"صارف:Hakimi/تمرین" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
م
(ایک ہی صارف کا 9 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
 
{{امام علی}}
 
{{امام علی}}
'''صالِحُ‌المُؤمِنین''' به‌معنای بهترینِ [[مؤمنان]] یا مؤمنان صالح، برگرفته از آیه چهارم [[سوره تحریم]] است. در این آیه صالح‌المؤمنین فردی معرفی شده است که به‌همراه خداوند، [[جبرئیل]] و دیگر [[فرشتگان]] از [[پیامبر اسلام(ص)]] پشتیبانی می‌کند.
+
'''صالِحُ‌المُؤمِنین'''، بہترین مومن یا صالح اور نیک مومن کے معنی میں ہے جو سورہ تحریم کی چوتھی آیت سے لیا ہے۔ اس آیت میں صالح المومنین سے مراد ایسے شخص کو لیا ہے جو اللہ تعالی، جبرئیل اور دیگر فرشتوں کے ساتھ پیغمبر اکرمؐ کی حمایت کرتا ہے۔
  
برخی از مفسران این واژه را مفرد و مصداقش را تنها یک نفر و برخی دیگر آن را اسم جنس و شامل همه [[مسلمانان]] با[[تقوا]] دانسته‌اند. مفسران شیعه در دیدگاه اول، [[امام علی(ع)]] را تنها مصداق و در دیدگاه دوم بهترین مصداق آن دانسته‌اند. مفسران [[اهل سنت]]، [[ابوبکر]] و [[عمر]] را تنها مصداق یا از مصادیق آن دانسته‌اند.
+
بعض مفسروں نے اس لفظ کو واحد اور اس کا مصداق صرف ایک فرد کو لیا ہے جبکہ دوسروں نے اسے اسمِ جنس قرار دیتے ہوئے سارے پرہیزگار مسلمانوں کو اس میں شامل کیا ہے۔ شیعہ مفسرین نے پہلے نظرئے کے مطابق صرف امام علیؑ کو جبکہ دوسرے نظرئے کے مطابق اس کا سب سے بہترین مصداق قرار دیا ہے۔ اہل سنت مفسرین نے ابوبکر اور عمر کو اس کا مصداق قرار دیا ہے۔
  
==مفهوم‌شناسی==
+
==مفہوم‌شناسی==
صالح‌المؤمنین به‌معنای بهترینِ [[مؤمنان]] یا مؤمنان شایسته است.<ref>قرشی، قاموس قرآن، ۱۴۱۲ق، ج۴، ص۱۴۲.</ref> برخی از [[مفسران]] صالح را در ترکیب مذکور اسم جنس دانسته<ref>طبرسی، مجمع‌البیان، ۱۳۷۲ش، ج۱۰، ص۴۷۱؛ آلوسی، روح‌المعانی، ۱۴۱۵ق، ج۱۴، ص۳۴۸؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ۱۳۷۱ش، ج۲۴، ص۲۸۰.</ref> و نتیجه گرفته‌اند که شامل همه مؤمنانِ صالح، باتقوا و کامل‌الایمان می‌شود.<ref>مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ۱۳۷۱ش، ج۲۴، ص۲۸۰.</ref> در مقابل برخی دیگر عمومیت صالح‌المومنین را رد کرده و معتقدند این واژه فقط بر یک شخص قابل‌صدق است.<ref>طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۹، ص۳۳۲.</ref> به‌گفته [[علامه طباطبایی]] معنای «صالح‌المؤمنین» غیر از معنای «الصالح من المؤمنین» است و فقط ترکیب دوم است که به‌دلیل داشتن «الف» و «لام» بر سر کلمه صالح اسم جنس است و افاده عموم می‌کند؛ ولی صالح‌المؤمنین جنسیت و عمومیت را نمی‌رساند.<ref>طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۹، ص۳۳۲.</ref>
+
صالح‌المؤمنین بہترین مومن یا نیک مومنوں کے معنی میں ہے۔<ref>قرشی، قاموس قرآن، ۱۴۱۲ق، ج۴، ص۱۴۲.</ref> بعض مفسروں نے اس آیت میں صالح کو اسم جنس قرار دیتے ہوئے<ref>طبرسی، مجمع‌البیان، ۱۳۷۲ش، ج۱۰، ص۴۷۱؛ آلوسی، روح‌المعانی، ۱۴۱۵ق، ج۱۴، ص۳۴۸؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۲۴، ص۲۸۰.</ref> یہ نتیجہ لیا ہے کہ تمام نیک، متقی اور کامل ایمان والے مومنین شامل ہیں۔<ref>مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۲۴، ص۲۸۰.</ref> ان کے مقابلے میں بعض کا کہنا ہے کہ صالح المومنین عام نہیں ہے اور یہ لفظ صرف ایک ہی شخص پر صدق آتا ہے۔<ref>طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۹، ص۳۳۲.</ref> [[علامہ طباطبایی]] کا کہنا ہے کہ «صالح‌المؤمنین»، «الصالح من المؤمنین» سے الگ ہے اگر جملے کی دوسری ترکیب ہو تو «الف» و «لام» کی وجہ سے صالح کا لفظ اسمِ جنس بنتا ہے اور جو عمومی معنی دیتا ہے؛ لیکن صالح‌ المؤمنین سے جنس یا عموم کا معنی سمجھ میں نہیں آتا ہے۔<ref>طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۹، ص۳۳۲.</ref>
  
