"صعصعہ ابن صوحان" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
م (امام علی کے صحابی)
م (امام علی کے صحابی)
سطر 39: سطر 39:
 
{{نقل قول
 
{{نقل قول
 
|عنوان= امام صادقؑ:
 
|عنوان= امام صادقؑ:
|نقل‌قول="امام علیؑ کے ساتھ کوئی ایسا شخص نہیں تھا جو آپ کو جس طرح پہنچاننا چاہئے تھا پہچان لیں مگر صعصعہ اور آپؑ کے اصحاب خاص"۔<ref>ابن داود، الرجال، ۱۳۴۲ش، ص۱۸۷۔</ref>|منبع= |تراز= چپ|عرض= ۲۱۰px
+
|نقل‌قول="امام علیؑ کے ساتھ کوئی ایسا شخص نہیں تھا جو آپ کو جس طرح پہنچاننا چاہئے تھا پہچان لیں مگر صعصعہ اور آپؑ کے اصحاب خاص کے"۔<ref>ابن داود، الرجال، ۱۳۴۲ش، ص۱۸۷۔</ref>|منبع= |تراز= چپ|عرض= ۲۱۰px
 
|اندازہ خط=۱۴px
 
|اندازہ خط=۱۴px
 
}}
 
}}

نسخہ بمطابق 18:58, 8 دسمبر 2018

صعصعہ ابن صوحان
خانہ معلومات اصحاب ائمہ
نسب: عبدالقیس
مشہوراقارب: زید بن صوحان
جائے پیدائش قطیف
محل زندگی: کوفہ
وفات: دورہ حکومت معاویہ تقریبا 70ھ
اصحاب: امام علیؑ اور امام حسنؑ

صَعْصَعہ ابن صَوحان امام علیؑ کے برجستہ اصحاب میں سے ہیں۔ آپ نے جنگ جمل، صِفّین اور نَہرَوان میں شرکت کی۔ صعصعہ خطابت میں مہارت رکھتے تھے اور اسی مہارت کے ذریعے آپ امام علیؑ کی دفاع اور معاویہ پر تتقید کیا کرتے تھے۔ امام علیؑ نے صعصعہ کو اپنے برجستہ اصحاب میں شمار فرمایا ہے۔ امام صادقؑ بھی اسے انہیں ان معدود افراد میں شمار کرتے ہیں جنہیں امام علیؑ کی حقیقی معرفت حاصل تھی۔

نسب

صَعصَعۃ بن صَوحان کا تعلق قبیلہ عبدالقیس سے تھا۔[1] وہ قطیف کے نزدیک کسی مقام پر پیدا ہوئے اور کچھ مدت بعد کوفہ میں قیام پذیر ہوئے۔[2] اسی وجہ سے اسے کوفی بھی کہا جاتا ہے۔[3] ا کی کنیت "أباطَلحۃ" ہے۔[4] ان کے دو بھائی زید بن صوحان اور صیَحان بن صوحان بھی امام علیؑ کے پیروکاروں میں سے تھے۔[5]

خلفا کے دور میں

صعصعہ پیغمبر اسلام کی حیات مبارکہ میں مسلمان ہوئے لیکن ا­نہیں آپ کا دیدار نصیب نہیں ہوا۔[6] دوسرے خلیلہ، عمر بن خَطّاب کے دور میں ابوموسی اشعری نے کچھ مال و دولت خلیفہ کے پاس بھیجا۔ خلیفہ نے اسے مسلمانوں میں تقسیم کر دیا اور کچھ باقی بچا۔ خلیفہ نے اس سے متعلق مسلمانوں کی رائے دریافت کی۔ صعصعہ نے کہا:

"ایسے مسائل میں لوگوں سے مشورت لینا چاہئے جن کے بارے میں خدا نے قرآن میں کوئی حکم ارشاد نہ فرمایا ہو۔ لیکن جن چیزوں کے بارے میں خدا نے اگر کوئی حکم دیا ہے تو اسی پر عمل کرنا چاہئے۔"[7]

