شیعہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
شیعہ
السعید۲.jpg
اصول دین (عقائد)
بنیادی عقائد توحید  • عدل  • نبوت  • امامت  • معاد یا قیامت
دیگر عقائد عصمت  • ولایت  • مہدویت: غیبت  • انتظار • ظہور • رجعت  • بداء  • ......
فروع دین (عملی احکام)
عبادی احکام نماز • روزہ • خمس • زکات • حج • جہاد
غیرعبادی احکام امر بالمعروف اور نہی عن المنکر  • تولا  • تبرا
مآخذ اجتہاد قرآن کریم  • سنت (پیغمبر اور ائمہ کی حدیثیں)  • عقل  • اجماع
اخلاق
فضائل عفو • سخاوت • مواسات • ...
رذائل كبر  • عُجب  • غرور  • حسد  • ....
مآخذ نہج البلاغہ  • صحیفۂ سجادیہ  • .....
نمایاں عقائد
امامت  • مہدویت • رجعت • بدا • شفاعت  • توسل  • تقیہ  • عصمت  • مرجعیت، تقلید • ولایت فقیہ • متعہ  • عزاداری  • متعہ  • عدالت صحابہ
شخصیات
شیعہ ائمہ امام علیؑ  • امام حسنؑ  • امام حسینؑ  • امام سجادؑ  • امام باقرؑ  • امام صادقؑ  • امام کاظمؑ  • امام رضاؑ  • امام جوادؑ  • امام ہادیؑ  • امام عسکریؑ  • امام مہدیؑ  •
صحابہ سلمان فارسی  • مقداد بن اسود  • ابوذر غفاری  • عمار یاسر

خواتین:

خدیجہؑ • فاطمہؑ • زینبؑ • ام کلثوم بنت علی • اسماء بنت عمیس • ام ایمن  • ام سلمہ
شیعہ علما ادبا • علمائے اصول • شعرا • علمائے رجال • فقہا • فلاسفہ • مفسرین
مقامات
مسجد الحرام • مسجد النبیبقیع • مسجدالاقصی • حرم امام علیمسجد کوفہ  • حرم امام حسینؑ • حرم کاظمین • حرم عسکریینحرم امام رضاؑ
حرم حضرت زینب • حرم فاطمہ معصومہ
اسلامی عیدیں
عید فطر • عید الاضحی • عید غدیر خم • عید مبعث
شیعہ مناسبتیں
ایام فاطمیہ • محرّم ، تاسوعا، عاشورا اور اربعین
واقعات
واقعۂ مباہلہ • غدیر خم • سقیفۂ بنی ساعدہ • واقعۂ فدک • خانۂ زہرا کا واقعہ • جنگ جمل • جنگ صفین • جنگ نہروان • واقعۂ کربلا • اصحاب کساء  • افسانۂ ابن سبا
شیعہ کتب
الکافی • الاستبصار • تہذیب الاحکام • من لایحضرہ الفقیہ
شیعہ مکاتب
امامیہ • اسماعیلیہ • زیدیہ • کیسانیہ


شیعہ اہل سنت کے بعد دین اسلام کا دوسرا بڑا مذہب ہے۔ عدل اور امامت شیعہ مذہب کے ان دو بنیادی عقائد میں سے ہیں جو اسے دوسرے اسلامی فرقوں سے ممتاز کرتا ہے۔ شیعوں کے مطابق پیغمبر اکرمؐ نے خدا کے حکم سے حضرت علیؑ کو اپنا جانشین مقرر فرمایا۔

شیعوں کے تمام فرقے سوائے زیدیہ کے امام کو معصوم سمجھتے ہیں اور اس بات کے معتقد ہیں کہ مہدی موعود ان کے آخری امام ہیں جو اس وقت غیبت میں ہیں اور ایک دن دنیا میں عدل و انصاف قائم کرنے کے لئے قیام کریں گے۔

حسن و قبح عقلی، اَمرٌ بَینَ الاَمرَین، تمام صحابہ کی عدالت کا انکار، تقیہ، توسل اور شفاعت کلام اسلامی میں شیعوں کے بعض مخصوص اعتقادات ہیں۔ البتہ ان کے بعض فرقے ان میں سے بعض مسائل میں اختلاف نظر رکھتے ہیں۔

شیعہ مذہب میں بھی اہل سنت کی طرح شرعی احکام کے استنباط کے منابع قرآن، سنت، عقل اور اجماع ہیں۔ البتہ اہل‌ سنت کے بر خلاف پیغمبر اکرمؐ کی سنت کے ساتھ ساتھ ائمہ معصومین کے سنت کو بھی حجت سمجھتے ہیں۔

شیعوں کے اہم فرقے امامیہ، اسماعیلیہ اور زیدیہ ہیں۔ ان میں امامیہ یا اثناعشریہ شیعوں اکثریت پر مشتمل ہے۔ امامیہ بارہ اماموں کی امامت پر اعتقاد رکھتے ہیں جن میں سے آخری امام مہدی موعود ہیں جو اس وقت غیبت میں ہیں۔