== آیه صالح‌المومنین ==
+
== آیہ صالح‌المومنین ==
صالح المومنین از این آیه گرفته شده است: {{عربی|«إِن تَتُوبَا إِلَی اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُکمَا ۖ وَإِن تَظَاهَرَ‌ا عَلَیهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِ‌یلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِینَ ۖ وَالْمَلَائِکةُ بَعْدَ ذَٰلِک ظَهِیرٌ‌؛ اگر [شما دو زن‌] به درگاه خدا توبه کنید [بهتر است‌]، واقعاً دل‌هایتان انحراف پیدا کرده است و اگر علیه او به یکدیگر کمک کنید، در حقیقت، خدا خود سرپرست او است، و جبرئیل و صالح مؤمنان [نیز یاور اویند] و گذشته از این، فرشتگان [هم ]پشتیبان [او] خواهند بود.»<ref>سوره تحریم، آيه۴.</ref>}} از این رو آیه مذکور به آیه صالح‌المؤمنین شناخته می‌شود.<ref>علامه حلی، نهج‌الحق، ۱۴۰۷ق، ص۱۹۱.</ref>  
+
صالح المومنین کو اس آیت سے اخذ کیا ہے: {{عربی|«إِن تَتُوبَا إِلَی اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُکمَا ۖ وَإِن تَظَاهَرَ‌ا عَلَیهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِ‌یلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِینَ ۖ وَالْمَلَائِکۃُ بَعْدَ ذَٰلِک ظَهِیرٌ‌}} (ترجمہ: اگر تم دونوں (اللہ کی بارگاہ میں) توبہ کر لو (تو بہتر ہے) کیونکہ تم دونوں کے دل ٹیڑھے ہو چکے ہیں اور اگر تم ان (پیغمبر(ص)) کے خلاف ایکا کرو گی (تو تم پیغمبر کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکو گی) کیونکہ یقیناً اللہ ان کا حامی ہے اور جبرائیل(ع) اور نیکوکار مؤمنین اور اس کے بعد سب فرشتے ان کے پشت پناہ (اور مددگار) ہیں)۔»<ref>سورہ تحریم، آيہ۴.</ref> اسی لئے یہ آیت، صالح المومنین کے نام معروف ہوگئی۔<ref>علامہ حلی، نہج‌الحق، ۱۴۰۷ق، ص۱۹۱.</ref>
  
==شأن نزول آیه==
+
==آیت کا شأن نزول==
درباره شأن نزول آیه صالح‌المؤمنین روایاتی نقل شده که از اذیت و آزار پیامبر اسلام توسط برخی از[[زنان پیامبر|همسرانش]] حکایت دارد.<ref> نگاه کنید به واحدی، اسباب نزول القرآن، ۱۴۱۱ق، ص۴۵۹-۴۶۱.</ref> طبق این روایات پیامبر نزدِ یکی از همسرانش رفت، مقداری عسل خورد و ماندنش طول کشید. عایشه با همراه‌کردن برخی دیگر از زنان پیامبر تصمیم گرفت زمانی‌که پیامبر(ص) نزدشان رفت به بهانه بوی بدِ عسلی که خورده، از او کناره‌گیری کنند. پس از این برخورد، پیامبر خوردن عسل را بر خود حرام کرد. در برخی از روایات آمده که از همسران خود نیز کناره‌گیری کرد و تصمیم گرفته آنان را [[طلاق]] دهد. بعد از مدتی آیات [[سوره تحریم]] نازل شد و پیامبر(ص) را از حرام‌کردن چیزهایی که بر او [[حلال]] شده، باز داشت.<ref>واحدی، اسباب نزول القرآن، ۱۴۱۱ق، ص۴۵۹-۴۶۱.</ref>
+
آیہ صالح المومنین کے شان نزول کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ آیت پیغمبر اکرمؐ کی بعض ازواج کی طرف سے آپؐ کو آزار و اذیت پہنچانے کے بارے میں  میں نازل ہوئی ہے۔<ref> ملاحظہ کریں: واحدی، اسباب نزول القرآن، ۱۴۱۱ق، ص۴۵۹-۴۶۱.</ref>ان روایات کے مطابق، رسول اللہؐ ازواج میں سے ایک کے پاس گئے، کچھ شہد تناول فرمایا اور وہاں کچھ دیر تک رہے۔ عائشہ نے بعض دیگر ازواج کے ساتھ مل کر یہ فیصلہ کیا کہ اس شہد کی بدبو کو بہانہ کر کے آپ سے دور رہیں۔ اس رفتار کے بعد رسول اللہؐ نے شہد کھانے کو اپنے اوپر حرام قرار دیا۔ بعض روایات کے مطابق آپؐ نے بھی ازواج سے دوری اختیار کیا اور ان کو طلاق دینے کا ارادہ کیا۔ کچھ عرصہ بعد سورہ تحریم کی آیتیں نازل ہوئیں اور رسول اللہؐ کو حلال چیزیں اپنے اوپر حرام کرنے سے منع کیا۔<ref>واحدی، اسباب نزول القرآن، ۱۴۱۱ق، ص۴۵۹-۴۶۱.</ref>
  
