"صارف:Hakimi/تمرین" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
(آثار مرتبط)
(تحدی قرآن)
(ایک ہی صارف کا 3 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
{{خانہ معلومات روایت
+
{{دربارہ 2|خود تحدی|تحدی قرآن کے لئے |آیات تحدی| }}
| عنوان        = حدیث طیر مشوی
+
'''تَحَدّی''' علم [[کلام اسلامی|کلام]] اور علوم قرآن کی ایک اصطلاح ہے جس کا معنی پیغمبر اکرمؐ کی طرف سے ان کی [[نبوت|نبوت]] کے منکروں کو آپؐ کے معجزات جیسا کوئی معجزہ پیش کرنے کی دعوت دینا ہے۔ تحدی پیغمبر اکرمؐ کی نبوت کو معجزے کے ذریعے ثابت کرنا ہے۔ قرآن مجید کی 6 آیتوں میں تحدی ہوئی ہے جو آیات تحدی سے مشہور ہیں۔ آیات تحدی میں نبوت کے منکروں سے کہا گیا ہے کہ قرآن جیسا یا کم از کم اس کی ایک سورت جیسی کوئی سورت لے آئے۔
| تصویر        =
 
| تصویر سائز  = 
 
| تصویر کی چوڑائی= 
 
| توضیح تصویر  =
 
| دوسرے نام    =
 
| موضوع        = اثبات اولویت [[حضرت علی (ع)]]
 
| صادر از      = [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ|پیامبر اسلام(ص)]]
 
| اصلی راوی    = [[انس بن مالک]]
 
| راویان      =
 
| اعتبارِ سند  = [[حدیث متواتر]]
 
| شیعہ مآخذ    = الإفصاح شیخ مفید، الفصول المختارہ سید مرتضی
 
| سنی مآخذ    = مسند ابی یعلی، التاریخ الکبیر بخاری، البدایہ و النہایہ ابن کثیر
 
|قرآنی تائیدات =
 
}}
 
  
'''حدیث طَیر مَشوِی'''(حدیث مرغ بریان)، امام علیؑ کی فضیلت میں ایک حدیث ہے کہ جس کے مطابق رسول اکرمؐ پرندے کا بریان شدہ گوشت کھانا چاہتے تھے اور اللہ تعالی سے درخواست کیا کہ ان کی سب سے زیادہ محبوب مخلوق کے ساتھ کھانا کھائے۔ ابھی کچھ دیر نہیں ہوئی تھی کہ امام علیؑ تشریف لائے اور آپ کے ساتھ ہم نوالہ ہوئے۔ یہ روایت شیعہ اور اہل سنت مآخذ میں نقل ہوئی ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ 90 راویوں نے اس حدیث کو [[انس بن مالک|اَنَس بن مالک]] سے روایت کی ہے۔
+
قرآن کی تحدی کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ قرآن ادبی اور مضمون دونوں کے اعتبار سے تحدی کرتا ہے؛ جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ قرآن صرف ادبی لحاظ سے منکروں کو اس جیسا متن لانے کا کہہ رہا ہے۔
  
بعض شیعہ متکلمین نے اس روایت سے استناد کرتے ہوئے امام علیؑ کو اللہ کے ہاں سب سے زیادہ محبوب قرار دیتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ آپ پیغمبر اکرمؐ کی جانشینی کے لیے سب سے زیادہ لائق تھے۔
+
==مفہوم‌شناسی==
 +
تَحَدّی‌ لغت میں رقیب کی کمزوری کو آشکار کرنے کے لیے مقابلے کی دعوت دینا ہے۔<ref>جمعی از نویسندگان، شرح المصطلحات الکلامیه، ۱۴۱۵ق، ص۶۴.</ref> تحدی، علوم قرآن<ref>جواهری، «واکاوی ملاک تحدی در قرآن و نقد منطق تنزّلی»، ص۱۱۲.</ref> اور [[کلام اسلامی]]<ref>جمعی از نویسندگان، شرح المصطلحات الکلامیه، ۱۴۱۵ق، ص۶۴.</ref> کی ایک اصطلاح ہے جس کا معنی انبیاء کا نبوت کے منکروں سے اپنے معجزات جیسے معجزے لانے کی دعوت دینا ہے۔<ref>مؤدب، اعجاز قرآن در نظر اهل بیت، ۱۳۷۹ش، ص۱۷.</ref>
  
==متن حدیث==
+
==تحدی، معجزے کی شرط==
{{گفتگو
+
آٹھویں صدی ہجری کے اہل سنت متکلم عضدالدین ایجی کا کہنا ہے کہ بعض متکلمین نے تحدی کو معجزہ کی شرائط میں سے قرار دیا ہے اور انبیاء کے معجزوں کا اولیاء کے کرامت سے فرق یہی بیان کیا ہے کہ معجزہ، تحدی کے ساتھ ہوتا ہے لیکن غیر معجزہ، تحدی کے بغیر ہوتا ہے۔<ref> ایجی، شرح المواقف، ۱۳۵ق، ج۸، ص۲۲۴.</ref>
|عرض=۹۰
 
|شکل بندی عنوان=line-height:200%; font-size:125%; font-weight: normal;
 
|شکل بندی ستون راست=text-align:center; line-height:170%
 
|شکل بندی آدرس=font-size:75%;
 