اسماعیلیہ امامیہ کے بارہ اماموں میں سے چھٹے امام یعنی امام صادقؑ تکے کے امامت کے قائل ہیں اور ان کے بعد آپؑ کے بیٹے اسماعیل اور ان کے بیٹے محمد کی امامت کے قائل ہیں اور انہی کو مہدی موعود سمجھتے ہیں۔

زیدیہ امام کو کسی خاص عدد میں محدود نہیں سمجھتے اور اس بات کے معتقد ہیں کہ حضرت زہرا(س) کی اولاد میں سے جو شخص بھی عالم، زاہد، شجاع اور سخاوتمند ہو اور قیام کریں تو وہ امام ہوگا۔

آل‌ادریس، علویان طبرستان، آل بویہ، یمن کے زیدی، فاطمی، اسماعیلیہ، سبزوار کے سربداران، صفویہ اور جمہوری اسلامی ایران تاریخ میں شیعہ حکومتیں گزری ہیں۔

پیو ریسرچ سینٹر(Pew Research Center) کی 7 اکتوبر 2009ء کی رپورٹ کے مطابق دنیا کی مسلم آبادی کا 10 سے 13 فیصد شیعہ ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق شیعوں کی کل آبادی 154 میلین سے 200 میلین تک ہے۔ شیعوں کی اکثریت ایران، عراق، پاکستان اور ہندوستان میں آباد ہیں۔

مفہوم

"شیعہ" لغت میں پیروکار، مددگار اور گروہ کو کہا جاتا ہے۔ [1] اصطلاح میں ان لوگوں کو شیعہ کہا جاتا ہے جو اس بات کے معتقد ہیں کہ پیغمبر اسلامؐ سے منقول احادیث کی بنا پر امام علیؑ آپؐ کا بلافصل جانشین اور خلیفۃ المسلمین ہیں؛[2] اس کے مقابلے میں اہل‌‌سنت کہتے ہیں کہ پبغمبر اکرمؐ نے اپنا جانشین مقرر نہیں فرمایا اس بنا پر مسلمانوں نے بطور اجماع ابوبکر کی بیعت کر کے انہیں رسول کا جانشین اور مسلمانوں کا خلیفہ بنایا ہے۔[3]

بعض مورخین کے مطابق صدر اسلام سے لے کر کچھ صدیاں پہلے تک لفظ شیعہ صرف مذکورہ معنی میں استعمال نہیں ہوتا تھا؛ بلکہ اہل‌ بیت کے ماننے والوں اور عثمان پر حضرت علیؑ کو مقدم سمجھنے والوں کو بھی شیعہ کہا جاتا تھا۔[4]

شیعہ تاریخ کے آئینے میں

شیعہ کے عنوان سے ایک گروہ جو حضرت علیؑ کے پیروکار اور آپ کو پیغمبر اکرمؐ کا جانشین سمجھتا تھا، کی پیدائش کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں بعض کہتے ہیں کہ خود پیغمبر اکرمؐ کی حیات مبارکہ میں ایک گروہ شیعہ کے نام سے پہچانے جاتے تھے؛ بعض کہتے ہیں کہ شیعہ سقیفہ کے واقعے کے بعد وجود میں آیا ہے؛ جبکہ بعض کا خیال ہے کہ شیعہ تیسرے خلیفہ عثمان کے قتل کے بعد وجود میں آیا ہے؛ اسی طرح بعض مورخین کے مطابق شیعہ حَکَمیت کے واقعے کے بعد وجود میں آیا ہے۔[5]

شیعہ علماء کے درمیان مشہور نظریہ پہلا قول ہے۔[6] شیعہ علماء ان احادیث اور تاریخی‌ استناد سے تمسک کرتے ہیں جن میں پیغمبر اکرمؐ کے زمانے میں ہی شیعیان علی کو بشارتیں دی گئی ہیں اور بعض افراد شیعیان علی کے نام پہچانے جاتے تھے۔[7]

معاصر مورخ رسول جعفریان کے مطابق خود امام علیؑ کے دور میں بھی شیعہ کی اصطلاح رائج تھی۔[8] البتہ کہا جاتا ہے کہ یہ ایک مختصر گروہ تھا یہاں تک کہ امام حسنؑ اور امام حسینؑ کے دور امامت تک ان کی تعداد اتنی نہیں تھی جنہیں ایک فرقے کا نام دیا جا سکے۔[9] ان ادوار میں اکثر ائمہ معصومینؑ کے اصحاب ہی ان کے پیروکار سمجھتے جاتے تھے۔[10]

نظریہ امامت

تفصیلی مضمون: امامت

امامت کے بارے میں شیعوں کے نظریے کو تمام شیعہ فرقوں کا اشتراکی نقطہ سمجھا جاتا ہے۔[11] علم کلام میں نظریہ امامت شیعوں کا ایک اہم اور بنیادی نظریہ ہے۔[12] شیعوں کے مطابق پیغمبر اکرمؐ کے بعد دینی احکام کی تفسیر کا واحد اور عالی ترین مرجع امامت ہے۔[13] شیعہ احادیث میں امام کا مقام اس قدر بلند ہے کہ اگر کوئی شخص امام کی شناخت کے بغیر مر جائے تو وہ کفر کی موت مرے گا۔[14]

