"صارف:Hkmimi/تمرین" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
(واضح تر تشریح)
(تمام مندرجات حذف)
 
سطر 1: سطر 1:
{{زیر تعمیر}}
 
{{نستعلیق متن}}
 
{{شیعہ}}
 
'''بقیۃ اللہ''' شیعہ اثناعشری کے آخری امام حضرت مہدی کے القاب میں سے ایک لقب ہے جو اس وقت غیب کے پردے میں ہیں۔ بقیۃ اللہ ایک [[قرآن کریم|قرآنی]] لفظ ہے جس کی  بعض روایات میں ائمہ معصومین سے تاؤیل ہوئی ہے جبکہ بعض نے اسے امام مہدی کے القاب میں سے ایک لقب قرار دیا ہے۔
 
  
عربی لغت اور تفاسیر میں بقیۃ اللہ کا معنی اس چیز سے کیا ہے جو اللہ تعالی انسان کے لیے محفوظ رکھتا ہے نیز فضل اور خیر کا معنی بھی کیا گیا ہے. اور ائمہ سے معنی کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ائمہؑ اللہ کی طرف سے لوگوں پر فضل اور نعمت ہیں۔
 
==اہل بیت کے بارے میں==
 
بقیۃ اللہ کا لفظ شیعہ احادیث میں ائمہ معصومین سے تفسیر ہوا ہے۔ مثال کے طور پر  [[ابن شہر آشوب]] کا کہنا ہے کہ «بَقیّةُ اللّهِ خَیرٌ لکُم اِن کُنتم مُؤمِنین»<ref>سوره هود، آیه ۸۶.</ref> والی آیت ائمہؑ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔<ref> ابن شہرآشوب، مناقب آل ابی‌طالب، ج۳، ص۱۰۲.</ref> [[علامہ مجلسی]] نے بقیۃ اللہ  کو «من ابقاہ الله»(جسے اللہ نے باقی رکھا ہے)  کے معنی میں لیتے ہوئے کہا ہے کہ «بقیۃ اللہ سے مراد انبیا اور ان کے اوصیاء میں سے وہ لوگ مراد ہیں جنہیں اللہ تعالی نے لوگوں کی ہدایت کے لیے زمین پر باقی رکھا ہے، یا وہ ائمہ مراد ہیں جو انبیاء کی امت میں انکے وارث ہیں۔»<ref> مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۲۴، ص۲۱۱</ref>اسی طرح ایک روایت کے مطابق جب لوگوں نے امام محمد باقرؑ  پر شہر کا دروازہ بند کیا تو آپؑ نے اپنا تعارف بقیۃ اللہ کے عنوان سے کرایا۔<ref>مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۲۴، ص۲۱۲.</ref>  [[زیارت جامعہ کبیرہ]] میں بھی شیعہ ائمہؑ کو بقیت اللہ کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔<ref>ابن مشہدی، المزار الکبیر، ۱۴۱۹ق، ص۵۲۶.</ref>
 
 
==مفسروں کے مختلف نظریات==
 
مفسرین نے آیہ "'''<font color = green>بَقِيَّةُ اللّهِ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ</font>'''"۔ (ترجمہ: جو کچھ ذخیرہ خدا کی طرف کا باقی ہے وہ تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم با ایمان ہو)۔ کے ذیل میں حضرت شعیب کو اپنی قوم کے لیے کی جانے والی تصیحتوں کے ضمن میں بقیۃ اللہ کے مختلف معانی بیان کیا ہے۔ جبکہ بعض نے '''بقیۃ اللّهِ''' کو معاملے سے حاصل ہونے والی اس [[حلال]] منفعت سے تفسیر کیا ہے جو انسان کے پاس باقی رہتا ہے۔<ref>علامه طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۰، ص۳۶۴.</ref> بعض نے پیمانہ بھرا رکھنے یا ناپ تول کے آلے (مکیال اور میزان یا ترازو) کے عدالت کے مطابق رکھنے<ref>سوره ہود، آیہ 85۔</ref> سے جوڑ دیا ہے اور کہا ہے کہ بقیۃ اللہ یعنی وہ جو صحیح طور پر پیمانہ کرنے، تولنے اور ناپنے کے بعد تمہارے لئے باقی رہے یا جو کچھ خداوند متعال اس کے بعد تمہارے لئے باقی رکھے وہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ تم کم فروشی سے کام لو۔<ref>زمخشری، الکشاف، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۴۱۸.</ref>
 
