سارا

ویکی شیعہ سے
نظرثانی بتاریخ 11:32, 30 اپريل 2019 از Shamsoddin (تبادلۂ خیال | شراکتیں) (متعلقہ مضامین)
(فرق) → پرانا نسخہ | حالیہ نظرثانی (فرق) | →اگلا اعادہ (فرق)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سارا
معلومات شخصیت
مکمل نام سارا زوجہ حضرت ابراہیم
دینی مشخصات
وجہ شہرت زوجہ پیغمبر، مادر نبی


سارا، حضرت ابراہیم (ع) کی زوجہ اور حضرت اسحاق (ع) کی والدہ ہیں۔ جو کچھ قرآن کریم کے دو سورہ میں ذکر ہوا ہے اس کے مطابق، فرشتوں نے ۹۰ برس کی عمر میں سارا کو ان کے بطن سے اسحاق نامی فرزند پیدا ہونے کی بشارت دی۔ فرشتوں کے آپ سے گفتگو کرنے کی وجہ سے آپ بھی حضرت مریم (ع) و حضرت فاطمہ زہرا (ع) کی طرح محدثہ کہلاتی ہیں۔

حضرت اسحاق کی ولادت سے بہت پہلے حضرت سارا نے اپنی کنیز ہاجرہ حضرت ابراہیم (ع) کو بخش دی تھی تا کہ ان سے ان کے یہاں اولاد پیدا ہو۔ شیخ صدوق نے روایات نقل کی ہیں جن کے مطابق حضرت اسماعیل (ع) کی ولادت کے بعد سارا میں حسد پیدا ہونے کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ حالانکہ بعض معاصر محققین نے ان روایات کی دلالت اور سند میں شک کا اظہار کیا ہے۔

سوانح حیات

اسلامی روایات کے مطابق، سارا ابراہیم (ع) کے چچا اور خالہ کی بیٹی تھیں۔[1] سارہ اور ابراہیم کی والدہ دونوں لاحج پیغمبر کی بیٹیاں تھیں۔ ایک نے ابراہیم کے والد تارخ اور دوسری نے تارخ کے بھائی، بتوائیل سے شادی کی۔[2] سارا لوط(ع) کی سوتیلی بہن ہیں۔ [3] سارا کی ولادت بابل (عراق) کے ایک دیہات "کوثی" میں ہوئی ہے۔ [4]

جب ابراہیم (ع) نے توحید کی دعوت دی تو سارا اور ان کے بھائی لوط (ع) آپ پر ایمان لے آئے۔[5] اسی طرح سے انہوں نے اپنے چچا کے بیٹے ابراہیم سے شادی کی۔[6] سارا اپنے زمانہ کی خوب صورت ترین خواتین میں سے تھیں۔[7] وہ بہت سے کھیت اور چوپاؤں کی مالکہ تھیں اور انہوں نے وہ سب حضرت ابراہیم (ع) کے حوالے کر دیا تھا۔[8]

مصر کی طرف ہجرت

ابراہیم (ع) کی توحیدی دعوت کے بعد بابل کے بہت کم لوگ آپ پر ایمان لائے۔ اسی وجہ سے، مجبوراً ابراہیم (ع) نے سارا اور لوط (ع) کے ہمراہ شام ہجرت کی لیکن قحطی اور سارا کی بیماری کی وجہ سے ابراہیم (ع) اور سارا نے مصر جانے کا ارادہ کیا۔[9]

