"سید محمد باقر لکھنوی کشمیری" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
(زندگی نامہ)
(تعلیمی سفر)
 
(ایک ہی صارف کا 10 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 9: سطر 9:
 
| مشہور اقارب        =والد: سید محمد ابو الحسن، دادا: سید علی شاہ
 
| مشہور اقارب        =والد: سید محمد ابو الحسن، دادا: سید علی شاہ
 
| وجہ شہرت          =[[فقیہ]]
 
| وجہ شہرت          =[[فقیہ]]
| تاریخ پیدائش      =۷ [[صفر]] ۱۲۸۵ ھ
+
| تاریخ پیدائش      =[[7 صفر]] ۱۲۸۵ ھ
 
| مقام پیدائش        =[[لکھنو]]
 
| مقام پیدائش        =[[لکھنو]]
 
| محل زندگی          =لکھنو
 
| محل زندگی          =لکھنو
| تاریخ وفات        =۱۶ [[شعبان]] ۱۳۴۶ھ
+
| تاریخ وفات        =[[16 شعبان]] ۱۳۴۶ھ
 
| تاریخ شہادت        =
 
| تاریخ شہادت        =
 
| محل شہادت          =
 
| محل شہادت          =
سطر 21: سطر 21:
 
| علمی              =
 
| علمی              =
 
| اساتذہ            =[[محمد کاظم خراسانی|اخوند خراسانی]]، [[سید محمد کاظم طباطبائی یزدی]] ....  
 
| اساتذہ            =[[محمد کاظم خراسانی|اخوند خراسانی]]، [[سید محمد کاظم طباطبائی یزدی]] ....  
| شاگرد              =سید راحت حسین گوپالپوری ....
+
| شاگرد              =سید راحت حسین گوپال پوری ....
 
| قلمی آثار          =
 
| قلمی آثار          =
| مذہب              =[[اسلام]](شیعہ)
+
| مذہب              =[[اسلام]] ([[شیعہ]])
 
}}
 
}}
[[سید محمد باقر لکھنوی کشمیری]] (۱۲۸۵-۱۳۴۶ ھ) برصغیر کے نامور [[شیعہ]] علما میں سے گزرے ہیں۔ ایک صاحب علم اور نہایت عبادت گزار شخص تھے۔ نیز انہوں نے عربی و اردو میں کتابیں تصنیف کیں۔ وفات کے بعد اپنے بھتیجے اور والد  کے ساتھ [[عراق]] کے شہر [[کربلا]] میں [[دفن میت|مدفون]] ہوئے۔
+
[[سید محمد باقر لکھنوی کشمیری]] (1285۔1346 ھ) برصغیر کے نامور [[شیعہ]] علما میں سے گزرے ہیں۔ وہ ایک صاحب علم اور نہایت عبادت گزار شخص تھے۔ انہوں نے عربی و اردو میں کتابیں تصنیف کیں۔ وفات کے بعد اپنے بھتیجے اور والد  کے ساتھ [[عراق]] کے شہر [[کربلا]] میں [[دفن میت|مدفون]] ہوئے۔
  
 
==زندگی نامہ==
 
==زندگی نامہ==
 
*'''نسب'''
 
*'''نسب'''
:نسب کے اعتبار سے رضوی اور آپ  کا نسب پچیس واسطوں سے [[امام محمد تقی(ع)|حضرت امام محمد تقی]] سے ملتا ہے اور والدہ کی جانب سے نقوی خاندان سے تعلق ہے۔آپ کے خاندان  کی بزرگ شخصیات میں والد سید محمد [[ابو الحسن]] مشہور بنام ابو صاحب اور  دادا [[سید علی شاہ]] گزرے ہیں۔
+
:نسب کے اعتبار سے رضوی اور آپ  کا نسب پچیس واسطوں سے [[امام محمد تقی(ع)|حضرت امام محمد تقی]] سے ملتا ہے اور والدہ کی جانب سے نقوی خاندان سے تعلق ہے۔ آپ کے خاندان  کی بزرگ شخصیات میں والد سید محمد [[ابو الحسن]] مشہور بنام ابو صاحب اور  دادا [[سید علی شاہ]] گزرے ہیں۔
  
 
*'''ولادت'''
 
*'''ولادت'''
:آپ کی پیدائش [[صفر المظفر(واقعات)|۷صفر]]۱۲۸۵ھ کو [[لکھنو]] (انڈیا) کے محلے وزیر گنج میں ہوئی۔  
+
:آپ کی پیدائش [[صفر المظفر(واقعات)|۷ صفر]] ۱۲۸۵ ھ کو [[لکھنو]] (انڈیا) کے محلے وزیر گنج میں ہوئی۔  
 
*'''اولاد'''
 
