کی آیت نمبر 19 واجب سجدہ والی آیتیں ہیں۔<ref>یزدی، عروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۲، ص۵۷۷۔</ref> اسی طرح [[صاحب جواہر]] کے مطابق 11 سورتوں میں مستحب سجدہ والی آیتیں ہیں۔<ref>نجفی، جواہرالکلام، ۱۳۶۲ش، ج۱۰، ص۲۱۷۔ </ref> مستحب سجدہ والی آیتیں یہ ہیں: [[سورہ اعراف]] نمبر 206، [[سورہ رعد]] آیت نمبر 15، [[سورہ نحل]] آیت نمبر 49 اور 50، [[سورہ اسراء]] آیت نمبر 109، [[سورہ مریم]] آیت نمبر 58، [[سورہ حج]] آیت نمبر 18 اور 77، [[سورہ فرقان]] آیت نمبر 60، [[سورہ نمل]] آیت نمبر 26، [[سورہ ص]] آیت نمبر 24 اور [[سورہ انشقاق]] آیت نمبر 21۔<ref>یزدی، عروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۲، ص۵۷۷-۵۷۸۔</ref> [[شیخ صدوق]] سے منسوب ہے کہ جس آیت میں لفظ "سجدہ" آیا ہو وہ بھی مستحب سجدہ کے حامل ہے۔<ref>نجفی، جواہرالکلام، ۱۳۶۲ش، ج۱۰، ص۲۱۷۔ </ref>  
 
شیعہ فقہاء کے مطابق [[سورہ سجدہ]] کی آیت نمبر 15، [[سورہ فصلت]] کی آیت نمبر 37، [[سورہ نجم]] کی آیت نمبر 62 اور [[سورہ علق]] کی آیت نمبر 19 واجب سجدہ والی آیتیں ہیں۔<ref>یزدی، عروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۲، ص۵۷۷۔</ref> اسی طرح [[صاحب جواہر]] کے مطابق 11 سورتوں میں مستحب سجدہ والی آیتیں ہیں۔<ref>نجفی، جواہرالکلام، ۱۳۶۲ش، ج۱۰، ص۲۱۷۔ </ref> مستحب سجدہ والی آیتیں یہ ہیں: [[سورہ اعراف]] نمبر 206، [[سورہ رعد]] آیت نمبر 15، [[سورہ نحل]] آیت نمبر 49 اور 50، [[سورہ اسراء]] آیت نمبر 109، [[سورہ مریم]] آیت نمبر 58، [[سورہ حج]] آیت نمبر 18 اور 77، [[سورہ فرقان]] آیت نمبر 60، [[سورہ نمل]] آیت نمبر 26، [[سورہ ص]] آیت نمبر 24 اور [[سورہ انشقاق]] آیت نمبر 21۔<ref>یزدی، عروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۲، ص۵۷۷-۵۷۸۔</ref> [[شیخ صدوق]] سے منسوب ہے کہ جس آیت میں لفظ "سجدہ" آیا ہو وہ بھی مستحب سجدہ کے حامل ہے۔<ref>نجفی، جواہرالکلام، ۱۳۶۲ش، ج۱۰، ص۲۱۷۔ </ref>  
  
شیعہ فقہاء [[امام صادقؑ]] سے منسوب ایک حدیث سے تمسک کرتے ہوئے اس بات کے معتقد ہیں کہ فقط مذکورہ چار سورتیں واجب سجدہ کے حامل ہیں۔<ref>ملاحظہ کریں: شیخ طوسی، تہذیب الاحکام، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۲۹۱، ح۲۶و۲۷۔</ref> اہل سنت کے شافعی، حنبلی اور حنفی فقہاء سجدہ واجب اور مستحب کی تمیز کے بغیر سجدہ والی آیات کی تعداد 14 بتاتے ہیں جبکہ مالکی فقہاء ان کی تعداد 15 بتاتے ہیں۔<ref>جزیری، الفقہ علی المذاہب الاربعہ، ۱۴۲۴ق، ج۱، ص۴۲۵۔</ref>
+
شیعہ فقہاء [[امام صادقؑ]] سے منسوب ایک حدیث سے تمسک کرتے ہوئے اس بات کے معتقد ہیں کہ فقط مذکورہ چار سورتیں واجب سجدہ کے حامل ہیں۔<ref>ملاحظہ کریں: شیخ طوسی، تہذیب الاحکام، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۲۹۱، ح۲۶و۲۷۔</ref> اہل سنت کے شافعی، حنبلی اور حنفی فقہاء سجدہ واجب اور مستحب کی تمیز کے بغیر سجدہ والی آیات کی تعداد 14 جبکہ مالکی فقہاء ان کی تعداد 15 بتاتے ہیں۔<ref>جزیری، الفقہ علی المذاہب الاربعہ، ۱۴۲۴ق، ج۱، ص۴۲۵۔</ref>
  
