صارف:Hakimi/تمرین

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

فہرست آیات مہدویت

آیات مہدویت قرآن مجید کی وہ آیات ہیں جن کی تفسیر میں مہدویت سے مربوط مطالب جیسے: ظہور، قیام، غیبت اور حکومت حضرت مہدی(عج) کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ ان آیات کی تفسیر یا تاویل میں اہلبیتؑ کی روایت سے استناد ہوا ہے۔

ردیف متن و ترجمہ آیہ نمبر تفسیر
1 وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ‌ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ‌ أَنَّ الْأَرْ‌ضَ يَرِ‌ثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ
اور ہم نے ذکر (توراۃ یا پند و نصیحت) کے بعد زبور میں لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔
انبیاء 105 امام باقرؑ سے منقول ہے کہ صالحون سے مراد آخر الزمان میں امام زمانہؑ کے اصحاب ہیں۔[1]
2 وَنُرِ‌يدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْ‌ضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِ‌ثِينَ
اور ہم چاہتے ہیں کہ ان لوگوں پر احسان کریں جنہیں زمین میں کمزور کر دیا گیا تھا اور انہیں پیشوا بنائیں اور انہیں (زمین کا) وارث قرار دیں۔
قصص ۵ امام علیؑ کی ایک حدیث میں الذین استضعفوا، آل محمدؑ سے تفسیر ہوئی ہے کہ حضرت مہدیؑ اپنے دشمنوں کو خوار کریں گے۔[2]
3 وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْ‌ضِ...
جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کئے اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں زمین میں اسی طرح جانشین بنائے گا؛...
نور 55 شیخ طوسی کے بقول، اہل بیتؑ سے روایت ہوئی ہے کہ یہ آیت حضرت مہدیؑ کے بارے میں ہے۔[3]
4 ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَ‌يْبَ ۛ فِيهِ ۛهُدًى لِّلْمُتَّقِينَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَ‌زَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ...
یہ (قرآن) وہ کتاب ہے جس (کے کلام اللہ ہونے) میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ (یہ) ہدایت ہے ان پرہیزگاروں کے لیے۔ جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں اور پورے اہتمام سے نماز ادا کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ (میری راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔
بقره 1-3 امام صادقؑ سے روایت منقول ہے کہ یہ آیت حضرت قائم اور ان کے اصحاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو کسی باہمی وعدہ یا عہد و پیمان کے بغیر جمع ہونگے۔[4]
5 ... أَيْنَ مَا تَكُونُوا يَأْتِ بِكُمُ اللَّهُ جَمِيعًا ۚ...
تم جہاں بھی ہوگے اللہ تم سب کو (جزا و سزا کے لئے ایک جگہ) لے آئے گا۔
بقره 148 امام صادقؑ سے روایت منقول ہے کہ یہ آیت حضرت قائم اور ان کے اصحاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو کسی باہمی وعدہ یا عہد و پیمان کے بغیر جمع ہونگے۔[5]
6 وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ...
اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے خوف و خطر، اور کچھ بھوک (و پیاس) اور کچھ مالوں، جانوں اور پھلوں کے نقصان کے ساتھ ...
بقرہ 155 امام صادقؑ نے ایک روایت میں ظہور کی نشانیاں بیان کرنے کے بعد اس آیت کی تلاوت کی۔[6]
7 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُ‌وا وَصَابِرُ‌وا وَرَ‌ابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّـهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
اے ایمان والو! صبر و تحمل سے کام لو۔ اور (کفار کے) مقابلہ میں پامردی دکھاؤ۔ اور (خدمت دین کے لیے) کمربستہ رہو۔ تاکہ تم فوز و فلاح پاؤ (اور دنیا و آخرت میں کامیاب ہو جاؤ)۔
آل عمران 200 امام باقرؑ کی ایک روایت میں امام زمانہ کا انتظار کرنے والوں کی ذمہ داریوں میں سے ایک مرابطہ کا ذکر ہوا ہے۔[7]
8 وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّ‌سُولَ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُولَـٰئِكَ رَ‌فِيقًا
جو اللہ اور رسول(ص) کی اطاعت کرے گا۔ تو ایسے لوگ ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے خاص انعام کیا ہے۔ یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین اور یہ بہت اچھے رفیق ہیں۔
نساء 69 امام صادقؑ کی ایک حدیث میں، حسن اولئک رفیقاً سے امام زمانہ تفسیر کیا ہے۔ [8]
9 هُوَ الَّذِي أَرْ‌سَلَ رَ‌سُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَ‌هُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِ‌هَ الْمُشْرِ‌كُونَ
وہ (اللہ) وہی ہے جس نے ہدایت اور دینِ حق دے کر اپنے رسول کو بھیجا تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کر دے اگرچہ مشرک اسے ناپسند ہی کریں۔