 
بعض نے اس [[حلال]] مال سے تفسیر کیا ہے جو مال [[حرام]] سے اجتناب کے بعد باقی رہتا ہے تاہم وہ یہ احتمال بھی دیتا ہے کہ ممکن ہے '''بَقِيَّةُ اللّهِ''' سے مراد وہ طاعات اور عبادات ہوں جو اللہ کے پاس باقی باقی رہتی ہیں۔<ref>زمخشری، کشاف، ج2، ص418</ref> لغویوں نے بھی '''بَقِيَّةُ اللّهِ''' اور "بقیة" کے لئے تقریبا یہی معانی ذکر کئے ہیں اور یہ معانی بظاہر آیت کے سیاق اور اس آیت میں اس عبارت کے موضوع کے پیش نظر اخذ کئے گئے ہیں۔
 
اہل سنت کے مفسر زمخشری نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ بقیۃ اللہ سے مراد شاید اللہ کی وہ اطاعت ہو جو اللہ کے ہاں محفوظ ہیں۔<ref>زمخشری، الکشاف، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۴۱۸.</ref> علامہ مجلسی کے بقول مفسرین نے بقیۃ اللہ کو اس نعمت اور ثواب کے معنی میں لیا ہے جو آخرت کے لیے باقی رہتے ہیں۔<ref>مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۲۴، ص۲۱۱.</ref>
 
 
==امام مہدی کا لقب==
 
بعض روایات کے مطابق بقیت اللہ سے مراد امام زمانہ ہیں؛ جیسا کہ [[امیرالمؤمنین|حضرت علی علیہ السلام]] سے منقول ہے کہ '''بَقِيَّةُ اللّهِ''' سے مراد [[امام مہدیؑ|امام مہدی]] ہیں<ref>طبرسی، الاحتجاج، ۱۴۰۳ق، ج۱، ص۲۵۲.</ref> اسی طرح ایک اور روایت کے مطابق امام صادقؑ سے جب سوال ہوا کہ کیا لوگ امام مہدیؑ کو امیرالمومنین سے پکار سکتے ہیں؟ تو امامؑ نے فرمایا: امیرالمومنین کا لقب علی بن ابی طالب سے خاص ہے اور آپ نے لوگوں سے کہا کہ امام زمانہ کو بقیۃ اللہ سے پکاریں۔<ref>کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۴۱۱-۴۱۲.</ref>
 
س عبارت کی دوسری تفسیر کا تعلق [[شیعہ اثنا عشریہ]] کے [[امام مہدی علیہ السلام|بارہویں امام(عج)]] کی طرف پلٹتی ہے: یعنی [[امام مہدی علیہ السلام|امام مہدی]] عجل اللہ تعالی فَرَجَہُ الشریف۔
 
 
نہج البلاغہ کے بعض شیعہ شارحین نے نہج البلاغہ میں استعمال ہونے والی عبارت «بقیهٌ من بقایا حجته: وہ اللہ کی حجتوں میں سے باقی ماندہ حجت ہیں»<ref> نهج البلاغه، ۱۴۱۴ق، خطبه۱۸۲، ص۲۶۲.</ref> کی تفسیر بارہویں امام سے کیا ہے۔<ref>قطب راوندی، منهاج البراعه، ۱۴۰۴ق، ج۲، ص۷۲۲، به نقل از دانشنامه جهان اسلام، مدخل بقیة الله؛ خویی، منهاج البراعه، ۱۴۰۰ق، ج۱۰، ص۳۵۵.</ref> [[ابن ابی‌الحدید معتزلی]] کا کہنا ہے کہ شیعوں نے اس کلام سے مراد مہدی، صوفیوں نے عرفا اور اہل سنت نے ان علما سے تفسیر کیا ہے جو بندوں پر اللہ کی حجت ہیں۔<ref>ابن ابی‌الحدید، شرح نهج البلاغه، ۱۴۰۴ق، ج۱۰، ص۹۵-۹۶.</ref> اسی طرح دعائے ندبہ میں بھی امام مہدی کو بقیۃ اللہ سے یاد کیا گیا ہے۔<ref>ابن مشهدی، المزار الکبیر، ۱۴۱۹ق، ص۵۷۸.</ref>
 