شیعہ اس بات کے معتقد ہیں کہ امامت اصول دین میں سے ایک اہم اصل اور ایک الہی منصب ہے؛ یعنی امام کے انتخاب کو انبیاء لوگوں پر نہیں چھوڑ سکتے بلکہ ان پر واجب ہے کہ وہ اپنا جانشین خود معین کریں۔[15] اسی بنا پر شیعہ متکلمین (سوائے زیدیہ کے)[16] اس بات پر تاکید کرتے ہیں کہ "نصب امام" (یعنی پیغمبر یا پہلے والے امام کے توسط سے امام کو معین کرنا) واجب ہے،[17] اور "نص" (وہ کام یا بات جو مطلوبہ ہدف پر صراحت کے ساتھ دلالت کرتی ہو)[18] کو امام کی شناخت کا واحد راستہ قرار دیتے ہیں۔[19]

ان کی دلیل یہ ہے کہ امام کا معصوم ہونا ضروری ہے اور مقام عصمت سے خدا کے علاوہ کوئی باخبر نہیں ہو سکتا؛[20] کیونکہ عصمت انسان کی ایک باطنی صفت ہے اور انسان کے ظاہر سے اس کی عصمت کا پتہ نہیں لگایا جا سکتا۔[21] پس ضروری ہے کہ خدا خود امام کو معین کرے اور پیغمبر اکرمؐ کے ذریعے اسے لوگوں تک پہنچائے۔[22]

شیعہ کتب کلام میں معاشرے میں امام کی ضرورت پر کئی عقلی اور نقلی دلائل دئے گئے ہیں۔[23] آیہ اولوالامر اور حدیث مَن مات من جملہ امام کی ضرورت پر پیش کئے جانے والی نقلی دلائل میں سے ہیں۔[24] اسی طرح قاعدہ لطف اس سلسلے کی عقلی دلائل میں سے ہے۔ اس دلیل کی توضیح میں لکھتے ہیں:‌ ایک طرف سے امام کا وجود لوگوں کو خد کی طاعت کی طرف مائل کرنے نیز انہیں گناہوں سے دور رکھنے کا سبب ہے؛ دوسری طرف سے قاعدہ لطف کا تقاضا ہے کہ ہر وہ کام جو لوگوں کو خدا کی اطاعت سے قریب کرے اور گناہوں سے دور رکھنے کا سبب بنتا ہے ہو اسے انجام دینا خدا پر واجب۔ پس امام کو نصب کرنا خداپر واجب ہے۔[25]

عصمت امام

تفصیلی مضمون: عصمت

شیعہ اماموں کی عصمت کے قائل ہیں اور اسے امام کے شرائط میں سے ایک قرار دیتے ہیں۔[26] شیعہ اس سلسلے میں مختلف عقلی اور نقلی دلائل[27] سے استناد کرتے ہیں من جملہ ان میں آیہ اولوالامر،[28] آیہ ابتلائے ابراہیم[29] اور حدیث ثَقَلین شامل ہیں۔[30]

شیعہ فرقوں میں سے زیدیہ تمام اماموں کی عصمت کے قائل ­نہیں ہیں۔ ان کے مطابق صرف اصحاب کِساء یعنی پیغمبر اکرمؐ، حضرت علیؑ، حضرت فاطمہ(س)، امام حسنؑ اور امام حسینؑ معصوم‌ ہیں[31] ان کے علاوہ باقی ائمہ عام لوگوں کی طرح غیر معصوم ہیں۔[32]

پیغمبر اکرمؐ کی جانشینی کا مسئلہ

شیعہ اس بات کے معتقد ہیں کہ پیغمبر اسلامؐ نے امام علیؑ کو اپنے جانشین مقرر فرمایا اور اسے لوگوں تک پہنچایا ہے نیز یہ کہ آپؐ نے امامت کے منصب کو حضرت علیؑ اور حضرت فاطمہ(س) کی اولاد میں منحصر فرمایا ہے۔[33] البتہ زیدیہ ابوبکر اور عمر کی امامت کو بھی قبول کرتے ہیں؛ لیکن اس کے باوجود زیدیہ بھی امام علیؑ کو ان دو خلفاء سے افضل مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس وقت کے مسلمانوں نے ابوبکر اور عمر کے انتخاب میں غلطی کی ہیں لیکن چونکہ خود امام علیؑ نے بھی اس سلسلے میں اپنی رضایت کا اظہار کیا ہے اس بنا پر ان دونوں کی امامت کو قبول کرتے ہیں۔[34]

شیعہ متکلمین پیغمبر اکرمؐ کے بعد امام علیؑ کی بلافصل جانشینی کو ثابت کرنے کے لئے مختلف آیات اور روایات سے تمسک کرتے ہیں من جملہ ان میں آیہ ولایت، حدیث غدیر اور حدیث منزلت قابل ذکر ہیں۔[35]