آیه همچنین از همسران پیامبر خواست به‌علت آزاری که به پیامبر(ص) رسانده‌اند، [[توبه]] کنند و  به آنان هشدار داد اگر بر اذیت پیامبر اصرار ورزند، بدانند که خداوند ولیّ و سرپرست پیامبر(ص) است و در هر خطری که او را تهدید کند پشتیبان او است و خدا، جبرئیل، بهترین مؤمنان و دیگر فرشتگان پشتیبان رسول خدا خواهند بود.<ref> طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۹، ص۳۳۱.</ref>
+
اس آیت میں ازواج پیغمبر اکرمؐ سے بھی کہا گیا کہ آپؐ کو اذیت دینے پر توبہ کریں اور ان کو تنبیہ کی گئی کہ اگر مزید آپؐ کو تکلیف پہنچائیں گی تو جان لیں کہ اللہ تعالی رسو اللہ کے ولی اور سرپرست ہیں اور ہر کسی تہدید اور خطرے میں آپ کی حمایت کرے گا اور اللہ جبرئیل اور نیک مومنین اور دوسرے فرشتے رسول خدا کے حامی ہونگے۔<ref> طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۹، ص۳۳۱.</ref>
  
== صالح‌المؤمنین کیست؟ ==
+
== صالح‌المؤمنین کون؟ ==
درباره مصداق صالح‌المؤمنین میان مفسران [[شیعه]] و [[اهل سنت]] اختلاف‌نظر وجود دارد. برخی از مصادیقی که برای آن مطرح شده، عبارت‌اند از:
+
صالح‌ المؤمنین کے مصداق کے بارے میں مفسروں کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ مذکورہ مصادیق میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں:
* '''امام علی(ع):''' [[علامه طباطبایی]] امام علی(ع) را تنها مصداق صالح‌المؤمنین دانسته است. مستند او روایاتی است از منابع شیعه<ref>صدوق، الامالی، ۱۳۷۶ش، ص۳۱؛ حویزی، تفسیر نورالثقلین، ۱۴۱۵ق، ج۵، ص۳۷۰.</ref> و اهل‌سنت<ref>حسکانی، شواهدالتنزیل، ۱۴۱۱ق، ج۲، ۳۴۱-۳۵۲؛ ابوحیان اندلسی، البحر المحیط، ۱۴۲۰ق، ج۵، ص۳۳۲؛ سیوطی، الدر المنثور، ۱۴۰۴ق، ج۶، ص۲۴۴.</ref> که [[امام علی(ع)]] را تنها مصداق آن معرفی کرده است.<ref>طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۹، ص۳۳۲.</ref> درباره علت آن گفته‌اند که صالح‌المؤمنین باید بهترینِ مؤمنان<ref>شوشتری، احقاق الحق، ۱۴۰۹ق، ج۳، ص۳۱۴-۳۲۰.</ref> و [[معصوم]] باشد؛ چون همراه [[جبرئیل]] و دیگر [[فرشتگان]] آمده است.<ref>سید بن طاووس، سعد السعود، قم، ص۱۸۱؛ صادقی تهرانی، الفرقان، ۱۴۰۶ق، ج۲۸، ص۴۳۸.</ref>  
+
* '''امام علیؑ:''' [[علامہ طباطبائی]] نے صرف امام علیؑ ہی کو صالح المومنین کا مصداق قرار دیا ہے۔ اور اس بات کو شیعہ مآخذ<ref>صدوق، الامالی، ۱۳۷۶ش، ص۳۱؛ حویزی، تفسیر نورالثقلین، ۱۴۱۵ق، ج۵، ص۳۷۰.</ref> و اہل‌سنت<ref>حسکانی، شواہدالتنزیل، ۱۴۱۱ق، ج۲، ۳۴۱-۳۵۲؛ ابوحیان اندلسی، البحر المحیط، ۱۴۲۰ق، ج۵، ص۳۳۲؛ سیوطی، الدر المنثور، ۱۴۰۴ق، ج۶، ص۲۴۴.</ref> میں مذکور بعض روایات قرار دیا ہے جن میں صرف [[امام علیؑ]] ہی کو اس کا مصداق قرار دیا ہے۔<ref>طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۹، ص۳۳۲.</ref>اس کی علت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ صالح المومنین، بہترین مومنوں<ref>شوشتری، احقاق الحق، ۱۴۰۹ق، ج۳، ص۳۱۴-۳۲۰.</ref> میں سے ہو اور [[معصوم]] بھی ہو؛ کیونکہ [[جبرئیل]] اور دوسرے فرشتوں کے ساتھ ذکر ہوا ہے۔<ref>سید بن طاووس، سعد السعود، قم، ص۱۸۱؛ صادقی تہرانی، الفرقان، ۱۴۰۶ق، ج۲۸، ص۴۳۸.</ref>  
* '''همه مسلمانانِ باتقوا:''' عده‌ای از مفسران اهل‌سنت و شیعه معتقدند صالح‌المومنین همه مؤمنان صالح و باتقوا و کامل‌الایمان را شامل می‌شود.<ref>طبری، جامع‌البیان، ۱۴۱۲ق، ج۲۸، ص۱۰۵؛ آلوسی، روح‌المعانی، ۱۴۱۵ق، ج۱۴، ص۳۴۹؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ۱۳۷۱ش، ج۲۴، ص۲۸۰.</ref> [[آیت‌الله مکارم شیرازی]] مفسر شیعی امام علی(ع) را کامل‌ترین مصداق آن معرفی کرده است.<ref>مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ۱۳۷۱ش، ج۲۴، ص۲۸۰.</ref> همچنین به‌گفته آلوسی مفسر اهل‌سنت، علی، [[ابوبکر]] و [[عمر]] از مصادیق صالح‌المؤمنین هستند؛ اما مصادیق آن منحصر در این افراد نیست.<ref> آلوسی، روح‌المعانی، ۱۴۱۵ق، ج۱۴، ص۳۴۹.</ref>
+
* '''تمام متقی مسلمان:''' بعض اہل سنت اور شیعہ مفسروں کا کہنا ہے کہ صالح المومنین، تمام متقی، نیک، اور ایمانِ کامل والے مومنین کو شامل کرتا ہے۔<ref>طبری، جامع‌البیان، ۱۴۱۲ق، ج۲۸، ص۱۰۵؛ آلوسی، روح‌المعانی، ۱۴۱۵ق، ج۱۴، ص۳۴۹؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۲۴، ص۲۸۰.</ref> شیعہ مفسر [[آیت‌ اللہ مکارم شیرازی]] امام علیؑ کو سب سے کامل مصداق قرار دیتے ہیں۔<ref>مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۲۴، ص۲۸۰.</ref> اہلس سنت کے مفسر آلوسی کے مطابق، امام علیؑ، [[ابوبکر]] اور [[عمر]] صالح المومنین کے مصادیق میں سے ہیں؛ لیکن انہی افراد میں منحصر بھی نہیں ہے۔<ref> آلوسی، روح‌المعانی، ۱۴۱۵ق، ج۱۴، ص۳۴۹.</ref>
  