*'''اولاد'''
:آپ کی اولاد میں تین بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔ بیٹوں کے اسما درج ذیل ہیں:
+
:آپ کی اولاد میں تین بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔ بیٹوں کے اسما درج ذیل ہیں:
 
{{ستون آ|2}}
 
{{ستون آ|2}}
 
*سید محمد (لکھنو میں پڑھے اور ۴ سال [[نجف]] میں رہے)۔
 
*سید محمد (لکھنو میں پڑھے اور ۴ سال [[نجف]] میں رہے)۔
سطر 41: سطر 41:
 
{{ستون خ}}
 
{{ستون خ}}
 
*'''وفات'''
 
*'''وفات'''
:زیارات کی غرض سے ۱۳۴۶ھ میں [[عراق]] گئے۔ جہاں ماہ [[شعبان]] کی نویں یا دسویں تاریخ کو [[کاظمین]] میں بیمار ہوئے۔ ۱۳شعبان کو [[کربلا]] آئے اور ۱۶ شعبان۱۳۴۶ ھ جمعرات<ref>تہرانی۔ الذریعہ، 2/37،</ref> کے روز کربلا میں انتقال ہوا۔ [[نماز جنازہ]] آیت اللہ [[سید ابو الحسن اصفہانی]] نے پڑھائی۔ [[تلہ زینبیہ|در زینبیہ]] کے پاس مقبرہ کابلیین میں اپنے والد کے پاس دفن ہوئے۔<ref>تہرانی، الذریعہ،1/304/1584</ref> وفات کے وقت آپ کا سن ۶۱ سال تھا۔ بیدیک اسداء الرغاب تاریخ وفات کا مادہ نکلتا ہے۔<ref>تہرانی، الذریعہ،1/304/1584</ref> لیکن تعداد اعداد کے لحاظ سے درست معلوم نہیں ہوتا ہے۔
+
:زیارات کی غرض سے ۱۳۴۶ ھ میں [[عراق]] گئے۔ جہاں ماہ [[شعبان]] کی نویں یا دسویں تاریخ کو [[کاظمین]] میں بیمار ہوئے۔ ۱۳ شعبان کو [[کربلا]] آئے اور ۱۶ شعبان ۱۳۴۶ ھ جمعرات<ref>تہرانی۔ الذریعہ، 2/37،</ref> کے روز کربلا میں انتقال ہوا۔ [[نماز جنازہ]] آیت اللہ [[سید ابو الحسن اصفہانی]] نے پڑھائی۔ [[تلہ زینبیہ|در زینبیہ]] کے پاس مقبرہ کابلیین میں اپنے والد کے پاس دفن ہوئے۔<ref>تہرانی، الذریعہ،1/304/1584</ref> وفات کے وقت آپ کا سن ۶۱ سال تھا۔ بیدیک اسداء الرغاب تاریخ وفات کا مادہ نکلتا ہے۔<ref>تہرانی، الذریعہ،1/304/1584</ref> لیکن تعداد اعداد کے لحاظ سے درست معلوم نہیں ہوتا ہے۔
  
 
==تعلیمی سفر==
 
==تعلیمی سفر==
 
:*'''اساتذہ'''  
 
:*'''اساتذہ'''  
  
ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والد کے زیر سایہ ہوئی۔
+
ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والد کے زیر سایہ ہوئی۔
مقدمات، [[فقہ]] اور [[علم اصول فقہ]] [[مفتی سید محمد عباس]] کے شاگردوں شیخ تفضل حسین فتح پوری اور سید حیدر علی کے پاس پڑھے۔ مذکورہ علوم کے بعد مزید تعلیم اپنے والد کے پاس حاصل کی۔ درجہ اجتہاد پر فائز ہونے کے باوجود اعلی تعلیم کیلئے [[عراق]] کے شہر [[نجف]] گئے جہاں ۱۱ برس تک رہے۔واپسی پر ۶ماہ تک درس خارج بھی دیا۔
+
مقدمات، [[فقہ]] اور [[علم اصول فقہ]] [[مفتی سید محمد عباس]] کے شاگردوں شیخ تفضل حسین فتح پوری اور سید حیدر علی کے پاس پڑھے۔ مذکورہ علوم کے بعد مزید تعلیم اپنے والد کے پاس حاصل کی۔ درجہ اجتہاد پر فائز ہونے کے باوجود اعلی تعلیم کیلئے [[عراق]] کے شہر [[نجف]] گئے جہاں ۱۱ برس تک رہے۔ واپسی پر ۶ ماہ تک درس خارج بھی دیا۔
 
نجف میں جن اساتذہ سے علم حاصل کیا نیز اسناد و اجتہاد کے اجازے حاصل کئے:
 
