"صارف:Hakimi/تمرین" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
م
م
سطر 1: سطر 1:
==ولایت فقیہ==
+
{{خانہ معلومات انبیاء
{{شیعہ عقائد}}
+
| عنوان          = حضرت یوسفؑ
 +
| تصویر          = مرقد حضرت یوسف.jpg
 +
| اندازہ تصویر    =
 +
| تصویر کی وضاحت  = مرقد منسوب به یوسف (ع) در [[فلسطین]]
 +
| ذاتی کوائف      =
 +
| قرآنی نام      = یوسف‏
 +
| کتاب مقدس میں نام =
 +
| جائے پیدائش    = کنعان
 +
| محل زندگی      = کنعان، [[مصر]]
 +
| مدفن            =فلسطین
 +
| قوم کا نام      = [[بنی‌اسرائیل]]
 +
| قبل از          = ببرز بن لاوی
 +
| بعذ از          =[[حضرت یعقوب (ع)]]
 +
| کتاب کا نام    =
 +
| مشہوراقارب      =یعقوب
 +
| معجزات          =
 +
| ہم عصر پیغمبر  =یعقوب
 +
| پیروکار        =
 +
| دین            =یکتاپرستی
 +
| عمر            =۱۲۰ سال
 +
| دوران نبوت      =
 +
| قرآن میں نام کا تکرار =۲۷ بار
 +
| مخالفین        =
 +
| اہم واقعات      =به چاه انداختن یوسف،‌ داستان یوسف و [[زلیخا]]، رسیدن به مقام عزیزی مصر،‌ حفظ مردم مصر از قحطی،
 +
}}
  
'''ولایت فقیہ'''، [[شیعہ]] [[فقہ]] میں ایک نظریہ ہے جس کے مطابق عصرِ [[غیبت امام زمانہؑ]] میں، حکومت، جامع الشرائط [[فقیہ]] کے عہدے پر ہے۔ تیرہویں صدی ہجری کے [[مرجع تقلید]]، [[ملا احمد نراقی]] وہ پہلا فقیہ سمجھا جاتا ہے جس نے ولایت فقیہ کو ایک فقہی مسئلے کی شکل میں پیش کیا اور اس کو پروان چڑھایا
 
ولایت فقیہ کے نظریے کے مطابق اسلامی معاشرے کے تمام اختیارات ولی فقیہ کو حاصل ہیں۔ [[جعفر کاشف‌الغطاء|کاشف‌الغطا]]، [[محمدحسن نجفی|صاحب جواہر]] اور [[سید روح‌اللہ موسوی خمینی|امام خمینی]] اس نظرئے کے طرفداروں میں سے ہیں جبکہ [[شیخ مرتضی انصاری|شیخ انصاری]]، [[محمدکاظم خراسانی|آخوند خراسانی]] اور [[سید ابوالقاسم خویی|آیت‌الله خوئی]] اس نظرئے کے مخالفوں میں سے شمار ہوتے ہیں۔
 
  
[[مقبولہ عمر بن حنظلہ|مقبولہ عمر بن حَنظَلہ]]، ولایت فقیہ کے نظرئے کے طرفداروں کی نقلی دلائل میں سے ایک ہے۔ اس حدیث کے مطابق تنازعات میں صرف ایسے شخص کو حَکَم اور قاضی قرار دیا جاسکتا ہے جو اہل بیتؑ سے حدیث نقل کرتا ہے اور اسلامی احکام سے آشنا ہے۔ جبکہ معاشرے میں اسلامی احکام نافذ کرنے کے لئے ایک عادل اور عالم حاکم کے وجود کا ضروری ہونا ولایت فقیہ کے طرفداروں کی طرف سے عقلی دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
+
==حضرت یوسف علیہ السلام==
 +
'''یوسُف''' از پیامبران [[بنی‌ا‌سرائیل]] و فرزند [[یعقوب (پیامبر)|یعقوبِ]] نبی بود. او ضمن برخورداری از مقام [[نبوت]]، سالیانی در [[مصر]] حکومت کرد. در [[قرآن]] سوره‌ای به نام یوسف نام‌گذاری شده و در آن داستان زندگی او به‌تفصیل آمده است.
  
ولایت فقیہ کے بارے میں متعدد کتابیں اور مقالات تحریر ہوئے ہیں۔ امام خمینی کی کتاب [[ولایت فقیہ (کتاب)|ولایت فقیہ]]، حسین علی منتظری کی کتاب، دراساتٌ في ولايۃ الفقيہ و فقہ الدولۃ الإسلاميۃ، عبداللہ جوادی آملی کی کتاب، ولایت فقیہ، ولایت فقاہت و عدالت اور نعمت اللہ صالحی نجف آبادی کی ولایت فقیہ، حکومت صالحان نامی کتابیں اس بارے میں لکھی جانے والی کتابوں میں سے ہیں۔
+
یوسف در کودکی توسط برادرانش به چاه انداخته شد، اما گروهی او را از چاه نجات دادند و به‌عنوان برده به [[عزیز مصر]] فروختند. [[زلیخا]] زن عزیز مصر شیفته زیبایی یوسف شد، اما پس از امتناع یوسف از ارتباط با او،  یوسف را به خیانت به عزیز مصر متهم کرد و او را به زندان انداختند.
  
==مفہوم اور معنی==
+
یوسف پس از سال‌ها بی‌گناهی‌اش را اثبات کرد و از زندان آزاد شد و به‌جهت [[تعبیر خواب]] پادشاه مصر و ارائه راهکاری برای مشکل قحطی مصر، نزد او محبوبیت یافت و وزیرش شد.
فقہاء کی تعریف کے مطابق ولایت فقیہ، سرپرستی، دوسروں کے امور میں جامع الشرائط مجتہد کا تسلط و تصرف،<ref>ملاحظہ کریں: شیخ انصاری،‌ المکاسب المحرمه، ۱۴۱۵ق، ج۳، ۵۴۵.</ref> اور دوسرے الفاظ میں اسلامی احکام کے نفاذ کے لئے اسلامی معاشرے کی مدیریت اور اسلامی اقدار کو معاشرے میں نافذ کرنا ہے۔<ref>مراجعہ کریں: منتظری، دراسات فی ولایۃ الفقیہ، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۱۱؛ جوادی آملی، ولایت فقیہ، ۱۳۷۸ش، ص۱۲۹.</ref>
 
  
شیعہ فقہ سیاسی میں ولایت فقیہ ایک نظریہ ہے جس کے مطابق امام زمانہ کی غیبت کے دوران اسلامی معاشرے کی حکومت، جامع الشرائط فقیہ کے ذمے ہوگی۔<ref>فیرحی، نظام سیاسی و دولت در اسلام، ۱۳۸۶ش، ص۲۴۲و۲۴۳.</ref>
+
داستان یوسف در قرآن با آنچه [[تورات]] در این زمینه گزراش می‌کند، تفاوت‌هایی دارد؛ ازجمله طبق قرآن برادران از یعقوب درخواست می‌کنند یوسف را همراهشان به صحرا بفرستد، اما براساس تورات یعقوب خود از یوسف می‌‌خواهد برادرانش را همراهی کند.
  
== تاریخچہ==
+
عمر یوسف را ۱۲۰ سال بیان کرده‌اند. می‌گویند او در [[فلسطین]] دفن شده است.
[[ملا احمد نراقی]] (متوفی[[سنہ 1245ھ|1245ھ]])، ولایت فقیہ کو ایک فقہی مسئلے کی صورت میں بیان کرنے اور اس پر عقلی اور نقلی دلیل قائم کرنے والے پہلے فقیہ سمجھے جاتے ہیں۔<ref>کدیور، نظریہ ہای دولت در فقہ شیعہ، ۱۳۸۷ش، ص۱۷.</ref> انہوں نے پہلی بار اسلامی حاکم اور ولی فقیہ کی ذمہ داریوں اور اختیارات کو کتاب [[عوائد الایام]] میں جمع کیا۔<ref>ملاحظہ کریں: نراقی، عوائدالایام، ۱۴۱۷ق، ص۵۲۹.</ref>
 
  
البتہ ان سے پہلے بھی بعض شیعہ علما نے ائمہ کے بعض اختیارات، فقہاء کو حاصل ہونے کی بات کی ہے۔ جیسے چوتھی اور پانچویں صدی کے شیعہ عالم [[شیخ مفید]] نے اپنی کتاب [[المقنعہ|المُقنِعہ]] میں لکھا ہے: شیعہ ائمہؑ نے [[حدود]] کے نفاذ کو فقہا کے لیے تفویض کیا ہے۔<ref>مفید، المقنعہ، ۱۴۱۳ق، ص۸۱۰.</ref> اسی طرح معاصر مورخ رسول جعفریان کا کہنا ہے کہ دسویں صدی ہجری کے شیعہ عالم دین، [[محقق کرکی|محقق کَرکَی]] کا نظریہ یہ تھا کہ فقہا کو ائمہ معصومین کے حکومتی اختیارات حاصل ہیں۔ <ref>جعفریان، دین و سیاست در دورہ صفوی، ۱۳۷۰ش، ص۳۲، ص۳۱۲.</ref>
+
==جایگاه==
 +
یوسف فرزند [[یعقوب]]، از پیامبران [[بنی اسرائیل]] بود و مادرش راحیل نام داشت.<ref>صحفی، قصه‌های قرآن، ۱۳۷۹ش، ص۱۰۶.</ref> او یازده برادر داشت که از میان آنها تنها با [[بنیامین]]، از  مادر مشترک بود.<ref>صحفی، قصه‌های قرآن، ۱۳۷۹ش، ص۱۰۶.</ref> یوسف از همه برادران جز بنیامین کوچک‌تر بود.<ref>صحفی، قصه‌های قرآن، ۱۳۷۹ش، ص۸۷.</ref>
  