|تورفتگی=۰
 
|تراز=وسط
 
|عنوان={{عربی|اندازہ=90%|إنَّ النَّبِی(ص) کانَ عِندَہُ طائِرٌ، فَقالَ: اللَّہُمَ ائتِنی بِأَحَبِّ خَلقِک إلَیک؛ یأکلُ مَعی مِن ہذَا الطَّیرِ. فَجاءَ أبو بَکرٍ، فَرَدَّہُ، ثُمَّ جاءَ عُمَرُ، فَرَدَّہُ، ثُمَّ جاءَ عَلِی، فَأَذِنَ لَہُ.}}
 
|پیغمبر اکرمؐ کی خدمت میں ایک پرندے کا گوشت لایا گیا۔ آپؐ نے فرمایا: یا اللہ اپنی مخلوقات میں سب سے عزیز مخلوق میرے پاس بھیج دو تاکہ اس پرندے کا گوشت کھانے میں میرا ساتھ دے۔ اس کے بعد ابوبکر آیا لیکن یپغمبر اکرمؐ نے انہیں قبول نہیں کیا۔ اس کے بعد عمر ابن خطاب آیا ان کو بھی قبول نہیں کیا۔ اس کے بعد علیؑ تشریف لائے اور آپ کو اجازت دی۔<ref>نسائی، خصائص امیرالمؤمنین، ۱۴۰۶ق، ج۱، ص۲۹، ح۱۰؛ تمیمی موصلی، مسند ابی‌یعلی، ۱۴۰۴ق، ج۷، ص۱۰۵.</ref>}}
 
  
== مضمون==
+
==تحدی قرآن==
حدیث طیر مشوی کے مطابق، پیغمبر اکرمؐ کے بعد اللہ تعالی کے نزدیک سب سے محبوب مخلوق امام علیؐ ہیں۔<ref>مفید، الافصاح، ۱۴۱۲ق، ص۳۳؛ گنجی شافعی، کفایۃ‌الطالب، ۱۴۰۴ق، ص۱۵۱.</ref>اس روایت میں ذکر ہوا ہے کہ آنحضرتؐ کو کسی پرندے کا بریان شدہ گوشت تناول کرنے کی خواہش ہوئی اور اللہ تعالی سے درخواست کی کہ مخلوقات میں سے اللہ کے نزدیک محبوب ترین مخلوق آپ کے ساتھ کھانے میں شامل ہوجائے اور امام علیؑ آئے اور آپ کے ساتھ کھانے میں شریک ہوئے۔<ref>تمیمی موصلی، مسند ابی‌یعلی، ۱۴۰۴ق، ج۷، ص۱۰۵.</ref> امام علیؑ سے پہلے [[ابوبکر]] اور [[عمر بن خطاب|عمر]] بھی آپؐ کے پاس پہنچے لیکن آپؐ نے ان دونوں کو واپس کردیا۔<ref>تمیمی موصلی، مسند ابی‌یعلی، ۱۴۰۴ق، ج۷، ص۱۰۵.</ref>بعض نقل کے مطابق آنحضرت کی دعا کے بعد [[عایشہ]] اور [[حفصہ]] نے دعا کی کہ ان کے والد اس غذا میں پیغمبر اکرمؐ کے ساتھ شریک ہوں۔<ref>ابن کثیر، البدایہ و النہایہ، ۱۴۰۷ق، ج۷، ص۳۵۰.</ref>اسی طرح [[انس بن مالک]] سے منقول ہے: میری خواہش تھی کہ وہ شخص [[سعد بن عبادہ]] ہوتا؛ اسی لئے جب حضرت علیؑ پیغمبر اکرم کے دروازے پر پہنچے تو میں نے انہیں واپس کردیا لیکن ابھی کچھ دیر نہیں گزری تھی کہ علیؑ دوبارہ سے لوٹ آئے اور پیغمبر اکرمؐ کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے لگے۔<ref>ابن‌کثیر، البدایہ و النہایہ، ۱۴۰۷ق، ج۷، ص۳۵۰.</ref>
+
{{اصلی|آیات تحدی}}
 +
قرآن مجید کی چھ آیات میں قرآن کا معجزہ ہونے اور پیغمبر اکرمؐ کی نبوت کا سچا ہونے کو اثبات کرنے کے لیے تحدی ہوئی ہے۔اور ان آیات کو آیات تحدی نام دیا گیا ہے۔<ref>خرم شاہی، دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۱، ص۴۸۱.</ref> آیات تحدی میں سے تین میں ان لوگوں کو قرآن جیسی کتاب لانے کا کہا گیا ہے جو قرآن کو اللہ تعالی کی جانب سے آنے کو انکار کرتے تھے،<ref>سوره طور، آیه ۳۴؛ سوره قصص، آیه۴۹؛‌ سوره اسرا، آیه۸۸.</ref> ایک آیت میں منکروں سے کہا گیا ہے کہ قرآن کی دس سورتوں کی مانند کوئی لے آئیں<ref>سوره هود، آیه۱۳.</ref>اور دیگر دو آیات میں قرآن کی ایک سورت جیسی سورہ لے آنے کی تحدی ہوئی ہے۔<ref>سوره بقره، آیه۲۳؛‌ سوره یونس، آیه۳۸.</ref>
  
