"صحیفہ سجادیہ کی ساتویں دعا" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
م
(متن اور ترجمہ)
سطر 15: سطر 15:
 
==متن اور ترجمہ==
 
==متن اور ترجمہ==
 
{{نقل قول|{{حدیث|<center>وَ کانَ مِنْ دُعَائِهِ علیه‌السلام إِذَا عَرَضَتْ لَهُ مُهِمَّةٌ أَوْ نَزَلَتْ بِهِ، مُلِمَّةٌ وَ عِنْدَ الْکرْبِ</center>(۱) یا مَنْ تُحَلُّ بِهِ عُقَدُ الْمَکارِهِ، وَ یا مَنْ یفْثَأُ بِهِ حَدُّ الشَّدَائِدِ، وَ یا مَنْ یلْتَمَسُ مِنْهُ الْمَخْرَجُ إِلَی رَوْحِ الْفَرَجِ. (۲) ذَلَّتْ لِقُدْرَتِک الصِّعَابُ، وَ تَسَبَّبَتْ بِلُطْفِک الْأَسْبَابُ، وَ جَرَی بِقُدرَتِک الْقَضَاءُ، وَ مَضَتْ عَلَی إِرَادَتِک الْأَشْیاءُ. (۳) فَهِی بِمَشِیتِک دُونَ قَوْلِک مُؤْتَمِرَةٌ، وَ بِإِرَادَتِک دُونَ نَهْیک مُنْزَجِرَةٌ. (۴) أَنْتَ الْمَدْعُوُّ لِلْمُهِمَّاتِ، وَ أَنْتَ الْمَفْزَعُ فِی الْمُلِمَّاتِ، لَا ینْدَفِعُ مِنْهَا إِلَّا مَا دَفَعْتَ، وَ لَا ینْکشِفُ مِنْهَا إِلَّا مَا کشَفْتَ (۵) وَ قَدْ نَزَلَ بی‌ یا رَبِّ مَا قَدْ تَکأَّدَنِی ثِقْلُهُ، وَ أَلَمَّ بی‌مَا قَدْ بَهَظَنِی حَمْلُهُ. (۶) وَ بِقُدْرَتِک أَوْرَدْتَهُ عَلَی وَ بِسُلْطَانِک وَجَّهْتَهُ إِلَی. (۷) فَلَا مُصْدِرَ لِمَا أَوْرَدْتَ، وَ لَا صَارِفَ لِمَا وَجَّهْتَ، وَ لَا فَاتِحَ لِمَا أَغْلَقْتَ، وَ لَا مُغْلِقَ لِمَا فَتَحْتَ، وَ لَا مُیسِّرَ لِمَا عَسَّرْتَ، وَ لَا نَاصِرَ لِمَنْ خَذَلْتَ. (۸) فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ افْتَحْ لِی یا رَبِّ بَابَ الْفَرَجِ بِطَوْلِک، وَ اکسِرْ عَنِّی سُلْطَانَ الْهَمِّ بِحَوْلِک، وَ أَنِلْنِی حُسْنَ النَّظَرِ فِیمَا شَکوْتُ، وَ أَذِقْنِی حَلَاوَةَ الصُّنْعِ فِیمَا سَأَلْتُ، وَ هَبْ لِی‏ مِنْ لَدُنْک رَحْمَةً وَ فَرَجاً هَنِیئاً، وَ اجْعَلْ لِی مِنْ عِنْدِک مَخْرَجاً وَحِیاً. (۹) وَ لَا تَشْغَلْنِی بِالاهْتِمَامِ عَنْ تَعَاهُدِ فُرُوضِک، وَ اسْتِعْمَالِ سُنَّتِک. (۱۰) فَقَدْ ضِقْتُ لِمَا نَزَلَ بی‌یا رَبِّ ذَرْعاً، وَ امْتَلَأْتُ بِحَمْلِ مَا حَدَثَ عَلَی هَمّاً، وَ أَنْتَ الْقَادِرُ عَلَی کشْفِ مَا مُنِیتُ بِهِ، وَ دَفْعِ مَا وَقَعْتُ فِیهِ، فَافْعَلْ بی‌ذَلِک وَ إِنْ لَمْ أَسْتَوْجِبْهُ مِنْک، یا ذَا الْعَرْشِ الْعَظِیمِ.}}|<center>مشکلات کے وقت کی دعا </center>(۱)اے وہ جس کے ذریعہ مصیبتو ں کے بندھن کھل جاتے ہیں۔ اے وہ جس کے باعث سختیوں کی باڑھ کند ہوجاتی ہے۔ اے وہ جس سے ( تنگی و دشواری سے ) وسعت و فراخی کی آسائش کی طرف نکال لے جانے کی التجا کی جاتی ہے:(۲) تو وہ ہے کہ تیری قدرت کے آگے دشواریاں آسان ہوگئیں، تیرے لطف سے سلسلۂ اسباب برقرار رہا اور تیری قدرت سے قضا کا نفاذ ہوا اور تمام چیزیں تیرے ارادہ کے رخ پر گامزن ہیں ۔ (۳)وہ بن کہے تیری مشیت کی پابند اور بن روکے خود ہی تیرے ارادہ سے رکی ہوئی ہیں۔
 