*'''ابوبکر و عمر''': آلوسی مفسر اهل‌سنت (درگذشت ۱۲۷۰ق) به ابن‌عساکر نسبت داده که [[ابوبکر]] و [[عمر]] را مصداق صالح‌المؤمنین دانسته است؛<ref> آلوسی، روح‌المعانی، ۱۴۱۵ق، ج۱۴، ص۳۴۸-۳۴۹.</ref> چراکه این دو دختران خود [[عایشه]] و [[حفصه]] را که از [[همسران پیامبر]] بودند، از اذیت و آزار پیامبر(ص) باز می‌داشتند.<ref>شوشتری، احقاق‌الحق، ۱۴۰۹ق، ج۳، ص۳۱۴. </ref> همچنین برپایه روایاتی که در منابع اهل‌سنت نقل شده، ابوبکر و عمر، یا عمر به‌تنهایی مصداق صالح‌المؤمنین معرفی شده‌اند.<ref> آلوسی، روح‌المعانی، ۱۴۱۵ق، ج۱۴، ص۳۴۹.</ref> البته برخی سند این روایات را ضعیف شمرده‌اند.<ref> خداپرست، «بررسی تطبیقی دیدگاه مفسران فریقین درباره مصداق صالح‌المؤمنین»، ص۹۲-۹۶.</ref>
+
*'''ابوبکر اور عمر''': اہل سنت کے مفسر آلوسی (متوفی ۱۲۷۰ھ) نے ابن عساکر سے منسوب کرکے کہا ہے کہ [[ابوبکر]] اور [[عمر]] صالح المومنین کے مصادیق ہیں؛<ref> آلوسی، روح‌المعانی، ۱۴۱۵ق، ج۱۴، ص۳۴۸-۳۴۹.</ref> کیونکہ انکی بیٹیاں [[عایشہ]] اور [[حفصہ]] ازواج نبی میں سے تھیں، جن کو پیغمبر کو تکلیف پہنچانے سے منع کرتے تھے۔<ref>شوشتری، احقاق‌الحق، ۱۴۰۹ق، ج۳، ص۳۱۴. </ref>اسی طرح اہل سنت مآخذ میں مذکور بعض روایات کے مطابق ابوبکر اور عمر یا صرف عمر، صالح المومنین کے مصداق میں ذکر ہوئے ہیں۔<ref> آلوسی، روح‌المعانی، ۱۴۱۵ق، ج۱۴، ص۳۴۹.</ref> البتہ بعض نے ان روایات کو سند کے اعتبار سے ضعیف اور غیر معتبر قرار دیا ہے۔<ref> خداپرست، «بررسی تطبیقی دیدگاہ مفسران فریقین دربارہ مصداق صالح‌المؤمنین»، ص۹۲-۹۶.</ref>
  
 
== حوالہ جات==
 
== حوالہ جات==
سطر 26: سطر 26:
 