ملا احمد نراقی کے بعد [[جعفر کاشف‌الغطاء|جعفر کاشف الغطا]]<ref>کاشف الغطاء، کشف الغطاء، ۱۴۲۲ق، ج۱، ص۲۰۷؛ فیرحی، قدرت دانش مشروعیت در اسلام، ۱۳۹۴ش، ص۳۱۳.</ref> اور ان کے شاگرد [[محمدحسن نجفی]] نے بھی نظریہ نصبِ فقہا اور ان کی ولایت اور اختیارات کو بیان کیا ہے۔<ref>مراجعہ کریں: نجفی، جواہر الکلام، ۱۴۰۴ق، ج۲۱، ص۳۹۵-۳۹۶؛ ج۲۲، ص۱۵۵، ص۱۹۵.</ref>اور جس بادشاہ یا سلطان کو مجتہد کی اجازت نہ ہو اس کی حکومت کو غیرمشروع قرار دیا ہے۔ اور قائل تھے کہ اگر کسی فقیہ کے لیے حکومت کرنے کی شرائط فراہم ہوں تو حکومت کی تشکیل اس پر واجب ہے۔<ref>منتظری، مبانی فقہی حکومت اسلامی، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۴۷-۴۸.</ref>
+
نام یوسف ۲۷ بار [[قرآن]] آمده و سوره دوازدهم قرآن، به نام اوست. قرآن یوسف را از بندگان مُخلَص خدا معرفی کرده است <ref>سوره یوسف، آیه ۲۴.</ref> که به‌گفته [[محمدحسین طباطبایی|علامه طباطبایی]] به این معنا است که او نه‌تنها به درخواست [[زلیخا]] برای ارتباط با او تن نداد، که حتی در دل هم به آن کار گرایش نداشت.<ref>طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۱، ص۱۳۰.</ref> همچنین در قرآن یوسف از محسنان دانسته شده است.<ref>سوره انعام، آیه ۸۴.</ref>
  
[[شیخ مرتضی انصاری]] ([[سنہ 1214ھ]]-[[سنہ 1281ھ]]) کی طرف سے فقہا کیلئے سیاسی ولایت میں تردید کے بعد فقہا کی ولایت اور اختیارات کے مباحث کی توسیع رک گئی؛<ref>علی محمدی، سیر تحول اندیشہ ولایت فقیہ در فقہ سیاسی شیعہ، ۱۳۸۷ش، ص۲۶۳-۲۷۲.</ref>یہاں تک کہ سنہ 1969ء میں امام خمینی نے حوزہ علمیہ [[نجف]] میں فقہ کے اپنے درس خارج میں ولایت فقیہ کے نظرئے کو بیان کیا <ref>کدیور، نظریہ ہای دولت در فقہ شیعہ، ۱۳۸۷ش، ص۲۱و۲۲.</ref> اور اسلامی حکومت کی تاسیس ضروری ہونے پر زور دیا۔<ref>کدیور، نظریہ ہای دولت در فقہ شیعہ، ۱۳۸۷ش، ص۲۴.</ref> ان کے نظریات 1298ء کو ولایت فقیہ نامی کتاب میں چھپ گئے۔<ref>ملاحظہ کریں: امام خمینی، ولایت فقیہ، ۱۴۲۱ق، ص۱.</ref>
+
===نبوت===
 +
یوسف را از [[پیامبران]] بزرگ دانسته‌اند.<ref>جزایری، النورالمبین فی قصص الانبیاء و المرسلین، ۱۴۲۳ق، ص۲۵۹.</ref> در روایتی از [[امام باقر(ع)|امام باقر]]، با استناد به آیات قرآن یوسف [[نبی]] و [[رسول]] دانسته شده است.<ref>قطب‌الدین راوندی، قصص‌الانبیاء، ۱۴۳۰ق، ص۳۴۸.</ref> برپایه تفسیر نمونه، خواب یوسف که در آن یازده ستاره و ماه و خورشید به یوسف سجده کردند، علاوه‌بر اینکه از رسیدن یوسف به ثروت و قدرت خبر می‌داد، بیان‌کننده نبوت او در آینده هم بود.<ref>برای نمونه نگاه کنید به مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ۱۳۷۴ش، ج۹، ص۳۱۰.</ref> [[علامه طباطبایی]] هم یکی از مصادیق کامل‌شدن نعمت برای یوسف را که در آیه ۶ سوره یوسف آمده است، رسیدن او به مقام پیامبری دانسته است.<ref>طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۱، ص۸۲.</ref>
  
==طرفداروں کے دلائل==
+
==زندگی‌نامه==
ولایت فقیہ کے نظریے کے طرفدار فقہا نے اسے ثابت کرنے کے لیے عقلی اور نقلی دلائل سے استناد کیا ہے۔<ref>منتظری، نظام الحکم فی الاسلام، ۱۳۸۵ش، ص۱۴۳، ص ۱۶۶؛ جوادی آملی، ولایت فقیہ ۱۳۷۸ش، ص۱۵۰؛ کدیور، حکومت ولایی، ۱۳۷۸ش، ص۳۸۹ـ۳۹۲.</ref> [[مقبولہ عمر بن حنظلہ|مَقبولہ عُمر بن حَنظَلہ]] اور [[توقیع امام زمان]]، نقلی دلائل میں سے ہیں۔ مقبولہ عمر بن حنظلہ امام صادقؑ کی ایک حدیث ہے جس کے مطابق ایسے شخص کو حَکَم کے طور پر انتخاب کرنا چاہیے جو اہل بیتؑ کی احادیث کو بیان کرتا ہے اور دینی احکام سے آشنا ہے۔<ref>کلینی، الکافی، ۱۳۸۷ش، ج۱، ص۱۶۹.</ref> [[سید روح‌الله موسوی خمینی|امام خمینی]] نے اسی روایت سے استناد کرتے ہوئے معاشرے میں حکم جاری کرنے کے لیے حکومت اور قدرت کو ضروری قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، حکومت فقیہ کے ہاتھ میں ہونی چاہیے تاکہ قضاوت کرسکے اور حکم جاری کرے۔<ref>امام خمینی، کتاب البیع، ۱۴۲۱ق، ج۲، ص۶۳۸-۶۴۲.</ref>
+
در قرآن، در سوره یوسف داستان زندگی یوسف به‌تفصیل بیان شده است. قرآن داستان او را اَحْسَنُ الْقِصَص (نیکوترین داستان) نامیده<ref>سوره یوسف، آیه ۳.</ref> و آن را با جزئیاتی از نوجوانی، به چاه‌انداختن، فروختن او به عزیز مصر، داستان [[زلیخا]] و یوسف، به زندان رفتن او و ملاقات پدر و برادران و حکومتش در مصر بیان کرده است.<ref>سوره یوسف، آیات۸ تا ۱۰۰.</ref>
  
[[توقیعات امام زمان (عج)|توقیع امام زمان]] میں «الحَوادثُ الواقِعَة» (حادثات) کے بارے میں بات ہوئی ہے اور کہا گیا ہے کہ جب کوئی حادثہ پیش آتا ہے تو اہل بیت سے احادیث نقل کرنے والے راویوں کی طرف رجوع کیا جائے۔<ref>شیخ صدوق، کمال الدین، ۱۳۹۵ق، ج۲، ص۴۸۴.</ref> امام خمینی نے اسی توقیع سے استناد کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اسلامی معاشرے کے تمام امور کی باگ ڈور فقہاء کے سپرد کی جائے۔<ref>ملاحظہ کریں: امام خمینی، کتاب البیع، ۱۴۲۱ق، ج۲، ص ۶۳۵؛ امام خمینی، ولایت فقیہ، ۱۳۷۴ش، ص۷۸-۸۲.</ref>
+
===به‌چاه‌افتادن و انتقال به مصر===
 +
[[پرونده:یوسف و چاه.jpg|250px|بندانگشتی|نقاشی به چاه‌انداختن یوسف بر روی کاشی [[تکیه معاون الملک]]]]
 +
{{همچنین|سوره یوسف}}
 +
داستان زندگی یوسف در [[قرآن]] در [[سوره یوسف]] به‌صورت مفصل آمده است. طبق قرآن یوسف خواب سجده‌کردن یازده ستاره و ماه و خورشید را برای [[یعقوب]] نقل می‌کند. پدرش به او می‌گوید خواب خود را برای برادرانت تعریف نکن؛ زیرا آنها برای تو نقشه خطرناکی می‌کشند.<ref>سوره یوسف، آیه ۴و۵.</ref>
  
عقلی دلائل میں سے ایک یہ ہے کہ انسان کی معاشرتی زندگی اور فردی و معنوی کمال کے لئے الہی قانون، خطا اور نقصان سے محفوظ ہونے کے علاوہ ایک عادل اور عالم حاکم کی بھی ضرورت ہے۔ ان دو ارکان کے بغیر معاشرتی زندگی میں خلل آجاتا ہے اور تباہی کے دھانے تک پہنچ جاتا ہے۔ اور یہ ہدف انبیاء اور ائمہ کے دور میں انہی ہستیوں کے ذریعے ہی محقق ہوتا تھا اور امام زمانہؑ کی غیبت کے دور میں ولی فقیہ کے ذریعے محقق ہوگا۔<ref>جوادی آملی، ولایت فقیہ، ۱۳۷۸ش، ص۱۵۱.</ref>
+
[[تفسير|مفسران]] مراد از یازده ستاره را برادران یوسف و مراد از ماه و خورشید را پدر و مادرش دانسته‌اند که بعدها که یوسف به منزلتی دنیایی و معنوی رسید، به او تعظیم کردند.<ref>ابن‌کثیر، قصص‌الانبیاء، ۱۴۱۶ق/۱۹۹۶م، ص۱۹۱.</ref>
  