{{نقل قول|{{حدیث|<center>وَ کانَ مِنْ دُعَائِهِ علیه‌السلام إِذَا عَرَضَتْ لَهُ مُهِمَّةٌ أَوْ نَزَلَتْ بِهِ، مُلِمَّةٌ وَ عِنْدَ الْکرْبِ</center>(۱) یا مَنْ تُحَلُّ بِهِ عُقَدُ الْمَکارِهِ، وَ یا مَنْ یفْثَأُ بِهِ حَدُّ الشَّدَائِدِ، وَ یا مَنْ یلْتَمَسُ مِنْهُ الْمَخْرَجُ إِلَی رَوْحِ الْفَرَجِ. (۲) ذَلَّتْ لِقُدْرَتِک الصِّعَابُ، وَ تَسَبَّبَتْ بِلُطْفِک الْأَسْبَابُ، وَ جَرَی بِقُدرَتِک الْقَضَاءُ، وَ مَضَتْ عَلَی إِرَادَتِک الْأَشْیاءُ. (۳) فَهِی بِمَشِیتِک دُونَ قَوْلِک مُؤْتَمِرَةٌ، وَ بِإِرَادَتِک دُونَ نَهْیک مُنْزَجِرَةٌ. (۴) أَنْتَ الْمَدْعُوُّ لِلْمُهِمَّاتِ، وَ أَنْتَ الْمَفْزَعُ فِی الْمُلِمَّاتِ، لَا ینْدَفِعُ مِنْهَا إِلَّا مَا دَفَعْتَ، وَ لَا ینْکشِفُ مِنْهَا إِلَّا مَا کشَفْتَ (۵) وَ قَدْ نَزَلَ بی‌ یا رَبِّ مَا قَدْ تَکأَّدَنِی ثِقْلُهُ، وَ أَلَمَّ بی‌مَا قَدْ بَهَظَنِی حَمْلُهُ. (۶) وَ بِقُدْرَتِک أَوْرَدْتَهُ عَلَی وَ بِسُلْطَانِک وَجَّهْتَهُ إِلَی. (۷) فَلَا مُصْدِرَ لِمَا أَوْرَدْتَ، وَ لَا صَارِفَ لِمَا وَجَّهْتَ، وَ لَا فَاتِحَ لِمَا أَغْلَقْتَ، وَ لَا مُغْلِقَ لِمَا فَتَحْتَ، وَ لَا مُیسِّرَ لِمَا عَسَّرْتَ، وَ لَا نَاصِرَ لِمَنْ خَذَلْتَ. (۸) فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ افْتَحْ لِی یا رَبِّ بَابَ الْفَرَجِ بِطَوْلِک، وَ اکسِرْ عَنِّی سُلْطَانَ الْهَمِّ بِحَوْلِک، وَ أَنِلْنِی حُسْنَ النَّظَرِ فِیمَا شَکوْتُ، وَ أَذِقْنِی حَلَاوَةَ الصُّنْعِ فِیمَا سَأَلْتُ، وَ هَبْ لِی‏ مِنْ لَدُنْک رَحْمَةً وَ فَرَجاً هَنِیئاً، وَ اجْعَلْ لِی مِنْ عِنْدِک مَخْرَجاً وَحِیاً. (۹) وَ لَا تَشْغَلْنِی بِالاهْتِمَامِ عَنْ تَعَاهُدِ فُرُوضِک، وَ اسْتِعْمَالِ سُنَّتِک. (۱۰) فَقَدْ ضِقْتُ لِمَا نَزَلَ بی‌یا رَبِّ ذَرْعاً، وَ امْتَلَأْتُ بِحَمْلِ مَا حَدَثَ عَلَی هَمّاً، وَ أَنْتَ الْقَادِرُ عَلَی کشْفِ مَا مُنِیتُ بِهِ، وَ دَفْعِ مَا وَقَعْتُ فِیهِ، فَافْعَلْ بی‌ذَلِک وَ إِنْ لَمْ أَسْتَوْجِبْهُ مِنْک، یا ذَا الْعَرْشِ الْعَظِیمِ.}}|<center>مشکلات کے وقت کی دعا </center>(۱)اے وہ جس کے ذریعہ مصیبتو ں کے بندھن کھل جاتے ہیں۔ اے وہ جس کے باعث سختیوں کی باڑھ کند ہوجاتی ہے۔ اے وہ جس سے ( تنگی و دشواری سے ) وسعت و فراخی کی آسائش کی طرف نکال لے جانے کی التجا کی جاتی ہے:(۲) تو وہ ہے کہ تیری قدرت کے آگے دشواریاں آسان ہوگئیں، تیرے لطف سے سلسلۂ اسباب برقرار رہا اور تیری قدرت سے قضا کا نفاذ ہوا اور تمام چیزیں تیرے ارادہ کے رخ پر گامزن ہیں ۔ (۳)وہ بن کہے تیری مشیت کی پابند اور بن روکے خود ہی تیرے ارادہ سے رکی ہوئی ہیں۔
