"سہل بن سعد ساعدی" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
م
م
سطر 55: سطر 55:
 
[[شیخ طوسی]] انہیں امام علی(ع) کا پیروکار مانتا ہے۔<ref>طوسی، رجال، ص۶۶.</ref>
 
[[شیخ طوسی]] انہیں امام علی(ع) کا پیروکار مانتا ہے۔<ref>طوسی، رجال، ص۶۶.</ref>
  
پیغمبر اکرم(ص) کی دو [[بیعت]]، دو [[قبلہ]] کی طرف  [[نماز]] پڑھنا اور پیغمبر اکرم (ص) کی زبانی ان کی تعریف و تمجید ان کے افتخارات میں سے ہیں۔<ref> مفید، الجمل، ص۱۰۶.</ref> ان کی بہنیں نائلہ اور عمرہ [[مدینہ]]میں پیغمبر اکرم(ص) کی بیعت کرنے والی عورتوں میں سے تھیں۔<ref> ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۸، ص۲۷۸.</ref>
+
پیغمبر اکرم(ص) کی دو [[بیعت]]، دو [[قبلہ]] کی طرف  [[نماز]] پڑھنا اور پیغمبر اکرم (ص) کی زبانی ان کی تعریف و تمجید ان کے افتخارات میں سے ہیں۔<ref> مفید، الجمل، ص۱۰۶.</ref> ان کی بہنیں نائلہ اور عمرہ [[مدینہ]]میں پیغمبر اکرم(ص) کی بیعت کرنے والی عورتوں میں سے تھیں۔<ref> ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۸، ص۲۷۸.</ref>
  
 
[[جنگ تبوک]] کے وقت اگرچہ ان کی عمر کم تھی لیکن انہوں نے اس جنگ میں شرکت کی اس بارے میں وہ خود کہتے تھے:
 
[[جنگ تبوک]] کے وقت اگرچہ ان کی عمر کم تھی لیکن انہوں نے اس جنگ میں شرکت کی اس بارے میں وہ خود کہتے تھے:

نسخہ بمطابق 07:03, 27 جنوری 2017

سہل بن سعد ساعدی
کوائف
مکمل نام سہل بن سعد بن مالک انصاری ساعدی
کنیت ابوالعباس • ابویحیی
محل زندگی مدینہ
مہاجر/انصار انصار
نسب بنی ساعدہ
مشہوررشتےدار سعد بن مالک انصاری ساعدی(والد)
وفات/شہادت ۸۸ یا۹۱ق جنگ صفین
مدفن مدینہ
دینی خدمات
اسلام لانا بعثت کے ابتدائی ایام میں
جنگ تبوک
دیگر کارنامے راوی غدیر • پیامبر کی بیعت • اصحاب امام علی

ابو‌العباس سہل بن سعد ساعدی (متوفی ۸۸ یا ۹۱ ق)، رسول خدا(ص) کے صحابہ، امام علی(ع) کے وفادار ساتھیوں اور حدیث غدیر کے راویوں میں سے تھا۔ پیغمبر اکرم(ص) کی بیعت، جنگ تبوک میں شرکت اور دو قبلہ کی طرف نماز پڑھنا ان کے افتخارات میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے شام میں اسرائے کربلا سے ملاقات اور شام میں ان لائے جانے کی کیفت کو روایت کی ہے۔ وہ پیغمبر اکرم(ص) کے آخری صحابی تھا جو مدینہ میں وفات پائی۔

پیغمبر اکرم(ص) کے دور میں

سہل بن سعد بن مالک بن خالد بن ثعلبۃ بن حارثۃ بن عمرو بن الخزرج بن ساعدۃ بن کعب بن الخزرج الأنصاری الساعدی، رسول خدا(ص) کے صحابہ اور طایفہ بنی‌ساعدہ سے ان کا تعلق تھا۔ پیغمبر اکرم(ص) کی رحلت کے وقت ان کی عمر ۱۵ سال تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا اصل نام حزن تھا اور پیغمبر اکرم(ص) نے اسے تبدیل کر کے سہل نام رکھا۔ [1] ان کی کنیت ابوالعباس اور ابویحیی تھی۔ [2]

شیخ طوسی انہیں امام علی(ع) کا پیروکار مانتا ہے۔[3]

پیغمبر اکرم(ص) کی دو بیعت، دو قبلہ کی طرف نماز پڑھنا اور پیغمبر اکرم (ص) کی زبانی ان کی تعریف و تمجید ان کے افتخارات میں سے ہیں۔[4] ان کی بہنیں نائلہ اور عمرہ مدینہمیں پیغمبر اکرم(ص) کی بیعت کرنے والی عورتوں میں سے تھیں۔[5]

جنگ تبوک کے وقت اگرچہ ان کی عمر کم تھی لیکن انہوں نے اس جنگ میں شرکت کی اس بارے میں وہ خود کہتے تھے:

میں اپنی تمام دوستوں میں کم عمر تھا اور جنگ تبوک میں ان کی خدمت انجام دیتا تھا۔[6] البتہ بعض منابع میں مقریہم کا لفظ آیا ہے جس کے معنی قرآن پڑھنے والے کے ہیں،[7] ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان منابع میں غلطی سے ایسا لکھا گیا ہے ورنہ اصل کلمہ "شَفْرَتَہم" ہے جس کے معنی خدمتکار کے ہیں۔

نقل روایت

سہل نے پیغمبر اکرم(ص)، حضرت علی(ع)، حضرت فاطمہ(س) اور بعض صحابہ احادیث نقل کی ہیں۔ ابوہریرہ، سعید بن مسیب، زہری، ابو حازم اور انکا بیٹا عباس بن سہل نے ان سہل سے روایت نقل کئے ہیں۔[8]

ان سے نقل ہوا کہ کہ وہ کہتے تھے: حضرت زہرا(س) سے اماموں کے بارے میں پوچھا تو حضرت نے جواب میں فرمایا: کہ پیغمبر(ص) نے حضرت علی(ع) اور ان کے گیارہ بیٹوں کو بعنوان امام ایک ایک کا نام لیا ہے۔[9]

وہ حدیث غدیر کے گواہ اور راویوں میں سے ہیں[10] اور پیغمبر اکرم(ص) کا مشہور جملہ جو حدیث رایت کے نام سے مشہور ہے جس میں آپ(ص) نے فرمایا: میں کل پرچم اس شخص کو دونگا جو خدا اور اس کے رسول کو دوست رکھنے والا ہوگا اور خدا اور اس کا رسول بھی انہیں دوست رکھتا ہے اور وہ فتح حاصل کئے بغیر واپس نہیں آئے گا، کو بھی سہل نے روایت کی ہے۔[11]

سہل امام حسین(ع) کے کلام میں

  1. ابن اثیر، اسدالغابہ، ج۲، ص۳۲۰.
  2. ابن اثیر، اسدالغابہ، ج۲، ص۳۲۰.
  3. طوسی، رجال، ص۶۶.
  4. مفید، الجمل، ص۱۰۶.
  5. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۸، ص۲۷۸.
  6. بغوی، معجم الصحابہ، ج۳، ص۹۲.
  7. واقدی، المغازی، ج۳، ص۱۰۰۷.
  8. ابن اثیر، اسدالغابہ، ج۲، ص۳۲۰.
  9. خزاز قمی، كفايۃ الأثر، ص۱۹۵
  10. ابن طاووس، الطرائف، ج۱، ص۱۳۹.
  11. ابن طاووس، الطرائف، ج۱، ص۵۸.