سہل بن سعد ساعدی

ویکی شیعہ سے
نظرثانی بتاریخ 09:59, 6 فروری 2017 از E.musavi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) (پیغمبر اکرم(ص) کے دور میں)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سہل بن سعد ساعدی
کوائف
مکمل نام سہل بن سعد بن مالک انصاری ساعدی
کنیت ابوالعباس • ابویحیی
محل زندگی مدینہ
مہاجر/انصار انصار
نسب بنی ساعدہ
مشہوررشتےدار سعد بن مالک انصاری ساعدی(والد)
وفات/شہادت ۸۸ یا۹۱ق جنگ صفین
مدفن مدینہ
دینی خدمات
اسلام لانا بعثت کے ابتدائی ایام میں
جنگ تبوک
دیگر کارنامے راوی غدیر • پیامبر کی بیعت • اصحاب امام علی

ابو‌العباس سہل بن سعد ساعدی (متوفی ۸۸ یا ۹۱ ق)، رسول خدا(ص) کے صحابی، امام علی(ع) کے وفادار ساتھیوں اور حدیث غدیر کے راویوں میں سے تھے۔ پیغمبر اکرم(ص) کی بیعت، جنگ تبوک میں شرکت اور دو قبلہ کی طرف نماز پڑھنا ان کے افتخارات میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے شام میں اسرائے کربلا سے ملاقات اور شام میں ان کے لائے جانے کی کیفیت کے سلسلہ میں روایت کی ہے۔ وہ پیغمبر اکرم(ص) کے آخری صحابی تھے جنہوں نے مدینہ میں وفات پائی۔

پیغمبر اکرم(ص) کے دور میں

سہل بن سعد بن مالک بن خالد بن ثعلبۃ بن حارثۃ بن عمرو بن الخزرج بن ساعدۃ بن کعب بن الخزرج الأنصاری الساعدی، رسول خدا(ص) کے صحابی اور طایفہ بنی‌ ساعدہ سے ان کا تعلق تھا۔ پیغمبر اکرم(ص) کی رحلت کے وقت ان کی عمر ۱۵ سال تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا اصل نام حزن تھا اور پیغمبر اکرم(ص) نے اسے تبدیل کر کے سہل نام رکھا۔ [1] ان کی کنیت ابوالعباس اور ابو یحیی تھی۔ [2]

شیخ طوسی انہیں امام علی (ع) کا پیروکار مانتے ہیں۔[3]

پیغمبر اکرم(ص) کی دو بیعت، دو قبلہ کی طرف نماز پڑھنا اور پیغمبر اکرم (ص) کی زبانی ان کی تعریف و تمجید ان کے افتخارات میں سے ہے۔[4] ان کی بہنیں نائلہ اور عمرہ مدینہ میں پیغمبر اکرم(ص) کی بیعت کرنے والی عورتوں میں سے تھیں۔[5]

جنگ تبوک کے وقت اگرچہ ان کی عمر کم تھی لیکن انہوں نے اس جنگ میں شرکت کی اس بارے میں وہ خود کہتے تھے:

میں اپنے تمام دوستوں میں سب سے کم عمر تھا اور جنگ تبوک میں ان کی خدمت انجام دیتا تھا۔[6] البتہ بعض منابع میں مقریہم کا لفظ آیا ہے جس کے معنی قرآن پڑھنے والے کے ہیں،[7] ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان منابع میں غلطی سے ایسا لکھا گیا ہے ورنہ اصل کلمہ "شَفْرَتَہم" ہے جس کے معنی خدمتکار کے ہیں۔

نقل روایت

سہل نے پیغمبر اکرم(ص)، حضرت علی(ع)، حضرت فاطمہ(س) اور بعض صحابہ احادیث نقل کی ہیں۔ ابوہریرہ، سعید بن مسیب، زہری، ابو حازم اور انکا بیٹا عباس بن سہل نے ان سہل سے روایت نقل کئے ہیں۔[8]

ان سے نقل ہوا کہ کہ وہ کہتے تھے: حضرت زہرا(س) سے اماموں کے بارے میں پوچھا تو حضرت نے جواب میں فرمایا: کہ پیغمبر(ص) نے حضرت علی(ع) اور ان کے گیارہ بیٹوں کو بعنوان امام ایک ایک کا نام لیا ہے۔[9]

وہ حدیث غدیر کے گواہ اور راویوں میں سے ہیں[10] اور پیغمبر اکرم(ص) کا مشہور جملہ جو حدیث رایت کے نام سے مشہور ہے جس میں آپ(ص) نے فرمایا: میں کل پرچم اس شخص کو دونگا جو خدا اور اس کے رسول کو دوست رکھنے والا ہوگا اور خدا اور اس کا رسول بھی انہیں دوست رکھتا ہے اور وہ فتح حاصل کئے بغیر واپس نہیں آئے گا، کو بھی سہل نے روایت کی ہے۔[11]