==ولایت فقیہ کا انتصابی‌ یا انتخابی ہونا==
+
فرزندان [[یعقوب]] می‌گفتند یوسف و برادرش نزد پدر، از ما محبوب‌ترند.<ref>سوره یوسف، آیه ۸.</ref> آنها روزی از یعقوب خواستند اجازه دهد یوسف برای بازی همراهشان به بیابان برود.<ref>سوره یوسف، آیه ۱۲.</ref> آنان در بیابان یوسف را به چاه‌ انداختند و پس از بازگشت، به یعقوب گفتند که گرگ او را دریده است.<ref>سوره یوسف،‌ آیه۱۷.</ref> طبق آیات قرآن، یعقوب سخنشان را باور نکرد.<ref>سوره یوسف،‌ آیه ۱۸.</ref> او بعدها از شدت فراق و گریه بر یوسف نابینا شد.<ref>سوره یوسف، آیه ۸۴.</ref>
ولایت فقیہ کے نظریے کے طرفداروں کے درمیان ولایت فقیہ کی مشروعیت کے باے میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔ بعض اسے انتصابی منصب سمجھتے ہیں اور بعض اسے انتخابی منصب قرار دیتے ہیں:
 
  
===ولایت فقیہ کا انتصابی‌ ہونا===
+
قافله‌ای یوسف را از چاه نجات داد<ref>سوره یوسف، آیه ۱۰و۱۹.</ref> و برای غلامی به [[مصر]] برد. [[عزیز مصر]] او را خرید و او وارد خانواده عزیز شد.<ref>سوره یوسف، آیه ۲۱.</ref>
اس نظرئے کے مطابق، ولایت فقیہ کا سیاسی امور میں مشروعیت کی علت یہ ہے کہ [[ائمہؑ]] نے دینی اور معاشرتی امور نیز معاشرے کی سیاسی مدیریت، فقہاء کے لئے تفویض کی ہے اور اس میں عوام کے ووٹ اور رائے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔<ref>نراقی، عوائد الایام، ص۱۸۵؛ امام خمینی، کتاب البیع، ۱۴۲۱ق. ج۲، ص ۶۲۲.</ref> [[سید روح‌الله موسوی خمینی|امام خمینی]]،<ref>کدیور، نظریہ ہای دولت در فقہ شیعہ، ۱۳۸۷ش، ص۱۰۷.</ref> [[عبداللہ جوادی آملی]]، [[محمد مؤمن قمی]] اور [[محمدتقی مصباح یزدی]] اس نظرئے کے طرفداروں میں سے ہیں۔<ref>فیرحی، فقہ و سیاست در ایران معاصر، ۱۳۹۳ش، ج۲، ص۴۲۴.</ref>
 
  
====ولایت مطلقہ فقیہ====
+
===زیبایی یوسف و ماجرای او و زلیخا===
ولایت فقیہ کو انتصابی سمجھنے والوں میں سے بعض، فقیہ کیلئے ولایت مطلقہ کے قائل ہیں؛ یعنی حکومت اور سیاسی امور میں فقیہ کو وہ تمام اختیارات حاصل ہیں جو [[پیغمبر اکرمؐ]] اور [[ائمہ معصومینؑ]] کو حاصل ہیں؛ کیونکہ ہدف اور مقصد، شریعت کے احکام کو نافذ کرنا ہے اور اس میں حاکم کے درمیان فرق رکھنا معقول نہیں ہے۔<ref>امام خمینی، کتاب البیع، ۱۴۲۱ق، ج۲، ص۶۲۶.</ref>اسی طرح انسانی طے شدہ قوانین بھی ولی فقیہ کی طرف سے تنفیذ ہونا شرط ہے۔ قانون، ولی فقیہ کو محدود یا مقید نہیں کرسکتا ہے اور ولی فقیہ کے احکامات قانون کے زمرے میں آتے ہیں۔<ref>امام خمینی، صحیفه امام، ۱۳۷۸ش، ج‏۱، ص۱۷.</ref>  
+
در کتاب‌های [[قصص القرآن]] یوسف جوانی بسیار زیبا توصیف شده است.<ref>برای نمونه نگاه کنید به جزایری، النورالمبین فی قصص الانبیاء و المرسلین، ۱۴۲۳ق، ص۲۱۷؛ بلاغی، قصص قرآن، ۱۳۸۰ش، ص۹۸؛ صحفی، قصه‌های قرآن، ۱۳۷۹ش، ص۱۱۴و۱۱۵.</ref> ازاین‌رو [[زلیخا]] زن عزیز مصر، شیفته او شد، ولی یوسف خویشتن‌داری کرد و به خواست زلیخا تن نداد.<ref>صحفی، قصه‌های قرآن، ۱۳۷۹ش، ص۱۱۵و۱۱۶؛ همچنین نگاه کنید به سوره یوسف، آیه ۲۳.</ref> این ماجرا به‌گوش مردم شهر رسید و گروهی از زنان شهر، زلیخا را سرزنش کردند. او جلسه‌ای ترتیب داد، زنان شهر را دعوت کرد و کارد و میوه به دست آنها داد. سپس یوسف را به مجلس دعوت کرد. زمانی که او وارد شد، زنان چنان تحت‌تأثیر زیبایی او قرار گرفتند که دستانش را بریدند.<ref>صحفی، قصه‌های قرآن، ۱۳۷۹ش، ص۱۱۷و۱۱۸؛ همچنین نگاه کنید به سوره یوسف، آیه ۳۰و۳۱.</ref>
  
کہا جاتا ہے کہ اس نظرئے کو سب سے پہلے امام خمینی نے بیان کیا ہے۔<ref>کدیور، نظریہ ہای دولت در فقہ شیعہ، ۱۳۸۷ش، ص۲۴.</ref>
+
پس از این ماجرا، به‌جهت آنکه هر روز زنانی از یوسف درخواست ارتباط نامشروع داشتند، او از خدا خواست برای رهایی از آنان او را به زندان بیندازد. پس از چندی او به دستور زلیخا به زندان افتاد.<ref> جزایری، النورالمبین فی قصص الانبیاء و المرسلین، ۱۴۲۳ق، ص۲۲۱؛ همچنین نگاه کنید به سوره یوسف، آیه ۳۳تا۳۵.</ref>
  
===ولایت فقیہ کا انتخابی ہونا===
+
===تعبیر خواب پادشاه  و عزیزی مصر===
اس نظرئے کے مطابق عوامی رائے عامہ ولایت فقیہ کی مشروعیت کی علت کی بنا پر ضروری سمجھتے ہیں؛ یعنی وہ حاکم مشروع ہے جو فقیہ، عادل، زمان شناس، مدیر، مدبر ہونے کے علاوہ سب لوگ یا لوگوں کی اکثریت نے انہیں رہبری کے لیے انتخاب کیا ہو۔<ref>منتظری، نظام الحکم فی الاسلام، ۱۳۸۵ش، ص۱۶۶-۱۶۹؛ صالحی نجف‌آبادی، ولایت فقیه، ۱۳۷۸ش، ص۶۸، ۷۲.</ref> اس نظرئے کے مطابق فقیہ کی ولایت کا مطلق ہونا مخدوش ہوتا ہے۔<ref>مطهری، پیرامون جمهوری اسلامی، ۱۳۶۸ش، ص ۱۴۹-۱۵۶؛ منتظری، نظام الحکم فی الاسلام، ۱۳۸۵ش، ص۲۱۴-۲۲۴.</ref> [[شهید بهشتی]]، [[شهید مطهری]]، [[حسین علی منتظری]] اور [[نعمت الله صالحی نجف‌آبادی|نعمت‌الله صالحی نجف‌آبادی]] اس نظرئہ کے طرفداروں میں سے ہیں۔<ref>فیرحی،‌ فقه و سیاست در ایران معاصر، ۱۳۹۳ش، ج۲، ص۳۸۰؛ کدیور، نظریه‌های دولت در فقه شیعه، ۱۳۸۷ش، ص۱۴۱.</ref>
+
یوسف به‌جهت دانستن تعبیر خواب، خواب دو زندانی را تعبیر و پیش‌بینی کرد یکی از آنها کشته و دیگری آزاد می‌شود و نزد پادشاه مصر جایگاهی به‌دست می‌آورد.<ref>بلاغی، قصص قرآن، ص۱۰۵تا۱۰۶؛ مچنین نگاه کنید به سوره یوسف آیه ۴۱.</ref> چند سال پس از این ماجرا، پادشاه مصر خواب دید که هفت گاو لاغر، هفت گاو چاق را می‌خورند. او همچنین در خواب هفت خوشه سبز و هفت خوشه خشک مشاهده کرد.<ref>جزایری، النورالمبین فی قصص الانبیاء و المرسلین، ۱۴۲۳ق، ص۲۲۳؛ همچنین نگاه کنید به سوره یوسف، آیه ۴۳.</ref> کسی نتوانست این خواب را تعبیر کند، تا اینکه آن زندانی که آزاد شده و به دربار راه یافته بود، یوسف را به یاد آورد و گفت که تعبیر آن خواب را برایشان می‌گوید.<ref>جزایری، النورالمبین فی قصص الانبیاء و المرسلین، ۱۴۲۳ق، ص۲۲۳؛ همچنین نگاه کنید به سوره یوسف، آیه ۴۴و۴۵.</ref>
  