نجف میں جن اساتذہ سے علم حاصل کیا نیز اسناد و اجتہاد کے اجازے حاصل کئے:
{{ستون آ|4}}
+
{{ستون آ|2}}
*[[شیخ اخوند محمد کاظم خراسانی]]۔
+
*[[محمد کاظم خراسانی|آخوند خراسانی]]۔
 
*مرزا حسین خلیل تہرانی۔
 
*مرزا حسین خلیل تہرانی۔
*[[سید محمد کاظم طباطبائی]]۔
+
*[[سید محمد کاظم طباطبائی یزدی]]۔
*شیخ فتح اللہ اصفہانی(معروف بنام آقائے شریعت)
+
*شیخ فتح اللہ اصفہانی (معروف بنام آقائے شریعت)
 
{{ستون خ}}
 
{{ستون خ}}
 
:*'''تلامذہ'''
 
:*'''تلامذہ'''
  
تیس برس کے لگ بھگ سلطان المدارس میں تدریس کے فرائض انجام دئے۔ اس دوران کے قابل ذکر تلامذہ کے نام:
+
تیس برس کے لگ بھگ سلطان المدارس میں تدریس کے فرائض انجام دیئے۔ اس دوران کے قابل ذکر تلامذہ کے نام:
 
{{ستون آ|2}}
 
{{ستون آ|2}}
 
*سید شبیر حسن۔
 
*سید شبیر حسن۔
سطر 72: سطر 72:
 
*صوب الدیم النوافث فی ان الوصیۃ قبل القبول ہل ہی للموصی لہ ام الوارث
 
*صوب الدیم النوافث فی ان الوصیۃ قبل القبول ہل ہی للموصی لہ ام الوارث
 
*رد المقدمۃ فی الکلام
 
*رد المقدمۃ فی الکلام
*[[اسداء الرغائب فی وجوب التستر و الحجاب]]<ref>تہرانی، الذریعہ،2/37/145</ref> (یہ کتاب عراق و ایران میں [[اسداء الرغائب فی وجوب التستر و الحجاب|اسداء الرغائب فی مسئلۃ الحجاب]] کے نام سے طبع ہوئی ہے)۔الذریعہ میں اسداء الغاب بکشف الحجاب عن وجہ السنۃ و الکتاب نام آیا ہے۔
+
*[[اسداء الرغائب فی وجوب التستر و الحجاب]]<ref>تہرانی، الذریعہ،2/37/145</ref> (یہ کتاب عراق و ایران میں [[اسداء الرغائب فی وجوب التستر و الحجاب|اسداء الرغائب فی مسئلۃ الحجاب]] کے نام سے طبع ہوئی ہے۔) الذریعہ میں اسداء الغاب بکشف الحجاب عن وجہ السنۃ و الکتاب نام آیا ہے۔
 
{{ستون خ}}
 
{{ستون خ}}
  
 
==حوالہ جات==
 
==حوالہ جات==
{{حوالہ جات|3}}
+
{{حوالہ جات|2}}
  
 
==بیرونی روابط==
 
==بیرونی روابط==
مآخذ مقالہ: احوال باقر العلوم، مولف: سید حیدر حسین نگہت (مرحوم) ناشر: سید عابد مرتضی،۱۵ مغل پورہ لاہور۱۵۔
+
* مآخذ مقالہ: احوال باقر العلوم، مولف: سید حیدر حسین نگہت (مرحوم) ناشر: سید عابد مرتضی، ۱۵ مغل پورہ لاہور ۱۵۔
  
 
==مآخذ==
 
==مآخذ==
سید حیدر حسین نگہت،احوال باقر العلوم، ناشر: سید عابد مرتضی،۱۵ مغل پورہ لاہور۱۵۔
+
* سید حیدر حسین نگہت، احوال باقر العلوم، ناشر: سید عابد مرتضی، ۱۵ مغل پورہ لاہور ۱۵۔
بزرگ تہرانی،الذریعہ الی تصانیف الشیعہ، دار الأضواء - بيروت - لبنان۔
+
* بزرگ تہرانی، الذریعہ الی تصانیف الشیعہ، دار الأضواء - بيروت - لبنان۔
 +
 
 +
{{برصغیر}}
  
 
[[زمرہ:برصغیر کے علما]]
 
[[زمرہ:برصغیر کے علما]]
 
[[زمرہ:حرم امام حسین میں مدفون افراد]]
 
[[زمرہ:حرم امام حسین میں مدفون افراد]]

حالیہ نسخہ بمطابق 13:42, 21 اپريل 2019

سید محمد باقر لکھنوی کشمیری
کوائف
نام: سید محمد باقر لکھنوی کشمیری
مشہور اقارب: والد: سید محمد ابو الحسن، دادا: سید علی شاہ
وجہ شہرت: فقیہ
پیدائش: 7 صفر ۱۲۸۵ ھ
مقام پیدائش لکھنو
محل زندگی: لکھنو
مدفن: کربلا
مذہب: اسلام (شیعہ)
اساتذہ: اخوند خراسانی، سید محمد کاظم طباطبائی یزدی ....
شاگرد: سید راحت حسین گوپال پوری ....