سہل امام حسین(ع) کے کلام میں

امام حسین(ع) نے واقعہ کربلا میں کوفیوں سے مخاطب ہو کر ایک خطبہ ارشاد فرمایا جو آپ کے مقابلے میں جنگ کرنے کیلئے صف آرا تھے، آپ نے اس خطبے میں سہل کو گواہ معرفی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

"اگر میرے اوپر یقین نہیں آرہا ہے تو اب بھی تمہارے درمیان بعض افراد موجود ہیں اگر اس حوالے سے ان سے پوچھا جائے تو وہ تمہیں بتا دینگے، جابر بن عبداللہ انصاری، ابوسعید خدری، سہل بن سعد ساعدی، زید بن ارقم اور انس بن مالک سے پوچھئے تاکہ وہ تمہیں بتا سکیں کہ پیغمبر اکرم(ص) نے یہ جملہ میرے اور میرے بھائی امام حسن مجتبی(ع) کے بارے میں فرماتے ہوئے انہوں نے سنا ہے۔[12]

شام میں اسرائے آل محمد سے ملاقات

امام حسین(ع) کی شہادت کے بعد جب اسرائے اہل بیت(ع) کو شام لے جایا گیا تو سہل نے اپنے آپ کو شام پہنچایا اور اسرائے اہل بیت(ع) کے کاروان سے ملاقات کی اور امام حسین(ع) کی بیٹی سے درخواست کیا کہ اپنی کوئی درخواست ہے تو انہیں بتا دی جائے، امام کی بیٹی نے ان سے کہا کہ شہداء کے سروں کو اسرا سے دور رکھا جائے تاکہ لوگوں کی نظریں پیغمبر اکرم(ص) کی بیٹیوں پر نہ پڑیں۔[13] شام میں اسیران کربلا کے داخل ہونے کی کیفیت کے بارے میں موجود مشہور حدیث کو بھی سہل نے ہی روایت کی ہے۔[14]

اہل بیت(ع) کی حمایت

سنہ ۷۴ق کو حجاج بن یوسف نے سہل کو اپنی دربار میں طلب کر کے عثمان کی حمایت نہ کرنے کے جرم میں ان کا مؤاخذہ کیا۔ [15]حجاج نے رسول خدا(ع) کے بعض اصحاب مانند سہل، جابر بن عبداللہ انصاری اور انس بن مالک کی تحقیر کی خاطر سیسہ کے ذریعے جلائے جانے کا حکم دیا۔ [16]

عزیزاللہ عطاردی مترجم الغارات کے بقول سہل امام علی(ع) اور آپ کے خاندان کے وفاداروں میں سے تھا اسی وجہ سے حجاج انہیں آزار و اذیت دیا کرتا تھا۔[17]

جس وقت سہل مدینہ میں زندگی بسر کرتا تھا آل مروان کا ایک شخص یہاں حکومت کرتا تھا انہوں نے سہل کو اپنی دربار میں طلب کیا اور حضرت علی(ع) کی کنیت ابوتراب کے ساتھ امام کا مزاق اڑایا اور سہل سے امام کے حق میں گستاخی کرنے کا حکم دیا لیکن سہل نے اس سے انکار کیا اور کہا کہ امام علی(ع) کے نزدیک "ابوتراب" سے زیادہ کوئی کنیت عزیر نہیں تھی[18] اور یہ کہ پیغمبر اکرم(ع) امام کو اسی کنیت کے ساتھ خطاب کرتے تھے پھر امام علی(ع) اس کنیت کے ساتھ ملقب ہونے کے واقعے کو ذکر کیا۔[19]

وفات

سہل سنہ ۸۸ یا ۹۱ق میں وفات پائی وفات کے وقت ان کی عمر ۹۶ یا ۹۹ سال تھی۔ [20] مؤرخین نے انہیں مدینہ میں وفات پانے والے پیغمبر اکرم(ص) کے آخری صحابی قرار دئے ہیں۔[21] ان سے نقل ہوا ہے کہ انہوں نے کہا کہ اگر میں مرجاوں تو پهر کسی سے "قال رسول اللہ(ص)" نہیں سنی جائے گی۔[22]

