"عبد اللہ شاہ غازی" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سطر 89: سطر 89:
 
[[زمرہ:اولاد امام حسن]]
 
[[زمرہ:اولاد امام حسن]]
 
[[زمرہ:شہدائے بنی ہاشم]]
 
[[زمرہ:شہدائے بنی ہاشم]]
 +
[[زمرہ:بنو عباس کے خلاف قیام کرنے والے]]

نسخہ بمطابق 10:54, 10 نومبر 2018

عبد اللہ شاہ غازی
مزار عبد اللہ شاہ غازی(کراچی پاکستان)
معلومات
مکمل نام عبد اللہ شاہ غازی (عبد اللہ اشتر بن محمد نفس زکیہ)
کنیت ابو محمد
لقب اشتر
وجہ شہرت بنو عباس کے خلاف قیام
محل زندگی مدینہ،بصرہ،سندھ(پاکستان)
نسب عبد اللہ بن محمد (نفس زکیہ) بن عبد اللہ (محض) بن حسن مثنی
مشہوراقارب محمد نفس زکیہ،حسن مثنی
شہادت/وفات 151ہجری قمری
مدفن کراچی(پاکستان)


عبد اللہ شاہ غازی حضرت امام حسن علیہ السلام کی نسل میں سے حسن مثنی کے پوتے ہیں۔ ان کا اصل نام عبد اللہ تھا۔ انہوں نے اپنے والد محمد نفس زکیہ کے ساتھ مل کر مدینہ میں بنو عباس کے خلاف قیام کیا۔ عبد اللہ پاکستان کے علاقے سندھ میں چلے گئے جہاں ان کی وفات ہوئی۔ عبد اللہ شاہ غازی کے نام سے معروف مزار پاکستان کے شہر کراچی میں ساحل سمندر (کلفٹن) پر واقع ہے۔ یہ مزار ایک دفعہ دہشت گرد حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔

نسب و ولادت

باپ کا نام محمد تھا جو نفس زکیہ کے نام سے معروف ہوئے اور سب سے پہلے بنی عباس کے خلاف انہوں نے ہی قیام کیا۔ والدہ کا نام ام سلمہ بنت ابو محمد بن حسن بن حسن مثنی تھا۔[5]

زندگی نامہ

ان کی زندگی کی تفصیلات مذکور نہیں ہیں۔ بنو عباس کے خلاف قیام کے بعد کا کچھ تذکرہ کتب میں موجود ہے۔

عباسیوں نے ابتدا میں محمد بن عبداللہ نفس زکیہ کی بیعت کی اور معاہدے کے تحت قرار تھا کہ امویوں کی حکومت کے سقوط کے بعد بنی‌ ہاشم اور علوی اس کیلئے شائستہ ہیں لیکن امویوں کی شکست کے بعد انہوں نے محمد کو قبول نہیں کیا۔[6][7]اس وعدہ خلافی کے خلاف علویوں نے سفاح کے دور میں خاموشی اختیار کی لیکن منصور کے خلیفہ بن جانے کے بعد سال ۱۳۶ ہ ق میں واضح طور پر محمد نفس زکیہ کی سرکردگی میں منصور کے خلاف قیام کا اقدام کیا۔[8]

لہذا محمد نفس زکیہ نے مدینہ سے منصور عباسی کے خلاف قیام کیا جس میں اسکا بیٹا عبد اللہ اشتر اس کے ہمراہ تھا۔ اسی قیام کے دوران عبد اللہ کے باپ محمد نفس زکیہ نے اسے کچھ زیدیوں کے ہمراہ بصرہ روانہ کیا اور اسے کہا کہ تم وہاں سے اچھی نسل کے گھوڑے خرید کر سندھ چلے جاؤ۔ جہاں کا حاکم عمر بن حفص ان افراد میں سے تھا جنہوں نے محمد نفس زکیہ کی بیعت کی تھی اور آل ابی طالب کی طرف میلان رکھنے والوں میں سے تھا۔ عبد اللہ اشتر نے اسکے پاس پہنچ کر امان مکمل واقعے سے آگاہ کیا اور اس سے امان طلب کی۔ حاکم عمر بن حفص نے یہاں اسکے باپ کیلئے بیعت لی اور یہیں عبد اللہ اشتر کو اپنے باپ محمد نفس زکیہ اور بھائی ابراہیم کے قتل کی خبر ملی۔ سندھ کے حاکم نے عبد اللہ کو منصور عباسی کے خوف سے سندھ کے ایک مشرک حاکم کے پاس بھیج دیا جو خاندان رسالت کے نہایت احترام کا قائل تھا۔ اس کے پاس عبد اللہ اشتر نہایت عزت و احترام کے ساتھ رہے۔ [9]

