سید محمد قلی موسوی

ویکی شیعہ سے
نظرثانی بتاریخ 08:37, 15 اپريل 2018 از E.musavi (تبادلۂ خیال | شراکتیں)
(فرق) → پرانا نسخہ | حالیہ نظرثانی (فرق) | →اگلا اعادہ (فرق)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سید محمد قلی موسوی
کوائف
مکمل نام سید محمد قلی موسوی
لقب/کنیت علامہ کنتوری
نسب امام موسی کاظم کے نسب سے
تاریخ ولادت ۵ ذیقعد ۱۱۷۴ یا ۱۱۸۸ق
آبائی شہر لکھنؤ
تاریخ وفات ۹ محرم ۱۲۶۸ق
مدفن لکھنؤ
نامور اقرباء سید حامد حسین موسوی،سید ناصر حسین،سید غلام حسنین کنتوری، سید محمد نقوی نصیر آبادی
اولاد سید حامد حسین موسوی،سید سراج حسین موسوی،سید اعجاز حسین کنتوری
علمی معلومات
اساتذہ سید دلدار علی نقوی،سید اعجاز حسین
شاگرد سید حامد حسین موسوی،سید سراج حسین موسوی
تالیفات تقریب الأفہام فی تفسیر آیات الأحکام،تشیید المطاعن،تقلیب المکائد،احکام عدالت علویہ،...
خدمات
سماجی قضاوت،فتوا دینا

سید محمد قُلی موسوی ہندی نیشاپوری برصغیر پاک و ہند کے شیعہ اثنا عشری مکتب کے محدث، فقیہ، مؤرخ اور متکلم تھے۔علامہ کنتوری کے نام سے مشہور تھے۔ ان کا سلسلۂ نسب ایران میں مشہد کے قریب نیشاپور میں آباد امام موسی کاظم(ع) کی اولاد سے ملتا ہے۔اپنی تعلیم کا سلسلہ لکھنؤ میں شروع کیا اور علوم کے اعلی مراحل طے کئے اور خاص طور پر علم کلام میں ایک مقام حاصل کیا۔متعدد تالیفوں کے مالک اور ہندوستان میں ناصریہ کے نام سے کتابخانہ ان کی یادگار ہے۔ وہ صاحب عبقات الانوار سید حامد حسین موسوی کے والد اور سید ناصر حسین معروف ناصر الملت کے دادا ہیں۔

ولادت و خاندان

سید محمد قلی موسوی ۵ ذی‌القعده ۱۱۷۴ یا ۱۱۸۸ق (۱۷۷۴ عیسوی ، ۱۱۵۳ شمسی) کو کنتور میں پیدا ہوئے۔ آپ کا نسب ۲۵ واسطوں کے ذریعے موسی بن جعفر(ع) تک پہنچتا ہے۔[1]

آپ نیشاپور کے علمی خاندان کے بزرگ تھے۔آپ کے باپ کا نام سید محمد حسین (معروف الله‌ کَرَم) تھا جو اپنے زمانے کے علما اور فقہا میں سے تھے کہ جنہوں نے اکثر علوم مولوی عبدالرب حضرت  پوری کے پاس پڑھے۔قرآن سمیت بہت سی حدیثی کتابیں بسیاری جیسے تحفۃ الزائر،مجلسی کی حق الیقین اور شیخ بہائی جامع عباسی کو استنساخ کیا۔[2]

تعلیم اور منصب

سید محمد قلی نے ابتدائی کتابیں لکهنو میں موجود فاضل شخصیات کے پاس پڑھیں۔پھر سید دلدار علی نقوی (۱۱۶۶-۱۲۳۵ق) کی شاگردی اختیار کی اور اکثر علوم انکے پاس پڑھے اور علم کلام میں ایک خاص مقام حاصل کیا۔

لکهنو کے نزدیک میرٹھ میں درس و تدریس میں مشغول ہوئے اور وہیں قضاوت کے عہدے پر فائز رہے اور فتوا دینے کے فرائض بھی نبھاتے رہے۔[3]

