سورہ نوح

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
معارج سورۂ نوح جن
سوره نوح.jpg
ترتیب کتابت: 71
پارہ : 29
نزول
ترتیب نزول: 71
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 28
الفاظ: 271
حروف: 972

سورہ نوح قرآن کی اکہترویں سورت ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور قرآن کے ۲۹ ویں پارے میں ہے۔ حضرت نوحؑ کی داستان پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اس سورت کا نام نوح رکھا گیا ہے۔ یہ سورت حق اور باطل کے حامیوں میں جاری ہمیشگی مقابلے اور اہل حق کے حتمی پروگرام کی تصویر کشی کرتی ہے۔ یہ سورت مفصلات یعنی قرآن کی نسبتا چھوٹی سورتوں میں سے ہے۔ اس سورت کی دو آیات مشہور ہیں یعنی آیت تاخیر اجل کہ جس کا نشان (۴) ہے اور دوسری آیت نمبر (۲۸) کہ جس میں اپنی ذات اور مومنین کیلئے مغفرت طلبی(۲۸) کا ذکر ہے۔ اس سورت کی تلاوت کی فضیلت میں منقول ہوا ہے کہ جو شخص سورہ نوح کی تلاوت کرے گا تو اس کا شمار ان مومنین میں ہو گا کہ حضرت نوحؑ کی دعا جن کے شامل حال ہوتی ہے۔

سورت کا تعارف

وجہ تسمیہ

  • اس سورت کو سورہ نوح کا نام دینے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں آغاز سے اختتام تک حضرت نوح علیہ السلام کی داستان بیان کی گئی ہے۔[1]

ترتیب و مقام نزول

  • یہ سورت ترتیب مصحف اور ترتیب نزول دونوں اعتبار سے قرآن کی اکہترویں سورت ہے اور مکی سورتوں میں شمار ہوتی ہے۔[2]

آیات کی تعداد اور دیگر خصوصیات

  • سورہ نوح ۲۸ آیات،[نوٹ 1] 227 کلمات اور 965 حروف پر مشتمل ہے۔ اس سورہ کو ممتحنات کے زمرے میں بھی شمار کیا جاتا ہے [3] کہ جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان سورتوں کا مضمون سورہ ممتحنہ سے مشابہت رکھتا ہے۔ [4] [نوٹ 2]

سورت کا مضمون

اصلی مضمون: حضرت نوحؑ داستان نوح اور آپؑ کی قوم کے حالات کی طرف قرآن کی متعدد سورتوں [نوٹ 3] میں اشارہ کیا گیا ہے؛ تاہم سورہ نوحؑ میں آپ کی زندگی کے ایک خاص حصے کا بیان ہے کہ جس کا کسی دوسرے مقام پر اس اسلوب سے ذکر نہیں ہے۔ [5] اس سورت میں توحید کی جانب آپ کی مسلسل دعوت اور اپنی ہٹ دھرم قوم کو آپؑ کی جانب سے تبلیغ و دعوت کی کیفیت کا بیان ہے۔ [6] اس سورت میں حضرت نوحؑ کی داستان کی مناسبت سے کچھ اور مطالب بھی مذکور ہیں؛ جن میں سے کچھ یہ ہیں:

  • حضرت نوحؑ کے نصائح و مواعظ
  • تقویٰ اور خدا و پیغمبرؐ کی اطاعت پر زور
  • خدا کی نعمتوں اور توحید کے آثار و علامات کا بیان
  • عقائد، فقہ ، اخلاق اور معاشرت کے اصولوں کا ذکر
  • حضرت نوحؑ کی سبق آموز دعائیں اور دعا کرنے کا طریقہ [7]

تفسیری نکات

سورہ نوح کی بعض آیات کے ذیل میں چند تفسیری نکات ذکر کیے گئے ہیں:

حضرت نوحؑ کی دعوت کے تین اصول

سورہ نوح کی تیسری آیت «أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاتَّقُوهُ وَأَطِيعُونِ» کوحضرت نوحؑ کی دعوت کے تین اصولوں کی حامل قرار دیا گیا ہے۔ علامہ طباطبائی کے نزدیک آیت کا پہلا حصہ قوم نوح کی خدا کے حوالے سے شناخت کو واضح کر رہا ہے کہ وہ لوگ خدا کی عبادت کی بجائے خدا کے شفیع ہونے کے عنوان سے بتوں کی عبادت کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلا اصول نوحؑ کی دعوت کو توحید کی دعوت قرار دیتا ہے۔ [8] دوسرا اصول «وَ اتَّقُوهُ» سے ماخوذ ہے یعنی کبیرہ اور صغیرہ گناہوں سے اجتناب یعنی شرک اور اس سے نیچے کے گناہوں سے بچنا اور دوسری طرف سے نیک اعمال کو بجا لانا کہ جنہیں ترک کرنا شائستہ نہیں ہے۔ تیسرا اصول آیت کے تیسرے حصے «وَ أَطِيعُونِ» سے اخذ کیا گیا ہے کہ جس کا معنی نوحؑ کی اطاعت، آپؑ کی رسالت کی تصدیق اور آپؑ سے دینی تعلیمات کی تعلیم حاصل کرنے کے معنی میں قرار دیا گیا ہے۔ [9]

مفاہیم

٭ حضرت نوحؑ کی داستان

  • حضرت نوحؑ کے مواعظ و نصائح
  • تقوائے الہی اور پروردگار اور اس کے پیغمبر کی اطاعت پر تاکید
  • اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا
  • توحید کے آثار و علائم کا ذکر
  • اعتقادی، فقہی، اخلاقی اور سماجی اصولوں کا بیان
  • حضرت نوحؑ کی سبق آموز دعائیں اور دعا کرنے کی روش۔[10]
سورہ نوح کے مضامین[11]
 
 
انسانوں کی ہدایت کے لئے حضرت نوح کی مسلسل کوشش
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا گفتار: آیات 21-28
ہلاکت قوم حضرت نوح
 
پہلا گفتار: آیات 1-20
حضرت نوح کے اپنی قوم کی ہدایت اور نجات کے لیے اقدامات
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلا مطلب؛ آیات 21-23
برے رہبروں کی اطاعت کرنا قوم نوح پر عذاب کی وجہ
 
پہلا اقدام: آیات 1-4
اپنا توحیدی پیغام لوگوں تک پہنچانا
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا مطلب؛ آیات 24-27
حضرت نوح کا کافروں پر عذاب نازل کرنے کا مطالبہ
 
دوسرا اقدام: آیات 5-9
لوگوں کو مسلسل توحید کی دعوت
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا مطلب؛ آیات 28
مومنوں کے لیے حضرت نوح کی دعا
 
تیسرا اقدام: آیات 10-12
لوگوں کو گناہ سے توبہ کرنے کی دعوت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چوتھا اقدام: آیات 13-20
مشرکوں سے احتجاج اور اللہ کی ربوبیت کا اثبات


متن سورہ

سوره نوح
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

إِنَّا أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ أَنْ أَنذِرْ قَوْمَكَ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِيَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿1﴾ قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُّبِينٌ ﴿2﴾ أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقُوهُ وَأَطِيعُونِ ﴿3﴾ يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرْكُمْ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى إِنَّ أَجَلَ اللَّهِ إِذَا جَاء لَا يُؤَخَّرُ لَوْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿4﴾ قَالَ رَبِّ إِنِّي دَعَوْتُ قَوْمِي لَيْلًا وَنَهَارًا ﴿5﴾ فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعَائِي إِلَّا فِرَارًا ﴿6﴾ وَإِنِّي كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوا أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِيَابَهُمْ وَأَصَرُّوا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا ﴿7﴾ ثُمَّ إِنِّي دَعَوْتُهُمْ جِهَارًا ﴿8﴾ ثُمَّ إِنِّي أَعْلَنتُ لَهُمْ وَأَسْرَرْتُ لَهُمْ إِسْرَارًا ﴿9﴾ فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا ﴿10﴾ يُرْسِلِ السَّمَاء عَلَيْكُم مِّدْرَارًا ﴿11﴾ وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَارًا ﴿12﴾ مَّا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا ﴿13﴾ وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا ﴿14﴾ أَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللَّهُ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا ﴿15﴾ وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا ﴿16﴾ وَاللَّهُ أَنبَتَكُم مِّنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا ﴿17﴾ ثُمَّ يُعِيدُكُمْ فِيهَا وَيُخْرِجُكُمْ إِخْرَاجًا ﴿18﴾ وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ بِسَاطًا ﴿19﴾ لِتَسْلُكُوا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا ﴿20﴾ قَالَ نُوحٌ رَّبِّ إِنَّهُمْ عَصَوْنِي وَاتَّبَعُوا مَن لَّمْ يَزِدْهُ مَالُهُ وَوَلَدُهُ إِلَّا خَسَارًا ﴿21﴾ وَمَكَرُوا مَكْرًا كُبَّارًا ﴿22﴾ وَقَالُوا لَا تَذَرُنَّ آلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا ﴿23﴾ وَقَدْ أَضَلُّوا كَثِيرًا وَلَا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا ضَلَالًا ﴿24﴾ مِمَّا خَطِيئَاتِهِمْ أُغْرِقُوا فَأُدْخِلُوا نَارًا فَلَمْ يَجِدُوا لَهُم مِّن دُونِ اللَّهِ أَنصَارًا ﴿25﴾ وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا ﴿26﴾ إِنَّكَ إِن تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا ﴿27﴾ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَن دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَلَا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا تَبَارًا ﴿28﴾