== احکام مرتبط==<!--
+
== احکام==
{{جعبہ نقل قول| عنوان = ذکر سجدہ واجب قرآن|: «لا اِلہَ اِلَّا اللہُ حَقًّا حَقًّا، لا اِلہَ اِلَّا اللہُ ایماناً وَ تَصْدیقاً، لا اِلہَ اِلَّا اللہُ وَ عُبُودِیۃً، وَرِقّاً سَجَدْتُ لَک یا رَبِّ تَعَبَّداً وَرِقّاً، لا مُسْتَنْکفاً وَ لا مُسْتَکبِراً، بَلْ اَنَا عَبْدٌ ذَلیلٌ ضَعیفٌ خائفٌ مُسْتَجیرٌ»<ref>یزدی، عروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۲، ص۵۸۴۔</ref>|تاریخ بایگانی|| منبع =| تراز = چپ| عرض = ۲۳۰px| رنگ پس‌زمینہ =#ffeebb| اندازہ خط = ۱۲px| گیومہ نقل‌قول =| تراز منبع = چپ}}
+
{{نقل قول| عنوان = واجب سجدے کا ذکر |: {{حدیث|«لا اِلهَ اِلَّا اللهُ حَقًّا حَقًّا، لا اِلهَ اِلَّا اللهُ ایماناً وَ تَصْدیقاً، لا اِلهَ اِلَّا اللهُ وَ عُبُودِیةً، وَرِقّاً سَجَدْتُ لَک یا رَبِّ تَعَبَّداً وَرِقّاً، لا مُسْتَنْکفاً وَ لا مُسْتَکبِراً، بَلْ اَنَا عَبْدٌ ذَلیلٌ ضَعیفٌ خائفٌ مُسْتَجیرٌ»}}<ref>یزدی، عروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۲، ص۵۸۴۔</ref>| منبع =| سمت = بائیں| چوڑائی = 230px| رنگ پس‌زمینہ =#ffeebb| اندازہ خط = ۱۲px| گیومہ نقل‌قول =| تراز منبع = چپ}}  
سورہ‌ہای عزائم و احکام مرتبط با آن در باب‌ہای [[طہارت]]<ref>برای نمونہ نگاہ کنید بہ: یزدی، عروۃ الوثقی، ج۱، ص۵۱۰ و ص۶۰۳</ref> و [[نماز]]<ref>برای نمونہ نگاہ کنید بہ: یزدی، عروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۲، ص۵۷۸۔</ref> کتاب‌ہای فقہی سخن گفتہ شدہ است۔ از نظر فقیہان این سورہ‌ہا احکامی دارند، از جملہ:
+
سور عزائم اور ان سے مربوط احکام کے بارے میں فقہی کتابوں کے [[طہارت]]<ref>ملاحظہ کریں: یزدی، عروۃ الوثقی، ج۱، ص۵۱۰ و ص۶۰۳</ref> اور [[نماز]]<ref>ملاحظہ کریں: یزدی، عروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۲، ص۵۷۸۔</ref> کے بابت میں بحث کی جاتی ہے۔ فقہاء کے مطابق ان سورتوں کے مخصوص احکام ہیں وہ درج ذیل ہیں:<!--
 