فرقے

تفصیلی مضمون: شیعہ فرقے

شیعہ مذہب کے اہم فرقوں میں امامیہ، زیدیہ، اسماعیلیہ، غالی، کیسانیہ اور کسی حد تک واقفیہ شامل ہیں۔[36] ان میں سے بعض فرقوں کے ذیلی شاخیں بھی ہیں؛ جیسے زیدیہ جس کے دس ذیلی شاخیں کا تذکرہ ملتا ہے؛[37] اسی طرح کیسانیہ کو بھی چار ذیلی شاخوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔[38] انہی ذیلی شاخوں کی بنا پر بہت سارے فرقوں کو شیعہ فرقوں کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔[39] البتہ مذکورہ بالا فرقوں میں سے بہت سارے فرقے منقرض ہو چکے ہیں اور اس وقت صرف امامیہ، زیدیہ اور اسماعیلیہ کے ماننے والے موجود ہیں۔[40]

کیسانیہ محمد حنفیہ کے ماننے والے تھے۔ یہ فرقہ امام علیؑ، امام حسنؑ اور امام حسینؑ کے بعد امام علیؑ کے بیٹے محمد حنفیہ کو امام مانتے تھے اور اس بات کے معتقد تھے کہ محمد حنفیہ وہی مہدی موعود ہیں اور کوہ رِضوا میں زندگی گزار رہے ہیں۔[41]

واقفیہ ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو امام کاظمؑ کی شہادت کے بعد آپؑ کی امامت پر متوقف ہوئے ہیں؛ یعنی آپ کو آخری امام سمجھتے ہیں۔[42]غالی اس گروہ کو کہا جاتا ہے جو خاص کر شیعہ ائمہ کے حق میں حد سے تجاوز کرتے ہیں؛ یعنی ائمہ کے بارے میں الوہیت کا دعوا کرتے ہیں، ائمہ کو مخلوق نہیں سمجھتے بلکہ ان کو خدا سے تشبیہ دیتے ہیں۔[43]

امامیہ یا اثنا عشری

اعتقادات

توحید،عدل،نبوت، امامت اور قیامت شیعہ کے بنیادی عقائد میں سے ہے۔ ان میں سے عدل اور امامت کے عقیدے کے توسط سے شیعہ دوسرے مکاتب فکر سے پہچانے جاتے ہیں۔

عدل

تفصیلی مضمون: عدل

شیعہ معتقد ہیں کہ انسانی عقل قران و حدیث سے مدد لئے بغیر بعض چیزوں میں اچھے اور برے کی تمیز دے سکتی ہے۔اس بنیاد پر وہ اچھے کام کے کرنے اور برے حکم کے انجام نہ دینے کا حکم لگاتی ہے۔ مثلا خدا کسی پر ظلم نہیں کرتا ہے یا خدا وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ہے۔[44]

امامت

تفصیلی مضمون: امامت

زیدیہ مکتب کے علاوہ دیگر تمام شیعہ مکاتب فکر ہر زمانے میں امام کے ضروری ہونے کے قائل ہیں اور معتقد ہیں کہ کوئی زمانہ امام کے وجود سے خالی نہیں ہو گا۔ لیکن امام کی شرائط وغیرہ میں اختلاف نظر رکھتے ہیں۔جبکہ امامیہ نصوص کی بنا پر امام کی امامت اور عصمت کو اسکی خصوصیات میں سے جانتے ہیں۔[45]

فقہ

شیعہ اپنے فقہی احکام کے استنباط کیلئے قرآن و رسول اکرم اور آئمہ طاہرین کی احادیث کے ساتھ عقل اور اجماع سے مدد لیتے ہیں۔ اہل سنت حضرات کی طرح شرعی احکام اخذ کرنے میں قیاس،سد ذرائع،استحسان،فتاوائے صحابہ اور مصالحہ مرسلہ کے استعمال کو جائز نہیں سمجھتے ہیں [46]۔البتہ کہا گیا ہے کہ زیدی حضرات فقہی احکام میں حنفیوں کی مانند قیاس سے استفادہ کرتے ہیں اور عقد متعہ کو جائز نہیں سمجھتے ہیں۔[47]

حکومتیں

طول تاریخ میں شیعہ حضرات اپنی حکومتیں قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ آل بویہ،صفویہ،قاچار،ادریسیان،قرامطہ علویان ان حکومتوں میں سے ہیں۔آل بویہ امامیہ مذہب کی حکومت ۳۲۲ تا ۴۴۸ق قائم رہی ہے اور اس دوران وہ ایران،عراق اور جزیرہ پر حاکم رہے۔ ان کے دور حکومت میں بعض شعار اور رسم و رواج نے رونق حاصل کی۔[48]۔اسی طرح جمہوری اسلامی کی حکومت امام خمینی کی قیادت میں شیعہ حکومت کے عنوان سے قائم ہوئی۔

صفویہ حکومت ایران پر ۹۰۷ تا ۱۱۳۵ ق قائم رہی اور صفویوں کے دور میں حکومتی مذہب شیعہ ہونے کا اعلان کیا گیا۔[49]