توبہ 33
صف 9
امام مہدی کی حکومت کا عالمی ہونا[9]
10 وَذَكِّرْ‌هُم بِأَيَّامِ اللَّـهِ
اور انہیں اللہ کے مخصوص دن یاد دلاؤ
ابراهیم 5 امام باقرؑ سے روایت ہوئی ہے کہ اللہ تعالی کے ایام، تین دن ہیں: جس دن قائم قیام فرماینگے، رجعت کا دن اور روز قیامت. [10]
11 قَالَ رَ‌بِّ فَأَنظِرْ‌نِي إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِ‌ينَ إِلَىٰ يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ
اس نے کہا کہ اے میرے رب! مجھے اس دن تک مہلت دے جب لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ فرمایا بے شک تو مہلت پانے والوں میں سے ہے۔ (جنہیں) وقتِ معلوم تک مہلت دی گئی ہے۔
حجر 36-38 امام صادقؑ کی ایک روایت کے مطابق اس آیت میں وقت معلوم سے مراد قائم آل محمدؐ کا قیام ہے۔[11]
12 وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْ‌آنَ الْعَظِيمَ
اور بلاشبہ ہم نے آپ کو دہرائی جانے والی سات آیتیں عطا کی ہیں اور قرآنِ عظیم بھی۔
حجر 87 قرآن العظیم کی امام زمانہ سے تفسیر کی گئی ہے۔[12]
13 ...وَمَن قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا فَلَا يُسْرِ‌ف فِّي الْقَتْلِ ۖ إِنَّهُ كَانَ مَنصُورً‌ا
...اور جو شخص ناحق قتل کیا جائے تو ہم نے اس کے وارث کو (قصاص کا) اختیار دے دیا ہے پس چاہیئے کہ وہ قتل میں حد سے آگے نہ بڑھے ضرور اس کی مدد کی جائے گی۔
اسراء 33 بعض روایات کے مطابق یہ آیت امام حسینؑ اور ان کے خونخواہ حضرت مہدیؑ کے بارے میں ہے۔[13]
14 وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا
اور کہیئے! کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا۔ یقیناً باطل تو تھا ہی مٹنے والا۔
اسراء 81 اس آیت کی تفسیر کے بارے میں امام باقرؑ سے منقول ہے کہ جب امام قائمؑ قیام کریں گے تو باطل حکومت نابود ہوگی۔ [14]
15 يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِهِ عِلْمًا
جو کچھ لوگوں کے آگے ہے (آنے والے حالات) اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے (گزرے ہوئے واقعات) وہ سب کچھ جانتا ہے مگر لوگ اپنے علم سے اس کا احاطہ نہیں کر سکتے۔
طہ 110 امام صادقؑ سے روایت نقل ہوئی ہے کہ «وَمَا خَلْفَهُمْ»، سے مراد حضرت مہدی سے متعلق اخبار ہیں۔[15]
16 وَلَقَدْ عَهِدْنَا إِلَىٰ آدَمَ مِن قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا
اور ہم نے اس سے پہلے آدم سے عہد لیا تھا مگر وہ بھول گئے اور ہم نے ان میں عزم و ثبات نہ پایا۔
طہ 115 [16]
17 قُلْ كُلٌّ مُّتَرَ‌بِّصٌ فَتَرَ‌بَّصُوا ۖ فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ أَصْحَابُ الصِّرَ‌اطِ السَّوِيِّ وَمَنِ اهْتَدَىٰ
آپ کہہ دیجئے! کہ ہر ایک اپنے (انجام کا) انتظار کر رہا ہے سو تم بھی انتظار کرو۔ عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ سیدھی راہ والے کون ہیں؟ اور ہدایت یافتہ کون ہیں۔
طہ 135 امام کاظمؑ کی ایک روایت میں صراط السوی (درمیانی راستہ) سے مراد حضرت قائم کو قرار دیا ہے اور ہدایت اسے ملے گی جس نے ان کی اطاعت کی ہے۔[17]
18 وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ حَتَّىٰ أَتَانَا الْيَقِينُ
اور ہم جزا و سزا کے دن کو جھٹلاتے تھے۔ یہاں تک کہ یقینی چیز (موت) ہمارے سامنے آگئی۔
مدثر 46-47 یوم الدین کی روز قائم اور یقین کو حضرت مہدیؑ کے ظہور سے تفسیر کیا ہے۔[18]
19 وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَ‌ةً وَبَاطِنَةً
اور اپنی سب ظاہری اور باطنی نعمتیں تم پر تمام کر دی ہیں
لقمان 20 امام موسی کاظمؑ کی ایک روایت میں باطنی نعمت کو امام غائب سے تفسیر کیا ہے۔[19]
20 وَلَئِن جَاءَ نَصْرٌ‌ مِّن رَّ‌بِّكَ لَيَقُولُنَّ إِنَّا كُنَّا مَعَكُمْ
اور اگر آپ کے پروردگار کی طرف سے کوئی مدد پہنچ جائے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم (بھی) تو تمہارے ساتھ تھے۔
عنکبوت 10 امام صادقؑ سے مروی ہے کہ اللہ کی مدد اور نصرت سے مراد حضرت قائمؑ ہیں۔[20]
21 وَيُرِ‌يدُ اللَّـهُ أَن يُحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَيَقْطَعَ دَابِرَ‌ الْكَافِرِ‌ينَ لِيُحِقَّ الْحَقَّ وَيُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْ كَرِ‌هَ الْمُجْرِ‌مُونَ
اور اللہ یہ چاہتا تھا کہ اپنے کلام و احکام کے ذریعہ سے حق کو ثابت کر دے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔ تاکہ حق کو حق کرکے اور باطل کو باطل کرکے دکھا دے اگرچہ مجرم لوگ اس بات کو کتنا ہی ناپسند کریں (یعنی خدا چاہتا تھا کہ تمہاری مسلح گروہ سے مڈبھیڑ ہو)۔
انفال 7-8 در روایتی از امام باقر(ع) در تفسیر آیه منظور از کسی که باطل را نابود می‌سازد امام زمان دانسته شده است.[21]
22 إِنَّ اللَّـهَ مُبْتَلِيكُم بِنَهَرٍ فَمَن شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّي
خدا ایک نہر کے ساتھ تمہاری آزمائش کرنے والا ہے (دیکھو) جو شخص اس سے پانی پی لے گا اس کا مجھ سے کوئی واسطہ نہ ہوگا
بقره 249 از امام صادق(ع) در ذیل این آیه نقل شده که اصحاب امام زمان(ع) هم، مانند یاران طالوت، امتحان و آزمایش می‌شوند.[22]
23 وَالْعَصْرِ‌ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ‌
قَسم ہے زمانے کی۔ یقیناً (ہر) انسان گھاٹے میں ہے۔
عصر در روایتی از امام صادق (ع) نقل شده منظور از عصر در این آیه، زمان ظهور و خروج قائم(ع) است.[23]
24 وَذَٰلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ
اور یہی نہایت (صحیح اور) درست دین ہے۔
بینه 25 بر پایه روایتی امام صادق منظور از «دِينُ الْقَيِّمَة» را حضرت قائم دانسته است.[24]
25 سَلَامٌ هِىَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ الْفَجْرِ‌
وہ (رات) سراسر سلامتی ہے طلوعِ صبح تک۔
قدر 5 در حدیثی از امام صادق (ع)، از عبارت «مَطْلَعِ الْفَجْر» به طلوع فجر حضرت قائم (ع) تعبیر شده‌است.[25]
26 وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّی
اور قَسم ہے دن کی جب کہ وہ روشن ہو جائے۔
لیل 2 در برخی از روایات ائمه (ع)، ذیل این آیه از (روز)، به ظهور امام زمان (ع) تفسیر شده‌است.[26]
27 وَالنَّهَارِ إِذَا جَلَّاهَا
دن کی جب وہ اس (سورج) کو خوب روشن کر دے۔
شمس 3 امام صادق (ع) در روایتی، «روز» را در این آیه به حضرت قائم (ع) تفسیر کردند. [27]
28 وَالْفَجْرِ
قَسم ہے صبح کی۔
فجر 1 امام صادق (ع) فجر را در این آیه به قائم تفسیر کرده است.[28]
29 وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ
قَسم ہے بُرجوں (قلعوں) والے آسمان کی۔
بروج 1 از پیامبر نقل شده که منظور از بروج در این آیه امامان هستند که نخستین آنان علی(ع) وآخرینشان مهدی است.[29]
30 هَلْ أَتَاک حَدِیثُ الْغَاشِیةِ وُجُوهٌ یوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ تَصْلَیٰ نَارًا حَامِیةً
کیا تمہیں (کائنات پر) چھا جانے والی (مصیبت یعنی قیامت) کی خبر پہنچی ہے؟ اس دن کچھ چہرے ذلیل (اترے ہوئے) ہوں گے۔ سخت محنت کرنے والے (نڈھال اور) تھکے ماندے ہوں گے۔ وہ دہکتی ہوئی آگ میں پڑیں گے (اور جھلسیں گے)۔
غاشیه 1-4 در روایتی از امام صادق (ع) این آیه به قیام حضرت قائم تفسیر شده‌است.[30]
31 فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ الْجَوَارِ‌ الْكُنَّسِ
تو نہیں! میں قَسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے۔ سیدھے چلنے اور چھپ جانے والے ستاروں کی۔
تکویر 15-16 در روایتی از امام باقر (ع) این آیه اشاره به غیبت امام زمان و ظهورشان دارد.[31]
32 فَذَٰلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ‌ عَلَى الْكَافِرِ‌ينَ غَيْرُ‌ يَسِيرٍ‌
تو وہ دن بڑا سخت دن ہوگا۔ اور کافروں پر آسان نہ ہوگا
مدثر 10-9 از امام صادق (ع) نقل شده که این آیه اشاره به ظهور و قیام امام زمان دارد.[32]
33 حَتَّىٰ إِذَا رَ‌أَوْا مَا يُوعَدُونَ فَسَيَعْلَمُونَ مَنْ أَضْعَفُ نَاصِرً‌ا وَأَقَلُّ عَدَدًا
(یہ لوگ اپنی کجروی سے باز نہیں آئیں گے) یہاں تک کہ جب وہ وہ چیز (عذاب) دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ وعید کیا جا رہا ہے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ مددگار اور تعداد کی حیثیت سے کون زیادہ کمزور ہے۔
جن 24 در روایتی امام کاظم(ع) منظور از این آیه را امام زمان و یارانش دانسته است.[33]
34 خَاشِعَةً أَبْصَارُ‌هُمْ تَرْ‌هَقُهُمْ ذِلَّةٌ ۚ ذَٰلِكَ الْيَوْمُ الَّذِي كَانُوا يُوعَدُونَ
ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی (اور) ان پر ذلت و رسوائی چھائی ہوگی۔ یہی وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ وعید کیا جاتا تھا۔
معارج 44 امام باقر (ع) در تفسیر این آیه می فرماید؛ منظور از روز موعود، روز خروج وظهور حضرت قائم (ع) است.[34]
35 وَالَّذِينَ يُصَدِّقُونَ بِيَوْمِ الدِّينِ
اور جو جزا و سزا کے دن کی تصدیق کرتے ہیں۔
معارج 26 امام باقر (ع) درباره این آیه می فرماید: منظور از روز جزا، روز ظهور وخروج حضرت قائم (ع) است. [35]
36 قُلْ أَرَ‌أَيْتُمْ إِنْ أَصْبَحَ مَاؤُكُمْ غَوْرً‌ا فَمَن يَأْتِيكُم بِمَاءٍ مَّعِينٍ
آپ(ص) کہیے! کیا تم نے غور کیا ہے کہ اگر تمہارا پانی زمین کی تہہ میں اترجائے تو پھر تمہارے لئے (شیریں پانی کا) چشمہ کون لائے گا؟
ملک 30 در روایاتی از ائمه (ع)، این آیه به ظهور حضرت مهدی (ع) و عدل جهان گستر او تفسیر شده‌است. [36]
37 يُرِ‌يدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ‌ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّـهُ مُتِمُّ نُورِ‌هِ وَلَوْ كَرِ‌هَ الْكَافِرُ‌ونَ
یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ (پھونکوں) سے بجھا دیں حالانکہ اللہ اپنے نور کو کامل کرکے رہے گا اگرچہ کافر لوگ ناپسند ہی کریں۔
صف 8 امام موسی کاظم(ع) درباره عبارت «خداوند نور خود را كامل خواهد گردانيد» نقل شده که یعنی ولایت قائم(ع) را به مرحله تمام و کمال می‌رساند.[37]
38 اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِي الْأَرْ‌ضَ بَعْدَ مَوْتِهَا
خوب جان لو کہ اللہ زمین کو زندہ کرتا ہے اس کی موت کے بعد۔
حدید 17 در روایتی از امام باقر (ع)، زنده کردن زمین به وسیله حضرت مهدی تفسیر شده‌است. [38]
39 يُعْرَ‌فُ الْمُجْرِ‌مُونَ بِسِيمَاهُمْ فَيُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِي وَالْأَقْدَامِ
مجرم اپنے چہروں (اپنی علامتوں) سے پہچان لئے جائیں گے اور پھر پیشانیوں اور پاؤں سے پکڑے جائیں گے (اور جہنم میں پھینک دئیے جائیں گے)۔
الرحمن 41 هنگام قیام، خداوند شناخت چهره‌ها را به امام زمان عطا می‌کند.[39]
40 فَوَرَ‌بِّ السَّمَاءِ وَالْأَرْ‌ضِ إِنَّهُ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَا أَنَّكُمْ تَنطِقُونَ
پس قَسم ہے آسمان و زمین کے پروردگار کی کہ یہ بات حق ہے جیسے کہ تم بو لتے ہو۔
ذاریات 23 در روایتی از امام زین العابدین (ع) حق، به قیام امام زمان تفسیر شده‌است.[40]
41 وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ مِن مَّكَانٍ قَرِ‌يبٍ يَوْمَ يَسْمَعُونَ الصَّيْحَةَ بِالْحَقِّ ۚ ذَٰلِكَ يَوْمُ الْخُرُ‌وجِ
اور غور سے سنو اس دن کا حال جب ایک منادی بہت قریب سے ندا دے گا۔ جس دن سب لوگ ایک زوردار آواز کو بالیقین سنیں گے وہی دن (قبروں سے) نکلنے کا ہوگا۔
ق 41-42 در حدیثی از امام صادق(ع)، صیحه به نام امام زمان و یوم الخروج به روز قیام امام زمان تفسیر شده‌است.[41]
42 لَوْ تَزَيَّلُوا لَعَذَّبْنَا الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا
اگر وہ (اہلِ ایمان) الگ ہو جاتے تو ہم ان (اہلِ مکہ) میں سے کافروں کو دردناک سزا دیتے۔
فتح 25 در روایتی از امام صادق (ع) مراد آیه اینست: به تأخیر انداختن مجازات منافقین و کفار تا ظهور افراد باایمانی که در صلب آنهاست[42]
43 قُل لِّلَّذِينَ آمَنُوا يَغْفِرُ‌وا لِلَّذِينَ لَا يَرْ‌جُونَ أَيَّامَ اللَّـهِ لِيَجْزِيَ قَوْمًا بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ
ا(اے رسول(ص)) ایمان والوں سے کہیے! کہ وہ ان لوگوں سے درگزر کریں جو اللہ کے (خاص) دنوں کی امید نہیں رکھتے تاکہ اللہ ایک قوم کو اس کے ان سارے اعمال کا بدلہ دے جو وہ کیا کرتے تھے۔
جاثیه 14 در حدیثی از امام صادق (ع)، روز قیام امام زمان از ایام الله است.[43]
44 هَلْ يَنظُرُ‌ونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَن تَأْتِيَهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُ‌ونَ
کیا یہ لوگ بس قیامت کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ اچانک ان پر آجائے کہ انہیں خبر بھی نہ ہو۔
زخرف 66 در تفسیر «ساعةَ بغتةً» در روایتی امام باقر(ع) منظور از ساعت را ظهور و قیام حضرت مهدی دانسته است.[44]
45 وَلَمَنِ انتَصَرَ‌ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَئِكَ مَا عَلَيْهِم مِّن سَبِيلٍ
اور جو شخض بھی ظلم کے بعد بدلہ لے اس کے اوپر کوئی الزام نہیں ہے۔
شوری 41 برپایه روایتی که از امام باقر در تفسیر القمی نقل شده، آیه به انتقام‌گرفتن، امام زمان و یارانش از بنی‌امیه ، تکذیب‌کنندگان و ناصبی‌ها تفسیر شده است.[45]
46 مَن كَانَ يُرِ‌يدُ حَرْ‌ثَ الْآخِرَ‌ةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْ‌ثِهِ ۖ وَمَن كَانَ يُرِ‌يدُ حَرْ‌ثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَ‌ةِ مِن نَّصِيبٍ
جوشخص آخرت کی کھیتی چاہتا ہے تو ہم اس کی کھیتی میں اضافہ کردیتے ہیں اور جو (صرف) دنیا کی کھیتی چاہتا ہے تو ہم اس میں سے اسے کچھ دے دیتے ہیں مگر اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔
شوری 20 مَا لَهُ فِي الْآخِرَ‌ةِ مِن نَّصِيبٍ یعنی در دولت حق با حضرت قائم (ع) نصیب و بهره‌ای نخواهد داشت. [46]
47 سَنُرِ‌یهِمْ آیاتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِی أَنفُسِهِمْ حَتَّیٰ یتَبَینَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُ
ہم انہیں نشانیاں دکھائیں گے آفاق و کائنات میں بھی اور خود ان کی ذات میں بھی تاکہ ان پر واضح ہو جائے کہ وہ (اللہ) بالکل حق ہے۔
فصلت 53 در روایتی امام باقر(ع) این آیه را به خروج وظهور حضرت قائم (ع) تفسیر کرده است.[47]
48 لِّنُذِیقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْی فِی الْحَیاةِ الدُّنْیا
تاکہ ہم انہیں زندگانئِ دنیا میں ذلت آمیز عذاب کا مزہ چکھائیں