*خواندن آنہا بر [[جنابت|جُنُب]]<ref>یزدی، عروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۱، ص۵۱۰۔</ref> و [[حائض]]<ref>یزدی، عروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۱، ص۶۰۳۔</ref> [[حرام]] است۔ فقیہان دربارہ اینکہ آیا فقط خواندن آیہ‌ہای سجدہ‌دار حرام است یا خواندن تمام سورہ چنین حکمی دارد، اختلاف‌نظر دارند۔<ref>یزدی، عروۃ الوثقی، ج۱، ص۵۱۰ و ص۶۰۳؛ بنی‌ہاشمی، توضیح المسائل مراجع، ۱۳۷۸ش، مسألہ ۳۵۵، ج۱، ص۲۲۵-۲۲۷؛ مسالہ ۴۵۰، ج۱، ص۲۷۶۔</ref> اگر جنب و حائض آیات سجدہ‌دار را شنیدند واجب است کہ سجدہ کنند۔<ref>یزدی، عروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۲، ص۵۸۳۔</ref> [[علامہ حلی]] گفتہ است کہ حتی خواندن یک حرف از این سورہ‌ہا بر او حرام است۔<ref>علامہ حلی، مختلف الشیعہ، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۳۳۳۔</ref>
 
*خواندن آنہا بر [[جنابت|جُنُب]]<ref>یزدی، عروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۱، ص۵۱۰۔</ref> و [[حائض]]<ref>یزدی، عروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۱، ص۶۰۳۔</ref> [[حرام]] است۔ فقیہان دربارہ اینکہ آیا فقط خواندن آیہ‌ہای سجدہ‌دار حرام است یا خواندن تمام سورہ چنین حکمی دارد، اختلاف‌نظر دارند۔<ref>یزدی، عروۃ الوثقی، ج۱، ص۵۱۰ و ص۶۰۳؛ بنی‌ہاشمی، توضیح المسائل مراجع، ۱۳۷۸ش، مسألہ ۳۵۵، ج۱، ص۲۲۵-۲۲۷؛ مسالہ ۴۵۰، ج۱، ص۲۷۶۔</ref> اگر جنب و حائض آیات سجدہ‌دار را شنیدند واجب است کہ سجدہ کنند۔<ref>یزدی، عروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۲، ص۵۸۳۔</ref> [[علامہ حلی]] گفتہ است کہ حتی خواندن یک حرف از این سورہ‌ہا بر او حرام است۔<ref>علامہ حلی، مختلف الشیعہ، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۳۳۳۔</ref>
 
*بہ فتوای فقیہان شیعہ، خواندن سورہ‌ہای دارای سجدہ واجب، در [[نمازہای واجب]] سبب باطل شدن نماز می‌گردد۔ اگر کسی این سورہ‌ہا را در نماز بخواند، در صورتی کہ پیش از رسیدن بہ نصف سورہ یا آیہ سجدہ‌دار متوجہ شود، باید سورہ دیگری بخواند و اگر پس از آیہ سجدہ‌دار باشد، دربارہ صحیح بودن نماز و نیز چگونگی سجدہ میان فقیہان اختلاف‌نظر وجود دارد۔<ref>یزدی، عروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۲، ص۵۸۰۔</ref>  
 
*بہ فتوای فقیہان شیعہ، خواندن سورہ‌ہای دارای سجدہ واجب، در [[نمازہای واجب]] سبب باطل شدن نماز می‌گردد۔ اگر کسی این سورہ‌ہا را در نماز بخواند، در صورتی کہ پیش از رسیدن بہ نصف سورہ یا آیہ سجدہ‌دار متوجہ شود، باید سورہ دیگری بخواند و اگر پس از آیہ سجدہ‌دار باشد، دربارہ صحیح بودن نماز و نیز چگونگی سجدہ میان فقیہان اختلاف‌نظر وجود دارد۔<ref>یزدی، عروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۲، ص۵۸۰۔</ref>  
سطر 17: سطر 17:
 