==حدیث کا اعتبار==
+
==دیدگاه‌ها درباره تحدی قرآن==
شیعہ علما نے حدیث طیر کو [[حدیث متواتر|متواتر]] جانا ہے۔ {{حوالہ درکار}}اہل سنت کے بعض محدثین نے بھی اس کو صحیح قرار دیتے ہوئے معتبر جانا ہے۔<ref>حسنی مغربی، فتح الملک العلی، ۱۴۰۳ق، ص۲۰.</ref>
+
عالمان مسلمان درخصوص چگونگی تحدی قرآن دیدگاه‌های مختلفی دارند. برخی بر این باورند که تحدی قرآن تنها جنبه ادبی دارد؛ یعنی مخالفان آن به آوردن متنی در سطح بلاغت و فصاحت قرآن دعوت شده‌اند؛<ref>معرفت، التمهید، ۱۳۸۸ش، ج۶، ص۳۰-۳۱.</ref> اما به‌باور کسانی چون [[علامه طباطبایی]] تحدی قرآن هر چیزی را که قرآن دربردارد، شامل می‌شود؛ مانند فصاحت، بلاغت، اخبار غیبی و براهین.<ref>نگاه کنید به طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۰، ص۱۶۲.</ref>
  
حدیث طیر کو بعض [[صحابہ]] نے بھی مشابہ مضمون کے ساتھ نقل کیا ہے؛ مثلا [[سفینہ خادم رسول خداؐ]]،<ref>طبرانی، المعجم الکبیر، ۱۴۰۴ق، ج۷، ص۸۲، ح۶۴۳۷.</ref> سدی کبیر نے اَنَس بن مالک سے،<ref>تمیمی موصلی، مسند ابی‌یعلی، ۱۴۰۴ق، ج۷، ص۱۰۵؛ نسائی، خصائص امیرالمؤمنین، ۱۴۰۶ق، ج۱، ص۲۹، ح۱۰.</ref> یحیی بن کثیر نے انس بن مالک سے،<ref>طبرانی، المعجم الأوسط، ۱۴۱۵ق، ج۲، ص۲۰۷.</ref> عثمان بن طویل نے انس بن مالک سے،<ref>بخاری، التاریخ الکبیر، دار الفکر، ج۶، ص۲۵۸.</ref> عبداللہ بن انس بن مالک نے اپنے باپ سے،<ref>ابن‌كثير، البدایۃ والنہایۃ، ۱۴۱۰ق، ج۷، ص۳۵۱؛ ابن‌حجر عسقلانی، المطالب العاليۃ، ۱۴۱۹ق، ج۱۶، ص۱۰۸.</ref> اور [[علی بن عبداللہ بن عباس]] نے اپنے باپ سے<ref>ذہبی، میزان الإعتدال، ۱۹۹۵م، ج۳، ص۲۳۲.</ref> نقل کیا ہے۔
+
[[محمدهادی معرفت]] هم با رد دیدگاه نخست نوشته است: اگر تحدی مختص به الفاظ قرآن بود، خداوند آن را به عرب منحصر می‌کرد و به‌صورت مطلق نمی‌آورد.<ref>معرفت، التمهید، ۱۳۸۸ش، ج۶، ص۳۴.</ref>
  
اہل سنت کے عالم دین ابن کثیر دمشقی کا کہنا ہے کہ اس حدیث کو 90 روایوں نے انس بن مالک سے روایت کیا ہے۔<ref>ابن‌کثیر، البدایۃ والنہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج۷، ص۳۵۳.</ref>اس کے باوجود ان کا کہنا ہے کہ: میرا دل اس حدیث کو نہیں مانتا ہے، اگرچہ بہت سارے راویوں نے نقل کیا ہے۔<ref>ابن‌کثیر، البدایۃ والنہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج۷، ص۳۵۳.</ref> [[علامہ امینی]] نے ابن کثیر کے جواب میں کہا ہے کہ ابن کثیر کے دل پر اللہ تعالی نے مہر لگایا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ: مذکورہ دلائل کے باوجود حدیث طیر کو نہ ماننا کوئی معقول نہیں ہے۔<ref>امینی، الغدیر، ۱۳۸۸ش، ج۳، ص۳۰۸-۳۰۹.</ref>
+
=== نظریه صرفه===
 +
برخی از [[متکلمان]] معنای دیگری برای تحدی قرآن مطرح کرده‌اند. در نظر آنان تحدی قرآن به این معنا است که اگر فردی قصد معارضه با قرآن کرد، خدا اراده او را سست می‌کند و به او اجازۀ این کار را نمی‌دهد.<ref> سید مرتضی، رسائل الشریف المرتضی، ۱۴۰۵ق، ص۳۲۳-۳۲۷؛ شیخ مفید، اوائل المقالات، ۱۴۱۳ق، ص۶۳.</ref> به این نظریه «[[صرفه|صَرفه]]» می‌گویند.<ref>نگاه کنید به سید مرتضی، رسائل الشریف المرتضی، ۱۴۰۵ق، ص۳۲۳-۳۲۷.</ref>
  