(۴)مشکلات میں تجھے ہی پکارا جاتا ہے اور بلیات میں تو ہی جائے پناہ ہے۔ ان میںسے کوئی مصیبت ٹل نہیں سکتی مگر جسے تو ٹال دے اور کوئی مشکل حل نہیں ہوسکتی مگر جسے تو حل کرے ۔ (۵)پروردگار ! مجھ پر ایک ایسی مصیبت نازل ہوئی ہے جس کی سنگینی نے مجھے گرانبار کردیا ہے اور ایک ایسی آفت آپڑی ہے جس سے میری قوت برداشت عاجز ہوچکی ہے۔ (۶)تو نے اپنی قدرت سے اس مصیبت کو مجھ پر وارد کیا ہے اور اپنے اقتدار سے میری طرف متوجہ کیا ہے۔ (۷)تو جسے تو وارد کرے اسے کوئی ہٹانے والااور جسے تو متوجہ کرے اسے کوئی پلٹانے والا اور جسے تو بند کرے اسے کوئی کھولنے والا اور جسے تو کھولے اسے کوئی بند کرنے والا اور جسے تودشوار بنائے اسے کوئی آسان کرنے والا اور جسے تو نظر انداز کرے اسے کوئی مدد دینے والا نہیں ہے۔ (۸)رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل پر اور اپنی کرم نوازی سے اے میرے پالنے والے میرے لیے آسائش کا دروازہ کھول دے اور اپنی قوت و توانائی سے غم و اندوہ کا زور توڑ دے اور میری حاجت کو پورا کرکے شیرینی احسان سے مجھے لذت اندوز کر اور اپنی طرف سے رحمت اور خوشگوار آسودگی مرحمت فرما اور میرے لیے اپنے لطف خاص سے جلد چھٹکارے کی راہ پیدا کر اور (۹)اس غم و اندوہ کی وجہ سے اپنے فرائض کی پابندی اور مستحبات کی بجاآوری سے غفلت میں نہ ڈال دے ۔(۱۰) کیونکہ میں اس مصیبت کے ہاتھوں تنگ آ چکا ہوں اور اس حادثہ کے ٹوٹ پڑنے سے دل رنج و اندوہ سے بھر گیا ہے۔ جس مصیبت میں مبتلا ہوں اس کے دور کرنے اور جس بلا میں پھنسا ہوا ہوں اس سے نکالنے پر تو ہی قادر ہے، لہٰذا اپنی قدرت کو میرے حق میں کار فرما کر ۔ اگرچہ تیری طرف سے میں اس کا سزا وار نہ قرار پا سکوں ۔ اے عرش عظیم کے مالک۔ }}
+
(۴)مشکلات میں تجھے ہی پکارا جاتا ہے اور بلیات میں تو ہی جائے پناہ ہے۔ ان میں سے کوئی مصیبت ٹل نہیں سکتی مگر جسے تو ٹال دے اور کوئی مشکل حل نہیں ہوسکتی مگر جسے تو حل کرے ۔ (۵)پروردگار ! مجھ پر ایک ایسی مصیبت نازل ہوئی ہے جس کی سنگینی نے مجھے گرانبار کردیا ہے اور ایک ایسی آفت آپڑی ہے جس سے میری قوت برداشت عاجز ہوچکی ہے۔ (۶)تو نے اپنی قدرت سے اس مصیبت کو مجھ پر وارد کیا ہے اور اپنے اقتدار سے میری طرف متوجہ کیا ہے۔ (۷)تو جسے تو وارد کرے اسے کوئی ہٹانے والااور جسے تو متوجہ کرے اسے کوئی پلٹانے والا اور جسے تو بند کرے اسے کوئی کھولنے والا اور جسے تو کھولے اسے کوئی بند کرنے والا اور جسے تودشوار بنائے اسے کوئی آسان کرنے والا اور جسے تو نظر انداز کرے اسے کوئی مدد دینے والا نہیں ہے۔ (۸)رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل پر اور اپنی کرم نوازی سے اے میرے پالنے والے میرے لیے آسائش کا دروازہ کھول دے اور اپنی قوت و توانائی سے غم و اندوہ کا زور توڑ دے اور میری حاجت کو پورا کرکے شیرینی احسان سے مجھے لذت اندوز کر اور اپنی طرف سے رحمت اور خوشگوار آسودگی مرحمت فرما اور میرے لیے اپنے لطف خاص سے جلد چھٹکارے کی راہ پیدا کر اور (۹)اس غم و اندوہ کی وجہ سے اپنے فرائض کی پابندی اور مستحبات کی بجاآوری سے غفلت میں نہ ڈال دے ۔(۱۰) کیونکہ میں اس مصیبت کے ہاتھوں تنگ آ چکا ہوں اور اس حادثہ کے ٹوٹ پڑنے سے دل رنج و اندوہ سے بھر گیا ہے۔ جس مصیبت میں مبتلا ہوں اس کے دور کرنے اور جس بلا میں پھنسا ہوا ہوں اس سے نکالنے پر تو ہی قادر ہے، لہٰذا اپنی قدرت کو میرے حق میں کار فرما کر ۔ اگرچہ تیری طرف سے میں اس کا سزا وار نہ قرار پا سکوں ۔ اے عرش عظیم کے مالک۔ }}
  