==مخالفین==
+
او به زندان رفت و تعبیر آن خواب را از یوسف پرسید. یوسف گفت: شما هفت سال فراوانیِ آب در پیش دارید و پس از آن، هفت سال خشکسالی پیش خواهدآمد. آنگاه پیشنهاد کرد که برای نجات از خشکسالی هفت سال نخست را بیشتر زراعت کنند و محصولات مازاد بر مصرف را با همان خوشه‌هایشان انبار کنند تا سالم بماند.<ref>جزایری، النورالمبین فی قصص الانبیاء و المرسلین، ۱۴۲۳ق، ص۲۲۳؛ همچنین نگاه کنید به سوره یوسف، آیه ۴۷تا۴۹.</ref>
[[شیخ مرتضی انصاری|شیخ انصاری]]، [[محمدکاظم خراسانی|آخوند خراسانی]]،<ref>کدیور، نظریه‌های دولت در فقه شیعه، ۱۳۸۷ش، ص۳۶.</ref> [[محمدحسین غروی نائینی|میرزای نائینی]] اور [[سید ابوالقاسم خویی|آیت‌الله خوئی]]<ref> کدیور، نظریه‌های دولت در فقه شیعه، ۱۳۸۷ش، ص۳۶.</ref> کو ولایت فقیہ کے نظرئے کے مخالفین میں شمار کیا جاتا ہے۔<ref> فیرحی، «شیعه و دموکراسی مشورتی در ایران»، ص۱۳۹و۱۴۱.</ref> شیخ انصاری کے فتوے کے مطابق عصر غیبت میں فتوا دینے اور قضاوت کرنے کی ذمہ داری فقیہ کے ذمے ہے،<ref>شیخ انصاری، مکاسب المحرمه، ۱۴۱۵ق، ج۳، ص۵۴۵.</ref> لیکن لوگوں کی جان اور مال پر ولایت صرف [[حضرت محمد صلی الله علیہ و آلہ و سلم|پیغمبر اکرم]] اور [[ائمہ معصومین|ائمہؑ]] کے ساتھ خاص ہے۔<ref>شیخ انصاری، مکاسب المحرمه، ۱۴۱۵ق، ج۳، ص۵۴۶.</ref>
 
  
انہوں نے ولایت فقیہ کی اثبات پر قائم کی جانے والی دلائل منجملہ مقبولہ عمر بن حنظلہ اور  [[توقیع امام زمان]] سے استناد کو صحیح نہیں سمجھا ہے۔<ref>شیخ انصاری، مکاسب المحرمه، ۱۴۱۵ق، ج۳، ص۵۵۱تا۵۵۳.</ref>ان کا کہنا ہے کہ یہ احادیث صرف فقیہ کا لوگوں کیلئے شرعی احکام بیان کرنے کی ذمہ داری بیان کرتی ہیں اور خمس و زکات جیسے امور پر فقیہ کی ولایت ہونے پر دلالت نہیں کرتی ہیں۔<ref>شیخ انصاری، مکاسب المحرمه، ۱۴۱۵ق، ج۳، ص۵۵۳.</ref>
+
پادشاه از تعبیر خواب یوسف و راه‌حلش برای نجات مصر از قحطی، خوشش آمد و یوسف را به حضور طلبید؛ اما او به فرستاده شاه گفت ماجرای بریدن دستان زنان و زندانی‌شدنش را از شاه بپرسد. شاه درباره این موضوع تحقیق کرد و زنان شهر را به دربار فراخواند. زنان مصر بر بی‌گناهی یوسف تأکید کردند و زلیخا هم به عمل خود اعتراف کرد.<ref>بلاغی، قصص قرآن، ص۱۰۵تا۱۰۶؛ همچنین نگاه کنید به سوره یوسف آیه ۵۰و۵۱.</ref>
  
==فقہی یا کلامی مسئلہ==
+
پس از تعبیر خواب و اثبات بی‌گناهی یوسف، پادشاه مصر او را از زندان آزاد و وزیر خود و عزیز مصر کرد.<ref>بلاغی، قصص قرآن، ص۱۰۸.</ref>
بعض کا کہنا ہے کہ ولایت فقیہ، کلامی مسئلہ ہے جبکہ بعض کے مطابق یہ فقہی مسئلہ ہے۔<ref>مؤمن قمی، جایگاه احکام حکومتی و اختیارات ولی فقیه، ۱۳۹۳ش، ص۱۵.</ref> [[جوادی آملی]] ولایت فقیہ کو علم کلام سے مربوط سمجھتے ہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ علم کلام کا موضوع اللہ تعالی کا فعل ہے اور ولایت فقیہ اللہ کے فعل سے مرتبط ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی نے یہ معین کیا ہے کہ عصر غیبت میں معاشرے پر فقیہ کی ولایت ہو۔<ref>جوادی آملی، ولایت فقیه، ۱۳۷۸ش، ص۱۴۳.</ref>ان کے مقابلے میں حسین علی منتظری کا کہنا ہے کہ ولایت فقیہ کی بحث فقہ سے مربوط ہے اسی لئے بہت سارے فقہا نے اسے فقہی کتابوں میں ذکر کیا ہے۔<ref>منتظری، نظام الحکم فی الاسلام، ۱۳۸۰ش، ص۱۲.</ref>
 
  
==ایران میں ولایت فقیہ==
+
===ملاقات با خانواده===
ایران میں 1979ء کے [[اسلامی انقلاب]] کے بعد ولایت فقیہ کو اس ملک کے آئین میں شامل کیا گیا۔ اس آئین کے آرٹیکل 57 میں یوں ذکر ہوا ہے کہ «جمہوری اسلامی ایران میں موجود حاکم ادارے، عدلیہ، مقننہ اور مجریہ جو ولایت مطلقہ امر اور امامت کے زیر سائے اس قانون کے مطابق عمل کریں گے۔»<ref>[https://rc.majlis.ir/fa/content/iran_constitution «قانون اساسی جمهوری اسلامی ایران»، مجلس شورای اسلامی کی تحقیقاتی ویب سائٹ، تاریخ مشاہدہ ۳ شهرویر ۱۳۹۸.]</ref>
+
در دوره بی‌آبیِ مصر، کنعان نیز دچار قحطی شد. ازاین‌رو یعقوب پسرانش را برای دریافت گندم به مصر فرستاد.<ref>بلاغی، قصص قرآن، ص۱۱۰.</ref> یوسف با دیدن برادرانش آنها را شناخت، اما آنها او را نشناختند.<ref>بلاغی، قصص قرآن، ص۱۰۹؛ همچنین نگاه کنید به سوره یوسف، آیه ۵۸.</ref> او با برادران به نیکی رفتار کرد<ref>بلاغی، قصص قرآن، ص۱۱۰؛ همچنین نگاه کنید به سوره یوسف، آیه ۵۹.</ref> و با فرستادن پیراهنش برای [[یعقوب]] چشمان نابینای او را بینا کرد.<ref>بلاغی، قصص قرآن، ص۱۱۹؛ همچنین نگاه کنید به سوره یوسف، آیه ۹۳تا۹۶.</ref> پس از آن یعقوب و فرزندانش برای دیدار یوسف به مصر رفتند.<ref>بلاغی، قصص قرآن، ص۱۱۹؛ همچنین نگاه کنید به سوره یوسف، آیه ۱۰۰.</ref>
  
ایران میں امام خمینی اور ان کے بعد سید علی خامنہ ای ولی فقیہ کے عہدے پر فائز ہوئے ہیں۔<ref>ولایتی، «خامنه‌ای، آیت‌الله سیدعلی»، ص۶۸۹.</ref>
+
===ازدواج و فرزندان===
 +
به‌نقل [[مسعودی]] تاریخ‌نگار مسلمان قرن چهارم قمری، یوسف در مصر ازدواج کرد و حاصل آن دو پسر به نام‌های اِفرائیم، پدر [[یوشع (پیامبر)|یوشَع‌بن‌نون]] و میشا بود.<ref>مسعودی، اثبات الوصیة، ۱۳۸۴ش، ص۴۹.</ref>
  
== کتاب‌شناسی==
+
===ازدواج با زلیخا===
[[ملف:تصویر کتاب دراسات فی ولایة الفقیه و فقه الدولة الاسلامیه اثر حسینعلی منتظری.jpg|تصغیر|دراسات فی ولایۃ الفقیہ و فقہ الدولۃ الاسلامیہ، تالیف: حسین علی منتظری|356x356px]]
+
در برخی از [[حدیث|روایات]] از ازدواج یوسف با [[زلیخا]] پس از رسیدن به مقام عزیزی مصر سخن آمده است. برای مثال در حدیثی آمده است که یوسف زنی را دید که می‌گفت خدا را شکر که بردگان را به‌واسطه طاعتشان پادشاه کرد و پادشاهان را به‌واسطه معصیتشان برده کرد. از او پرسید کیستی و او گفت زلیخا هستم و یوسف با او ازدواج کرد.<ref>قطب‌الدین راوندی، قصص‌الانبیاء، ۱۴۳۰ق، ص۳۵۱.</ref> به‌گفته [[سیدنعمت‌الله جزایری]]، زلیخا با دعای یوسف جوان شد و آنگاه یوسف با او ازدواج کرد.<ref>جزایری، النورالمبین فی قصص الانبیاء و المرسلین، ۱۴۲۳ق، ص۲۳۴.</ref>
کاظم استادی نے اپنی کتاب «کتاب‌شناسی حکومت و ولایت فقیہ» میں ولایت فقیہ اور اسلامی حکومت کے بارے میں 700 سے زیادہ کتابوں کا تذکرہ کیا ہے جن میں سے اکثر ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد لکھی گئی ہیں۔<ref> استادی، کتاب‌شناسی حکومت و ولایت فقیه، مقدمه.</ref> ولایت فقیہ کے بارے میں لکھی جانے والی بعض اہم کتابیں مندرجہ ذیل ہیں:
 