[[ابن شہر آشوب]] کے نقل کے مطابق، دوسری صدی ہجری کے شاعر [[سید اسماعیل حمیری|سید اسماعیل حِمْیَری]] (متوفی 179ھ) نے حدیث طیر کے واقعے کو شعر کی صورت میں پیش کیا ہے جس کا آغاز یوں ہوتا ہے:
+
==مقابله با تحدی قرآن==
{{شعر2
+
به‌گزارش کتاب‌های [[تفسیر|تفسیری]] و منابع [[علوم قرآنی]]، کسانی تلاش کرده‌اند برای مقابله با تحدی [[قرآن]] مطالبی مانند آن مطرح کنند. از جمله این افراد [[مسیلمه کذاب|مُسَیلَمه کذّاب]]<ref>ابن‌کثیر، تفسیر القرآن العظیم، ۱۴۱۹ق، ج۱، ص۱۱۲.</ref> و نضر بن حارث بوده‌اند.<ref>ابن‌کثیر، تفسیر القرآ ن العظیم، ۱۴۱۹ق، ج۴، ص۴۱.</ref> ابن‌کثیر از مفسران قرن هشتم قمری نوشته است نضر بن حارث با نقل داستان‌های رستم و اسفندیار ادعای هماوردی با قرآن کرد.<ref>ابن‌کثیر، تفسیر القرآ ن العظیم، ۱۴۱۹ق، ج۴، ص۴۱.</ref>
| {{عربی|نُبِّئتُ اَنَّ اَبانا كان عن اَنَس}}
 
| {{عربی|يَروی حديثاً عجيباً مُعجِباً عَجَباً}}
 
| {{عربی|فی طائرٍ جاء مَشويّاً بِہ بَشَرٌ}}
 
| {{عربی|يوماً و كان رسولُ اللہ مُحتَجِباً}}<ref>ابن‌شہرآشوب، مناقب آل‌ابی‌طالب، ۱۳۷۹ق، ج۲، ص۲۸۳.</ref>
 
|ترجمہ=مجھے خبر ملی ہے کہ ہمارے والد نے انس سے ایک نہایت دلچسپ حدیث نقل کی ہے، ایک مرغ بریان کے بارے میں کہ ایک دن کسی نے رسول خدا کی خدمت میں لے آیا جبکہ آپؐ لوگوں کی نظروں سے دور اپنے گھر پر تھے۔}}
 
  
==کلامی نکات==
+
همچنین گفته‌اند عبدالله بن مُقَفَّع درصدد هماوردی با قرآن بود، اما پس از مدتی منصرف شد.<ref> باقلانی، اعجاز القرآن، ۱۴۲۱ق، ص۲۷.</ref> کشیشی [[مسیحیت|مسیحی]]  هم به‌تقلید از سوره‌های [[سوره حمد|حمد]] و [[سوره کوثر|کوثر]] دو سوره نوشت که [[آیت الله خویی]]<ref>خویی، البیان، ۱۴۳۰ق، ص۵۹-۱۰۲.</ref> و رشید رضا<ref>رشیدرضا، تفسیر المنار، ۱۹۹۰م، ج۱، ص۶۶ و ۱۸۸.</ref> از مفسران قرآن، آن را نقد کردند. به‌گفته رشید رضا، نویسنده این سوره به زبان عربی آگاهی نداشته است.<ref>رشیدرضا، تفسیر المنار، ۱۹۹۰م، ج۱، ص۱۸۸.</ref>
حدیث طیر مشوی کو [[فضایل امام علیؑ]] میں سے شمار کیا جاتا ہے<ref>سید مرتضی، الفصول المختارۃ، ۱۴۱۴ق، ص۹۶.</ref>شیعہ متکلمین نے اسی حدیث سے امام علیؑ کا دوسروں پر فوقیت اور اولویت رکھنے کو ثابت کرنے کے لیے استفادہ کیا ہے۔<ref>برای نمونہ نگاہ کنید بہ مفید، الافصاح، ۱۴۱۲ق، ص۳۳؛ سید مرتضی، الفصول المختارۃ، ۱۴۱۴ق، ص۹۶.</ref>  
 
  
اس حدیث میں امام علی کا بہترین مخلوق الہی ہونے والی بات پر تاکید کرتے ہوئے [[شیخ مفید]] نے امام علیؑ کو سب سے برتر جانا ہے؛ کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق اللہ تعالی کی محبت کا سرچشمہ حقیقت پر مبنی ہے خواہشات نفس کے مطابق نہیں، اسی لیے تو جب علیؑ سے سے زیادہ محبوب ہو اور اس کے نتیجے میں اللہ کی مخلوق میں سب سے برتر ہو تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ امام ہیں؛ کیونکہ نبوت اور خلافت عامہ میں مفضول کا فاضل پر مقدم کرنا جائز نہیں ہے۔<ref> مفید، الافصاح، ۱۴۱۲ق، ص۳۳.</ref> [[سید مرتضی|سیدِ مرتضی]] نے [[الفصول المختارہ]] میں شیخ مفید کی بات کو نقل کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ اللہ کے ہاں سب سے محبوب مخلوق کے لئے سب سے زیادہ ثواب ہوگا اور ایسا شخص کسی شک کے بغیر تمام مخلوقات سے عمل اور عبادت میں برتر ہوگا۔ سید مرتضی کے نظرئے کے مطابق یہی دلیل ہے کہ پیغمبر اکرمؐ کے علاوہ سارے لوگوں پر امام علیؑ کو برتری حاصل ہے۔<ref>سید مرتضی، الفصول المختارۃ، ۱۴۱۴ق، ص۹۶.</ref>
+
کتابی نیز با عنوان «الفُرقان الحق» در [[آمریکا]] منتشر شد که در آن با تقلید از قرآن و آمیختن قرآن با آموزه‌های [[یهود|یهودی]] و مسیحی سوره‌هایی تدوین شد.<ref>امین‌ناجی و دیگران، «تحلیل انتقادی «الفرقان الحق» در حوزه وحیانیت و جامعیت در معارضه با قرآن»، ص۱۴۷-۱۵۴.</ref> نقد‌های بر این کتاب نوشته شده است که کتاب الانتصار للقرآن، نوشته صالح الخالدی از آن جمله است.
 +
 
 +
== تک‌نگاری==
 +
کتاب الإعجاز و التحدی فی القرآن الکریم، مطالبی را که [[علامه طباطبایی]] در جاهای مختلف [[المیزان]] درباره اعجاز و تحدی قرآن بیان کرده، گرد آورده است. این کتاب را قاسم هاشمی تدوین کرده و مؤسسه الأعلمی للمطبوعات به‌چاپ رسانده است.
  