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

بےشک ہم نے نوحؑ کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ اپنی قوم کو ڈراؤ۔ اس سے پہلے کہ ان پر دردناک عذاب آجائے۔ (1) (چنانچہ) انہوں نے کہا کہ اے میری قوم! میں تمہیں ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔ (2) کہ تم (صرف) اللہ کی عبادت کرو اور اس (کی مخالفت) سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ (3) وہ (خدا) تمہارے (پہلے) گناہ بخش دے گا اور تمہیں ایک مقررہ مدت تک مہلت دے گا (باقی رکھے گا) بےشک جب اللہ کا مقررہ وقت آجاتا ہے تو پھر اسے مؤخر نہیں کیا جا سکتا کاش کہ تم (اس حقیقت کو) سمجھتے۔ (4) آپؑ (نوحؑ) نے کہا اے مرے پروردگار میں نے اپنی قوم کو رات دن دعوت دی۔ (5) مگر میری دعوت نے ان کے فرار (گریز) میں اور بھی اضافہ کیا۔ (6) اور میں نے جب بھی انہیں دعوت دی کہ (وہ اس لائق ہوں کہ) تو انہیں بخش دے تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑے اپنے اوپر لپیٹ لئے اور (اپنی روش پر) اڑے رہے اور بڑا تکبر کرتے رہے۔ (7) پھر بھی میں نے ان کو بآوازِ بلند دعوت دی۔ (8) پھر میں نے انہیں (ہر طرح دعوت دی) کھلم کھلا بھی اور چپکے چپکے بھی۔ (9) (چنانچہ) میں نے (ان سے) کہا کہ اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کرو وہ یقیناً بڑا بخشنے والا ہے۔ (10) وہ تم پر آسمان سے موسلادھار بارش برسائے گا۔ (11) اور مال و اولاد سے تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے لئے باغات پیدا کرے گا اور تمہارے لئے نہریں قرار دے گا۔ (12) تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی عظمت کی پروانہیں کرتے؟ (13) حالانکہ اس نے تمہیں طرح طرح سے خلق کیا ہے۔ (14) کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہہ بر تہہ بنا ئے؟ (15) اور ان میں چاند کو نور اور سورج کو چراغ بنایا۔ (16) اور تمہیں خاص طرح زمین سے اگایا ہے۔ (17) پھر تمہیں اس میں لوٹائے گا اور پھر اسی سے (دوبارہ) نکالے گا۔ (18) اور اللہ نے ہی تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا ہے۔ (19) تاکہ تم اس کے کشادہ راستوں میں چلو پھرو۔ (20) نوحؑ نے(بارگاہِ خداوندی میں) عرض کیا اے میرے پروردگار ان لوگوں نے میری نافرمانی کی ہے اور ان (بڑے) لوگوں کی پیروی کی ہے جن کے مال و اولاد نے ان کے خسارے میں اضافہ کیا ہے (اور کوئی فائدہ نہیں پہنچایا)۔ (21) اور انہوں نے (میرے خلاف) بڑا مکر و فریب کیا ہے۔ (22) اور انہوں نے(عام لوگوں سے) کہا کہ (نوحؑ کے کہنے پر) اپنے خداؤں کو ہرگز نہ چھوڑو۔ اور نہ ہی وَد اور سُواع کو چھوڑو اور نہ ہی یغوث و یعوق اور نسر کو چھوڑو۔ (23) اور انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا ہے (یا اللہ) تو بھی ان کی گمراہی کے سوا اور کسی چیز میں اضافہ نہ کر۔ (24) (چنانچہ) وہ اپنی خطاؤں کی وجہ سے غرق کر دئیے گئے پھر آگ میں ڈال دئیے گئے پھر انہوں نے اللہ (کے عذاب) سے بچانے والے کوئی مددگار نہ پا ئے۔ (25) اور نوحؑ نے کہا اے میرے پروردگار! تو ان کافروں میں سے کوئی بھی رُوئے زمین پر بسنے والا نہ چھوڑ۔ (26) اگر تو انہیں چھوڑے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کرینگے اور بدکار اور سخت کافر کے سوا کسی اور کو جنم نہیں دیں گے۔ (27) اے میرے پروردگار! مجھے اور میرے والدین کو بخش دے اور ہر اس شخص کو بخش دے جو مؤمن ہو کر میرے گھر میں داخل ہو اور سب مؤمنین و مؤمنات کی مغفرت فرما اور کافروں کی ہلاکت کے سوا اور کسی چیز میں اضافہ نہ کر۔ (28)