* [[کتاب ولایت فقیہ|ولایت فقیہ]]: امام خمینی کا نجف کے حوزہ علمیہ میں ولایت فقیہ کے بارے میں دئے گیے دروس کا مجموعہ ہے۔ یہ کتاب 1349ھ کو بیروت میں چھپ گئی
 
* [[دراساتٌ في ولاية الفقيه و فقه الدولة الإسلامية]]: حسین علی منتظری کی تحقیقات اور دروس پر مشتمل ہے اور اس موضوع پر لکھی جانے والی اہم ترین کتابوں میں سے ایک ہے۔ اس کتاب کو نظام الحکم فی الاسلام کے نام سے تلخیص کیا ہے اور محمود صلواتی اور ابوالفضل شکوری نے مبانی فقہ حکومت اسلامی کے نام سے فارسی میں ترجمہ کیا ہے۔
 
* [[ولایت فقیه، ولایت فقاہت و عدالت]]، تألیف [[عبدالله جوادی آملی]]،
 
* ولایت فقیہ حکومت صالحان، تالیف [[نعمت الله صالحی نجف آبادی]]
 
* [[الولایة الالهیة الاسلامیة او الحکومة الاسلامیة زمن حضور المعصوم و زمن الغیبة]]، تالیف [[محمد مؤمن قمی]]، تین جلدوں پر مشتمل۔
 
  
==متعلقہ مضامین==
+
[[پرونده:یوسف نبی.jpg|بندانگشتی|۲۸۰px|نقشه محل تولد و نبوت یوسف نبی]]
* [[ولایت]]
 
* [[ولایت فقیہ (کتاب)]]
 
  
 +
==تَرک اولای یوسف==
 +
{{همچنین|ترک اولی}}
 +
طبق [[آیه]] ۴۲ [[سوره یوسف]]، هنگامی که یوسف در زندان بود، خبر آزادی یکی از زندانیان را به او داد و گفت: بی‌گناهیِ مرا پیش پادشاه یادآوری کن، اما [[شیطان]] آن را از یاد او برد و برای همین، یوسف چند سال در زندان ماند. در این زمینه میان [[تفسیر قرآن|مفسران]] اختلاف‌نظرهست. برخی گفته‌اند منظور این است که شیطان خدا را از یاد یوسف برد و به‌باور برخی دیگر شیطان موجب شد آن زندانی فراموش کند بی‌گناهی یوسف را به پادشاه بگوید. [[علامه طباطبایی]] نظر نخست را با بیان صریح قرآن ناسازگار دانسته است؛ چراکه از سویی در قرآن یوسف از مُخلَصان شمرده شده است و از سوی دیگر آمده است که [[شیطان]] هیچ‌گاه نمی‌تواند در اندیشه مخلصان نفوذ کند.<ref>طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۱، ص۱۸۱.</ref>
 +
 +
به‌هرروی [[مفسران]] عمل یوسف را [[ترک اولی|تَرک اَولیٰ]] دانسته‌اند؛ زیرا برای [[انبیا]] و کسانی که در مرتبه عالی [[توحید]] هستند، همین مقدار توسل به اسباب دنیایی هم پسندیده نیست.<ref>مکارم شیرازی، تفسیر نمونه،۱۳۷۴ش، ج۹، ص۴۱۴.</ref>
 +
 +
==تفاوت داستان یوسف در قرآن و تورات==
 +
بنابر آنچه که علامه طباطبایی نقل کرده در تورات برخلاف قرآن،<ref>سوره یوسف، آیه ۴.</ref> آمده است که یوسف خواب سجدهٔ ماه و خورشید را برای برادران خود تعریف کرد و آنها به او [[حسد|حسادت]] کردند و گفتند نکند بعداً بر ما حاکم شوی. همچنین طبق تورات زمانی که خواب را برای پدرش [[یعقوب]] تعریف کرد، یعقوب به او پرخاش کرد و گفت: آیا من، مادرت و یازده برادرت بر تو سجده می‌کنیم؟!<ref> طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۱، ۲۶۱.</ref>
 +
 +
تفاوت دیگر اینکه برپایه گزارش قرآن، برادران یوسف درخواست کردند یعقوب او را همراهشان به صحرا بفرستد،<ref> سوره یوسف، آیه ۱۲.</ref> اما در گزارش تورات خود یعقوب از یوسف می‌خواهد دنبال برادرانش به صحرا برود تا ببیند آنها و گوسفندان سالم هستند یا خیر؟.<ref>طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۱، ص۲۶۱.</ref>
 +
 +
==وفات و محل دفن==
 +
[[پرونده:یوسف پیامبر...jpg|190px|بندانگشتی|پوستر[[مجموعه تلویزیونی یوسف پیامبر]]]]
 +
به‌گفته [[علی بن حسین مسعودی|مسعودی]] تاریخ‌نگار مسلمان قرن چهارم قمری، یوسف ۱۲۰ سال زندگی کرد. هنگامی که مرگش فرا رسید، خدا به او [[وحی]] کرد که نور و حکمت را که در دست دارد، به ببرز بن لاوی بن یعقوب بسپارد. آنگاه یوسف، ببرز بن لاوی را با [[بنی اسرائیل|آل یعقوب]] که در آن روز  هشتاد مرد بودند، احضار کرد و به آنها گفت به‌زودی گروهی بر شما غالب می‌شوند و شما را  به عذاب سختی دچار می‌کنند، تا اینکه خدا شما را به‌وسیله یکی از فرزندان لاوی که نامش موسی است، کمک کند.<ref>مسعودی، اثبات الوصیة، ۱۳۸۴ش، ص۷۴.</ref>
 +
بعد از وفات یوسف هر گروهی می‌خواست جنازه او را در محله خود [[دفن]] کند. برای اینکه نزاع پیش نیاید، او را در [[مصر]] در صندوقی از مرمر، در نیل دفن کردند. پس از سال‌ها [[حضرت موسی]] جنازه او را از آن مکان خارج کرد<ref>مسعودی، اثبات الوصیة، ۱۳۸۴ش، ص۷۵.</ref> و به‌گفته یاقوت حَمَوی تاریخ‌نویس قرن ششم و هفتم قمری، در [[فلسطین]] دفن کرد.<ref>یاقوت حموی، معجم البلدان، ۱۹۹۵م، ج۱، ص۴۷۸.</ref>
 +
 +
==یوسف در آثار هنری==
 +
داستان یوسف در آثار هنری و رسانه‌ای مانند نقاشی‌، ‌کاشی‌کاری‌، ادبیات، سینما و تلویزیون انعکاس داشته است. در سال ۱۳۸۷ش [[یوسف پیامبر (مجموعه تلویزیونی)|مجموعه تلویزیونی یوسف پیامبر]] از تلویزیون ایران پخش شد.<ref>[http://vista.ir/article/351963  «چهار سال با یوسف پیامبر»، وبگاه ویستا، تاریخ بازدید: ۱۱ شهریور ۱۳۹۸.]</ref>
 +
بیت زیر سروده [[حافظ شیرازی]] شاعر قرن هشتم قمری است که در آن به داستان یوسف اشاره شده است :
 +
 +
{{شعر۲
 +
| یوسف گم‌گشته بازآید به کنعان غم مخور|کلبه احزان شود روزی گلستان غم مخور
 +
<ref>[https://ganjoor.net/hafez/ghazal/sh255/ حافظ،غزلیات، غزل ۲۵۵]</ref> }}
  
 
==حوالہ جات==
 
==حوالہ جات==
سطر 76: سطر 114:
 