==مربوط کتابیں==
 
اہل سنت کے عالم ابن‌کثیر دمشقی کے مطابق حدیث طیر اور اس کے الفاظ کے بارے میں بہت ساری کتابیں لکھی گئی ہیں: ابوبکر بن مردویہ، محمد بن احمد بن حمدان اور محمد بن جریر طبری نے اس بارے میں کتابیں لکھی ہیں۔ اسی طرح اہل سنت کے متکلم، ابوبکر باقلانی نے اس کے رد میں ایک کتاب لکھی ہے۔<ref> ابن‌کثیر، البدایہ و النہایہ، ۱۴۰۷ق، ج۷، ص۳۵۳.</ref> اسی طرح [[میرحامد حسین]] نے [[عبقات الانوار فی امامۃ الائمۃ الاطہار (کتاب)|عَبَقات‌الانوار]] کی تیرہویں جلد (منہج دوم کے دفتر چہارم) کو اس حدیث سے مختص کیا ہے اور اس کے اسناد کو اہل سنت کے راویوں سے ان کے نام کے ساتھ ساتھ حدیث کے نقد کو بھی تفصیل سے ذکر کیا ہے۔<ref>ملاحظہ کریں: میرحامد حسین، عبقات الانوار، ۱۳۶۶ش، ج۱۳.</ref> اس کتاب کا یہ حصہ 736 صفحوں پر مشتمل دو جلدوں میں لکھنو سے چھپ گیا ہے۔<ref>[http://www.emamat.ir/component/k2/item/7601.html «عبقات الانوار فی امامۃ الائمۃ الاطہار علیہم‌السلام»]</ref>
 
  
 
==حوالہ جات==
 
==حوالہ جات==
سطر 62: سطر 38:
 