 
== حوالہ جات ==
 
== حوالہ جات ==

نسخہ بمطابق 06:51, 26 مارچ 2020

دعا و مناجات
مسجد جامع خرمشهر.jpg

صحیفہ سجادیہ کی ساتویں دعا دس حصوں پر مشتمل ہے جو امام سجادؑ سے نقل ہوئی ہے۔ اس دعا میں مشکلات اور دشواریوں کا حل خدا کے ہاتھ میں ہونے نیز خدا کی رحمت سے حیات کے اساب فراہم ہونے کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ اس دعا کے دیگر مضامین میں سے ایک یہ ہے کہ ہر چیز فقط کی مشیّت سے جاری و ساری ہے اس بنا پر اگر خدا کسی کو ذلیل اور رسوا کرنا چاہے تو اس شخص کے لئے کوئی اور مددگار نہیں ملے گا۔

مشکلات اور بلاؤوں کی برطرفی کے لئے ایک خاص آداب کے ساتھ نماز صبح کے بعد بین الطلوعین اس دعا کے پڑھنے کی سفارش ہوئی ہے۔۔

مضامین

  • ہر مشکل کا حل خدا کے پاس ہے اور سختیاں خدا کے لطف و کرم سے آسان ہونگے۔
  • خدا کی رحمت سے ہی زندگی کے وسائل اور اسباب فراہم ہونگے اور قضا و قدر خدا کے قبضہ قدرت میں ہے۔
  • ہر چیز خدا کی مشیّت سے جاری و ساری ہیں؛ یہاں تک کہ فرمان دئے بغیر ہر چیز اس کے فرمانبردار ہیں اور منع کیئے بغیر ہر چیز کی حرکت رک جاتی ہے۔
  • جو چیز خدا انجام دینا چاہے کوئی اسے روک نہیں سکتا اور جس چیز کی انجام دہی کو خدا دشوار کر دے اسے کوئی آسان نہیں بنا سکتا۔
  • جسے خدا ذلیل و رسوا کرنا چاہے اسا کوئی مددگار نہیں ہو گا۔

پڑھنے کا طریقہ

بعض کتابوں میں صحیفہ سجادیہ کی ساتویں دعا کے پڑھنے کا خاص طریقہ نقل ہوا ہے: اتوار کے دن سے اس کے پڑھنے کا آغاز کرے اور مسلسل تیس دن تک پڑھے، ہر روز مذکورہ دعا کو دس مرتبہ پڑھے اور دعا ختم ہونے کے بعد یا رب، یا رب کا ورد کرے یہاں تک کہ سانس رک جائے، اس کے بعد سجدے میں جا کر خدا سے اپنی حاجت طلب کرے۔ کہا گیا ہے کہ اس دعا کے شروع کرنے سے پہلے دس مرتبہ صلوات بھیجا جائے اسی طرح دعا سے پہلے اور بعد میں چالیس مرتبہ "یا اللہ" کا ورد کیا جائے۔ اس دعا کو نماز صبح کے بعد بین الطلوعین پڑھنا چاہئے اور ان تیس دنوں میں حرام خواری اور پرخوری سے پرہیز کرنے کی سفارش ہوئی ہے۔ اسی طرح با طہارت اور رو بقبلہ نیز حضور قلب کے ساتھ پڑھنے کی سفارش ہوئی ہے۔[1]

شرحیں

صحیفہ سجادیہ پر لکھی گئی شروحات میں اس دعا کی بھی شرح کے ساتھ مشکل الفاظ کے معانی کی توضیح دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ دیار عاشقان،[2] شہود و شناخت،[3] ریاض السالکین[4] اور فی ظلال الصحیفۃ السجادیۃ[5] جیسی کتابوں میں بھی اس دعا کی شرح کی گئی ہے۔ اسی طرح فیض کاشانی کی کتاب تعلیقات علی الصحیفۃ السجادیۃ اور محمد باقر شفیع‌ حسینی کی کتاب "حل لغات الصحیفۃ السجادیۃ" میں اس دعا کے مشکل الفاظ کی توضیح دی گئی ہے۔