فصلت 16 تفسیر «عذاب الخزی» به عذاب دنیوی مخالفان لجوج، قبل از قیام امام زمان (ع).[48]
49 وَأَمَّا ثَمُودُ فَهَدَینَاهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمَیٰ عَلَی الْهُدَیٰ فَأَخَذَتْهُمْ صَاعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُونِ بِمَا کانُوا یکسِبُونَ
رہے ثمود! ہم نے ان کی راہنمائی کی مگر انہوں نے ہدایت پر اندھے پن (گمراہی) کو ترجیح دی۔ پس ان کو ذلت کے عذاب کی کڑک نے پکڑ لیا ان کے کرتوتوں کی پاداش میں جو وہ کیا کرتے تھے۔
فصلت 17 امام صادق (ع) ثمود را در این آیه به گروهی از شیعه [که همانند ثمود، از روی سرکشی حقائق وحی را تکذیب کردند] و صاعقه را به عقوبت شمشیر هنگام ظهور تفسیر کرده اند.[49]
50 وَأَشْرَ‌قَتِ الْأَرْ‌ضُ بِنُورِ‌ رَ‌بِّهَا
اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے چمک اٹھے گی
زمر 69 از امام صادق (ع) نقل شده که پروردگار زمین، یعنی امام زمین که بعد از ظهورش مردم از نورش بهره می‌برند و از غیر آن بی‌نیاز می‌شوند.[50]
51 وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَأَهُ بَعْدَ حِینٍ
اور تمہیں کچھ مدت کے بعد اس کی خبر معلوم ہو جائے گی۔
ص 88 در روایتی از امام باقر(ع) منظور از «وَلَتَعْلَمُنَّ» هنگام خروج قائم(ع) است. [51]
52 وَإِنَّ مِن شِيعَتِهِ لَإِبْرَ‌اهِيمَ
اور انہی (نوح‌‌ؑ) کے پیروکاروں میں سے ابراہیمؑ بھی تھے۔
صافات 83 درباره امامان و از جمله حضرت مهدی و صفات شیعیانشان.[52]
53 وَلَوْ تَرَ‌ىٰ إِذْ فَزِعُوا فَلَا فَوْتَ وَأُخِذُوا مِن مَّكَانٍ قَرِ‌يبٍ
اور کاش تم دیکھو کہ جب یہ لوگ گھبرائے ہوئے (پریشان حال) ہوں گے لیکن بچ نکلنے کا کوئی موقع نہ ہوگا اور وہ قریبی جگہ سے پکڑ لئے جائیں گے۔
سبا 51 در بحارالانوار، روایاتی از پیامبر(ص) و امام باقر(ع) نقل شده که نشان می‌دهد از مصادیق این آیه، خروج سفیانی به هنگام قیام حضرت مهدی(ع) است.[53]
54 قُلْ يَوْمَ الْفَتْحِ لَا يَنفَعُ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا إِيمَانُهُمْ وَلَا هُمْ يُنظَرُ‌ونَ
آپ کہئے کہ فتح (فیصلہ) والے دن کافروں کو ان کا ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا اور نہ ہی انہیں مہلت دی جائے گی۔
سجده 29 از حضرت صادق (ع) روایت شده، روز فتح و پیروزی روزی است که دنیا بر روی حضرت قائم(ع) گشوده می‌شود.[54]
55 وَلَنُذِيقَنَّهُم مِّنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَىٰ دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ‌ لَعَلَّهُمْ يَرْ‌جِعُونَ
اور ہم انہیں (قیامت والے) بڑے عذاب سے پہلے چھوٹے عذاب کا مزہ چکھائیں گے تاکہ یہ باز آجائیں۔
سجده 21 در روایتی از امام صادق (ع) منظور از عذاب اکبر خروج قائم(ع) با شمشیر در آخر الزمان دانسته شده است.[55]
56 وَیوْمَئِذٍ یفْرَ‌حُ الْمُؤْمِنُونَ
اور اس دن اہلِ ایمان خوش ہوں گے۔
روم 4 بر پایه رپایتی از امام صادق(ع)، منظور از خوشحالی مومنان در آن روز نسبت به قیام و ظهور حضرت قائم(ع) است.[56]
57 إِن نَّشَأْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِم مِّنَ السَّمَاءِ آيَةً فَظَلَّتْ أَعْنَاقُهُمْ لَهَا خَاضِعِينَ
اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتاریں جس کے آگے ان کی گردنیں جھک جائیں۔
شعراء 4 از امام باقر(ع) نقل شده: این آیه درباره قائم آل محمد(ص) نازل شده که اسم او از سوی آسمان اعلام خواهد شد.[57]
58 أَفَرَ‌أَيْتَ إِن مَّتَّعْنَاهُمْ سِنِينَ . ثُمَّ جَاءَهُم مَّا كَانُوا يُوعَدُونَ . مَا أَغْنَىٰ عَنْهُم مَّا كَانُوا يُمَتَّعُونَ
کیا تم دیکھتے ہو کہ اگر ہم انہیں کئی سال تک فائدہ اٹھانے کا موقع دیں۔ پھر ان پر وہ عذاب آجائے جس سے انہیں ڈرایا جاتا تھا۔ تو وہ سب ساز و سامان جس سے وہ فائدہ اٹھاتے رہے تھے انہیں کوئی فائدہ نہ دے گا۔
شعراء 205-207 در روایتی از امام صادق (ع) در تفسیر این آیه، « ما كَانُوا يُوعَدُون» به ظهور و قیام امام زمان و « ما كَانُوا يُمَتَّعُون» به بنی‌امیه تفسیر شده‌است.[58]
59 اللَّـهُ نُورُ‌ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ ۚ مَثَلُ نُورِ‌هِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ ۖ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ ۖ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّ‌يٌّ يُوقَدُ مِن شَجَرَ‌ةٍ مُّبَارَ‌كَةٍ زَيْتُونَةٍ لَّا شَرْ‌قِيَّةٍ وَلَا غَرْ‌بِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ‌ ۚ نُّورٌ‌ عَلَىٰ نُورٍ‌ ۗ يَهْدِي اللَّـهُ لِنُورِ‌هِ مَن يَشَاء
اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال یہ ہے جیسے ایک طاق میں چراغ رکھا ہوا ہو (اور) چراغ شیشہ کی قندیل میں ہو۔ اور (وہ) قندیل گویا موتی کی طرح چمکتا ہوا ایک ستارہ ہے (اور وہ چراغ) زیتون کے بابرکت درخت (کے تیل) سے روشن کیا جاتا ہے۔ جو نہ شرقی ہے نہ غربی قریب ہے کہ اس کا تیل خود بخود بھڑک اٹھے اگرچہ آگ نے اسے چھوا بھی نہ ہو۔ یہ نور بالائے نور ہے۔ اللہ جس کو چاہتا ہے اپنے نور کی طرف ہدایت فرماتا ہے۔
نور 35 در روایتی از امام (ع)، « يَهْدِي اللَّـهُ لِنُورِ‌هِ مَن يَشَاء» به حضرت مهدی (ع) تفسیر شده‌است.[59]
60 الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاهُمْ فِي الْأَرْ‌ضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُ‌وا بِالْمَعْرُ‌وفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنكَرِ‌ ۗ وَلِلَّـهِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ‌
یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار عطا کریں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے ہاتھ (اختیار) میں ہے۔
حج 41 در بعضی از روایات، این آیه‌ به حضرت مهدی (ع) و یارانش تفسیر شده‌است.[60]
61 وَيَقُولُونَ لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِّن رَّ‌بِّهِ ۖ فَقُلْ إِنَّمَا الْغَيْبُ لِلَّـهِ فَانتَظِرُ‌وا إِنِّي مَعَكُم مِّنَ الْمُنتَظِرِ‌ينَ
اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ ان (پیغمبر(ص)) پر ان کے پروردگار کی طرف سے (ان کی مطلوبہ) کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوتی؟ کہہ دیجیئے کہ غیب کا علم اللہ سے مخصوص ہے سو تم انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔
یونس 20 در روایتی از امام صادق (ع) غیب به حضرت قائم تفسیر شده‌است.[61]
62 أَفَأَمِنَ الَّذِينَ مَكَرُ‌وا السَّيِّئَاتِ أَن يَخْسِفَ اللَّـهُ بِهِمُ الْأَرْ‌ضَ أَوْ يَأْتِيَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُ‌ونَ
کیا وہ لوگ جو (پیغمبر(ص) کے خلاف) بری تدبیریں اور ترکیبیں کر رہے ہیں وہ اس بات سے مطمئن ہوگئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے یا ان پر ایسے موقع سے عذاب آجائے جہاں سے انہیں وہم و گمان بھی نہ ہو؟
نحل 45 در روایتی از امام صادق (ع) درباره تفسیر آیه، به ظهور مردی از آل محمد (ص) به همراه سیصد و سیزده تن و خسف بیدا اشاره شده‌است.[62]
63 أَتَىٰ أَمْرُ‌ اللَّهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِ‌كُونَ
اللہ کا حکم (عذاب) آگیا ہے پس تم اس کے لئے جلدی نہ کرو وہ پاک اور برتر ہے ان چیزوں سے جن کو وہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔
نحل 1 در روایات ائمه (ع) منظور از امرالله، به ظهور امام زمان (ع) اشاره دارد. [63]
64 حَتَّىٰ إِذَا اسْتَيْأَسَ الرُّ‌سُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا جَاءَهُمْ نَصْرُ‌نَا فَنُجِّيَ مَن نَّشَاءُ ۖ وَلَا يُرَ‌دُّ بَأْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِ‌مِينَ
یہاں تک کہ جب رسول مایوس ہونے لگے اور خیال کرنے لگے کہ (شاید) ان سے جھوٹ بولا گیا ہے۔ تو (اچانک) ان کے پاس ہماری مدد پہنچ گئی پس جسے ہم نے چاہا وہ نجات پا گیا اور مجرموں سے ہمارا عذاب ٹالا نہیں جا سکتا۔
یوسف 110 در روایتی از علی(ع)، مومنان در دوره غیبت زندگی سختی دارند تا اینکه با نصرت الهی (ظهور امام زمان)، در کارشان گشایش می‌افتد.[64]
65 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّ‌سُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ‌ مِنكُمْ
اے ایمان والو اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحبانِ امر ہیں (فرمان روائی کے حقدار ہیں)۔
نساء 59 در تفسیر آیه فایده امام غائب به خورشید پشت ابر تشبیه شده‌ است که مردم از نور خورشید سود می‌برند هر چند که ابری آن را بپوشاند. [65]
66 وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ طَوْعًا وَكَرْ‌هًا وَإِلَيْهِ يُرْ‌جَعُونَ
جو آسمانوں میں ہیں یا زمین میں ہیں سب خوشی سے یا ناخوشی سے (چار و ناچار) اسی کی بارگاہ میں سر تسلیم خم کئے ہوئے ہیں اور بالآخر سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔
آل عمران 83 در روایتی از امام صادق (ع)، این آیه به ظهور امام زمان و بواسطه آن هدایت همگان به سوی کلمه توحید اشاره دارد. [66]
67 يَوْمَ يَأْتِي بَعْضُ آيَاتِ رَ‌بِّكَ لَا يَنفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِن قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرً‌ا ۗ قُلِ انتَظِرُ‌وا إِنَّا مُنتَظِرُ‌ونَ
جس دن تمہارے پروردگار کی بعض مخصوص نشانیاں آجائیں گی تو اس دن ایسے شخص کو ایمان لانا کوئی فائدہ نہیں دے گا جو پہلے ایمان نہیں لایا ہوگا اور اپنے ایمان میں کوئی بھلائی نہ کمائی ہوگی۔ ان سے کہو کہ تم بھی انتظار کرو۔ ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔
انعام 158 امام صادق(ع) منظور از یوم در «یوم یأتی بعض آیات ربک» را روز ظهور حضرت قائم دانسته است.[67]
68 وَمِن قَوْمِ مُوسَىٰ أُمَّةٌ یهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ یعْدِلُونَ
اور موسیٰ کی قوم میں سے ایک گروہ ایسا بھی ہے جو لوگوں کو حق کے راستہ پر چلاتا ہے اور حق کے ساتھ منصفانہ فیصلہ کرتا ہے۔
اعراف 159 در روایتی از امام صادق (ع)، برخی از مومنین قوم موسی (ع)، جزو یاران و یاوران حضرت مهدی (ع) خواهند بود. [68]
69 قَالَ لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَىٰ رُكْنٍ شَدِيدٍ
لوط نے کہا کاش مجھے تمہارے مقابلہ کی طاقت ہوتی یا یہ کہ میں کسی مضبوط پایہ کا سہارا لے سکتا۔
هود 80 امام صادق قُوَّة را به نیروی قائم(ع) و رکن شدید را به یاران و اصحاب امام زمان تفسیر کرده است.[69]
70 أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا ۚ وَإِنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ نَصْرِ‌هِمْ لَقَدِيرٌ‌
ان مظلوموں کو (دفاعی جہاد کی) اجازت دی جاتی ہے جن سے جنگ کی جا رہی ہے اس بناء پر کہ ان پر ظلم کیا گیا ہے۔ اور بیشک اللہ ان کی مدد کرنے پر قادر ہے۔
حج 39 امام صادق (ع) این آیه را درباره حضرت قائم (ع) می‌داند چون که خروج کند، برای امام حسین(ع) خونخواهی نماید.[70]
71 إِنَّهُمْ يَكِيدُونَ كَيْدًا وَأَكِيدُ كَيْدًا فَمَهِّلِ الْكَافِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًا
بےشک وہ (کافر لوگ) کچھ چالیں چل رہے ہیں۔ اور میں بھی (ان کیخلاف) ایک چال چل رہا ہوں۔ تو (اے رسولؐ) ان (کافروں) کو مہلت دے دیجئے ان کو تھوڑی سی مہلت دے دیجئے۔
طارق 15-17 از امام صادق(ع) نقل شده منظور از مهلت به کافران این است که تا زمان خروج و ظهور امام زمان، به آنان مهلت داده می‌شود.[71]
72 أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ‌ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْ‌ضِ ۗ أَإِلَـٰهٌ مَّعَ اللَّـهِ ۚ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُ‌ونَ
کون ہے جو مضطر و بے قرار کی دعا و پکار کو قبول کرتا ہے۔ جب وہ اسے پکارتا ہے؟ اور اس کی تکلیف و مصیبت کو دور کر دیتا ہے؟ اور تمہیں زمین میں (اگلوں کا) جانشین بناتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الہ ہے؟ نہیں - بلکہ یہ لوگ بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہیں۔
نمل 62 در بعضی از روایات. آیه مورد بحث، به قیام حضرت مهدی (ع) تفسیر شده‌است و منظور از مضطر هم به امام زمان تفسیر شده‌است.[72]

حوالہ جات

  1. استرآبادی، تأویل الآیات الظاہرہ، 1409ھ، ص327.
  2. طوسی، الغیبہ، 1411ق، ص184.
  3. طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج7، ص457.
  4. کلینی، الکافی، 1407ق، ج8، 313.
  5. کلینی، الکافی، 1407ق، ج8، 313.
  6. مجلسی، بحار الانوار، 1403ق، ج52، ص229.
  7. نعمانی، الغیبہ، 1397ق، ص199.
  8. قمی، تفسیر القمی، 1404ق، ج1، ص142-143.
  9. فیض کاشانی، تفسیر الصافی، 1415ق، ج2، ص338.
  10. بحرانی، البرهان، 1374ش، ج3، ص286.
  11. عیاشی، تفسیر العیاشی، 1380ق، ج2، ص242.
  12. عیاشی، تفسیر العیاشی، 1380ق، ج2، ص250.
  13. ابن قولویہ، کامل الزیارات، 1356ش، ص63.
  14. کلینی، الکافی، 1407ق، ج8، ص287.
  15. قمی، تفسیر القمی، 1404ق، ج2، ص65.
  16. صفار قمی، بصائر الدرجات، 1404ق، ج1، ص70.
  17. استرآبادی، تأویل الآیات الظاہرہ، 1409ق، ص317.
  18. کوفی، تفسیر فرات الکوفی، 1410ق، ص658.
  19. صدوق، کمال الدین، 1395ق، ج2، ص368.
  20. قمی، تفسیر القمی، 1404ق، ج2، ص149.
  21. عیاشی، تفسیر العیاشی، 1380ق، ج2، ص50.
  22. نعمانی، الغیبه، 1397ق، ص316.
  23. صدوق، کمال الدین، 1395ق، ج2، ص656.
  24. استرآبادی، تأویل آیات الظاهره، 1409ق، ص801.
  25. استرآبادی، تأویل آیات الظاهره، 1409ق، ص794.
  26. قمی، تفسیر القمی، ج2، ص425.
  27. استرآبادی، تأویل آیات الظاهره، 1409ق، ص778.
  28. استرآبادی، تأویل آیات الظاهره، 1409ق، ص778.
  29. مفید، الاختصاص، 1413ق، ص224.
  30. کلینی، الکافی، 1407ق، ج8، ص50.
  31. کلینی، الکافی، 1407ق، ج1، ص341.
  32. کلینی، الکافی، 1407ق، ج1، ص343.
  33. کلینی، الکافی، 1407ق، ج1، ص343.
  34. استرآبادی، تأویل الآیات الظاهره، 1409ق، ص701.
  35. کلینی، الکافی، 1407ق، ج8، ص287.
  36. عروسی حویزی، نور الثقلین، 1415ق، ج5، ص387.
  37. کلینی، الکافی، 1407ق، ج1، ص432.
  38. عروسی حویزی، تفسیر نور الثقلین، 1415ق، ج5، ص242.
  39. صفار قمی، بصائر الدرجات، 1404ق، ج1، ص356.
  40. استرآبادی، تأویل الآیات الظاهره، 1409ق، ص596.
  41. قمی، تفسیر القمی، 1404ق، ج2، ص327.
  42. عروسی حویزی، تفسیر نور الثقلین، 1415ق، ج5، ص70.