==مآخذ==
 
==مآخذ==
 
{{مآخذ}}
 
{{مآخذ}}
*ابن‌حجر عسقلانی، احمد بن علی، المطالب العالیۃ بزوائد المسانید الثمانیۃ، تحقیق سعد بن ناصر،‌ ریاض، ‌دار العاصمۃ و دار الغیث، ۱۴۱۹ق/۱۹۹۸م.
+
* امین‌ناجی، محمدهادی و دیگران، «[http://quran.journals.pnu.ac.ir/article_3846.html تحلیل انتقادی الفرقان الحق در حوزه وحیانیت و جامعیت در معارضه با قرآن]» در پژوهشنامه نفسیر و زبان قرآن، شماره۲، تابستان ۱۳۹۶ش.
*ابن‌شہرآشوب، محمد بن علی، مناقب آل‌ابی‌طالب، قم، علامہ، ۱۳۷۹ق.
+
* ایجی، عضد الدین، جرجانی، میرسید شریف، شرح المواقف، تصحیح بدرالدین نعسانی، الشریف الرضی، قم، ۱۳۵ق.
*ابن‌کثیر دمشقی، اسماعیل بن عمر، البدایۃ و النہایۃ، بیروت، دارالفکر، ۱۴۰۷ق/۱۹۸۶م.
+
*ابن کثیر دمشقی، اسماعیل بن عمر، تفسیر القرآن العظیم، تحقیق محمدحسین شمس الدین، بیروت، دار الکتب العلمیه منشورات محمدعلی بیضون، ۱۴۱۹ق.
*امینی، عبدالحسین، موسوعۃ الغدير في الكتاب والسنۃ والأدب، تحقیق مرکز الغدير للدراسات الإسلاميۃ، زیرنظر محمود ہاشمی شاہرودی، قم، مؤسسہ دایرۃالمعارف فقہ اسلامی، ۱۳۸۸ش/۱۴۳۰ق/۲۰۰۹م.
+
*باقلانی، محمد بن طیب، اعجاز القرآن، تصحیح صلاح محمد عویضه، دار الکتب العلمیه منشورات محمدعلی بیضون، بیروت، ۱۴۲۱ق/۲۰۰۱م.
*بخاری، محمد بن اسماعیل، التاریخ الکبیر، تحقیق سید ہاشم ندوی، دارالفکر، بی‌تا.
+
*جمعی از نویسندگان، شرح المصطلحات الکلامیه، به کوشش مجمع البحوث الاسلامیة، مشهد، آستانه رضویه، ۱۴۱۵ق.
*تمیمی موصلی، احمد بن علی، مسند ابی‌یعلی، تحقیق حسین سلیم اسد،‌ دمشق، دارالمأمون للتراث، ۱۴۰۴ق.
+
*جواهری، سیدمحمدحسن، «واکاوی ملاک تحدی در قرآن و نقد منطق تنزّلی»، پژوهش‌های قرآنی، ش۲، ۱۳۹۵ش.
*حسنی مغربی، احمد بن محمد، فتح الملک العلی بصحۃ حدیث باب مدینۃ العلم علی، تحقیق محمدہادی امینی، تہران، مکتبۃ الامام امیرالمؤمنین علی،‌ چاپ سوم، ۱۴۰۳ق.
+
*خرمشاهی، بهاءالدین، دانشنامه قرآن و قرآن‌پژوهی، تهران، نشر ناهید-دوستان، ۱۳۷۷ش.
*ذہبی، محمد بن احمد، میزان‌الاعتدال، تحقیق شیخ علی محمد معوض و شیخ عادل احمد عبدالموجود،‌ بیروت، دار الکتب العلمیۃ، ۱۹۹۵م.
+
*خویی، سید ابوالقاسم، البیان فی تفسیر القرآن، مؤسسه احیاء آثار الامام الخویی، قم، ۱۴۳۰ق.
*سید مرتضی، علی بن حسین، الفصول المختارۃ، تحقیق سید علی میرشریفی،‌ بیروت، دارالمفید، ۱۴۱۴ق.
+
*رشیدرضا، محمدرشید بن علی، تفسیر القرآن الکریم( تفسیر المنار)، الهیئة المصریة العامة للکتاب، ۱۹۹۰م.
*شیخ مفید، محمد بن محمد، الافصاح فی امامۃ امیرالمؤمنین، قم، مؤسسۃالبعثۃ، ۱۴۱۲ق.
+
*سید مرتضی، رسائل الشریف المرتضی، تحقیق سید مهدی رجائی، قم، دار القرآن الکریم، ۱۴۰۵ق.
*طبرانی، سلیمان بن احمد، المعجم الاوسط، تحقیق طارق بن عوض‌اللہ و عبدالمحسن بن ابراہیم الحسینی، القاہرۃ،  دارالحرمین، ۱۴۱۵ق.
+
*طبرسی، احمد بن علی، الاحتجاج علی اهل اللجاج، تصحیح محمدباقر خرسان، مشهد، نشر مرتضی، ۱۴۰۳ق.
*طبرانی، سلیمان بن احمد، المعجم الکبیر، تحقیق حمدی بن عبدالمجید السلفی، الموصل، مکتبۃالزہراء، ۱۴۰۴ق.
+
*طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی جامعه مدرسین حوزه علمیه قم، ۱۴۱۷ق.
* [http://www.emamat.ir/component/k2/item/7601.html «عبقات الانوار فی امامۃ الائمۃ الاطہار علیہم‌السلام»]، بنیاد فرہنگی امامت، تاریخ درج مطلب: ۶ دی ۱۳۹۴ش، تاریخ مشاہدہ ۱۱ آبان ۱۳۹۸ش.
+
*معرفت، محمدهادی، التمهید فی علوم القرآن، قم، مؤسسه اسلامی التمهید، ۱۳۸۸ش.
*گنجی الشافعی، محمد بن یوسف، کفایۃ الطالب فی مناقب علی بن ابی‌طالب، تصحیح محمدہادی امینی،‌ تہران، دار احیاء تراث اہل‌البیت(ع)، ۱۴۰۴ق.
+
*مفید، محمد بن محمد، اوائل المقالات فی المذاهب و المختارات‏، قم، المؤتمر العالمی للشیخ المفید، ۱۴۱۳ق.
*نسائی، احمد بن شعیب، خصائص امیرالمؤمنین علی بن ابی‌طالب، تحقیق احمد میرین البلوشی، کویت، مکتبۃالمعلا، ۱۴۰۶ق.
+
*مؤدب، سیدرضا، اعجاز قرآن در نظر اهل بیت عصمت و بیست نفر از علمای بزرگ اسلام، قم، احسن الحدیث، ۱۳۷۹ش.
* میرحامد حسین، عبقات الانوار فی اثبات امامۃ الائمۃ الاطہار، اصفہان، کتابخانہ امیرالمؤمنین، ۱۳۶۶ش.
 
 
{{خاتمہ}}
 
{{خاتمہ}}
 
 
==بیرونی روابط==
 
==بیرونی روابط==
* [https://www.valiasr-aj.com/persian/shownews.php?idnews=5051 «آیا روایت «طیر مشوی» با سند معتبر در منابع اہل‌سنت نقل شدہ است؟»]
+
*[http://www.cgie.org.ir/fa/publication/entryview/4275 دایرة المعارف بزرگ اسلامی]
{{فضائل امام علی}}
+
{{علوم قرآنی}}
{{پیغمبر اسلام}}
 

نسخہ بمطابق 12:51, 10 نومبر 2019

تَحَدّی علم کلام اور علوم قرآن کی ایک اصطلاح ہے جس کا معنی پیغمبر اکرمؐ کی طرف سے ان کی نبوت کے منکروں کو آپؐ کے معجزات جیسا کوئی معجزہ پیش کرنے کی دعوت دینا ہے۔ تحدی پیغمبر اکرمؐ کی نبوت کو معجزے کے ذریعے ثابت کرنا ہے۔ قرآن مجید کی 6 آیتوں میں تحدی ہوئی ہے جو آیات تحدی سے مشہور ہیں۔ آیات تحدی میں نبوت کے منکروں سے کہا گیا ہے کہ قرآن جیسا یا کم از کم اس کی ایک سورت جیسی کوئی سورت لے آئے۔