پچھلی سورت: سورہ معارج سورہ نوح اگلی سورت:سورہ جن

1.فاتحہ 2.بقرہ 3.آل‌عمران 4.نساء 5.مائدہ 6.انعام 7.اعراف 8.انفال 9.توبہ 10.یونس 11.ہود 12.یوسف 13.رعد 14.ابراہیم 15.حجر 16.نحل 17.اسراء 18.کہف 19.مریم 20.طہ 21.انبیاء 22.حج 23.مؤمنون 24.نور 25.فرقان 26.شعراء 27.نمل 28.قصص 29.عنکبوت 30.روم 31.لقمان 32.سجدہ 33.احزاب 34.سبأ 35.فاطر 36.یس 37.صافات 38.ص 39.زمر 40.غافر 41.فصلت 42.شوری 43.زخرف 44.دخان 45.جاثیہ 46.احقاف 47.محمد 48.فتح 49.حجرات 50.ق 51.ذاریات 52.طور 53.نجم 54.قمر 55.رحمن 56.واقعہ 57.حدید 58.مجادلہ 59.حشر 60.ممتحنہ 61.صف 62.جمعہ 63.منافقون 64.تغابن 65.طلاق 66.تحریم 67.ملک 68.قلم 69.حاقہ 70.معارج 71.نوح 72.جن 73.مزمل 74.مدثر 75.قیامہ 76.انسان 77.مرسلات 78.نبأ 79.نازعات 80.عبس 81.تکویر 82.انفطار 83.مطففین 84.انشقاق 85.بروج 86.طارق 87.اعلی 88.غاشیہ 89.فجر 90.بلد 91.شمس 92.لیل 93.ضحی 94.شرح 95.تین 96.علق 97.قدر 98.بینہ 99.زلزلہ 100.عادیات 101.قارعہ 102.تکاثر 103.عصر 104.ہمزہ 105.فیل 106.قریش 107.ماعون 108.کوثر 109.کافرون 110.نصر 111.مسد 112.اخلاص 113.فلق 114.ناس


متعلقہ مآخذ

حوالہ جات

  1. خرمشاهی، «سوره نوح»، ص۱۲۵۸.
  2. صفوی، «سوره نوح»، ص۸۳۰.
  3. رامیار، تاریخ قرآن، ۱۳۶۲ش، ص۳۶۰و۵۹۶.
  4. فرهنگ‌نامه علوم قرآن، ج۱، ص۲۶۱۲.
  5. مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ۱۳۷۱ش، ج۲۵، ص۵۳.
  6. مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ۱۳۷۱ش، ج۲۵، ص۵۳.
  7. خرمشاهی، «سوره نوح»، ص۱۲۵۹-۱۲۵۸.
  8. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ،ج ۲۰، ص۲۶.
  9. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ،ج ۲۰، ص۲۶-۲۷؛ مکارم، تفسیر نمونه، ۱۳۷۱ش، ج ۲۵، ص ۵۸.
  10. دانشنامه قرآن و قرآن پژوهی، ج2، ص1259۔1258۔
  11. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ1، 1392شمسی۔


مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔


خطا در حوالہ: <ref> tags exist for a group named "نوٹ", but no corresponding <references group="نوٹ"/> tag was found, or a closing </ref> is missing