متن اور ترجمہ

وَ کانَ مِنْ دُعَائِهِ علیه‌السلام إِذَا عَرَضَتْ لَهُ مُهِمَّةٌ أَوْ نَزَلَتْ بِهِ، مُلِمَّةٌ وَ عِنْدَ الْکرْبِ
(۱) یا مَنْ تُحَلُّ بِهِ عُقَدُ الْمَکارِهِ، وَ یا مَنْ یفْثَأُ بِهِ حَدُّ الشَّدَائِدِ، وَ یا مَنْ یلْتَمَسُ مِنْهُ الْمَخْرَجُ إِلَی رَوْحِ الْفَرَجِ. (۲) ذَلَّتْ لِقُدْرَتِک الصِّعَابُ، وَ تَسَبَّبَتْ بِلُطْفِک الْأَسْبَابُ، وَ جَرَی بِقُدرَتِک الْقَضَاءُ، وَ مَضَتْ عَلَی إِرَادَتِک الْأَشْیاءُ. (۳) فَهِی بِمَشِیتِک دُونَ قَوْلِک مُؤْتَمِرَةٌ، وَ بِإِرَادَتِک دُونَ نَهْیک مُنْزَجِرَةٌ. (۴) أَنْتَ الْمَدْعُوُّ لِلْمُهِمَّاتِ، وَ أَنْتَ الْمَفْزَعُ فِی الْمُلِمَّاتِ، لَا ینْدَفِعُ مِنْهَا إِلَّا مَا دَفَعْتَ، وَ لَا ینْکشِفُ مِنْهَا إِلَّا مَا کشَفْتَ (۵) وَ قَدْ نَزَلَ بی‌ یا رَبِّ مَا قَدْ تَکأَّدَنِی ثِقْلُهُ، وَ أَلَمَّ بی‌مَا قَدْ بَهَظَنِی حَمْلُهُ. (۶) وَ بِقُدْرَتِک أَوْرَدْتَهُ عَلَی وَ بِسُلْطَانِک وَجَّهْتَهُ إِلَی. (۷) فَلَا مُصْدِرَ لِمَا أَوْرَدْتَ، وَ لَا صَارِفَ لِمَا وَجَّهْتَ، وَ لَا فَاتِحَ لِمَا أَغْلَقْتَ، وَ لَا مُغْلِقَ لِمَا فَتَحْتَ، وَ لَا مُیسِّرَ لِمَا عَسَّرْتَ، وَ لَا نَاصِرَ لِمَنْ خَذَلْتَ. (۸) فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ افْتَحْ لِی یا رَبِّ بَابَ الْفَرَجِ بِطَوْلِک، وَ اکسِرْ عَنِّی سُلْطَانَ الْهَمِّ بِحَوْلِک، وَ أَنِلْنِی حُسْنَ النَّظَرِ فِیمَا شَکوْتُ، وَ أَذِقْنِی حَلَاوَةَ الصُّنْعِ فِیمَا سَأَلْتُ، وَ هَبْ لِی‏ مِنْ لَدُنْک رَحْمَةً وَ فَرَجاً هَنِیئاً، وَ اجْعَلْ لِی مِنْ عِنْدِک مَخْرَجاً وَحِیاً. (۹) وَ لَا تَشْغَلْنِی بِالاهْتِمَامِ عَنْ تَعَاهُدِ فُرُوضِک، وَ اسْتِعْمَالِ سُنَّتِک. (۱۰) فَقَدْ ضِقْتُ لِمَا نَزَلَ بی‌یا رَبِّ ذَرْعاً، وَ امْتَلَأْتُ بِحَمْلِ مَا حَدَثَ عَلَی هَمّاً، وَ أَنْتَ الْقَادِرُ عَلَی کشْفِ مَا مُنِیتُ بِهِ، وَ دَفْعِ مَا وَقَعْتُ فِیهِ، فَافْعَلْ بی‌ذَلِک وَ إِنْ لَمْ أَسْتَوْجِبْهُ مِنْک، یا ذَا الْعَرْشِ الْعَظِیمِ.
مشکلات کے وقت کی دعا