== مآخذ==
 
== مآخذ==
 
{{مآخذ}}
 
{{مآخذ}}
* ابوحیان اندلسی، محمد بن یوسف، البحر المحیط فی التفسیر، تحقیق صدقی محمد جمیل، بیروت،‌ دارالفکر، ۱۴۲۰ق.
+
* ابوحیان اندلسی، محمد بن یوسف، البحر المحیط فی التفسیر، تحقیق صدقی محمد جمیل، بیروت،‌ دارالفکر، ۱۴۲۰ھ۔
* آلوسی، محمود بن عبدالله، روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم و السبع المثانی، بیروت،‌ دار الکتب العلمیة، ۱۴۱۵ق.
+
* آلوسی، محمود بن عبداللہ، روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم و السبع المثانی، بیروت،‌ دار الکتب العلمیۃ، ۱۴۱۵ھ۔
* حسکانی، عبیدالله بن احمد، شواهد التنزیل لقواعد التفضیل، تحقیق محمدباقر محمودی، تهران، وزارت ارشاد، ۱۴۱۱ق.
+
* حسکانی، عبیداللہ بن احمد، شواہد التنزیل لقواعد التفضیل، تحقیق محمدباقر محمودی، تہران، وزارت ارشاد، ۱۴۱۱ھ۔
 
* سید بن طاووس، سیدعلی، سعد السعود للنفوس منضود، قم، محمدکاظم الکتبی.
 
* سید بن طاووس، سیدعلی، سعد السعود للنفوس منضود، قم، محمدکاظم الکتبی.
* حویزی، عبدالعلی، تفسیر نور الثقلین، تحقیق هاشم رسولی محلاتی، قم، اسماعیلیان، ۱۴۱۵ق.
+
* حویزی، عبدالعلی، تفسیر نور الثقلین، تحقیق ہاشم رسولی محلاتی، قم، اسماعیلیان، ۱۴۱۵ھ۔
* خداپرست، اعظم و دژآباد، حامد، «[https://www.sid.ir/Fa/Journal/ViewPaper.aspx?id=263140 بررسی تطبیقی دیدگاه مفسران فریقین درباره مصداق صالح‌المؤمنین]» در مجله مطالعات تفسیری، شماره ۲۲، ۱۳۹۴ش.
+
* خداپرست، اعظم و دژآباد، حامد، «[https://www.sid.ir/Fa/Journal/ViewPaper.aspx?id=263140 بررسی تطبیقی دیدگاہ مفسران فریقین دربارہ مصداق صالح‌المؤمنین]» در مجلہ مطالعات تفسیری، شمارہ ۲۲، ۱۳۹۴شمسی ہجری۔
* سیوطی، جلالالدین، الدر المنثور، قم، کتابخانه مرعشی نجفی، ۱۴۰۴ق.
+
* سیوطی، جلالالدین، الدر المنثور، قم، کتابخانہ مرعشی نجفی، ۱۴۰۴ھ۔
* شوشتری، قاضی نورالله، احقاق الحق و ازهاق الباطل، قم، کتابخانه مرعشی نجفی، ۱۴۰۹ق.
+
* شوشتری، قاضی نوراللہ، احقاق الحق و ازہاق الباطل، قم، کتابخانہ مرعشی نجفی، ۱۴۰۹ھ۔
* صادقی تهرانی، محمد، الفرقان فی تفسیر القرآن، قم، فرهنگ اسلامی، ۱۴۰۶ق.
+
* صادقی تہرانی، محمد، الفرقان فی تفسیر القرآن، قم، فرہنگ اسلامی، ۱۴۰۶ھ۔
* طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار احیا التراث العربی، ۱۳۹۰ق.
+
* طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار احیا التراث العربی، ۱۳۹۰ھ۔
* طبرسی، فضل بن حسن، مجمع‌البیان، تهران، ناصرخسرو، ۱۳۷۲ش.
+
* طبرسی، فضل بن حسن، مجمع‌البیان، تہران، ناصرخسرو، ۱۳۷۲شمسی ہجری۔
* طبری، محمد بن جریر، جامع البیان فی تفسیر القرآن، بیروت،‌ دارالمعرفة، ۱۴۱۲ق.
+
* طبری، محمد بن جریر، جامع البیان فی تفسیر القرآن، بیروت،‌ دارالمعرفۃ، ۱۴۱۲ھ۔
* علامه حلی، حسن بن یوسف، نهج الحق و کشف الصدق، به‌کوشش عین‌الله الحسنی ارموی، قم،‌ دارالهجرة، ۱۴۰۷ق.
+
* علامہ حلی، حسن بن یوسف، نہج الحق و کشف الصدق، بہ‌کوشش عین‌اللہ الحسنی ارموی، قم،‌ دارالہجرۃ، ۱۴۰۷ھ۔
* قرشی، علی‌اکبر، قاموس قرآن، تهران،‌ دار الکتب الاسلامیة، ۱۴۱۲ق.
+
* قرشی، علی‌اکبر، قاموس قرآن، تہران،‌ دار الکتب الاسلامیۃ، ۱۴۱۲ھ۔
* مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونه، تهران،‌ دار الکتب العلمیة، ۱۳۷۱ش.
+
* مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران،‌ دار الکتب العلمیۃ، ۱۳۷۱شمسی ہجری۔
* واحدی، علی بن احمد، اسباب نزول القرآن، تحقیق کمال بسیونی زغلول، بیروت،‌ دار الکتب العلمیة، ۱۴۱۱ق.
+
* واحدی، علی بن احمد، اسباب نزول القرآن، تحقیق کمال بسیونی زغلول، بیروت،‌ دار الکتب العلمیۃ، ۱۴۱۱ھ۔
 