  43. استرآبادی، تأویل الآیات الظاهره، 1409ق، ص558-559
  44. استرآبادی، تأویل الآیات الظاهره، 1409ق، ص552.
  45. قمی، تفسیر القمی، 1404ق، ج2، ص278.
  46. کلینی، الکافی، 1407ق، ج1، ص436.
  47. نعمانی، الغیبه، 1397ق، ص269.
  48. نعمانی، الغیبه، 1397ق، ص269.
  49. استرآبادی، تأویل الآیات الظاهره، 1409ق، ص777.
  50. فیض کاشانی، تفسیر الصافی، 1415ق، ج4، ص331.
  51. کلینی، الکافی، 1407ق، ج8، ص287.
  52. استرآبادی، تأویل الآیات الظاهره، 1409ق، ص486.
  53. عیاشی، تفسیر العیاشی، 1380ق، ج2، ص57.
  54. استرآبادی، تأویل الآیات الظاهره، 1409ق، ص438.
  55. بحرانی، البرهان، 1374ش، ج4، ص401.
  56. طبری، دلائل الامامه، 1413ق، ص464-465.
  57. استرآبادی، تأویل الآیات الظاهره، 1409ق، ص383-384.
  58. یزدی حائری، الزام الناصب، 1422ق، ج1، ص79.
  59. قمی، تفسیر القمی، 1404ق، ج2، ص103.
  60. قمی، تفسیر القمی، 1404ق، ج2، ص87.
  61. صدوق، کمال الدین، 1395ق، ج1، ص18.
  62. عیاشی، تفسیر العیاشی، 1380ق، ج1، ص65-66.
  63. نعمانی، الغیبه، 1397ق، ص198.
  64. طبری، دلائل الامامه، 1413ق، ص471.
  65. خزاز قمی، کفایه الاثر، 1401ق، ص54-55.
  66. عیاشی، تفسیر العیاشی، 1380ق، ج1، ص13.
  67. صدوق، کمال الدین، 1395ق، ج2، ص357.
  68. عیاشی، تفسیر العیاشی، 1380ق، ج2، ص32.
  69. عیاشی، تفسیر العیاشی، 1380ق، ج2، ص157.
  70. حایری یزدی، الزام الناصب، 1422ق، ج2، ص277.
  71. قمی، تفسیر القمی، 1404ق، ج2، ص416.
  72. عروسی حویزی، تفسیر نور الثقلین، 1415ق، ج4، ص94.


مآخذ

  • ابن قولویه، جعفر بن محمد، کامل الزیارات، تصحیح عبدالحسین امینی، نجف، دار المرتضویه، ۱۳۵۶ش.
  • استرآبادی، علی، تأویل الآیات الظاهره فی فضائل العترة الطاهره، تصحیح حسین ولی، قم، مؤسسه النشر الاسلامی، ۱۴۰۹ق.
  • بحرانی، سید هاشم بن سلیمان، البرهان فی تفسیر القرآن، قم، مؤسسه بعثه، ۱۳۷۴ش.
  • خزاز رازی، علی بن محمد، کفایة الاثر فی النص علی الائمة الاثنی عشر، تصحیح عبداللطبف کوهمری، بیدار، قم، ۱۴۰۱ق.
  • صدوق، محمد بن علی، کمال الدین و تمام النعمه، تصحیح علی اکبر غفاری، تهران، اسلامیه، ۱۳۹۵ق.
  • صفار، محمد بن حسن، بصائر الدرجات فی فضائل آل محمد، تصحیح محسن بن عباسعلی کوچه باغی، قم، مکتبة آیة الله المرعشی النجفی، ۱۴۰۴ق.
  • طبری، محمد بن جریر، دلائل الامامه، تصحیح قسم الدراسات الاسلامیه مؤسسه البعثه، قم، بعثت، ۱۴۱۳ق.
  • طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، تحقیق احمد قصیر عاملی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بی‌تا.
  • طوسی، محمد بن حسن، الغیبه للحجه، تصحیح عبادالله تهرانی و علی احمد ناصح، قم، دار المعارف الاسلامیه، ۱۴۱۱ق.
  • عروسی حویزی، عبدعلی بن جمعه، تفسیر نور الثقلین، تحقیق سید هاشم رسولی محلاتی، قم، انتشارات اسماعیلیان، ۱۴۱۵ق.‏
  • عیاشی، محمد بن مسعود، تفسیر العیاشی، تصحیح سید هاشم رسولی محلاتی، تهران، المطبعة العلمیه، ۱۳۸۰ق.
  • فیض کاشانی، محمدمحسن بن شاه مرتضی، تفسیر الصافی، تصحیح حسین اعلمی، تهران، مکتبة الصدر، ۱۴۱۵ق.
  • قمی، علی بن ابراهیم، تفسیر القمی، تصحیح طیب موسوی جزایری، قم، دار الکتاب، ۱۴۰۴ق.
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تصحیح علی‌اکبر غفاری و محمد آخوندی، تهران، دار الکتب الاسلامیه، ۱۴۰۷ق.
  • کوفی، فرات بن ابراهیم، تفسیر فرات الکوفی، تصحیح کاظم محمد، تهران، مؤسسه الطبع و النشر فی وزارة الارشاد الاسلامی، ۱۴۱۰ق.
  • مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۴۰۳ق.
  • مفید، محمد بن محمد، الاختصاص، تصحیح علی‌اکبر غفاری و محمود محرمی زرندی، قم، المؤتمر العالمی لالفیه الشیخ المفید، ۱۴۱۳ق.
  • نعمانی، محمد بن ابراهیم، الغیبه للنعمانی، تصحیح علی اکبر غفاری،‌ تهران، نشر صدوق‌، ۱۳۹۷ق.
  • یزدی حایری، علی، الزام الناصب فی اثبات الحجه الغائب، تصحیح عاشور علی، بیروت، موسسه الاعلمی، ۱۴۲۲ق.

بیرونی روابط