*در سجدہ واجب قرآن، [[وضو]]، [[غسل]]، رو بہ قبلہ بودن و ذکر خاصی واجب نیست اما باید پیشانی بر چیزی گذاشتہ شود کہ [[سجدہ]] بر آن صحیح است۔<ref>یزدی، عروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۲، ص۵۸۲-۵۸۳۔</ref> با این حال ذکرہای ویژہ‌ای برای سجدہ واجب نقل شدہ است۔<ref>یزدی، عروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۲، ص۵۸۴۔</ref>
 
*در سجدہ واجب قرآن، [[وضو]]، [[غسل]]، رو بہ قبلہ بودن و ذکر خاصی واجب نیست اما باید پیشانی بر چیزی گذاشتہ شود کہ [[سجدہ]] بر آن صحیح است۔<ref>یزدی، عروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۲، ص۵۸۲-۵۸۳۔</ref> با این حال ذکرہای ویژہ‌ای برای سجدہ واجب نقل شدہ است۔<ref>یزدی، عروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۲، ص۵۸۴۔</ref>
  
==پانویس==
+
==حوالہ جات==-->
{{پانویس2}}
+
{{حوالہ جات2}}
==منابع==
+
 
 +
==مآخذ==
 
*بنی‌ہاشمی خمینی، سید محمدحسن، توضیح المسائل مراجع، قم، دفتر نشر اسلامی، ۱۳۷۸ش۔
 
*بنی‌ہاشمی خمینی، سید محمدحسن، توضیح المسائل مراجع، قم، دفتر نشر اسلامی، ۱۳۷۸ش۔
 
* جزیری، عبدالرحمن بن محمد عوض، الفقہ علی المذاہب الاربعہ، بیروت، دارالکتب العلمیہ، ۱۴۲۴ق/۲۰۰۳م۔
 
* جزیری، عبدالرحمن بن محمد عوض، الفقہ علی المذاہب الاربعہ، بیروت، دارالکتب العلمیہ، ۱۴۲۴ق/۲۰۰۳م۔
سطر 29: سطر 30:
 
*نجفی، محمدحسن، جواہرالكلام فی شرح شرائع‎الاسلام، تحقیق عباس قوچانی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۳۶۲ش۔
 
*نجفی، محمدحسن، جواہرالكلام فی شرح شرائع‎الاسلام، تحقیق عباس قوچانی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۳۶۲ش۔
 
*یزدی، سید محمدکاظم، العروۃ‌الوثقی، مؤسسۃ النشر الاسلامی، ۱۴۱۹ق۔
 
*یزدی، سید محمدکاظم، العروۃ‌الوثقی، مؤسسۃ النشر الاسلامی، ۱۴۱۹ق۔
{{قرآن کریم}}-->
 
 
==سجدۂ واجب ==
 
[[امامیہ]] کے معروف قول کی بنا پر درج ذیل [[سورتوں]] کی [[آیات]] کے سننے یا پڑھنے پر [[سجدہ]] کرنا واجب ہے<ref> خرمشاہی، دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ج۱، ص۶۱</ref>:
 
{{ستون آ|2}}
 
:# سورہ سجدہ آیت نمبر 15
 
:# سورہ فصلت آیت نمبر37
 
:# سورہ نجم کی آخری آیت
 
:# سورہ علق کی آخری آیت
 
{{ستون خ}}
 
 
== سجدۂ مستحب==
 
[[امامیہ]] کے معروف قول کی بنا پر درج ذیل [[سورتوں]] کی [[آیات]] کے سننے یا پڑھنے پر [[سجدہ]] کرنا [[حکم شرعی|مستحب]] ہے<ref> خرمشاہی، دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ج۱، ص۶۱</ref>:
 