{{خاتمہ}}
 
{{خاتمہ}}
==پیوند به بیرون==
+
==بیرونی روابط==
* [http://ensani.ir/file/download/article/20120327180457-3048-160.pdf بررسی آیه صالح‌المؤمنین از دیدگاه فریقین]
+
* [http://ensani.ir/file/download/article/20120327180457-3048-160.pdf بررسی آیہ صالح‌المؤمنین از دیدگاہ فریقین]
* [https://www.sid.ir/fa/journal/ViewPaper.aspx?id=177805 مفهوم‌شناسی تعبیر «صالح‌المؤمنین» در قرآن و تحلیل آراء مفسران و مترجمان پیرامون آن]
+
* [https://www.sid.ir/fa/journal/ViewPaper.aspx?id=177805 مفہوم‌شناسی تعبیر «صالح‌المؤمنین» در قرآن و تحلیل آراء مفسران و مترجمان پیرامون آن]
 
{{فضائل امام علی}}
 
{{فضائل امام علی}}

نسخہ بمطابق 11:34, 16 جنوری 2020

شیعوں کے پہلے امام
حضرت علی علیہ السلام


حیات
واقعۂ غدیرلیلۃ المبیتیوم الدارمختصر زندگی نامہ


علمی ورثہ
نہج البلاغہغرر الحکم و درر الکلمخطبۂ شقشقیہبے الف خطبہبے نقطہ خطبہحرم


فضائل
فضائل اہل‌بیت، آیت ولایت • آیت اہل‌الذکر • آیت شراء • آیت اولی‌الامر • آیت تطہیر • آیت مباہلہ • آیت مودت • آیت صادقین-حدیث مدینۃالعلم • حدیث رایت • حدیث سفینہ • حدیث کساء • خطبہ غدیر • حدیث منزلت • حدیث یوم‌الدار • حدیث ولایتسدالابوابحدیث وصایت


اصحاب
عمار بن یاسرمالک اشترابوذر غفاریعبیداللہ بن ابی رافعحجر بن عدیدیگر افراد

صالِحُ‌المُؤمِنین، بہترین مومن یا صالح اور نیک مومن کے معنی میں ہے جو سورہ تحریم کی چوتھی آیت سے لیا ہے۔ اس آیت میں صالح المومنین سے مراد ایسے شخص کو لیا ہے جو اللہ تعالی، جبرئیل اور دیگر فرشتوں کے ساتھ پیغمبر اکرمؐ کی حمایت کرتا ہے۔

بعض مفسروں نے اس لفظ کو واحد اور اس کا مصداق صرف ایک فرد کو لیا ہے جبکہ دوسروں نے اسے اسمِ جنس قرار دیتے ہوئے سارے پرہیزگار مسلمانوں کو اس میں شامل کیا ہے۔ شیعہ مفسرین نے پہلے نظرئے کے مطابق صرف امام علیؑ کو جبکہ دوسرے نظرئے کے مطابق اس کا سب سے بہترین مصداق قرار دیا ہے۔ اہل سنت مفسرین نے ابوبکر اور عمر کو اس کا مصداق قرار دیا ہے۔

مفہوم‌شناسی

صالح‌المؤمنین بہترین مومن یا نیک مومنوں کے معنی میں ہے۔[1] بعض مفسروں نے اس آیت میں صالح کو اسم جنس قرار دیتے ہوئے[2] یہ نتیجہ لیا ہے کہ تمام نیک، متقی اور کامل ایمان والے مومنین شامل ہیں۔[3] ان کے مقابلے میں بعض کا کہنا ہے کہ صالح المومنین عام نہیں ہے اور یہ لفظ صرف ایک ہی شخص پر صدق آتا ہے۔[4] علامہ طباطبایی کا کہنا ہے کہ «صالح‌المؤمنین»، «الصالح من المؤمنین» سے الگ ہے اگر جملے کی دوسری ترکیب ہو تو «الف» و «لام» کی وجہ سے صالح کا لفظ اسمِ جنس بنتا ہے اور جو عمومی معنی دیتا ہے؛ لیکن صالح‌ المؤمنین سے جنس یا عموم کا معنی سمجھ میں نہیں آتا ہے۔[5]