==مآخذ==
 
==مآخذ==
 
{{مآخذ}}
 
{{مآخذ}}
* استادی، کاظم، کتاب‌شناسی حکومت و ولایت فقیه، قم، کتابخانه آیت الله العظمی مرعشی نجفی، ۱۳۹۰ش.
+
* ابن‌طاووس، علی بن موسی، المجتنی من الدعاء المجتبی، قم،‌ دارالذخائر، چاپ اول، ۱۴۱۱ق.
* امام خمینی، سید روح‌الله، کتاب البیع، قم، انتشارات اسماعیلیان، ۱۳۶۳ش.
+
* ابن‌کثیر، قصص‌الانبیاء و اخبارالماضین (خلاصة تاریخ ابن‌کثیر)، تدوین محمد بن احمد کنعان، بیروت، مؤسسةالمعارف، چاپ اول، ۱۴۱۶ق/۱۹۹۶م.
* امام خمینی، سید روح‌الله، ولایت فقیه، تهران، مؤسسه تنظیم و نشر آثار امام خمینی، ۱۳۷۳ش.
+
* بلاغی، صدرالدین، قصص قرآن، تهران، امیرکبیر، چاپ هفدهم، ۱۳۸۰ق.
* جعفریان، رسول، دین و سیاست در عصر صفوی، قم، انتشارات انصاریان، ۱۳۷۰ش.
+
* [http://vista.ir/article/351963) «چهار سال با یوسف پیامبر»، وبگاه ویستا، تاریخ بازدید: ۱۱ شهریور ۱۳۹۸].
* جوادی آملی، عبدالله، ولایت فقیه، ولایت فقاهت و عدالت، قم: مرکز نشر اسراء، ۱۳۷۸ش.
+
* جزایری، نعمت‌الله، النورالمبین فی قصص الانبیاء و المرسلین، بیروت، دارالاضوا، چاپ دوم، ۱۴۲۳ق.
* شهید اول، محمد بن مکی، القواعد و الفوائد، قم، کتاب فروشی مفید، ۱۴۰۰ق.
+
*[https://ganjoor.net/hafez/ghazal/sh255/ حافظ شیرازی، شمس‌الدین محمد، غزلیات حافظ، غزل ۲۵۵، وبگاه گنجور، تاریخ بازدید ۳۱ شهریور ۱۳۹۸ش.]
* شیخ انصاری، مرتضی، المکاسب المحرمه، قم، کنگره شیخ اعظم انصاری، ۱۴۱۵ق.
+
* صحفی، سیدمحمد، قصه‌های قرآن، قم، اهل بیت، چاپ دوم، ۱۳۷۹ش.
* شیخ مفید، المقنعه، قم، مؤسسه انتشارات اسلامی، چاپ دوم، ۱۴۱۳ق.
+
* ضیاءآبادی، محمد، تفسیر سوره یوسف، تهران، موسسه بنیاد خیریه الزهرا(علیها السلام)، ۱۳۸۸ش.
* صالحی نجف آبادی، نعمت الله، ولایت فقیه حکومت صالحان، تهران، انتشارات امید فردا، ۱۳۸۲ش.
+
* طباطبایی، سیدمحمد حسین، المیزان فى تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ پنجم، ۱۴۱۷ق.
* صدوق، محمد بن علی، کمال الدین و تمام النعمه، تصحیح علی اکبر غفاری، تهران، دار الکتب الاسلامیه، ۱۳۹۵ق.
+
* قطب‌الدین راوندی، سعید بن هبةالله، قصص‌الانبیاء الحاوی لاحادیث کتاب النبوه للشیخ الصدوق، قم، انتشارات علامه مجلسی، ۱۳۸۸ش.
* فیرحی، داوود، «شیعه و دموکراسی مشورتی در ایران»، مجله دانشکده حقوق و علوم سیاسی دانشگاه تهران، ش۶۷، ۱۳۸۴ش.
+
* مسعودی، علی بن حسین، اثبات الوصیة للامام علی بن ابی طالب علیه‌السلام، قم، اسماعیلیان، چاپ سوم، ۱۳۸۴ش.
* فیرحی، داوود، فقه و سیاست در ایران معاصر، تهران، نشر نی، ۱۳۹۳ش.
+
* مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، تهران،‌ دار الکتب الإسلامیة، چاپ اول، ۱۳۷۴ش.
* فیرحی، داوود، قدرت دانش مشروعیت در اسلام، تهران، نشر نی، ۱۳۹۶ش.
+
* یاقوت حموی، معجم‌البلدان، بیروت دار صادر، چاپ دوم، ۱۹۹۵م.
* فیرحی، ٰداوود، نظام سیاسی و دولت در اسلام، تهران، انتشارات سمت، ۱۳۸۶ش.
+
{{خاتمہ}}
* [https://rc.majlis.ir/fa/content/iran_constitution «قانون اساسی جمهوری اسلامی ایران»، وبگاه مرکز پژوهش‌های مجلس شواری اسلامی، تاریخ بازدید ۳ شهرویر ۱۳۹۸.]
 
* کاشف الغطاء، جعفر بن خضر، كشف الغطاء عن مبهمات الشريعة الغراء، قم، انتشارات اسلامی، ۱۴۲۲ق.
 
* کدیور، محسن، حکومت ولایی، تهران، نشر نی، ۱۳۷۸ش.
 
* کدیور، محسن، نظریه‌های دولت در فقه شیعه، تهران، نشر نی، ۱۳۸۷ش.
 
* کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تهران، دار الکتب الاسلامیه، ۱۴۰۷ق.
 
* گلپایگانی، سید محمدرضا، الهدایة الی من له الولایة، به تقریر: احمد صابری همدانی، قم، دفتر نشر نوید اسلام، ۱۳۷۷ش.
 
* مطهری،‌ مرتضی، پیرامون جمهوری اسلامی، تهران، نشر صدرا، ۱۳۶۸ش.
 
* منتظری، حسینعلی، بدر الظاهر فی صلوة الجمعة و المسافر، تقریر ابحاث سید محمدحسین بروجردی، قم، دفتر آیت الله العظمی منتظری، ۱۴۱۶ق.
 
* منتظری، حسینعلی، دراسات فی ولایة الفقیه و فقه الدولة الاسلامیه، قم، مکتب الاعلام الاسلامی، ۱۴۰۸ق.
 
* منتظری، حسینعلی، مبانی فقهی حکومت اسلامی، مترجم محمود صلواتی، ابوالفضل شکوری، تهران، کیهان، ۱۳۶۷ش.
 
* منتظری، حسینعلی، نظام الحکم فی الاسلام، تهران، نشر سرایی، ۱۳۸۵ش.
 
* مؤمن قمی، محمد، جایگاه احکام حکومتی و اختیارات ولی فقیه، قم، نشر معارف، ۱۳۹۳ش.
 
* نجفی، محمدحسن، جواهر الکلام، بیروت، دار الاحیاء التراث العربی، ۱۴۰۴ق.
 
* نراقی، احمد بن محمد مهدی، عوائد الأيام، قم، انتشارات اسلامی، ۱۴۱۷ق.
 
* ولایتی، علی‌اکبر، «خامنه‌ای، آیت‌الله سیدعلی»، دایرةالمعارف بزرگ اسلامی، ج۲۱، تهران، مرکز دائرةالمعارف بزرگ اسلامی، چاپ اول، ۱۳۹۲ش.
 
{{پایان}}
 
  
{{امامت}}
+
==بیرونی روابط==
{{اصطلاحات فقہی}}
+
* [http://www.tahoor.com/fa/Home/Search?term=%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA+%DB%8C%D9%88%D8%B3%D9%81&kotob=true&alam=true&encyclo=true&text=true&title=true&keyword=true&categories=true بررسی داستان حضرت یوسف]
{{جمہوری اسلامی ایران}}
+
*[http://www.noormags.ir/view/fa/search?q=%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA%20%DB%8C%D9%88%D8%B3%D9%81&origin=start مقالات مرتبط با یوسف پیامبر]
 +
{{پیامبران در قرآن}}
 +
{{الگو:بنی‌اسرائیل}}

نسخہ بمطابق 13:35, 7 اکتوبر 2019

بسم اللّه الرّحمن الرّحیم
Hakimi/تمرین
مرقد منسوب به یوسف (ع) در فلسطین
مرقد منسوب به یوسف (ع) در فلسطین
قرآنی نام: یوسف‏
جائے پیدائش: کنعان
مدفن: فلسطین
قوم کا نام: بنی‌اسرائیل
قبل از: ببرز بن لاوی
مشہوراقارب: یعقوب
ہم عصر پیغمبر: یعقوب
دین: یکتاپرستی
عمر: ۱۲۰ سال
قرآن میں نام کا تکرار: ۲۷ بار
اہم واقعات: به چاه انداختن یوسف،‌ داستان یوسف و زلیخا، رسیدن به مقام عزیزی مصر،‌ حفظ مردم مصر از قحطی،
اولوالعزم انبیاء
حضرت محمدؐحضرت نوححضرت ابراہیمحضرت موسیحضرت عیسی


حضرت یوسف علیہ السلام

یوسُف از پیامبران بنی‌ا‌سرائیل و فرزند یعقوبِ نبی بود. او ضمن برخورداری از مقام نبوت، سالیانی در مصر حکومت کرد. در قرآن سوره‌ای به نام یوسف نام‌گذاری شده و در آن داستان زندگی او به‌تفصیل آمده است.

یوسف در کودکی توسط برادرانش به چاه انداخته شد، اما گروهی او را از چاه نجات دادند و به‌عنوان برده به عزیز مصر فروختند. زلیخا زن عزیز مصر شیفته زیبایی یوسف شد، اما پس از امتناع یوسف از ارتباط با او، یوسف را به خیانت به عزیز مصر متهم کرد و او را به زندان انداختند.

یوسف پس از سال‌ها بی‌گناهی‌اش را اثبات کرد و از زندان آزاد شد و به‌جهت تعبیر خواب پادشاه مصر و ارائه راهکاری برای مشکل قحطی مصر، نزد او محبوبیت یافت و وزیرش شد.

داستان یوسف در قرآن با آنچه تورات در این زمینه گزراش می‌کند، تفاوت‌هایی دارد؛ ازجمله طبق قرآن برادران از یعقوب درخواست می‌کنند یوسف را همراهشان به صحرا بفرستد، اما براساس تورات یعقوب خود از یوسف می‌‌خواهد برادرانش را همراهی کند.

عمر یوسف را ۱۲۰ سال بیان کرده‌اند. می‌گویند او در فلسطین دفن شده است.