حوالہ جات

  1. ابن اثیر، اسدالغابہ، ج۲، ص۳۲۰.
  2. ابن اثیر، اسدالغابہ، ج۲، ص۳۲۰.
  3. طوسی، رجال، ص۶۶.
  4. مفید، الجمل، ص۱۰۶.
  5. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۸، ص۲۷۸.
  6. بغوی، معجم الصحابہ، ج۳، ص۹۲.
  7. واقدی، المغازی، ج۳، ص۱۰۰۷.
  8. ابن اثیر، اسدالغابہ، ج۲، ص۳۲۰.
  9. خزاز قمی، كفايۃ الأثر، ص۱۹۵
  10. ابن طاووس، الطرائف، ج۱، ص۱۳۹.
  11. ابن طاووس، الطرائف، ج۱، ص۵۸.
  12. مفید، الارشاد، ج‌۲، ص۹۷؛ طبری، تاریخ، ج۵، ص۴۲۵.
  13. مجلسی، بحارالانوار، ج۴۵، ص۱۲۷.
  14. مجلسی، بحارالانوار، ج۴۵، ص۱۲۷-۱۲۸.
  15. طبری، تاریخ، ج۶، ص۱۹۵.
  16. یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، ج۲، ص۲۷۲.
  17. ثقفی، الغارات، (قسمت: اعلام غارات)، ص۴۳۸.
  18. ابن بطریق، العمدۃ، ص۴۴۹؛ نیشابوری، صحیح مسلم، ج۷، ص۱۲۴.
  19. طبری، تاریخ، ج۲، ص۴۰۹.
  20. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج۲، ص۶۶۵؛ ابن اثیر، الکامل، ج۴، ص۵۳۴؛ ابن اثیر، اسدالغابہ، ج۲، ص۳۲۰؛ ابن جوزی،المنتظم، ج۶، ص۳۰۲.
  21. ابن اثیر، اسدالغابہ، ج۲، ص۳۲۰؛ ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج۲، ص۶۶۵.
  22. ابن اثیر، اسدالغابہ، ج۲، ص۳۲۰.


منابع

  • ابن اثیر، علی بن محمد، الکامل فی التاریخ، بیروت، دارصادر، ۱۳۸۵ق.
  • ابن اثیر، علی بن محمد، أسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، بیروت، دارالفکر، ۱۴۰۹ق/۱۹۸۹م.
  • ابن جوزی،أبوالفرج عبدالرحمن بن علی، المنتظم فی تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق: محمد عبدالقادر عطا و مصطفی عبدالقادر عطا، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، ۱۴۱۲ق/۱۹۹۲م.
  • ابن بطریق، یحیی بن حسن حلی، العمدۃ، قم، انتشارات جامعہ مدرسین، ۱۴۰۷ق.
  • ابن سعد، محمد بن سعد، الطبقات الکبری، تحقیق: محمد عبدالقادر عطا، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، ۱۴۱۰ق/۱۹۹۰م.
  • ابن عبدالبر، أیوسف بن عبداللہ، الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب، تحقیق: علی محمد البجاوی، بیروت، دارالجیل، ۱۴۱۲ق/۱۹۹۲م.
  • ابن طاووس، سید علی بن موسی، الطرائف، قم، چاپخانہ خیام، ۱۴۰۰ق.
  • بغوی، ابوالقاسم، معجم الصحابہ.
  • ثقفی، ابراہیم بن محمد، الغارات و شرح حال اعلام آن، ترجمہ: عزیز اللہ عطاردی، قم، مؤسسہ دارالکتاب، ۱۴۱۰ق.
  • خزاز قمی، علی بن محمد، کفایۃ الأثر، قم، انتشارات بیدار، ۱۴۰۱ق.
  • مفید، محمد بن محمد بن نعمان، الإرشاد، قم، انتشارات کنگرہ جہانی شیخ مفید، ۱۴۱۳ق.
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق: محمدأبوالفضل ابراہیم، دارالتراث، بیروت، ۱۳۸۷ق/۱۹۶۷م.
  • طوسی، محمد بن حسن، رجال الطوسی، قم، انتشارات اسلامی جامعہ مدرسین، ۱۴۱۵ق.
  • مجلسی، محمدباقر، بحارالأنوار، بیروت، مؤسسۃ الوفاء، ۱۴۰۴ق.
  • نیشابوری، مسلم بن الحجاج، صحیح مسلم، بیروت، دارالفکر، بی‌تا.
  • واقدی، محمد بن عمر، المغازی، تحقیق: مارسدن جونس، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی، ۱۴۰۹ق/۱۹۸۹م.
  • یعقوبی، احمد بن ابی یعقوب، تاریخ الیعقوبی، بیروت، دارصادر، بی‌تا.

سانچہ:المیہ کربلا