قرآن کی تحدی کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ قرآن ادبی اور مضمون دونوں کے اعتبار سے تحدی کرتا ہے؛ جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ قرآن صرف ادبی لحاظ سے منکروں کو اس جیسا متن لانے کا کہہ رہا ہے۔

مفہوم‌شناسی

تَحَدّی‌ لغت میں رقیب کی کمزوری کو آشکار کرنے کے لیے مقابلے کی دعوت دینا ہے۔[1] تحدی، علوم قرآن[2] اور کلام اسلامی[3] کی ایک اصطلاح ہے جس کا معنی انبیاء کا نبوت کے منکروں سے اپنے معجزات جیسے معجزے لانے کی دعوت دینا ہے۔[4]

تحدی، معجزے کی شرط

آٹھویں صدی ہجری کے اہل سنت متکلم عضدالدین ایجی کا کہنا ہے کہ بعض متکلمین نے تحدی کو معجزہ کی شرائط میں سے قرار دیا ہے اور انبیاء کے معجزوں کا اولیاء کے کرامت سے فرق یہی بیان کیا ہے کہ معجزہ، تحدی کے ساتھ ہوتا ہے لیکن غیر معجزہ، تحدی کے بغیر ہوتا ہے۔[5]

تحدی قرآن

تفصیلی مضمون: آیات تحدی

قرآن مجید کی چھ آیات میں قرآن کا معجزہ ہونے اور پیغمبر اکرمؐ کی نبوت کا سچا ہونے کو اثبات کرنے کے لیے تحدی ہوئی ہے۔اور ان آیات کو آیات تحدی نام دیا گیا ہے۔[6] آیات تحدی میں سے تین میں ان لوگوں کو قرآن جیسی کتاب لانے کا کہا گیا ہے جو قرآن کو اللہ تعالی کی جانب سے آنے کو انکار کرتے تھے،[7] ایک آیت میں منکروں سے کہا گیا ہے کہ قرآن کی دس سورتوں کی مانند کوئی لے آئیں[8]اور دیگر دو آیات میں قرآن کی ایک سورت جیسی سورہ لے آنے کی تحدی ہوئی ہے۔[9]

دیدگاه‌ها درباره تحدی قرآن

عالمان مسلمان درخصوص چگونگی تحدی قرآن دیدگاه‌های مختلفی دارند. برخی بر این باورند که تحدی قرآن تنها جنبه ادبی دارد؛ یعنی مخالفان آن به آوردن متنی در سطح بلاغت و فصاحت قرآن دعوت شده‌اند؛[10] اما به‌باور کسانی چون علامه طباطبایی تحدی قرآن هر چیزی را که قرآن دربردارد، شامل می‌شود؛ مانند فصاحت، بلاغت، اخبار غیبی و براهین.[11]

محمدهادی معرفت هم با رد دیدگاه نخست نوشته است: اگر تحدی مختص به الفاظ قرآن بود، خداوند آن را به عرب منحصر می‌کرد و به‌صورت مطلق نمی‌آورد.[12]

نظریه صرفه

برخی از متکلمان معنای دیگری برای تحدی قرآن مطرح کرده‌اند. در نظر آنان تحدی قرآن به این معنا است که اگر فردی قصد معارضه با قرآن کرد، خدا اراده او را سست می‌کند و به او اجازۀ این کار را نمی‌دهد.[13] به این نظریه «صَرفه» می‌گویند.[14]

مقابله با تحدی قرآن

به‌گزارش کتاب‌های تفسیری و منابع علوم قرآنی، کسانی تلاش کرده‌اند برای مقابله با تحدی قرآن مطالبی مانند آن مطرح کنند. از جمله این افراد مُسَیلَمه کذّاب[15] و نضر بن حارث بوده‌اند.[16] ابن‌کثیر از مفسران قرن هشتم قمری نوشته است نضر بن حارث با نقل داستان‌های رستم و اسفندیار ادعای هماوردی با قرآن کرد.[17]

همچنین گفته‌اند عبدالله بن مُقَفَّع درصدد هماوردی با قرآن بود، اما پس از مدتی منصرف شد.[18] کشیشی مسیحی هم به‌تقلید از سوره‌های حمد و کوثر دو سوره نوشت که آیت الله خویی[19] و رشید رضا[20] از مفسران قرآن، آن را نقد کردند. به‌گفته رشید رضا، نویسنده این سوره به زبان عربی آگاهی نداشته است.[21]

کتابی نیز با عنوان «الفُرقان الحق» در آمریکا منتشر شد که در آن با تقلید از قرآن و آمیختن قرآن با آموزه‌های یهودی و مسیحی سوره‌هایی تدوین شد.[22] نقد‌های بر این کتاب نوشته شده است که کتاب الانتصار للقرآن، نوشته صالح الخالدی از آن جمله است.

تک‌نگاری

کتاب الإعجاز و التحدی فی القرآن الکریم، مطالبی را که علامه طباطبایی در جاهای مختلف المیزان درباره اعجاز و تحدی قرآن بیان کرده، گرد آورده است. این کتاب را قاسم هاشمی تدوین کرده و مؤسسه الأعلمی للمطبوعات به‌چاپ رسانده است.