سید محمد باقر لکھنوی کشمیری (1285۔1346 ھ) برصغیر کے نامور شیعہ علما میں سے گزرے ہیں۔ وہ ایک صاحب علم اور نہایت عبادت گزار شخص تھے۔ انہوں نے عربی و اردو میں کتابیں تصنیف کیں۔ وفات کے بعد اپنے بھتیجے اور والد کے ساتھ عراق کے شہر کربلا میں مدفون ہوئے۔

زندگی نامہ

  • نسب
نسب کے اعتبار سے رضوی اور آپ کا نسب پچیس واسطوں سے حضرت امام محمد تقی سے ملتا ہے اور والدہ کی جانب سے نقوی خاندان سے تعلق ہے۔ آپ کے خاندان کی بزرگ شخصیات میں والد سید محمد ابو الحسن مشہور بنام ابو صاحب اور دادا سید علی شاہ گزرے ہیں۔
  • ولادت
آپ کی پیدائش ۷ صفر ۱۲۸۵ ھ کو لکھنو (انڈیا) کے محلے وزیر گنج میں ہوئی۔
  • اولاد
آپ کی اولاد میں تین بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔ بیٹوں کے اسما درج ذیل ہیں:
  • سید محمد (لکھنو میں پڑھے اور ۴ سال نجف میں رہے)۔
  • سید علی
  • سید محمد رضی
  • وفات
زیارات کی غرض سے ۱۳۴۶ ھ میں عراق گئے۔ جہاں ماہ شعبان کی نویں یا دسویں تاریخ کو کاظمین میں بیمار ہوئے۔ ۱۳ شعبان کو کربلا آئے اور ۱۶ شعبان ۱۳۴۶ ھ جمعرات[1] کے روز کربلا میں انتقال ہوا۔ نماز جنازہ آیت اللہ سید ابو الحسن اصفہانی نے پڑھائی۔ در زینبیہ کے پاس مقبرہ کابلیین میں اپنے والد کے پاس دفن ہوئے۔[2] وفات کے وقت آپ کا سن ۶۱ سال تھا۔ بیدیک اسداء الرغاب تاریخ وفات کا مادہ نکلتا ہے۔[3] لیکن تعداد اعداد کے لحاظ سے درست معلوم نہیں ہوتا ہے۔

تعلیمی سفر

  • اساتذہ

ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والد کے زیر سایہ ہوئی۔ مقدمات، فقہ اور علم اصول فقہ مفتی سید محمد عباس کے شاگردوں شیخ تفضل حسین فتح پوری اور سید حیدر علی کے پاس پڑھے۔ مذکورہ علوم کے بعد مزید تعلیم اپنے والد کے پاس حاصل کی۔ درجہ اجتہاد پر فائز ہونے کے باوجود اعلی تعلیم کیلئے عراق کے شہر نجف گئے جہاں ۱۱ برس تک رہے۔ واپسی پر ۶ ماہ تک درس خارج بھی دیا۔ نجف میں جن اساتذہ سے علم حاصل کیا نیز اسناد و اجتہاد کے اجازے حاصل کئے:

  • تلامذہ

تیس برس کے لگ بھگ سلطان المدارس میں تدریس کے فرائض انجام دیئے۔ اس دوران کے قابل ذکر تلامذہ کے نام:

  • سید شبیر حسن۔
  • سید راحت حسین گوپالپوری
  • سید سبط حسن
  • سید محمد رضا
  • سید عالم حسین
  • سید حیدر حسین نگہت
  • تالیفات

حوالہ جات

  1. تہرانی۔ الذریعہ، 2/37،
  2. تہرانی، الذریعہ،1/304/1584
  3. تہرانی، الذریعہ،1/304/1584
  4. تہرانی، الذریعہ،2/37/145


بیرونی روابط

  • مآخذ مقالہ: احوال باقر العلوم، مولف: سید حیدر حسین نگہت (مرحوم) ناشر: سید عابد مرتضی، ۱۵ مغل پورہ لاہور ۱۵۔

مآخذ

  • سید حیدر حسین نگہت، احوال باقر العلوم، ناشر: سید عابد مرتضی، ۱۵ مغل پورہ لاہور ۱۵۔
  • بزرگ تہرانی، الذریعہ الی تصانیف الشیعہ، دار الأضواء - بيروت - لبنان۔