آیہ صالح‌المومنین

صالح المومنین کو اس آیت سے اخذ کیا ہے: «إِن تَتُوبَا إِلَی اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُکمَا ۖ وَإِن تَظَاهَرَ‌ا عَلَیهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ وَجِبْرِ‌یلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِینَ ۖ وَالْمَلَائِکۃُ بَعْدَ ذَٰلِک ظَهِیرٌ‌ (ترجمہ: اگر تم دونوں (اللہ کی بارگاہ میں) توبہ کر لو (تو بہتر ہے) کیونکہ تم دونوں کے دل ٹیڑھے ہو چکے ہیں اور اگر تم ان (پیغمبر(ص)) کے خلاف ایکا کرو گی (تو تم پیغمبر کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکو گی) کیونکہ یقیناً اللہ ان کا حامی ہے اور جبرائیل(ع) اور نیکوکار مؤمنین اور اس کے بعد سب فرشتے ان کے پشت پناہ (اور مددگار) ہیں)۔»[6] اسی لئے یہ آیت، صالح المومنین کے نام معروف ہوگئی۔[7]

آیت کا شأن نزول

آیہ صالح المومنین کے شان نزول کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ آیت پیغمبر اکرمؐ کی بعض ازواج کی طرف سے آپؐ کو آزار و اذیت پہنچانے کے بارے میں میں نازل ہوئی ہے۔[8]ان روایات کے مطابق، رسول اللہؐ ازواج میں سے ایک کے پاس گئے، کچھ شہد تناول فرمایا اور وہاں کچھ دیر تک رہے۔ عائشہ نے بعض دیگر ازواج کے ساتھ مل کر یہ فیصلہ کیا کہ اس شہد کی بدبو کو بہانہ کر کے آپ سے دور رہیں۔ اس رفتار کے بعد رسول اللہؐ نے شہد کھانے کو اپنے اوپر حرام قرار دیا۔ بعض روایات کے مطابق آپؐ نے بھی ازواج سے دوری اختیار کیا اور ان کو طلاق دینے کا ارادہ کیا۔ کچھ عرصہ بعد سورہ تحریم کی آیتیں نازل ہوئیں اور رسول اللہؐ کو حلال چیزیں اپنے اوپر حرام کرنے سے منع کیا۔[9]

اس آیت میں ازواج پیغمبر اکرمؐ سے بھی کہا گیا کہ آپؐ کو اذیت دینے پر توبہ کریں اور ان کو تنبیہ کی گئی کہ اگر مزید آپؐ کو تکلیف پہنچائیں گی تو جان لیں کہ اللہ تعالی رسو اللہ کے ولی اور سرپرست ہیں اور ہر کسی تہدید اور خطرے میں آپ کی حمایت کرے گا اور اللہ جبرئیل اور نیک مومنین اور دوسرے فرشتے رسول خدا کے حامی ہونگے۔[10]

صالح‌المؤمنین کون؟

صالح‌ المؤمنین کے مصداق کے بارے میں مفسروں کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ مذکورہ مصادیق میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں:

  • امام علیؑ: علامہ طباطبائی نے صرف امام علیؑ ہی کو صالح المومنین کا مصداق قرار دیا ہے۔ اور اس بات کو شیعہ مآخذ[11] و اہل‌سنت[12] میں مذکور بعض روایات قرار دیا ہے جن میں صرف امام علیؑ ہی کو اس کا مصداق قرار دیا ہے۔[13]اس کی علت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ صالح المومنین، بہترین مومنوں[14] میں سے ہو اور معصوم بھی ہو؛ کیونکہ جبرئیل اور دوسرے فرشتوں کے ساتھ ذکر ہوا ہے۔[15]
  • تمام متقی مسلمان: بعض اہل سنت اور شیعہ مفسروں کا کہنا ہے کہ صالح المومنین، تمام متقی، نیک، اور ایمانِ کامل والے مومنین کو شامل کرتا ہے۔[16] شیعہ مفسر آیت‌ اللہ مکارم شیرازی امام علیؑ کو سب سے کامل مصداق قرار دیتے ہیں۔[17] اہلس سنت کے مفسر آلوسی کے مطابق، امام علیؑ، ابوبکر اور عمر صالح المومنین کے مصادیق میں سے ہیں؛ لیکن انہی افراد میں منحصر بھی نہیں ہے۔[18]
  • ابوبکر اور عمر: اہل سنت کے مفسر آلوسی (متوفی ۱۲۷۰ھ) نے ابن عساکر سے منسوب کرکے کہا ہے کہ ابوبکر اور عمر صالح المومنین کے مصادیق ہیں؛[19] کیونکہ انکی بیٹیاں عایشہ اور حفصہ ازواج نبی میں سے تھیں، جن کو پیغمبر کو تکلیف پہنچانے سے منع کرتے تھے۔[20]اسی طرح اہل سنت مآخذ میں مذکور بعض روایات کے مطابق ابوبکر اور عمر یا صرف عمر، صالح المومنین کے مصداق میں ذکر ہوئے ہیں۔[21] البتہ بعض نے ان روایات کو سند کے اعتبار سے ضعیف اور غیر معتبر قرار دیا ہے۔[22]