ادریسیوں کی حکومت مراکش اور علویوں کی حکومت شمال ایران میں زیدیوں کی حکومت تھی اور فاطمیوں اور قرامطیوں نے مصر اور بحرین اپنی حکومت قائم کی۔

موجودہ شیعہ حالات

آبادی

۲۰۰۹ میلادی میں PEW کے ادارے کی جانب سے نشر ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق مسلمانوں میں شیعہ آبادی کا تناسب ۱۰ سے لے کر ۱۳ فیصد کے درمیان ہے۔[50] نیز انکی تعداد کا اندازہ ۱۵۴ تا ۲۰۰ میلیون نفر لگایا گیا ہے۔جبکہ مترجم کے نزدیک یہ تعداد واقعی بیان نہیں ہوئی ہے اور وہ شیعہ تعداد کو تین سو ملین سے زیادہ سمجھتا ہے۔[51]

شیعہ نشین علاقے

ایران، عراق، پاکستان اور ہندوستان میں زیادہ تر شیعہ آباد ہیں۔ ایران میں 66 تا 70 میلین شیعہ زندگی بسر کرتے ہیں کہ جو شیعہ کل آبادی کا 37 تا 40 فیصد بنتا ہے۔ دیگر مذکورہ ممالک میں سے ہر ملک میں 16 میلین کے قریب شیعہ آبادی ہے۔[52]اسی طرح شیعہ آبادی کا ایک حصہ ترکی، یمن، آذربایجان، افغانستان، شام،[53]، لبنان، نائجیریا اور تنزانیہ میں آباد ہے نیز تین لاکھ شیعہ شمالی آمریکا کے ملک کینیڈا اور متحدہ ریاست امریکا میں رہتے ہیں۔[54]