(۱)اے وہ جس کے ذریعہ مصیبتو ں کے بندھن کھل جاتے ہیں۔ اے وہ جس کے باعث سختیوں کی باڑھ کند ہوجاتی ہے۔ اے وہ جس سے ( تنگی و دشواری سے ) وسعت و فراخی کی آسائش کی طرف نکال لے جانے کی التجا کی جاتی ہے:(۲) تو وہ ہے کہ تیری قدرت کے آگے دشواریاں آسان ہوگئیں، تیرے لطف سے سلسلۂ اسباب برقرار رہا اور تیری قدرت سے قضا کا نفاذ ہوا اور تمام چیزیں تیرے ارادہ کے رخ پر گامزن ہیں ۔ (۳)وہ بن کہے تیری مشیت کی پابند اور بن روکے خود ہی تیرے ارادہ سے رکی ہوئی ہیں۔ (۴)مشکلات میں تجھے ہی پکارا جاتا ہے اور بلیات میں تو ہی جائے پناہ ہے۔ ان میں سے کوئی مصیبت ٹل نہیں سکتی مگر جسے تو ٹال دے اور کوئی مشکل حل نہیں ہوسکتی مگر جسے تو حل کرے ۔ (۵)پروردگار ! مجھ پر ایک ایسی مصیبت نازل ہوئی ہے جس کی سنگینی نے مجھے گرانبار کردیا ہے اور ایک ایسی آفت آپڑی ہے جس سے میری قوت برداشت عاجز ہوچکی ہے۔ (۶)تو نے اپنی قدرت سے اس مصیبت کو مجھ پر وارد کیا ہے اور اپنے اقتدار سے میری طرف متوجہ کیا ہے۔ (۷)تو جسے تو وارد کرے اسے کوئی ہٹانے والااور جسے تو متوجہ کرے اسے کوئی پلٹانے والا اور جسے تو بند کرے اسے کوئی کھولنے والا اور جسے تو کھولے اسے کوئی بند کرنے والا اور جسے تودشوار بنائے اسے کوئی آسان کرنے والا اور جسے تو نظر انداز کرے اسے کوئی مدد دینے والا نہیں ہے۔ (۸)رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل پر اور اپنی کرم نوازی سے اے میرے پالنے والے میرے لیے آسائش کا دروازہ کھول دے اور اپنی قوت و توانائی سے غم و اندوہ کا زور توڑ دے اور میری حاجت کو پورا کرکے شیرینی احسان سے مجھے لذت اندوز کر اور اپنی طرف سے رحمت اور خوشگوار آسودگی مرحمت فرما اور میرے لیے اپنے لطف خاص سے جلد چھٹکارے کی راہ پیدا کر اور (۹)اس غم و اندوہ کی وجہ سے اپنے فرائض کی پابندی اور مستحبات کی بجاآوری سے غفلت میں نہ ڈال دے ۔(۱۰) کیونکہ میں اس مصیبت کے ہاتھوں تنگ آ چکا ہوں اور اس حادثہ کے ٹوٹ پڑنے سے دل رنج و اندوہ سے بھر گیا ہے۔ جس مصیبت میں مبتلا ہوں اس کے دور کرنے اور جس بلا میں پھنسا ہوا ہوں اس سے نکالنے پر تو ہی قادر ہے، لہٰذا اپنی قدرت کو میرے حق میں کار فرما کر ۔ اگرچہ تیری طرف سے میں اس کا سزا وار نہ قرار پا سکوں ۔ اے عرش عظیم کے مالک۔