حوالہ جات

  1. قرشی، قاموس قرآن، ۱۴۱۲ق، ج۴، ص۱۴۲.
  2. طبرسی، مجمع‌البیان، ۱۳۷۲ش، ج۱۰، ص۴۷۱؛ آلوسی، روح‌المعانی، ۱۴۱۵ق، ج۱۴، ص۳۴۸؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۲۴، ص۲۸۰.
  3. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۲۴، ص۲۸۰.
  4. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۹، ص۳۳۲.
  5. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۹، ص۳۳۲.
  6. سورہ تحریم، آيہ۴.
  7. علامہ حلی، نہج‌الحق، ۱۴۰۷ق، ص۱۹۱.
  8. ملاحظہ کریں: واحدی، اسباب نزول القرآن، ۱۴۱۱ق، ص۴۵۹-۴۶۱.
  9. واحدی، اسباب نزول القرآن، ۱۴۱۱ق، ص۴۵۹-۴۶۱.
  10. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۹، ص۳۳۱.
  11. صدوق، الامالی، ۱۳۷۶ش، ص۳۱؛ حویزی، تفسیر نورالثقلین، ۱۴۱۵ق، ج۵، ص۳۷۰.
  12. حسکانی، شواہدالتنزیل، ۱۴۱۱ق، ج۲، ۳۴۱-۳۵۲؛ ابوحیان اندلسی، البحر المحیط، ۱۴۲۰ق، ج۵، ص۳۳۲؛ سیوطی، الدر المنثور، ۱۴۰۴ق، ج۶، ص۲۴۴.
  13. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۹، ص۳۳۲.
  14. شوشتری، احقاق الحق، ۱۴۰۹ق، ج۳، ص۳۱۴-۳۲۰.
  15. سید بن طاووس، سعد السعود، قم، ص۱۸۱؛ صادقی تہرانی، الفرقان، ۱۴۰۶ق، ج۲۸، ص۴۳۸.
  16. طبری، جامع‌البیان، ۱۴۱۲ق، ج۲۸، ص۱۰۵؛ آلوسی، روح‌المعانی، ۱۴۱۵ق، ج۱۴، ص۳۴۹؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۲۴، ص۲۸۰.
  17. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۲۴، ص۲۸۰.
  18. آلوسی، روح‌المعانی، ۱۴۱۵ق، ج۱۴، ص۳۴۹.
  19. آلوسی، روح‌المعانی، ۱۴۱۵ق، ج۱۴، ص۳۴۸-۳۴۹.
  20. شوشتری، احقاق‌الحق، ۱۴۰۹ق، ج۳، ص۳۱۴.
  21. آلوسی، روح‌المعانی، ۱۴۱۵ق، ج۱۴، ص۳۴۹.
  22. خداپرست، «بررسی تطبیقی دیدگاہ مفسران فریقین دربارہ مصداق صالح‌المؤمنین»، ص۹۲-۹۶.

مآخذ

  • ابوحیان اندلسی، محمد بن یوسف، البحر المحیط فی التفسیر، تحقیق صدقی محمد جمیل، بیروت،‌ دارالفکر، ۱۴۲۰ھ۔
  • آلوسی، محمود بن عبداللہ، روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم و السبع المثانی، بیروت،‌ دار الکتب العلمیۃ، ۱۴۱۵ھ۔
  • حسکانی، عبیداللہ بن احمد، شواہد التنزیل لقواعد التفضیل، تحقیق محمدباقر محمودی، تہران، وزارت ارشاد، ۱۴۱۱ھ۔
  • سید بن طاووس، سیدعلی، سعد السعود للنفوس منضود، قم، محمدکاظم الکتبی.
  • حویزی، عبدالعلی، تفسیر نور الثقلین، تحقیق ہاشم رسولی محلاتی، قم، اسماعیلیان، ۱۴۱۵ھ۔
  • خداپرست، اعظم و دژآباد، حامد، «بررسی تطبیقی دیدگاہ مفسران فریقین دربارہ مصداق صالح‌المؤمنین» در مجلہ مطالعات تفسیری، شمارہ ۲۲، ۱۳۹۴شمسی ہجری۔
  • سیوطی، جلالالدین، الدر المنثور، قم، کتابخانہ مرعشی نجفی، ۱۴۰۴ھ۔
  • شوشتری، قاضی نوراللہ، احقاق الحق و ازہاق الباطل، قم، کتابخانہ مرعشی نجفی، ۱۴۰۹ھ۔
  • صادقی تہرانی، محمد، الفرقان فی تفسیر القرآن، قم، فرہنگ اسلامی، ۱۴۰۶ھ۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار احیا التراث العربی، ۱۳۹۰ھ۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع‌البیان، تہران، ناصرخسرو، ۱۳۷۲شمسی ہجری۔
  • طبری، محمد بن جریر، جامع البیان فی تفسیر القرآن، بیروت،‌ دارالمعرفۃ، ۱۴۱۲ھ۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، نہج الحق و کشف الصدق، بہ‌کوشش عین‌اللہ الحسنی ارموی، قم،‌ دارالہجرۃ، ۱۴۰۷ھ۔
  • قرشی، علی‌اکبر، قاموس قرآن، تہران،‌ دار الکتب الاسلامیۃ، ۱۴۱۲ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران،‌ دار الکتب العلمیۃ، ۱۳۷۱شمسی ہجری۔
  • واحدی، علی بن احمد، اسباب نزول القرآن، تحقیق کمال بسیونی زغلول، بیروت،‌ دار الکتب العلمیۃ، ۱۴۱۱ھ۔

بیرونی روابط