حوالہ جات

  1. فراہیدی، العین، ذیل «شیع و شوع»۔
  2. شیخ مفید، اوائل‌المقالات، ۱۴۱۳ق، ص۳۵؛ شہرستانی، الملل و النحل، ۱۳۷۵ش، ج۱، ص۱۳۱۔
  3. ملاحظہ کریں: شرح‌المواقف، ۱۳۲۵ق، ج۸، ص۳۵۴۔
  4. ملاحظہ کریں: جعفریان، تاریخ تشیع در ایران از آغاز تا طلوع دولت صفوی، ۱۳۹۰ش، ص۲۲و۲۷۔
  5. محرمی، تاریخ تشیع، ۱۳۸۲ش، ۴۳و۴۴؛ گروہ تاریخ پژوہشگاہ حوزہ و دانشگاہ، تاریخ تشیع، ۱۳۸۹ش، ۲۰تا۲۲؛ فیاض، پیدایش و گسترش تشیع، ۱۳۸۲ش، ص۴۹تا۵۳۔
  6. ملاحظہ کریں: صابری، تاریخ فرق اسلامی، ۱۳۸۸ش، ص۱۸تا۲۰۔
  7. صابری، تاریخ فرق اسلامی، ۱۳۸۸ش، ص۲۰۔
  8. ملاحظہ کریں: جعفریان، تاریخ تشیع در ایران از آغاز تا طلوع دولت صفوی، ۱۳۹۰ش، ص۲۹و۳۰۔
  9. ملاحظہ کریں: فیاض، پیدایش و گسترش تشیع، ۱۳۸۲ش، ص۶۳تا۶۵۔
  10. فیاض، پیدایش و گسترش تشیع، ۱۳۸۲ش، ص۶۱۔
  11. شہرستانی، الملل و النحل، ۱۳۷۵ش، ج۱، ص۱۳۱۔
  12. انصاری، «امامت (امامت نزد امامیہ)»، ص۱۳۷؛ سلطانی، تاریخ و عقاید زیدیہ، ۱۳۹۰ش، ص۲۵۶و۲۵۷۔
  13. دفتری، تاریخ و سنت‌ہای اسماعیلیہ، ۱۳۹۳ش، ص۲۱۳۔
  14. ملاحظہ کریں: کلینی، کافی، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۲۱.
  15. شہرستانی، الملل و النحل، ۱۳۷۵ش، ج۱، ص۱۳۱۔
  16. امیرخانی، «نظریہ نص از دیدگاہ متکلمان امامی»، ص۱۳۔
  17. امیرخانی، «نظریہ نص از دیدگاہ متکلمان امامی»، ص۲۹؛ دفتری، تاریخ و سنت‌ہای اسماعیلیہ، ۱۳۹۳ش، ص۱۰۵؛‌ اسی طرح ملاحظہ کریں: شیخ مفید، اوائل‌المقالات، ۱۴۱۳ق، ص۴۰و۴۱۔
  18. امیرخانی، «نظریہ نص از دیدگاہ متکلمان امامی»، ص۱۳.
  19. امیرخانی، «نظریہ نص از دیدگاہ متکلمان امامی»، ص۱۱؛ اسی طرح ملاحظہ کریں: شیخ مفید، اوائل‌المقالات، ۱۴۱۳ق، ص۳۸ و ربانی گلپایگانی، درآمدی بر علم کلم، ۱۳۸۷ش، ص۱۸۱۔
  20. ملاحظہ کریں: شیخ طوسی، الاقتصاد، ۱۴۰۶ق/۱۹۸۶م، ص۳۱۲؛ ربانی گلپایگانی، درآمدی بر علم کلم، ۱۳۸۷ش، ص۱۸۱۔
  21. ملاحظہ کریں: شیخ طوسی، الاقتصاد، ۱۴۰۶ق/۱۹۸۶م، ص۳۱۲۔
  22. ملاحظہ کریں: شیخ طوسی، الاقتصاد، ۱۴۰۶ق/۱۹۸۶م، ص۳۱۲؛ ربانی گلپایگانی، درآمدی بر علم کلم، ۱۳۸۷ش، ص۱۸۱۔
  23. ملاحظہ کریں: شیخ مفید، الافصاح، ۱۴۱۲ق، ص۲۸و۲۹؛ سلطانی، تاریخ و عقاید زیدیہ، ۱۳۹۰ش، ص۲۶۰تا۲۶۳۔
  24. ملاحظہ کریں: شیخ مفید، الافصاح، ۱۴۱۲ق، ص۲۸.
  25. ملاحظہ کریں: علامہ حلی، کشف‌المراد، ۱۴۱۷ق، ص۴۹۱۔
  26. ملاحظہ کریں: علامہ حلی، کشف‌المراد، ۱۴۱۷ق، ص۴۹۲؛ دفتری، تاریخ و سنت‌ہای اسماعیلیہ، ۱۳۹۳ش، ص۱۰۵۔
  27. اس سلسلے میں مزید مطالعہ کیلئے رجوع کریں:علامہ حلی، کشف‌المراد، ۱۴۱۷ق، ص۴۹۲تا۴۹۴ و سبحانی، الالہیات، ۱۳۸۴ش/۱۴۲۶ق، ص۲۶تا۴۵۔
  28. علامہ حلی، کشف‌المراد، ۱۴۱۷ق، ص۴۹۳؛ سبحانی، الالہیات، ۱۳۸۴ش/۱۴۲۶ق، ص۱۲۵تا۱۳۰۔
  29. سبحانی، الالہیات، ۱۳۸۴ش/۱۴۲۶ق، ص۱۱۷تا۱۲۵۔
  30. ملاحظہ کریں: سبحانی، اضواء علی عقائد الشیعہ الامامیہ، ۱۴۲۱ق، ص۳۸۹تا۳۹۴۔
  31. سلطانی، تاریخ و عقاید زیدیہ، ۱۳۹۰ش، ص۲۷۸۔
  32. سلطانی، تاریخ و عقاید زیدیہ، ۱۳۹۰ش، ص۲۷۹۔
  33. شہرستانی، الملل و النحل، ۱۳۷۵ش، ج۱، ص۱۳۱؛ ملاحظہ کریں: علامہ حلی، کشف‌المراد، ۱۴۱۷ق، ص۴۹۷۔
  34. شہرستانی، الملل و النحل، ۱۳۷۵ش، ج۱، ص۱۴۱تا۱۴۳۔
  35. ملاحظہ کریں: علامہ حلی، کشف‌المراد، ۱۴۱۷ق، ص۴۹۸تا۵۰۱؛ شیخ مفید، الافصاح، ۱۴۱۲ق، ص۳۲، ۳۳، ۱۳۴
  36. ملاحظہ کریں: صابری، تاریخ فرق اسلامی، ۱۳۸۸ش، ج۲، ص۳۲۔
  37. ملاحظہ کریں صابری، تاریخ فرق اسلامی، ۱۳۸۸ش، ج۲، ص۹۵تا۱۰۴۔
  38. ملاحظہ کریں: شہرستانی، الملل و النحل، ۱۳۷۵ش، ج۱، ص۱۳۲تا۱۳۶۔
  39. ملاحظہ کریں: شہرستانی، الملل و النحل، ۱۳۷۵ش، ج۱، ص۱۳۱تا۱۷۱۔
  40. طباطبایی، شیعہ در اسلام، ۱۳۸۳ش، ص۶۶۔
  41. طباطبایی، شیعہ در اسلام، ۱۳۸۳ش، ص۶۴۔
  42. طباطبایی، شیعہ در اسلام، ۱۳۸۳ش، ص۶۵۔
  43. شہرستانی، الملل و النحل، ۱۳۷۵ش، ج۱، ص۱۵۴ہ
  44. مظفر،عقائد الامامیہ ص41
  45. شیخ مفید ،اوائل المقالات ص38
  46. جناتی،منابع اجتہاد از دیدگاہ مذاہب اسلامی ص 3 تا5
  47. ہالم،تشیع،385
  48. شیبی،تشیع و تصوف ص43
  49. روملو،احسن التواریخ 85/86
  50. انجمن کی ۲۰۰۹ میلادی کی تحقیق
  51. انجمن دین و زندگی عمومی پیو، نقشہ جمعیت مسلمانان جہان، ۱۳۹۳ش، ص۱۱۔
  52. انجمن دین و زندگی عمومی پیو، نقشہ جمعیت مسلمانان جہان، ۱۳۹۳ش، ص۱۹۔
  53. سعودی عرب
  54. انجمن دین و زندگی عمومی پیو، نقشہ جمعیت مسلمانان جہان، ۱۳۹۳ش، ص۱۹، ۲۰۔