حوالہ جات

  1. جمعی از نویسندگان، شرح المصطلحات الکلامیه، ۱۴۱۵ق، ص۶۴.
  2. جواهری، «واکاوی ملاک تحدی در قرآن و نقد منطق تنزّلی»، ص۱۱۲.
  3. جمعی از نویسندگان، شرح المصطلحات الکلامیه، ۱۴۱۵ق، ص۶۴.
  4. مؤدب، اعجاز قرآن در نظر اهل بیت، ۱۳۷۹ش، ص۱۷.
  5. ایجی، شرح المواقف، ۱۳۵ق، ج۸، ص۲۲۴.
  6. خرم شاہی، دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۱، ص۴۸۱.
  7. سوره طور، آیه ۳۴؛ سوره قصص، آیه۴۹؛‌ سوره اسرا، آیه۸۸.
  8. سوره هود، آیه۱۳.
  9. سوره بقره، آیه۲۳؛‌ سوره یونس، آیه۳۸.
  10. معرفت، التمهید، ۱۳۸۸ش، ج۶، ص۳۰-۳۱.
  11. نگاه کنید به طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۰، ص۱۶۲.
  12. معرفت، التمهید، ۱۳۸۸ش، ج۶، ص۳۴.
  13. سید مرتضی، رسائل الشریف المرتضی، ۱۴۰۵ق، ص۳۲۳-۳۲۷؛ شیخ مفید، اوائل المقالات، ۱۴۱۳ق، ص۶۳.
  14. نگاه کنید به سید مرتضی، رسائل الشریف المرتضی، ۱۴۰۵ق، ص۳۲۳-۳۲۷.
  15. ابن‌کثیر، تفسیر القرآن العظیم، ۱۴۱۹ق، ج۱، ص۱۱۲.
  16. ابن‌کثیر، تفسیر القرآ ن العظیم، ۱۴۱۹ق، ج۴، ص۴۱.
  17. ابن‌کثیر، تفسیر القرآ ن العظیم، ۱۴۱۹ق، ج۴، ص۴۱.
  18. باقلانی، اعجاز القرآن، ۱۴۲۱ق، ص۲۷.
  19. خویی، البیان، ۱۴۳۰ق، ص۵۹-۱۰۲.
  20. رشیدرضا، تفسیر المنار، ۱۹۹۰م، ج۱، ص۶۶ و ۱۸۸.
  21. رشیدرضا، تفسیر المنار، ۱۹۹۰م، ج۱، ص۱۸۸.
  22. امین‌ناجی و دیگران، «تحلیل انتقادی «الفرقان الحق» در حوزه وحیانیت و جامعیت در معارضه با قرآن»، ص۱۴۷-۱۵۴.


مآخذ

  • امین‌ناجی، محمدهادی و دیگران، «تحلیل انتقادی الفرقان الحق در حوزه وحیانیت و جامعیت در معارضه با قرآن» در پژوهشنامه نفسیر و زبان قرآن، شماره۲، تابستان ۱۳۹۶ش.
  • ایجی، عضد الدین، جرجانی، میرسید شریف، شرح المواقف، تصحیح بدرالدین نعسانی، الشریف الرضی، قم، ۱۳۵ق.
  • ابن کثیر دمشقی، اسماعیل بن عمر، تفسیر القرآن العظیم، تحقیق محمدحسین شمس الدین، بیروت، دار الکتب العلمیه منشورات محمدعلی بیضون، ۱۴۱۹ق.
  • باقلانی، محمد بن طیب، اعجاز القرآن، تصحیح صلاح محمد عویضه، دار الکتب العلمیه منشورات محمدعلی بیضون، بیروت، ۱۴۲۱ق/۲۰۰۱م.
  • جمعی از نویسندگان، شرح المصطلحات الکلامیه، به کوشش مجمع البحوث الاسلامیة، مشهد، آستانه رضویه، ۱۴۱۵ق.
  • جواهری، سیدمحمدحسن، «واکاوی ملاک تحدی در قرآن و نقد منطق تنزّلی»، پژوهش‌های قرآنی، ش۲، ۱۳۹۵ش.
  • خرمشاهی، بهاءالدین، دانشنامه قرآن و قرآن‌پژوهی، تهران، نشر ناهید-دوستان، ۱۳۷۷ش.
  • خویی، سید ابوالقاسم، البیان فی تفسیر القرآن، مؤسسه احیاء آثار الامام الخویی، قم، ۱۴۳۰ق.
  • رشیدرضا، محمدرشید بن علی، تفسیر القرآن الکریم( تفسیر المنار)، الهیئة المصریة العامة للکتاب، ۱۹۹۰م.
  • سید مرتضی، رسائل الشریف المرتضی، تحقیق سید مهدی رجائی، قم، دار القرآن الکریم، ۱۴۰۵ق.
  • طبرسی، احمد بن علی، الاحتجاج علی اهل اللجاج، تصحیح محمدباقر خرسان، مشهد، نشر مرتضی، ۱۴۰۳ق.
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی جامعه مدرسین حوزه علمیه قم، ۱۴۱۷ق.
  • معرفت، محمدهادی، التمهید فی علوم القرآن، قم، مؤسسه اسلامی التمهید، ۱۳۸۸ش.
  • مفید، محمد بن محمد، اوائل المقالات فی المذاهب و المختارات‏، قم، المؤتمر العالمی للشیخ المفید، ۱۴۱۳ق.
  • مؤدب، سیدرضا، اعجاز قرآن در نظر اهل بیت عصمت و بیست نفر از علمای بزرگ اسلام، قم، احسن الحدیث، ۱۳۷۹ش.

بیرونی روابط

سانچہ:علوم قرآنی