شاگردان

  • بیٹا سید میر حامد حسین (۱۲۴۶-۱۳۰۶ق) صاحب عبقات الانوار؛
  • بڑا بیٹا مولانا سید سراج حسین (۱۲۱۱-۱۲۷۳ق) حکیم، طبیب، ریاضی دان و صاحب «رسالہ در مخروطات»؛
  • بیٹا سید اعجاز حسین (۱۲۴۰-۱۲۸۶ق) صاحب کشف الحجب و شذور العقیان؛
  • داماد سید غلام حسنین کنتوری (۱۲۴۷-۱۳۳۷ق) صاحب انتصار الاسلام.
  • سلطان العلماء سید محمد نقوی نصیر آبادی (۱۱۹۹-۱۲۸۴ق) صاحب طعن الرماح و الضربۃ الحیدریہ.[4]

تألیفات

سید محمد قلی نے اکثر علوم میں تصانیف لکھیں اور آپ اکثر علوم میں خاص طور پر علم کلام میں صاحب نظر اور محقق تھے۔درج ذیل آپ کی تصنیفات میں سے ہیں:

  1. تقریب الأفہام فی تفسیر آیات الأحکام (فارسی)
  2. تطہیر المؤمنین عن نجاسۃ المشرکین؛ کفار کی نجاست کے احکام (ہند، ۱۲۶۱ق)
  3. احکام عدالت علویہ (فارسی)؛ بارہ ابواب اور ایک خاتمہ (ہند)
  4. أبنیۃ الافعال؛ علم صرف (اردو)
  5. تکمیل المیزان لتعلیم الصبیان؛ شرح کتاب میزان (علم صرف)
  6. الحواشی و المطالعات
  7. نفاق الشیخین بحکم احادیث الصحیحین؛ (ہند، مطبعہ شریفیہ). (مؤلف نے بخاری اور مسلم کی دو حدیثیں ذکر کرنے کے بعد: ۱. علامات نفاق؛ ۲. در نزاع علی(ع) اور عباس کی فدک کے معالمے میں نزاع ذکر کی)؛
  8. مزیل الوسواس فی ردّ من تبع الخنّاس؛ اس کا ناقص خطی نسخہ کتابخانۂ مرکز احیائے میراث اسلامی قم میں موجود ہے.
  9. رسالۂ تقیہ (فارسی، لکهنو) ؛ انکے بیٹے میر حامد حسین نے اسے اردو میں ترجمہ کیااور اصلاح نامی مجلے میں چھپوایا۔
  10. رسالۂ گناہان کبیره (فارسی)
  11. سیف ناصری؛ ردّ باب اول تحفہ اثنا عشریہ کے پہلے باب کا جواب جسے عبدالعزیز دہلوی نے لکھا۔اس کا خطی نسخہ کتابخانۂ آستان قدس رضوی میں موجود ہے۔
  12. تقلیب المکائد؛ تحفہ اثنا عشریہ کے دوسرے باب کا جواب (فارسی).یہ کتاب کلکتہ سے ۱۲۶۲ق میں چاپ ہوئی۔
  13. برہان سعادت؛ تحفہ اثنا عشریہ (فارسی) کے ساتویں باب کا ترجمہ. یہ کتاب امامت ائمه(ع) کے موضوع سے ہے۔اس کا نسخہ رام پور ہند میں راجہ رضا کے کتابخانے میں موجود ہے۔
  14. تشیید المطاعن لکشف الضغائن؛ تحفہ اثنا عشریہ (فارسی) کے دسویں باب کا جواب۔ یہ کتاب مطاعن، قبائح افعال اور خلفائے ثلاثہ کی جانب سے شروع کئے دین میں نئے اقدامات کے بارے میں لکھی گئی۔
  15. مصارع الافہام لقطع (لقلع) الاوہام؛تحفہ اثنا عشریہ کے گیارھویں باب کا جواب ہے۔
  16. الاجوبۃ الفاخرة فی ردّ الاشاعرة؛ رشیدالدین دہلوی کی کتاب ہے جو سیف ناصری کا جواب تھی ۔مولف نے اسکے اعتراضات کے جواب دئے ہیں ۔
  17. فتوحات حیدریہ؛ ردّ بر صراط المستقیم عبدالحی برہانوی (۱۲۴۳ق) کی صراط مستقیم کا جواب ہے جو امام حسین کی عزاداری کے منع میں لکھی اور اسے بدعت کہا۔ مصنف نے اس کتاب میں سید الشہدا کی عزاداری کے جواز کو اہل سنت کی کتب سے اثبات کیا۔
  18. شعلہ ظفریہ لإحراق الشوکۃ العمریہ؛ شوکت عمریہ کا رد ہے جو رشیدالدین خان کے شاگرد عبدالعزیز دہلوی نے بارقہ ضیغمیہ، تألیف سلطان العلماء سید محمد بن دلدار علی میں لکھی تھی۔ شعلہ ظفریہ کے بعد سلطان العلماء نے بھی ضربت حیدریہ کے نام سے شوکت عمریہ کا رد لکھا جس میں متعتین (متعۂ حج اور متعۂ نسا کو اہل سنت کی کتب سے اثبات کیا۔
  19. رسالۂ وجوب غسل مسّ میت؛ اس کا نسخہ کتابخانہ ناصریہ لکهنؤ میں موجود ہے۔
  20. مقدمہ الہیہ؛ تحفہ اثنا عشریہ کے مقدمے کا جواب ہے.[5]