جایگاه

یوسف فرزند یعقوب، از پیامبران بنی اسرائیل بود و مادرش راحیل نام داشت.[1] او یازده برادر داشت که از میان آنها تنها با بنیامین، از مادر مشترک بود.[2] یوسف از همه برادران جز بنیامین کوچک‌تر بود.[3]

نام یوسف ۲۷ بار قرآن آمده و سوره دوازدهم قرآن، به نام اوست. قرآن یوسف را از بندگان مُخلَص خدا معرفی کرده است [4] که به‌گفته علامه طباطبایی به این معنا است که او نه‌تنها به درخواست زلیخا برای ارتباط با او تن نداد، که حتی در دل هم به آن کار گرایش نداشت.[5] همچنین در قرآن یوسف از محسنان دانسته شده است.[6]

نبوت

یوسف را از پیامبران بزرگ دانسته‌اند.[7] در روایتی از امام باقر، با استناد به آیات قرآن یوسف نبی و رسول دانسته شده است.[8] برپایه تفسیر نمونه، خواب یوسف که در آن یازده ستاره و ماه و خورشید به یوسف سجده کردند، علاوه‌بر اینکه از رسیدن یوسف به ثروت و قدرت خبر می‌داد، بیان‌کننده نبوت او در آینده هم بود.[9] علامه طباطبایی هم یکی از مصادیق کامل‌شدن نعمت برای یوسف را که در آیه ۶ سوره یوسف آمده است، رسیدن او به مقام پیامبری دانسته است.[10]

زندگی‌نامه

در قرآن، در سوره یوسف داستان زندگی یوسف به‌تفصیل بیان شده است. قرآن داستان او را اَحْسَنُ الْقِصَص (نیکوترین داستان) نامیده[11] و آن را با جزئیاتی از نوجوانی، به چاه‌انداختن، فروختن او به عزیز مصر، داستان زلیخا و یوسف، به زندان رفتن او و ملاقات پدر و برادران و حکومتش در مصر بیان کرده است.[12]

به‌چاه‌افتادن و انتقال به مصر

[[پرونده:یوسف و چاه.jpg|250px|بندانگشتی|نقاشی به چاه‌انداختن یوسف بر روی کاشی تکیه معاون الملک]] سانچہ:همچنین داستان زندگی یوسف در قرآن در سوره یوسف به‌صورت مفصل آمده است. طبق قرآن یوسف خواب سجده‌کردن یازده ستاره و ماه و خورشید را برای یعقوب نقل می‌کند. پدرش به او می‌گوید خواب خود را برای برادرانت تعریف نکن؛ زیرا آنها برای تو نقشه خطرناکی می‌کشند.[13]

مفسران مراد از یازده ستاره را برادران یوسف و مراد از ماه و خورشید را پدر و مادرش دانسته‌اند که بعدها که یوسف به منزلتی دنیایی و معنوی رسید، به او تعظیم کردند.[14]

فرزندان یعقوب می‌گفتند یوسف و برادرش نزد پدر، از ما محبوب‌ترند.[15] آنها روزی از یعقوب خواستند اجازه دهد یوسف برای بازی همراهشان به بیابان برود.[16] آنان در بیابان یوسف را به چاه‌ انداختند و پس از بازگشت، به یعقوب گفتند که گرگ او را دریده است.[17] طبق آیات قرآن، یعقوب سخنشان را باور نکرد.[18] او بعدها از شدت فراق و گریه بر یوسف نابینا شد.[19]

قافله‌ای یوسف را از چاه نجات داد[20] و برای غلامی به مصر برد. عزیز مصر او را خرید و او وارد خانواده عزیز شد.[21]

زیبایی یوسف و ماجرای او و زلیخا

در کتاب‌های قصص القرآن یوسف جوانی بسیار زیبا توصیف شده است.[22] ازاین‌رو زلیخا زن عزیز مصر، شیفته او شد، ولی یوسف خویشتن‌داری کرد و به خواست زلیخا تن نداد.[23] این ماجرا به‌گوش مردم شهر رسید و گروهی از زنان شهر، زلیخا را سرزنش کردند. او جلسه‌ای ترتیب داد، زنان شهر را دعوت کرد و کارد و میوه به دست آنها داد. سپس یوسف را به مجلس دعوت کرد. زمانی که او وارد شد، زنان چنان تحت‌تأثیر زیبایی او قرار گرفتند که دستانش را بریدند.[24]

پس از این ماجرا، به‌جهت آنکه هر روز زنانی از یوسف درخواست ارتباط نامشروع داشتند، او از خدا خواست برای رهایی از آنان او را به زندان بیندازد. پس از چندی او به دستور زلیخا به زندان افتاد.[25]

تعبیر خواب پادشاه و عزیزی مصر

یوسف به‌جهت دانستن تعبیر خواب، خواب دو زندانی را تعبیر و پیش‌بینی کرد یکی از آنها کشته و دیگری آزاد می‌شود و نزد پادشاه مصر جایگاهی به‌دست می‌آورد.[26] چند سال پس از این ماجرا، پادشاه مصر خواب دید که هفت گاو لاغر، هفت گاو چاق را می‌خورند. او همچنین در خواب هفت خوشه سبز و هفت خوشه خشک مشاهده کرد.[27] کسی نتوانست این خواب را تعبیر کند، تا اینکه آن زندانی که آزاد شده و به دربار راه یافته بود، یوسف را به یاد آورد و گفت که تعبیر آن خواب را برایشان می‌گوید.[28]

او به زندان رفت و تعبیر آن خواب را از یوسف پرسید. یوسف گفت: شما هفت سال فراوانیِ آب در پیش دارید و پس از آن، هفت سال خشکسالی پیش خواهدآمد. آنگاه پیشنهاد کرد که برای نجات از خشکسالی هفت سال نخست را بیشتر زراعت کنند و محصولات مازاد بر مصرف را با همان خوشه‌هایشان انبار کنند تا سالم بماند.[29]

پادشاه از تعبیر خواب یوسف و راه‌حلش برای نجات مصر از قحطی، خوشش آمد و یوسف را به حضور طلبید؛ اما او به فرستاده شاه گفت ماجرای بریدن دستان زنان و زندانی‌شدنش را از شاه بپرسد. شاه درباره این موضوع تحقیق کرد و زنان شهر را به دربار فراخواند. زنان مصر بر بی‌گناهی یوسف تأکید کردند و زلیخا هم به عمل خود اعتراف کرد.[30]

پس از تعبیر خواب و اثبات بی‌گناهی یوسف، پادشاه مصر او را از زندان آزاد و وزیر خود و عزیز مصر کرد.[31]

ملاقات با خانواده

در دوره بی‌آبیِ مصر، کنعان نیز دچار قحطی شد. ازاین‌رو یعقوب پسرانش را برای دریافت گندم به مصر فرستاد.[32] یوسف با دیدن برادرانش آنها را شناخت، اما آنها او را نشناختند.[33] او با برادران به نیکی رفتار کرد[34] و با فرستادن پیراهنش برای یعقوب چشمان نابینای او را بینا کرد.[35] پس از آن یعقوب و فرزندانش برای دیدار یوسف به مصر رفتند.[36]

ازدواج و فرزندان

به‌نقل مسعودی تاریخ‌نگار مسلمان قرن چهارم قمری، یوسف در مصر ازدواج کرد و حاصل آن دو پسر به نام‌های اِفرائیم، پدر یوشَع‌بن‌نون و میشا بود.[37]

ازدواج با زلیخا

در برخی از روایات از ازدواج یوسف با زلیخا پس از رسیدن به مقام عزیزی مصر سخن آمده است. برای مثال در حدیثی آمده است که یوسف زنی را دید که می‌گفت خدا را شکر که بردگان را به‌واسطه طاعتشان پادشاه کرد و پادشاهان را به‌واسطه معصیتشان برده کرد. از او پرسید کیستی و او گفت زلیخا هستم و یوسف با او ازدواج کرد.[38] به‌گفته سیدنعمت‌الله جزایری، زلیخا با دعای یوسف جوان شد و آنگاه یوسف با او ازدواج کرد.[39]

بندانگشتی|۲۸۰px|نقشه محل تولد و نبوت یوسف نبی

تَرک اولای یوسف

سانچہ:همچنین طبق آیه ۴۲ سوره یوسف، هنگامی که یوسف در زندان بود، خبر آزادی یکی از زندانیان را به او داد و گفت: بی‌گناهیِ مرا پیش پادشاه یادآوری کن، اما شیطان آن را از یاد او برد و برای همین، یوسف چند سال در زندان ماند. در این زمینه میان مفسران اختلاف‌نظرهست. برخی گفته‌اند منظور این است که شیطان خدا را از یاد یوسف برد و به‌باور برخی دیگر شیطان موجب شد آن زندانی فراموش کند بی‌گناهی یوسف را به پادشاه بگوید. علامه طباطبایی نظر نخست را با بیان صریح قرآن ناسازگار دانسته است؛ چراکه از سویی در قرآن یوسف از مُخلَصان شمرده شده است و از سوی دیگر آمده است که شیطان هیچ‌گاه نمی‌تواند در اندیشه مخلصان نفوذ کند.[40]

به‌هرروی مفسران عمل یوسف را تَرک اَولیٰ دانسته‌اند؛ زیرا برای انبیا و کسانی که در مرتبه عالی توحید هستند، همین مقدار توسل به اسباب دنیایی هم پسندیده نیست.[41]

تفاوت داستان یوسف در قرآن و تورات

بنابر آنچه که علامه طباطبایی نقل کرده در تورات برخلاف قرآن،[42] آمده است که یوسف خواب سجدهٔ ماه و خورشید را برای برادران خود تعریف کرد و آنها به او حسادت کردند و گفتند نکند بعداً بر ما حاکم شوی. همچنین طبق تورات زمانی که خواب را برای پدرش یعقوب تعریف کرد، یعقوب به او پرخاش کرد و گفت: آیا من، مادرت و یازده برادرت بر تو سجده می‌کنیم؟![43]

تفاوت دیگر اینکه برپایه گزارش قرآن، برادران یوسف درخواست کردند یعقوب او را همراهشان به صحرا بفرستد،[44] اما در گزارش تورات خود یعقوب از یوسف می‌خواهد دنبال برادرانش به صحرا برود تا ببیند آنها و گوسفندان سالم هستند یا خیر؟.[45]