حوالہ جات

  1. اکبری ساوجی، آب حیات، ۱۳۹۲ش، دستور ۱۸۶۔
  2. انصاریان، دیار عاشقان، ۱۳۷۱ش، ج۴، ص۱۰۳-۲۲۴۔
  3. ممدوحی کرمانشاہی، شہود و شناخت، ۱۳۸۵ش، ج۱، ص۴۲۵۔
  4. حسینی مدنی، ریاض السالکین، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۳۰۱-۳۲۵۔
  5. مغنیہ، فی ظلال الصحیفہ السجادیہ، ۱۴۲۸ق، ص۱۳۵-۱۴۱۔


مآخذ

  • انصاریان، حسین، دیار عاشقان: تفسیر جامع صحیفہ سجادیہ، تہران، پیام آزادی، ۱۳۷۱ش۔
  • اکبری ساوجی، محمدحسین، آب حیات، قم، قائم آل محمد(ص)، ۱۳۹۲ش۔
  • تنکابنی، محمد بن سلیمان، شرح صحیفہ سجادیہ، قم، شمس الضحی، ۱۳۸۴ش۔
  • حسینی مدنی، سید علیخان، ریاض السالکین فی شرح صحیفۃ سیدالساجدین، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، ۱۴۰۹ق۔
  • شفیع‌حسینی، محمدباقر، حل لغات الصحیفۃ السجادیۃ، مشہد، تاسوعا، ۱۴۲۰ق۔
  • فیض کاشانی، محمد بن مرتضی، تعلیقات علی الصحیفۃ السجادیۃ، تہران، مؤسسۃ البحوث و التحقیقات الثقافیہ، ۱۴۰۷ق۔
  • مغنیہ، محمدجواد، فی ظلال الصحیفۃ السجادیۃ، قم،‌ دار الکتاب الاسلامی، ۱۴۲۸ق۔
  • ممدوحی کرمانشاہی، حسن، شہود و شناخت: ترجمہ و شرح صحیفہ سجادیہ، با مقدمہ آیت‌اللہ جوادی آملی، قم، بوستان کتاب، ۱۳۸۵ش۔