صعصعہ تیسرے خلیفہ عثمان بن عَفّان کے مخالفین میں سے تھے۔ خلیفہ نے انہیں ان کے بھائی زید بن صوحان اور مالک اشتر کے ساتھ شام جلاوطن کر دیا۔[8] تاریخی منابع میں عثمان کے ساتھ ان کی تنقیدی گفتگو مذکور ہے۔[9]

امام علی کے صحابی

امام صادقؑ:

"امام علیؑ کے ساتھ کوئی ایسا شخص نہیں تھا جو آپ کو جس طرح پہنچاننا چاہئے تھا پہچان لیں مگر صعصعہ اور آپؑ کے اصحاب خاص کے"۔[10]

شیخ مفید کے مطابق صعصعہ امام علیؑ کے برجستہ اصحاب میں سے تھے۔[11] تیسری صدی کے دانشور ابن قتیبہ دینوری بھی صعصعہ کا نام بھی شیعہ مشہور افراد میں شما کرتے ہیں۔[12] مُروج الذَّہَب میں مسعودی کے مطابق امام علیؑ بھی صعصعہ کو عرب کے بزرگان اور اپنے سرکردہ اصحاب میں میں شمار کرتے ہیں۔[13] کلینی سے منقول ایک حدیث میں امام علیؑ نے انہیں اپنی وصیت میں بطور گواہ مقرر فرمائے تھے۔[14]

صعصعہ امام علیؑ کی تشییع جنازہ میں شریک تھے اور آپؑ کو دفن کرنے کے بعد وہ اپنے سر پر خاک ڈالتے اور گریہ کرتے ہوئے آپ کی قبر پر آئے اور بعض ایسے جملات زبان پر لے آئے جن میں امام علیؑ کے فضائل بیان کرتے ہوئے اپنے آپ کو امیر المؤمنین حضرت علیؑ کے دوستداران میں سے قرار دینے اور آپ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق کی دعا کر رہے تھے۔[15]

صعصعہ امام علیؑ کو خلافت کیلئے زینت دینے والا قرار دیتے ہوئے اس بات کے معتقد تھے کہ آپ نے خلافت کو حیثیت اور مقام و مرتبہ دیا اور خلافت کو امام علیؑ کی زیادہ ضرورت تھی نہ امام کو خلافت کی ضرورت ہو۔[16]

جنگ جمل، صفین اور نہروان میں

حوالہ جات

  1. ابن‌اثیر، اُسدالغابۃ، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۴۰۳۔
  2. زرکلی، الاعلام، ۱۹۹۸م، ج۳، ص۲۰۵۔
  3. ذہبی، تاریخ‌الاسلام، ۲۰۰۳م، ج۴، ص۲۴۰۔
  4. ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۸ق، ج۶، ص۲۴۴۔
  5. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۲، ص۷۱۷۔
  6. ابن اثیر، اسد الغابۃ، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۴۰۳۔
  7. ابن‌عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۲، ص۷۱۷۔
  8. احمدی میانجی، مکاتیب الأئمۃ(ع)، ۱۴۲۶ق، ج۱، ص۱۴۵۔
  9. برای نمونہ نگاہ کنید بہ ابن خلدون، تاریخ ابن خلدون، ۱۴۰۸ق، ج۲، ص۵۸۹۔
  10. ابن داود، الرجال، ۱۳۴۲ش، ص۱۸۷۔
  11. شیخ مفید، الجمل، ۱۴۱۳ق، ص۴۷۵۔
  12. ابن‌قتیبۃ، المعارف، ۱۹۹۲ق، ص۶۲۴۔
  13. مسعودی، مروج الذہب، ۱۴۰۹ق، ج۳، ص۳۸۔
  14. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۷، ص۵۱۔
  15. مجلسی، بحارالأنوار، ۱۴۰۳ق، ج۴۲، ص۲۹۵۔
  16. یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۱۷۹۔