{{ستون آ|4}}
 
:#  [[سورہ اعراف|سورہ اَعراف]] کی آخری آیت
 
:#  [[سورہ رعد]] کی آیت نمبر 15
 
:#  [[سورہ نحل]] کی آیت نمبر 48
 
:#  [[سورہ اسراء]] کی آیت نمبر 109
 
:#  [[سورہ مریم]] کی آیت نمبر 58
 
:#  [[سورہ حج]] کی آیت نمبر 18
 
:#  سورہ حج کی آیت نمبر 77
 
:#  [[سورہ فرقان]] کی آیت نمبر 60
 
:#  [[سورہ نمل]] کی آیت نمبر 25
 
:#  [[سورہ ص]] کی آیت نمبر 24
 
:#  [[سورہ انشقاق|سورہ اِنشقاق]] کی آیت نمبر 21
 
{{ستون خ}}
 
  
==احکام==
 
*سجدے والی آیات کے پڑھنے یا سنتے ہی سجدہ کرنا چاہئے ۔<ref>[http://portal۔anhar۔ir/node/9445/?ref=sbttl#gsc۔tab=0: توضیح المسائل مراجع]</ref>
 
*واجب سجدے والی آیات والی سورتوں کا نماز میں جان بوجھ کر پڑھنا نماز کے باطل ہونے کا سبب  ہے ۔<ref>[http://portal۔anhar۔ir/node/9439/?ref=sbttl#gsc۔tab=0: بنی ہاشمی،توضیح المسائل مراجع]</ref>
 
*بعض فقہا کے نزدیک [[جنابت|مجنب]] اور [[حیض|حائض]] کیلئے واجب سجدے والی سورتوں کا پڑھنا [[حکم شرعی|حرام]] اور بعض کے نزدیک صرف [[آیات]] کا پڑھنا حرام ہے ۔<ref>[http://portal۔anhar۔ir/node/10044/?ref=sbttl#gsc۔tab=0بنی ہاشمی، توضیح المسائل مراجع، ص۲۲۵-۲۲۷]</ref><ref>[http://portal۔anhar۔ir/node/10056/?ref=sbttl#gsc۔tab=0 بنی ہاشمی، توضیح المسائل مراجع، ج۱، ص۲۷۶]</ref>
 
*قرآن کے واجب سجدے کیلئے ضروری ہے کہ اس چیز پر پیشانی رکھے جس پر سجدہ کرنا صحیح ہو۔<ref>[http://portal۔anhar۔ir/node/9445/?ref=sbttl#gsc۔tab=0 بنی ہاشمی، توضیح المسائل مراجع، ج۱، ص۶۱۷-۶۱۹] </ref>
 
*قرآن کے واجب سجدے میں کوئی ذکر پڑھے بغیر صرف پیشانی کا رکھنا کافی ہے ۔مستحب ہے کہ یہ ذکر پڑھے:<font color=blue>{{حدیث|لٰا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ حَقّا حَقّا لَا إِلٰہَ الّا اللّٰہُ ايماناً وَ تَصْدِيقاً لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ عُبُودِيَّہ وَ رِقًّا سَجَدْتُ لَكَ يٰا رَبِّ تَعَبُّداً وَ رِقًّا لَا مُسْتَنْكِفاً وَ لَا مُسْتَكْبِراً بَلْ أَنَا عَبْدٌ ذَلِيلٌ ضَعِيفٌ خَائِفٌ مُسْتَجِيرٌ}}</font><ref>[http://portal۔anhar۔ir/node/9445/?ref=sbttl#gsc۔tab=0: بنی ہاشمی،توضیح المسائل مراجع]</ref>
 
  
==حوالہ جات==
 
{{حوالہ جات|2}}
 
==منابع==
 
{{ستون آ|2}}
 
بنی‌ ہاشمی خمینی، سید محمد حسن، توضیح المسائل مراجع، دفتر نشر اسلامی،چاپ سوم، ۱۳۷۸ش۔
 
*خرمشاہی، بہاءالدین، دانشنامہ قرآن و قرآن‌ پژوہی، انتشارات دوستان و انتشارات ناہید، ۱۳۸۱ش۔
 
{{ستون خ}}
 
 
{{قرآن}}
 
{{قرآن}}
 
[[fa:عزائم]]
 
[[fa:عزائم]]