مآخذ

  • ابن‌اثیر، علی بن محمد، اُسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، دارالفکر، بیروت، ۱۴۰۹ق/۱۹۸۹م۔
  • ابن‌عبد‌البر، یوسف بن عبداللہ، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، تحقیق علی محمد البجاوی، بیروت، دارالجیل، ۱۹۹۲م/۱۴۱۲ق۔
  • امیرخانی، علی، «نظریہ نص از دیدگاہ متکلمان امامی»، امامت‌پژوہی، ش۱۰، ۱۳۹۲ش۔
  • امین، سیدمحسن، اَعیان‌الشیعۃ، تحقق حسن امین، بیروت، دارالتعارف، ۱۴۱۹ق/۱۹۹۸م۔
  • انجمن دین و زندگی عمومی پیو، نقشہ جمعیت مسلمانان جہان، ترجمہ محمود تقی‌زادہ داوری، قم، انتشارات شیعہ‌شناسی، چاپ اول، ۱۳۹۳ش۔
  • انصاری، حسن، «امامت (امامت نزد امامیہ)»، دایرۃالمعارف بزرگ اسلامی، ج۱۰، تہران، مرکز دائرۃالمعارف بزرگ اسلامی، چاپ اول، ۱۳۸۰ش۔
  • ایجی، میرسیدشریف، شرح‌المواقف، تصحیح بدرالدین نعسانى‌، قم، شریف رضی، چاپ اول، ۱۳۲۵ق۔
  • برنجکار، رضا، آشنایی با فرق و مذاہب اسلامی، قم، کتاب طہ، چاپ چہارم، ۱۳۸۹ش۔
  • پاکتچی، احمد، «توسل»، دایرۃالمعارف بزرگ اسلامی، ج۱۶، تہران، مرکز دائرۃ المعارف بزرگ اسلامی، چاپ اول، ۱۳۸۷ش۔
  • تقی‌زادہ داوری، محمود، گزارشی از آمار جمعیتی شیعیان کشورہای جہان براساس منابع اینترنتی و مکتوب، قم، انتشارات شیعہ‌شناسی، چاپ اول، ۱۳۹۰ش۔
  • جبرئیلی، محمدصفر، سیر تطور کلام شیعہ، دفتر دوم: از عصر غیبت تا خواجہ نصیر طوسی، تہران، انتشارات پژوہشگاہ فرہنگ و اندیشہ اسلامی، چاپ پنجم، ۱۳۹۶ش۔
  • جعفریان، رسول، اطلس شیعہ، تہران، سازمان جغرافیایی نیروہای مسلح، چاپ پنجم، ۱۳۹۱ش۔
  • جعفریان، رسول، تاریخ تشیع در ایران از آغاز تا طلوع دولت صفوی، تہران، نشر علم، چاپ چہارم، ۱۳۹۰ش۔
  • چلونگر، محمدعلی و سیدمسعود شاہمرادی، دولت‌ہای شیعی در تاریخ، قم، پژوہشگاہ علوم و فرہنگ اسلامی، چاپ اول، ۱۳۹۵ش۔
  • حکیمی، محمدرضا، خوشید مغرب، قم، دلیل ما، چاپ بیست و ہشتم، ۱۳۸۶ش۔
  • دفتری، فرہاد، «اسماعیلیہ»، دایرۃالمعارف بزرگ اسلامی، ج۸، تہران، مرکز دائرۃالمعارف بزرگ اسلامی، چاپ اول، ۱۳۷۷ش۔
  • دفتری، فرہاد، «بہرہ»، دانشنامہ جہان اسلام، ج۴، تہران، بنیاد دایرۃالمعارف اسلامی، چاپ اول، ۱۳۷۷ش۔
  • دفتری، فرہاد، تاریخ و سنت‌ہای اسماعیلیہ، ترجمہ فریدون بدرہ‌ای، تہران، فروزان روز، چاپ اول، ۱۳۹۳ش۔
  • ربانی گلپایگانی، علی، درآمدی بر علم کلام، قم، دارالفکر، چاپ اول، ۱۳۸۷ش۔
  • ربانی گلپایگانی، علی، درآمدی بہ شیعہ‌شناسی، قم، مرکز بین‌المللی ترجمہ و نشر المصطفی، چاپ چہارم، ۱۳۹۲ش۔
  • رحمتی، محمدکاظم و سیدرضا ہاشمی، «زیدیہ»، دانشنامہ جہان اسلام، ج۲۲، تہران، بنیاد دایرۃالمعارف اسلامی، چاپ اول، ۱۳۹۶ش۔
  • سبحانی، جعفر، اضواءٌ علی عقائد الشیعۃ الامامیہ و تاریخہم، تہران، مشعر، ۱۴۲۱ق۔
  • سبحانی، جعفر، الالہیات علی ہدی الکتاب و السنۃ و العقل، بہ‌قلم حسن مکی عاملی، قم، موسسہ امام صادق، چاپ ششم، ۱۳۸۶ش/۱۴۲۶ق۔
  • سبحانی، جعفر، «تقیہ»، دانشنامہ جہان اسلام، ج۷، تہران، بنیاد دایرۃالمعارف اسلامی، چاپ اول، ۱۳۸۲ش۔