ناصریہ کتابخانہ

سید محمد قلی کی علمی خدمات میں سے ایک ناصریہ کتابخانے کا قیام ہے۔ آپ کے بعد آپ کے بیٹے میر حامد حسین اور نواسے سید ناصر حسین نے اس کی توسیع میں بہت کوشش کی اور اس میں موجود کتانوں کی تعداد خاطر خواہ حد بڑھایا یہانتک کہ پاک وہند کا یہ ایک بہت بڑا کتابخانہ سمجھا جاتا ہے کہ جس میں شیعہ اور اہل سنت کی مطبوعہ اور غیر مطبوعہ نفیس خطی نسخے بھی موجود ہیں۔[6]

وفات

اپنی عمر کے آخری حصے میں لکھنؤ واپس آ گئے اور تالیف، دینی اور علمی کاموں میں مصروف ہوئے اور بالآخر ۸۴ سال کی عمر گزار کر ۹ محرم ۱۲۶۸ق کو لکهنؤ شہر میں وفات پا گئےاور اپنے تعمیر کئے ہوئے امام باگاہ میں مدفون ہیں۔[7]

مربوط لنک

حوالہ جات

  1. ناصرالدین انصاری قمی، شخصیت‌ شناسی علامہ سید محمدقلی موسوی لکهنوی، ۱۳۹۰ش.
  2. ناصرالدین انصاری قمی، شخصیت‌ شناسی علامہ سید محمد‌قلی موسوی لکهنوی، ۱۳۹۰ش.
  3. ناصرالدین انصاری قمی، شخصیت‌ شناسی علامہ سید محمدقلی موسوی لکهنوی، ۱۳۹۰ش.
  4. ناصرالدین انصاری قمی، شخصیت‌ شناسی سید علامہ محمد قلی موسوی لکهنوی، ۱۳۹۰ش.
  5. ناصرالدین انصاری قمی، شخصیت‌ شناسی سید محمدقلی موسوی لکهنوی، ۱۳۹۰ش.
  6. ناصر الدین انصاری قمی، شخصیت‌ شناسی سید محمدقلی موسوی لکهنوی، ۱۳۹۰ش.
  7. ناصرالدین انصاری قمی، شخصیت‌ شناسی علامہ سید محمدقلی موسوی لکهنوی، ۱۳۹۰ش.


منابع