 
[[شیعہ]] روایات میں منقول ہے کہ [[حضرت مہدی علیہ السلام|حضرت مہدی عجّل اللہُ تعالی فَرَجَهُ الشریف]] [[ظہور]] کے وقت آیت '''بقیة اللّهِ خَیرٌلَکُم ...''' کی تلاوت کریں گے اور کہیں گے: "انا '''بَقِيَّةُ اللّهِ''' وحُجّّتُهَُ" (میں اللہ کا محفوظ کیا ہوا ذخیرہ اور حجت ہوں)۔ اور مسلمان آپ کو «السلام علیک یا بقیه اللّهِ فی ارضه.» کہہ کر سلام دیں گے۔<ref>شیخ صدوق، کمال الدین، ۱۳۹۵ق، ج۱، ص۳۳۱.</ref> اسی طرح ایک اور روایت میں مروی ہے کہ  [[حضرت مہدی علیہ السلام]] نے خود فرمایا ہے کہ "انا '''بَقِيَّةُ اللّهِ''' فی ارضه" (میں ہی زمین میں اللہ کا ذخیرہ ہوں)۔<ref>مجلسی، وہی ماخذ، ج24، ص212۔</ref>
 
 
===بقیہ، خیر اور فضل کے معنی میں===
 
بعض مفسرین نے «بقیۃ» کو خیر اور فضل کے معنی میں تفسیر کیا ہے؛ زمخشری نے [[سورہ ہود]] کی آیت 116 جس میں أُوْلُواْ بَقِيَّةٍ آیا ہے اس میں  "بقیہ" سے مراد فضل و خیر لیا ہے۔<ref>زمخشری، الکشاف، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۴۳۶.</ref> جرمنی زبان میں قرآن کا ترجمہ کرنے والے مستشرق رودی پارٹ (Rudi Paret) اس بارے میں کہتا ہے کہ فضل حقیقت میں «بقیہ» اور زیادہ کے معنی میں ہے اور معنی کے تبدل اور تحول میں خیر کا مفہوم بھی اپنے ساتھ لے لیا ہے۔ اسی طرح «بقیہ» بھی «خیر»، «فضل‌»، «برتری‌» اور «منتخب» کے معنی میں متحول ہوا ہے۔<ref> پارت، Der Koran: Kommentar und Konkordanz، چاپ ۱۹۷۷م، ص۵۲-۵۳؛ به نقل از دانشنامه جهان اسلام، مدخل بقیة الله.</ref> «بقیۃ» کا لفظ سورہ بقرہ کی آیت 248 میں بھی فضل اور خیر کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔<ref>پارت، Der Koran: Kommentar und Konkordanz، چاپ۱۹۷۷م، ص۵۲-۵۳: به نقل از دانشنامه جهان اسلام مدخل بقیة الله.</ref> بقیۃ اللہ کو ائمہؑ کے معنی میں لینے کی وجہ بھی یہ بتائی گئی ہے کہ ائمہؑ لوگوں پر اللہ تعالی کی طرف سے فضل اور نعمت ہیں۔<ref> دانشنامه جهان اسلام، ج۳، مدخل بقیه الله.</ref>
 
 
آیت مذکورہ اور [[شیعہ]] [[احادیث]] و روایات میں لفظ "'''بَقِيَّةُ اللّهِ'''" کے مفہوم کی زیادہ دقیق اور واضح تشریح کے لئے ضروری ہے کہ [[قرآن کریم]] کی ایک دوسری آیت کی طرف توجہ دی جائے:
 
خداوند متعال [[سورہ ہود]] کی آیت 116 میں ارشاد فرماتا ہے:
 
 
"'''<font color = green>فَلَوْلاَ كَانَ مِنَ الْقُرُونِ مِن قَبْلِكُمْ أُوْلُواْ بَقِيَّةٍ يَنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِي الأَرْضِ إِلاَّ قَلِيلاً مِّمَّنْ أَنجَيْنَا مِنْهُمْ</font>'''"۔ <br/> ترجمہ: تو کیوں نہ ہوئے ان قوموں میں جو تمہارے پہلے تھیں ایسے بچے کھچے سمجھ دار لوگ جو زمین میں خرابیاں پھیلانے سے منع کرتے سوا تھوڑے سے ایسے افراد کے جن کو ہم نے نجات دی۔
 