جبکہ ابو الفرج اصفہانی نے اس کے برعکس روایت نقل کی ہے جسکے مطابق محمد نفس زکیہ اور عبد اللہ کے بھائی ابراہیم کے قتل کے بعد عبد اللہ بن محمد بن مسعدہ (اسکا معلم) اسے سندھ لے گیا۔ جہاں سے عبد اللہ کے قتل کے بعد اسکا سر منصور کو بھیجا گیا۔ راوی کے بقول وہ عبد اللہ اشتر کے ساتھ کوفہ گیا اور پھر وہاں سے بصرہ سے ہوتے ہوئے سندھ میں منصورہ گئے اور وہاں سے قندھار (افغانستان) کے ایک قلعہ میں گئے جہاں کوئی پرندہ پر نہیں مار سکتا تھا لیکن قلعہ کے لوگ نہایت بدخلق تھے۔ راوی کی عدم موجودگی میں عراق کا ایک قافلہ وہاں آ کر عبد اللہ اشتر کو منصورہ میں اسکی بیعت کرنے کی خبر دیتے ہیں اور اسے وہاں سے ساتھ لے جاتے ہیں۔[10]

منصور عباسی نے عبد اللہ کی موجودگی کی خبر پا کر ہشام بن عمرو بن بسطام تغلبی کو حکومت سندھ کا لالچ دے کر عبد اللہ کے قتل کیلئے سندھ روانہ کیا۔

اولاد

انساب و تاریخ کی کتب میں عبد اللہ اشتر کا ایک بیٹا مذکور ہے[11] اس کی والدہ ام ولد یعنی کنیز تھی، اس کا نام محمد اور کنیت ابو الحسن[12] تھی نیز اسی محمد کی مناسبت سے عبد اللہ اشتر کو ابو محمد[13] بھی کہا گیا ہے۔انساب کی کتب میں تصریح ہوئی ہے کہ اسی عبد اللہ اشتر کے بیٹے محمد سے محمد نفس زکیہ کی نسل چلی ہے۔[14] بعض نے اس بیٹے کی جائے ولادت کابل(افغانستان) ذکر کی ہے۔[15] عبد اللہ اشتر کے قتل کے بعد اس کے بیٹے محمد اور اس کی والدہ کنیز کو کو منصور کے پاس بھیجا گیا۔ منصور نے انہیں والیے مدینے کے نام ایک خط کے ہمراہ مدینہ روانہ کیا جس کے میں لکھا تھا کہ آل ابی طالب کو جمع کر کےان کے سامنے اس کے نسب کی تصدیق کرو اور انہیں ان کے حوالے کر دو۔[16]

وفات

عبداللہ شاہ غازی کی وفات کو مؤرخین نے 151 ہجری قمری کے ذیل میں ذکر کیا ہے لیکن تاریخ و مہینے کے حوالے سے کوئی معلومات مذکور نہیں ہے۔ اس کی وفات میں درج ذیل اقوال پائے جاتے ہیں:

پہلا قول: سندھ کی جانب فرار کے بعد کابل کے نزدیک علج نامی پہاڑ پر قتل ہوئے اور ان کا سر منصور عباسی کو بھیجا گیا۔ حسن بن زید بن حسن بن علی نے ان کا سر لیا۔[17]

دوسرا قول:سندھ میں ہشام بن عمرو بن بسطام نے اسے قتل کرنے کے بعد سر منصور عباسی کو بھیجا۔[18]

تیسرا قول:سندھ میں مہران کی ایک نہر کے کنارے ہشام بن عمرو کے بھائی سفنجا اور اس کے ساتھیوں کے ہاتھوں قتل ہوا اور اس کا سر منصور عباسی کو بھیجا گیا ایک قول کے مطابق قتل کے بعد سر جدا کئے بغیر نہر میں بہا دیا گیا۔[19]

مزار

پاکستان کے شہر کراچی میں ساحل سمندر (کلفٹن) پر عبد اللہ شاہ غازی کے نام سے ایک مزار موجود ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ محمد نفس زکیہ کے بیٹے عبد اللہ اشتر کا مزار ہے۔[حوالہ درکار]

اس مزار پر سالانہ عرس کی تقریبات 20,21,22 ذو الحجہ کو منعقد کی جاتی ہیں۔[20]

الیگزینڈر جان ایف بیلی اپنی کتاب کراچی: پاسٹ، پریزنٹ اینڈ فیوچر میں لکھتا ہے کہ کراچی کے تین: منگھوپیر، منوڑہ اور لیاری ندی کے کنارے واقع میراں پیر کے مزارات پر ہر سال پابندی کے ساتھ عرس منعقد ہوتے ہیں مگر اِن میں سب سے بڑا عرس مبارک کلفٹن میں حضرت عبداللہ شاہ غازی کا ہوتا ہے جس میں ہندو، مسلمان و عیسائی کسی تفریق کے بغیر شریک ہوتے ہیں۔[21]