مآخذ

  • ‌ ابن اثیر جزری، علی بن محمد، اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ،‌ دار الفکر، بیروت، ۱۴۰۹ق۔
  • ابن اثیر جزری، علی بن محمد، الکامل فی التاریخ،‌ دار صادر، بیروت، ۱۳۸۵ق۔
  • ابن اعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، تحقیق: علی شیری،‌ دار الاضواء، بیروت، ۱۴۱۱ق۔
  • ابن خلدون، عبد الرحمن بن محمد، دیوان المبتدأ و الخبر فی تاریخ العرب و البربر و من عاصرہم من ذوی الشأن الأکبر(تاریخ ابن خلدون)، تحقیق خلیل شحادۃ، بیروت،‌ دار الفکر، چاپ دوم، ۱۴۰۸ق۔
  • ابن سعد کاتب واقدی، محمد بن سعد، الطبقات الکبری، بیروت،‌ دار الکتب العلمیۃ، ۱۴۱۸ق۔
  • ابن عبدالبر، یوسف بن عبد اللہ، الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب، تحقیق: علی محمد البجاوی،‌ بیروت، دار الجیل، ۱۴۱۲ق۔
  • ابن قتیبۃ، عبد اللہ بن مسلم، المعارف، تحقیق: ثروت عکاشۃ، قاہرۃ، الہیئۃ المصریۃ العامۃ للکتاب، ۱۹۹۲م۔
  • ابن مشہدی، محمد بن جعفر، المزار الکبیر، محقق و مصحح: جواد قیومی اصفہانی، قم، دفتر انتشارات اسلامی، ۱۴۱۹ق۔
  • احمدی میانجی، علی، مکاتیب الأئمۃ(ع)، قم،‌ دار الحدیث، ۱۴۲۶ق۔
  • ثقفی، ابراہیم بن محمد، الغارات أو الإستنفار و الغارات، محقق و مصحح: جلال‌الدین محدث، تہران، انجمن آثار ملی، ۱۳۹۵ق۔
  • حلی، حسن بن علی بن داود (ابن داود)، الرجال، تہران، دانشگاہ تہران، ۱۳۴۲ق۔
  • ذہبی، شمس‌الدین محمد بن أحمد، تاریخ الاسلام و وَفیات المشاہیر و الأعلام، محقق: بشار عوّاد معروف،‌ دار الغرب الإسلامی، ۲۰۰۳م۔
  • زرکلی، خیر الدین، الاعلام، بیروت،‌ دار العلم للملایین، ۱۹۸۹م۔
  • زمخشری، محمود بن عمر، الفائق فی غریب الحدیث، محقق و مصحح: ابراہیم شمس الدین، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، ۱۴۱۷ق۔
  • سید رضی، محمد بن حسین، نہج البلاغۃ، محقق: صبحی صالح، قم، ہجرت، ۱۴۱۴ق۔
  • شہید اول، محمد بن مکی، المزار فی کیفیۃ زیارات النبی و الأئمۃ(ع)، قم، مدرسہ امام مہدی(عج)، ۱۴۱۰ق۔
  • شیخ مفید، الاختصاص، محقق و مصحح: علی‌اکبر غفاری و محمود محرمی زرندی، قم، المؤتمر العالمی لالفیۃ الشیخ المفید، ۱۴۱۳ق۔
  • شیخ مفید، الجمل و النصرۃ لسید العترۃ فی حرب البصرۃ، محقق و مصحح: علی میرشریفی، قم، کنگرہ شیخ مفید، ۱۴۱۳ق۔
  • کشی، محمد بن عمر، اختیار معرفۃ الرجال، محقق و مصحح: محمد رجایی، قم، موسسہ آل البیت، ۱۳۶۳ش۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، محقق و مصحح: علی‌اکبر غفاری و محمد آخوندی، تہران،‌ دار الکتب الإسلامیۃ، ۱۴۰۷ق۔
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت،‌ دار إحیاء التراث العربی، ۱۴۰۳ق۔
  • مسعودی، علی بن الحسین، مروج الذہب و معادن الجوہر، تحقیق: داغر، اسعد،‌ قم، دار الہجرۃ، ۱۴۰۹ق۔
  • نصر بن مزاحم، وقعۃ صفین، محقق و مصحح: عبد السلام محمد ہارون، قم، مکتبۃ آیۃ اللہ المرعشی النجفی، ۱۴۰۴ق۔
  • یعقوبی، احمد بن ابی‌یعقوب، تاریخ الیعقوبی،‌ بیروت، دار صادر، بی‌تا۔