 
اس آیت میں عبارت "اولو بقیة" آئی ہے۔ آیت کا سیاق دیکھ کر "بقیہ" سے مراد فضل و خیر لی گئی ہے۔ زمخشری<ref>زمخشری، کشاف، ج2، ص436۔</ref> نے "اولوا بقیہ" سے خداوندان فضل و مال" ‌ مراد لی ہے اور "بقیہ" کے معنی "خیر و فضل" (= سرمایہ اور رزق و روزی) اخذ کئے ہیں۔
 
 
وہ شواہد بھی لاتے ہیں جن میں "بقیہ" سے مراد برگزیدہ افراد ہیں، لیکن یہ شواہد اس آیت کے متن اور تفسیر سے مستقل اور علیحدہ ہیں چنانچہ نہیں کہا جاسکتا کہ مؤخر الذکر مفہوم متن قرآن کی تفسیر کے عنوان سے مد نظر ہو۔
 
 
خطیب تبریزی<ref>خطیب تبریزی، شرح دیوان الحماسہ، ج1، ص87</ref> نے بھی ایک شعر میں لفظ "بقیہ" کو ـ جو زمخشری کے شواہد میں سے ہے ـ "افاضلکم" (= تمہارے بہترین افراد) کے معنی میں، نیز باقی ماندہ افراد کے معنی میں اخذ کیا ہے۔ علاوہ ازیں [[جرمنی|جرمن]] [[مستشرقین|مستشرق]] آنتون اسپیتالر (Anton Spitaler) نے اپنے مقالے "[[قرآن]] میں بقیہ کے معنی کیا ہیں؟" میں زیادہ تفصیلی شواہد پیش کئے<ref>مقالہ: "[[قرآن]] میں بقیہ کے معنی کیا ہیں؟"، "[[قرآن]] میں بقیہ کے معنی کیا ہیں؟" ص137ـ146۔</ref> میں مفصل شواہد بیان کئے ہیں۔ لیکن وہ سب آیت کی تفسیر سے مستقل اور علیحدہ ہیں۔
 
 
آنتون اسپیتالر<ref>اسپیتالر، قرآن میں بقیہ کے معنی ۔۔۔، ص137ـ146۔</ref> نے لکھا ہے کہ "بقیہ" کے معنی فضل کے ہیں اور بنیادی طور پر بھی نیز معنا شناسی کے لحاظ سے بھی اس کے معنی یہی ہیں؛ کیونکہ فضل در حقیقت "بقیہ" اور زیادت کے ہیں اور یہ لفظ ـ معنوی ارتقاء کے نتیجے میں اضافے اور "خیر" کے معنی اختیار کر چکا ہے اور لفظ "بقیہ" بھی "خیر"، "فضل"، "برتری" اور "برگزیدہ" جیسے مفاہیم کے ساتھ معنوی ارتقاء پا چکا ہے۔
 
 
سابقہ موضوعات کو مد نظر رکھتے ہوئے، عبارت "'''بَقِيَّةُ اللّهِ'''" کی [[ائمہ]](ع) سے تفسیر کا سبب بخوبی واضح ہوجاتا ہے اور جہاں '''بَقِيَّةُ اللّهِ''' سے مراد [[امام مہدی علیہ السلام|حضرت مہدی عجل اللہ تعالی فَرَجَہُ الشریف]] ہیں، وہاں '''بَقِيَّةُ اللّهِ''' کے بجائے آسانی سے عبارت "فضل اللہ" متبادل کے طور پر استعمال کی جاسکتی ہے؛ بایں معنی کہ [[امام مہدی(عج)]] انسانوں پر اللہ کا فضل اور اس کی نعمت ہیں۔ یہ تفسیر زیادہ واضح اور زيادہ بہتر ہے [[علامہ مجلسی]] کی تفسیر سے جہاں [[ائمہ]] کو انبیاء اور اوصیاء کے وارثین اور ان کی طرف سے باقی ماندہ سمجھے جاتے ہیں اور کہا گیا ہے کہ خداوند متعال نے [[ائمہ]] کو بعد کی نسلوں کے لئے ودیعت اور ذخیرہ قرار دیا ہے۔
 