نسخہ بمطابق 08:43, 23 مارچ 2020

عَزائِمُ یا عَزائِمُ السُجود قرآن کی ان سورتوں کو کہا جاتا ہے جن میں مخصوص آیات کے پڑھنے یا سننے سے سجدہ واجب ہو جاتا ہے ان سورتوں کی تعداد چار ہیں جو یہ ہیں سورہ سجدہ، فُصِّلَت، نَجم اور عَلَق۔ ان سورتوں کے مخصوص احکام بھی ہیں من جملہ ان میں مجنب اور حائض پر ان کا پڑھنا حرام ہے اور واجب نمازوں میں ان کا پڑھنا جائز نہیں ہے۔

اگرچہ قرآن کے واجب سجدوں کے لئے مخصوص ذکر نقل ہوا ہے، لیکن ان سجدوں کے لئے وضو، غسل، اور رو بقبلہ ہونا نیز مخصوص ذکر کا پڑھنا ضروری نہیں ہے البتہ سجدے کی حالت میں پیشانی کو ایسی چیز پر رکھنا ضروری ہے جس پر سجدہ صحیح ہے۔

وجہ تسمیہ

عزائم یا عزائم السجود قرآن کی ان چار سورتوں کو کہا جاتا ہے جن کے مخصوص آیات کے پڑھنے یا سننے سے سجدہ واجب ہو جاتا ہے ان سورتوس میں سورہ سجدہ، فصلیت، نجم اور علق شامل ہیں۔[1] بعض منابع میں سورہ فصلت کی جگہ سورہ لقمان کا نام لیا گیا ہے۔[2] عزائم عزیمہ کا جمع ہے اور لغت میں کسی کام کی انجام دہی کے قطعی ارادے کو کہا جاتا ہے۔[3] اسی طرح ان فرایض کو بھی کہا جاتا ہے جن کو خدا نے واجب کیا ہوی؛[4] اسی مناسبت سے جن سورتوں سجدہ والی آیات ہیں ان کو بھی عزائم کہا جاتا ہے۔[5]

سجدہ والی آیتیں

شیعہ فقہاء کے مطابق سورہ سجدہ کی آیت نمبر 15، سورہ فصلت کی آیت نمبر 37، سورہ نجم کی آیت نمبر 62 اور سورہ علق کی آیت نمبر 19 واجب سجدہ والی آیتیں ہیں۔[6] اسی طرح صاحب جواہر کے مطابق 11 سورتوں میں مستحب سجدہ والی آیتیں ہیں۔[7] مستحب سجدہ والی آیتیں یہ ہیں: سورہ اعراف نمبر 206، سورہ رعد آیت نمبر 15، سورہ نحل آیت نمبر 49 اور 50، سورہ اسراء آیت نمبر 109، سورہ مریم آیت نمبر 58، سورہ حج آیت نمبر 18 اور 77، سورہ فرقان آیت نمبر 60، سورہ نمل آیت نمبر 26، سورہ ص آیت نمبر 24 اور سورہ انشقاق آیت نمبر 21۔[8] شیخ صدوق سے منسوب ہے کہ جس آیت میں لفظ "سجدہ" آیا ہو وہ بھی مستحب سجدہ کے حامل ہے۔[9]

شیعہ فقہاء امام صادقؑ سے منسوب ایک حدیث سے تمسک کرتے ہوئے اس بات کے معتقد ہیں کہ فقط مذکورہ چار سورتیں واجب سجدہ کے حامل ہیں۔[10] اہل سنت کے شافعی، حنبلی اور حنفی فقہاء سجدہ واجب اور مستحب کی تمیز کے بغیر سجدہ والی آیات کی تعداد 14 جبکہ مالکی فقہاء ان کی تعداد 15 بتاتے ہیں۔[11]

احکام

واجب سجدے کا ذکر
«لا اِلهَ اِلَّا اللهُ حَقًّا حَقًّا، لا اِلهَ اِلَّا اللهُ ایماناً وَ تَصْدیقاً، لا اِلهَ اِلَّا اللهُ وَ عُبُودِیةً، وَرِقّاً سَجَدْتُ لَک یا رَبِّ تَعَبَّداً وَرِقّاً، لا مُسْتَنْکفاً وَ لا مُسْتَکبِراً، بَلْ اَنَا عَبْدٌ ذَلیلٌ ضَعیفٌ خائفٌ مُسْتَجیرٌ»[12]