خود کش حملہ

اکتوبر2010ء میں عبد اللہ شاہ غازی کے مزار پر دو خود کش حملوں میں دسں افراد ہلاک اور پچپن سے زائد زخمی ہوئے۔ تحریکِ طالبان پاکستان نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی۔[22]

حوالہ جات

  1. رک : ابن عنبہ،عمدۃ الطالب،ص103، منشورات المطبعۃ الحیدریۃ - النجف الأشرف
  2. ابن عنبہ،عمدۃ الطالب،ص103، منشورات المطبعۃ الحیدریۃ - النجف الأشرف
  3. ابن حاتم عاملی،الدر النظیم،520،مؤسسۃ النشر الإسلامی التابعۃ لجماعۃ المدرسین بقم المشرفہ
  4. ابن عنبہ،عمدۃ الطالب،ص103، منشورات المطبعۃ الحیدریۃ - النجف الأشرف۔ابن حاتم عاملی،الدر النظیم،520،مؤسسۃ النشر الإسلامی التابعۃ لجماعۃ المدرسین بقم المشرفہ
  5. ابن حاتم عاملی،الدر النظیم،520،مؤسسۃ النشر الإسلامی التابعۃ لجماعۃ المدرسین بقم المشرفہ
  6. مہدی فرمانیان/ سید علی موسوی نژاد، زیدیہ تاریخ و عقاید، ص۳۷.
  7. حسن ابراہیم حسن، تاریخ سیاسی اسلام، ترجمہ ابو القاسم پایندہ، ص۱۲۷.
  8. محمد رضا مہدوی عباس آباد، قیام محمد بن عبداللہ (نفس زکیہ) نخستین قیام علویان علیہ عباسیان، نشریہ دانشکدہ علوم اجتماعی و انسانی دانشکدہ تبریز، ش۱۶، ۱۳۴.
  9. طبری ،تاریخ طبری،ج6/289،مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات - بیروت - لبنان۔ابن اثیر،الکامل فی التاریخ،5/595،596دار صادر للطباعۃ والنشر - دار بیروت للطباعۃ والنشر
  10. ابو الفرج اصفہانی، مقاتل الطالبین268/269،مؤسسہ الاعلمی للمطبوعات،بیروت
  11. عمدۃ الطالب - ابن عنبۃ - ص 105۔تاریخ طبری - طبری - ج 6 - ص 291
  12. تاریخ الطبری - الطبری - ج 6 - ص 291
  13. عمدۃ الطالب - ابن عنبہ - ص 105
  14. عمدۃ الطالب - ابن عنبہ - ص 105۔الدر النظیم - إبن حاتم العاملی - ص 520۔العدد القویہ - علی بن یوسف الحلی - ص 357
  15. عمدۃ الطالب - ابن عنبۃ - ص 105
  16. تاریخ الطبری - الطبری - ج 6 - ص 291
  17. عمدۃ الطالب - ابن عنبۃ - ص 105
  18. مقاتل الطالبیین - أبو الفرج الأصفہانى - ص 207 - 208۔عمدۃ الطالب - ابن عنبۃ - ص 106
  19. تاریخ الطبری - الطبری - ج 6 - ص 291
  20. ضیائی اعلام
  21. عبداللہ شاہ غازی؛ سندھ میں اسلام کے پہلے مبلغ، مختار احمد (ایکسپریس نیوز:جمعرات 14 ستمبر 2017)
  22. بی بی سی اردو نیوز18اکتوبر2018


مآخذ

  • ابن اثیر،الکامل فی التاریخ،دار صادر للطباعۃ والنشر - دار بیروت للطباعۃ والنشر۔
  • ابن عنبہ،عمدۃ الطالب، منشورات المطبعۃ الحیدریۃ - النجف الأشرف۔
  • ابن حاتم عاملی،الدر النظیم،مؤسسۃ النشر الإسلامی التابعۃ لجماعۃ المدرسین بقم۔
  • ابو الفرج اصفہانی، مقاتل الطالبین،مؤسسہ الاعلمی للمطبوعات،بیروت۔
  • حسن ابراہیم حسن، تاریخ سیاسی اسلام، ترجمہ ابو القاسم پایندہ۔
  • طبری ،تاریخ طبری،مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات - بیروت - لبنان۔
  • علی بن یوسف الحلی،العدد القویہ -۔
  • محمد رضا مہدوی عباس آباد، قیام محمد بن عبداللہ (نفس زکیہ) نخستین قیام علویان علیہ عباسیان، نشریہ دانشکدہ علوم اجتماعی و انسانی دانشکدہ تبریز۔
  • مہدی فرمانیان/ سید علی موسوی نژاد، زیدیہ تاریخ و عقاید۔
  • سید عبد اللہ شاہ غازی