 
لہذا جو کچھ کہا گیا، آیت کریمہ: "'''<font color = green>بَقِيَّةُ اللّهِ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ</font>'''"۔ (ترجمہ: جو کچھ ذخیرہ خدا کی طرف کا باقی ہے وہ تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم با ایمان ہو) کی تفسیر [[حدیث]] شریف "'''<font color = blue>بَقِيَّةُ اللّهِ خَيْرٌ لَّكُمْ  نَزَلَت فِيهِمْ</font>'''"۔ (ترجمہ: آیت "'''بَقِيَّةُ اللّهِ'''" خَيْرٌ لَّكُمْ" [[اہل بیت]] کی شان میں نازل ہوئی ہے)، کی تفسیر کچھ یوں ہوگی کہ "[[ائمہ]] جو اللہ کی برگزیدہ ہستیاں ہیں، تمہارے لئے بہتر ہيں۔ '''بَقِيَّةُ اللّهِ''' کا جائزہ [[امام مہدی علیہ السلام|امام مہدی عجل اللہ تعالی فَرَجَهُ الشریف]] کے لقب کے خاص کے عنوان سے، بھی ایسا ہی ہے۔
 
 
قابل ذکر ہے کہ لفظ "بقیہ" مذکورہ دو آیات کے علاوہ ایک بار [[سورہ بقرہ]] کی آیت 248 میں بھی آیا ہے۔ اس آیت میں بھی ـ با آسانی کہا جاسکتا ہے کہ ۔ "بقیہ" سے مراد فضل و خیر (سرمایہ اور مال) ہے۔
 
 
==متعلقہ مآخذ==
 
{{ستون آ|3}}
 
* [[آخر الزمان]]
 
* [[امام مہدی علیہ السلام]]
 
* [[غیبت امام زمانہ(عج)]]
 
* [[غیبت صغری]]
 
* [[نواب اربعہ]]
 
* [[نیابت خاصہ]]
 
* [[عثمان بن سعید عمری]]
 
* [[محمد بن عثمان عمری]]
 
* [[حسین بن روح نوبختی]]
 
* [[علی بن محمد سمری]]
 
* [[انتظار امام زمانہ(عج)]]
 
* [[ظہور امام زمانہ(عج)]]
 
* [[انتظار فرج|انتظار فَرَج]]
 
{{ستون خ}}
 
 
==حوالہ جات==
 
{{حوالہ جات|3}}
 
 
==مآخذ==
 
{{ستون آ|2}}
 
* قرآن کریم۔
 
* ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، چاپ محمد ابو الفضل ابراہیم، قاہره 1385ـ1387 ہجری قمری/1965ـ1967 عیسوی، بیروت، بی‌ تا
 
* ابن میثم، شرح نہج البلاغہ، قم 1362 ہجری شمسی۔
 
* یحیی بن علی خطیب تبریزی، شرح دیوان الحماسة، بولاق 1290 ہجری قمری۔
 
* محمود بن عمر زمخشری، الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل، بیروت، بی‌ تا۔
 
* احمد بن علی طبرسی، الاحتجاج، چاپ محمد باقر موسوی خرسان، بیروت 1401 ہجری قمری/ 1981 عیسوی۔
 
* علی بن ابی طالب (ع)، امام اول، نہج البلاغہ، چاپ صبحی صالح، قاہره 1411 ہجری قمری/1991 عیسوی۔
 
* قطب راوندی، سعید بن ہبه الله، منہاج البراعة فی شرح نہج البلاغہ، چاپ عزیز الله عطاردی خبوشانی، چاپ افسیٹ دہلی 1404 ہجری قمری۔
 
* محمد باقر بن محمد تقی مجلسی، بحار الانوار ، بیروت 1403 ہجری قمری/1983 عیسوی۔
 
{{ستون خ}}
 
 
===انگریزی مآخذ===
 
<div dir="ltr">
 
*Rudi Paret, Der Koran: Kommentar und Konkordanz, Stuttgart 1977;
 
*Anton Spitaler, "Was Bedeutet Baq ¦ ja im Koran?", in Westخstliche Abhandlungen: zum siebzigsten Geburtstag Rudolf Tschudi , ed. Fritz Meier, Wiesbaden 1954.
 
</div>
 
 
==بیرونی ربط==
 
* مضمون کا ماخذ: [http://www.encyclopaediaislamica.com/madkhal2.php?sid=1204 دانشنامه جهان اسلام]
 
 
{{امام زمانہ علیہ السلام}}
 
 
[[fa:بقیة الله]]
 
[[ar:بقية الله (مصطلح)]]
 
[[en:Baqiyyatullah]]
 

حالیہ نسخہ بمطابق 12:30, 8 دسمبر 2018