وفات و محل دفن

[[پرونده:یوسف پیامبر...jpg|190px|بندانگشتی|پوسترمجموعه تلویزیونی یوسف پیامبر]] به‌گفته مسعودی تاریخ‌نگار مسلمان قرن چهارم قمری، یوسف ۱۲۰ سال زندگی کرد. هنگامی که مرگش فرا رسید، خدا به او وحی کرد که نور و حکمت را که در دست دارد، به ببرز بن لاوی بن یعقوب بسپارد. آنگاه یوسف، ببرز بن لاوی را با آل یعقوب که در آن روز هشتاد مرد بودند، احضار کرد و به آنها گفت به‌زودی گروهی بر شما غالب می‌شوند و شما را به عذاب سختی دچار می‌کنند، تا اینکه خدا شما را به‌وسیله یکی از فرزندان لاوی که نامش موسی است، کمک کند.[46] بعد از وفات یوسف هر گروهی می‌خواست جنازه او را در محله خود دفن کند. برای اینکه نزاع پیش نیاید، او را در مصر در صندوقی از مرمر، در نیل دفن کردند. پس از سال‌ها حضرت موسی جنازه او را از آن مکان خارج کرد[47] و به‌گفته یاقوت حَمَوی تاریخ‌نویس قرن ششم و هفتم قمری، در فلسطین دفن کرد.[48]

یوسف در آثار هنری

داستان یوسف در آثار هنری و رسانه‌ای مانند نقاشی‌، ‌کاشی‌کاری‌، ادبیات، سینما و تلویزیون انعکاس داشته است. در سال ۱۳۸۷ش مجموعه تلویزیونی یوسف پیامبر از تلویزیون ایران پخش شد.[49] بیت زیر سروده حافظ شیرازی شاعر قرن هشتم قمری است که در آن به داستان یوسف اشاره شده است :

سانچہ:شعر۲

حوالہ جات

  1. صحفی، قصه‌های قرآن، ۱۳۷۹ش، ص۱۰۶.
  2. صحفی، قصه‌های قرآن، ۱۳۷۹ش، ص۱۰۶.
  3. صحفی، قصه‌های قرآن، ۱۳۷۹ش، ص۸۷.
  4. سوره یوسف، آیه ۲۴.
  5. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۱، ص۱۳۰.
  6. سوره انعام، آیه ۸۴.
  7. جزایری، النورالمبین فی قصص الانبیاء و المرسلین، ۱۴۲۳ق، ص۲۵۹.
  8. قطب‌الدین راوندی، قصص‌الانبیاء، ۱۴۳۰ق، ص۳۴۸.
  9. برای نمونه نگاه کنید به مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ۱۳۷۴ش، ج۹، ص۳۱۰.
  10. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۱، ص۸۲.
  11. سوره یوسف، آیه ۳.
  12. سوره یوسف، آیات۸ تا ۱۰۰.
  13. سوره یوسف، آیه ۴و۵.
  14. ابن‌کثیر، قصص‌الانبیاء، ۱۴۱۶ق/۱۹۹۶م، ص۱۹۱.
  15. سوره یوسف، آیه ۸.
  16. سوره یوسف، آیه ۱۲.
  17. سوره یوسف،‌ آیه۱۷.
  18. سوره یوسف،‌ آیه ۱۸.
  19. سوره یوسف، آیه ۸۴.
  20. سوره یوسف، آیه ۱۰و۱۹.
  21. سوره یوسف، آیه ۲۱.
  22. برای نمونه نگاه کنید به جزایری، النورالمبین فی قصص الانبیاء و المرسلین، ۱۴۲۳ق، ص۲۱۷؛ بلاغی، قصص قرآن، ۱۳۸۰ش، ص۹۸؛ صحفی، قصه‌های قرآن، ۱۳۷۹ش، ص۱۱۴و۱۱۵.
  23. صحفی، قصه‌های قرآن، ۱۳۷۹ش، ص۱۱۵و۱۱۶؛ همچنین نگاه کنید به سوره یوسف، آیه ۲۳.
  24. صحفی، قصه‌های قرآن، ۱۳۷۹ش، ص۱۱۷و۱۱۸؛ همچنین نگاه کنید به سوره یوسف، آیه ۳۰و۳۱.
  25. جزایری، النورالمبین فی قصص الانبیاء و المرسلین، ۱۴۲۳ق، ص۲۲۱؛ همچنین نگاه کنید به سوره یوسف، آیه ۳۳تا۳۵.
  26. بلاغی، قصص قرآن، ص۱۰۵تا۱۰۶؛ مچنین نگاه کنید به سوره یوسف آیه ۴۱.
  27. جزایری، النورالمبین فی قصص الانبیاء و المرسلین، ۱۴۲۳ق، ص۲۲۳؛ همچنین نگاه کنید به سوره یوسف، آیه ۴۳.
  28. جزایری، النورالمبین فی قصص الانبیاء و المرسلین، ۱۴۲۳ق، ص۲۲۳؛ همچنین نگاه کنید به سوره یوسف، آیه ۴۴و۴۵.
  29. جزایری، النورالمبین فی قصص الانبیاء و المرسلین، ۱۴۲۳ق، ص۲۲۳؛ همچنین نگاه کنید به سوره یوسف، آیه ۴۷تا۴۹.
  30. بلاغی، قصص قرآن، ص۱۰۵تا۱۰۶؛ همچنین نگاه کنید به سوره یوسف آیه ۵۰و۵۱.
  31. بلاغی، قصص قرآن، ص۱۰۸.
  32. بلاغی، قصص قرآن، ص۱۱۰.
  33. بلاغی، قصص قرآن، ص۱۰۹؛ همچنین نگاه کنید به سوره یوسف، آیه ۵۸.
  34. بلاغی، قصص قرآن، ص۱۱۰؛ همچنین نگاه کنید به سوره یوسف، آیه ۵۹.
  35. بلاغی، قصص قرآن، ص۱۱۹؛ همچنین نگاه کنید به سوره یوسف، آیه ۹۳تا۹۶.
  36. بلاغی، قصص قرآن، ص۱۱۹؛ همچنین نگاه کنید به سوره یوسف، آیه ۱۰۰.
  37. مسعودی، اثبات الوصیة، ۱۳۸۴ش، ص۴۹.
  38. قطب‌الدین راوندی، قصص‌الانبیاء، ۱۴۳۰ق، ص۳۵۱.
  39. جزایری، النورالمبین فی قصص الانبیاء و المرسلین، ۱۴۲۳ق، ص۲۳۴.
  40. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۱، ص۱۸۱.
  41. مکارم شیرازی، تفسیر نمونه،۱۳۷۴ش، ج۹، ص۴۱۴.
  42. سوره یوسف، آیه ۴.
  43. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۱، ۲۶۱.
  44. سوره یوسف، آیه ۱۲.
  45. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۱، ص۲۶۱.
  46. مسعودی، اثبات الوصیة، ۱۳۸۴ش، ص۷۴.
  47. مسعودی، اثبات الوصیة، ۱۳۸۴ش، ص۷۵.
  48. یاقوت حموی، معجم البلدان، ۱۹۹۵م، ج۱، ص۴۷۸.
  49. «چهار سال با یوسف پیامبر»، وبگاه ویستا، تاریخ بازدید: ۱۱ شهریور ۱۳۹۸.


مآخذ

  • ابن‌طاووس، علی بن موسی، المجتنی من الدعاء المجتبی، قم،‌ دارالذخائر، چاپ اول، ۱۴۱۱ق.
  • ابن‌کثیر، قصص‌الانبیاء و اخبارالماضین (خلاصة تاریخ ابن‌کثیر)، تدوین محمد بن احمد کنعان، بیروت، مؤسسةالمعارف، چاپ اول، ۱۴۱۶ق/۱۹۹۶م.
  • بلاغی، صدرالدین، قصص قرآن، تهران، امیرکبیر، چاپ هفدهم، ۱۳۸۰ق.
  • «چهار سال با یوسف پیامبر»، وبگاه ویستا، تاریخ بازدید: ۱۱ شهریور ۱۳۹۸.
  • جزایری، نعمت‌الله، النورالمبین فی قصص الانبیاء و المرسلین، بیروت، دارالاضوا، چاپ دوم، ۱۴۲۳ق.
  • حافظ شیرازی، شمس‌الدین محمد، غزلیات حافظ، غزل ۲۵۵، وبگاه گنجور، تاریخ بازدید ۳۱ شهریور ۱۳۹۸ش.
  • صحفی، سیدمحمد، قصه‌های قرآن، قم، اهل بیت، چاپ دوم، ۱۳۷۹ش.
  • ضیاءآبادی، محمد، تفسیر سوره یوسف، تهران، موسسه بنیاد خیریه الزهرا(علیها السلام)، ۱۳۸۸ش.
  • طباطبایی، سیدمحمد حسین، المیزان فى تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ پنجم، ۱۴۱۷ق.
  • قطب‌الدین راوندی، سعید بن هبةالله، قصص‌الانبیاء الحاوی لاحادیث کتاب النبوه للشیخ الصدوق، قم، انتشارات علامه مجلسی، ۱۳۸۸ش.
  • مسعودی، علی بن حسین، اثبات الوصیة للامام علی بن ابی طالب علیه‌السلام، قم، اسماعیلیان، چاپ سوم، ۱۳۸۴ش.
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، تهران،‌ دار الکتب الإسلامیة، چاپ اول، ۱۳۷۴ش.
  • یاقوت حموی، معجم‌البلدان، بیروت دار صادر، چاپ دوم، ۱۹۹۵م.

بیرونی روابط

سانچہ:پیامبران در قرآن سانچہ:الگو:بنی‌اسرائیل