  • سبحانی، جعفر، «توسل»، دانشنامہ جہان اسلام، ج۸، تہران، بنیاد دایرۃالمعارف اسلامی، چاپ اول، ۱۳۸۳ش۔
  • سجادی، صادق، «آل‌ادریس، دایرۃالمعارف بزرگ اسلامی، ج۱، تہران، مرکز دائرۃالمعارف بزرگ اسلامی، چاپ اول، ۱۳۷۴ش۔
  • سلطانی، مصطفی، تاریخ و عقاید زیدیہ، قم، نشر ادیان، چاپ اول، ۱۳۹۰ش۔
  • شہرستانی، محمد بن عبدالکریم، الملل و النحل، تحقیق محمد بن فتح‌اللہ بدران، قم، الشریف الرضی، ۱۳۷۵ش۔
  • شہید ثانی، زین الدین بن علی، الرعایۃ، فی علم الدرایۃ، تحقیق عبدالحسین محمدعلی بقال، قم، مکتبۃ آیۃ اللہ العظمی المرعشی النجفی، ۱۴۰۸ق۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، الاقتصاد فیما یتعلق بالاعتقاد، بیروت، دارالاضواء، چاپ دوم، ۱۴۰۶ق/۱۹۸۶م۔
  • صابری، حسین، تاریخ فرق اسلامی، تہران، سمت، چاپ پنجم، ۱۳۸۴ش۔
  • صدر، سیدمحمدباقر، بحثٌ حول المہدی، تحقیق عبدالجبار شرارہ، قم، مرکز الغدیر للدراسات الاسلامیہ، ۱۴۱۷ق/۱۹۹۶م۔
  • طباطبایی، سیدمحمدحسین، المیزان فی تفسیرالقرآن، قم، انتشارات اسلامی، چاپ پنجم، ۱۴۱۷ق۔
  • طباطبایی، سیدمحمدحسین، شیعہ در اسلام، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ شانزدہم، ۱۳۸۳ش۔
  • علامہ حلی، کشف‌المراد فی شرح تجرید الاعتقاد، تحقیق و تعلیق حسن حسن‌زادہ آملی، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، چاپ ہفتم، ۱۴۱۷ق۔
  • فراہیدی، خلیل بن احمد، العین، تصحیح مہدی مخزومی و ابراہیم سامرائی، قم، نشر ہجرت، ۱۴۱۰ق۔
  • فیاض، عبداللہ، پیدایش و گسترش تشیع، ترجمہ سیدجواد خاتمی، سبزوار، انتشارات ابن‌یمین، چاپ اول، ۱۳۸۲ش۔
  • قاسمی ترکی، محمدعلی و جواد کریمی، «جمہوری اسلامی ایران»، دانشنامہ جہان اسلام، ج۱۰، تہران، بنیاد دایرۃالمعارف اسلامی، چاپ اول، ۱۳۸۵ش۔
  • کاشفی، محمدرضا، کلام شیعہ ماہیت، مختصات و منابع، تہران، سازمان انتشارات پژوہشگاہ فرہنگ و اندیشہ اسلامی، چاپ سوم، ۱۳۸۷ش۔
  • محرمی، غلامحسن، تاریخ تشیع از آغاز تا پایان غیبت صغری، قم، مؤسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینی، چاپ دوم، ۱۳۸۲ش۔
  • مشکور، محمدجواد، فرہنگ فرق اسلامی، مشہد، بنیاد پژوہش‌ہای اسلامی آستان قدس رضوی، چاپ دوم، ۱۳۷۲ش۔
  • مظفر، محمدرضا، اصول‌الفقہ، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ پنجم، ۱۴۳۰۔
  • مفید، محمد بن محمد، الافصاح، فی امامۃ امیرالمؤمنین علیہ‌السلام، قم، مؤسسۃالبعثہ، چاپ اول، ۱۴۱۲ق۔
  • مفید، محمد بن محمد، اوائل المقالات فی المذاہب و المختارات، قم، المؤتمر العالمی للشیخ المفید، ۱۴۱۳ق۔
  • مفید، محمد بن محمد، تصحیح اعتقادات الامامیہ، تحقیق حسین درگاہی، قم، المؤتمر العالمی للشیخ المفید، ۱۳۷۱ش۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، دایرۃالمعارف فقہ مقارن، قم، مدرسہ امام علی بن ابی طالب(ع)، چاپ اول، ۱۴۲۷ق۔
  • ہالم، ہاینس، تشیع، ترجمہ محمدتقی اکبری، قم، نشر ادیان، چاپ دوم، ۱۳۸۹ش۔
  • FT_14.06.17_ShiaSunni