سور عزائم اور ان سے مربوط احکام کے بارے میں فقہی کتابوں کے طہارت[13] اور نماز[14] کے بابت میں بحث کی جاتی ہے۔ فقہاء کے مطابق ان سورتوں کے مخصوص احکام ہیں وہ درج ذیل ہیں:

  1. طریحی، مجمع‌البحرین، ۱۴۱۵ق، ج۶، ص۱۱۴ (ذیل واژہ عزم)۔
  2. طوسی، الخلاف، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۱۰۰۔
  3. فیروزآبادی، القاموس المحیط، ۱۴۱۵ق، ج۴، ص۱۱۲(ذیل واژہ عزم)؛ طریحی، مجمع‌البحرین، ۱۴۱۵ق، ج۶، ص۱۱۴ (ذیل واژہ عزم)۔
  4. فیروزآبادی، القاموس المحیط، ۱۴۱۵ق، ج۴، ص۱۱۲(ذیل واژہ عزم)؛ طریحی، مجمع‌البحرین، ۱۴۱۵ق، ج۶، ص۱۱۴ (ذیل واژہ عزم)۔
  5. طریحی، مجمع‌البحرین، ۱۴۱۵ق، ج۶، ص۱۱۴ (ذیل واژہ عزم)۔
  6. یزدی، عروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۲، ص۵۷۷۔
  7. نجفی، جواہرالکلام، ۱۳۶۲ش، ج۱۰، ص۲۱۷۔
  8. یزدی، عروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۲، ص۵۷۷-۵۷۸۔
  9. نجفی، جواہرالکلام، ۱۳۶۲ش، ج۱۰، ص۲۱۷۔
  10. ملاحظہ کریں: شیخ طوسی، تہذیب الاحکام، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۲۹۱، ح۲۶و۲۷۔
  11. جزیری، الفقہ علی المذاہب الاربعہ، ۱۴۲۴ق، ج۱، ص۴۲۵۔
  12. یزدی، عروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۲، ص۵۸۴۔
  13. ملاحظہ کریں: یزدی، عروۃ الوثقی، ج۱، ص۵۱۰ و ص۶۰۳
  14. ملاحظہ کریں: یزدی، عروۃ الوثقی، ۱۴۱۹ق، ج۲، ص۵۷۸۔


مآخذ

  • بنی‌ہاشمی خمینی، سید محمدحسن، توضیح المسائل مراجع، قم، دفتر نشر اسلامی، ۱۳۷۸ش۔
  • جزیری، عبدالرحمن بن محمد عوض، الفقہ علی المذاہب الاربعہ، بیروت، دارالکتب العلمیہ، ۱۴۲۴ق/۲۰۰۳م۔
  • طریحی، فخرالدین، مجمع‌البحرین، تحقیق سید احمد حسینی، تہران، کتاب‌فروشی مرتضوی، ۱۴۱۶ق۔
  • طوسی، محمد بن حسن، تہذیب‌الاحکام، تحقیق حسن خرسان موسوی، تہران، دارالکتب العلمیہ، ۱۴۰۷ق۔
  • طوسی، محمد بن حسن، الخلاف، تصحیح علی خراسانی و دیگران، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ حوزہ علمیہ قم، ۱۴۰۷ق۔
  • فیروزآبادی، محمد بن یعقوب، القاموس المحیط، بیروت، دارالکتب العلمیہ منشورات محمدعلی بیضون، ۱۴۱۵ق/۱۹۹۵م۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، مختلف‌الشیعہ فی احکام‌الشریعہ، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، ۱۴۱۳ق۔
  • نجفی، محمدحسن، جواہرالكلام فی شرح شرائع‎الاسلام، تحقیق عباس قوچانی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۳۶۲ش۔
  • یزدی، سید محمدکاظم، العروۃ‌الوثقی، مؤسسۃ النشر الاسلامی، ۱۴۱۹ق۔