تاریخی روایات کے مطابق بادشاہ مصر سارہ کی خوبصورتی سے با خبر ہو گیا۔ [10] اور حضرت ابراہیم (ع) بادشاہ کے سوال کے جواب میں کہ ان سے ان کی کیا نسبت ہے، انہیں اپنی بہن متعارف کراتے ہیں۔[11] ابن اثیر کے بقول جناب ابراہیم کو معلوم تھا کہ اگر وہ انہیں اپنی زوجہ بتائیں تو بادشاہ ان کے قتل کا حکم دے دے گا اور سارہ کو اپنے قبضے میں لے لے گا لہذا انہوں نے حقیقت کو مخفی رکھا۔[12] باشاہ مصر نے سارہ کو حاضر کیا اور ان کی طرف دست درازی کا ارادہ کیا مگر اسی اثنا میں اس کا ہاتھ خشک ہو گیا۔[13] بادشاہ نے سارہ سے کہا کہ وہ دعا کریں تا کہ اس کا ہاتھ ٹھیک ہو جائے تو وہ انہیں چھوڑ دے گا۔ ان کی دعا سے اس کا ہاتھ صحیح ہو گیا۔ اس نے پھر غلط ارادہ کیا اس کا ہاتھ پھر خشک ہو گیا۔ تین بار ایسا ہی ہوا۔[14] آخر پشیمان ہو گیا اور اس نے انہیں ہاجرہ نامی اپنی کنیز اور دوسرے ہدایا کے ساتھ آزاد کر دیا۔[15]

90 برس کی عمر میں فرشتوں کا بشارت دینا

تاریخی مصادر میں ذکر ہوا ہے کہ جب سارا کی عمر ٩٠ برس ہو گئی تو فرشتوں نے انہیں صاحب اولاد ہونے کی خوشخبری سنائی۔[16] سارا یہ خبر سن کر حیرانی سے ہنسیں اور انہوں نے کہا: کیسے ممکن ہے کہ ایک بانجھ اور عمر رسیدہ خاتون حاملہ ہو؟ [17] کچھ مدت کے بعد سارا حاملہ ہو گئیں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں بیٹا عطا کیا جس کا نام اسحاق رکھا گیا۔[18] قرآن کریم کے دو سورہ میں فرشتوں کی طرف سے انہیں بشارت دینے اور سارہ کے اس خبر پر رد عمل کا ذکر ہوا ہے۔[19]

فرشتوں کی طرف سے بشارت سے پہلے سارہ نے اپنے بانجھ پن کی وجہ سے حضرت ابراہیم (ع) کو اپنی کنیز ہاجرہ بخش دی تھی تا کہ وہ ان سے صاحب فرزند ہو جائیں اور ہاجرہ سے ان کے یہاں حضرت اسماعیل (ع) کی ولادت ہوئی۔[20]

وفات

سارا کی وفات ١٢٧ سال کی عمر میں حبران شہر میں ہوئی۔[21] وفات کے بعد ابراہیم نے حبرون میں رہنے والوں سے ایک مقام خریدا جہاں پر سارا کو دفن کیا۔[22] بعد میں اسی مقام پر، حضرت ابراہیم (ع)، اسحاق (ع) اور یعقوب (ع) دفن ہوئے۔[23] عصر حاضر میں یہ جگہ "مسجد الابراہیمی" کے نام سے مشہور ہے اور قدس کے جنوب میں شہر "الخلیل" میں واقع ہے۔[24]

خصوصیات و امتیازات

امام علی علیہ السلام سے منقول ایک روایت کے مطابق، سارا کے ساتھ ملائکہ نے گفتگو کی ہے اور انہیں جناب اسحاق کی بشارت دی ہے۔ اسی وجہ سے آپ کو محدثہ کہا گیا ہے۔[25] مذکورہ روایت کے مطابق، حضرت مریم، حضرت زہرا اور مادر حضرت موسی محدثہ ہیں۔[26] شیعوں کا عقیدہ ہے کہ ملائکہ نے فقط اانبیا و مرسلین کے ساتھ ہی گفتگو نہیں کی ہے بلکہ ائمہ معصومین علیہم السلام، حضرت فاطمہ زہرا و دیگر حضرات کے ساتھ بھی گفتگو کی ہے۔[27] قرآن کریم کی بعض آیات میں جیسے سورہ آل عمران کی آیت 42 و 45 میں فرشتوں کا حضرت مریم کے ساتھ گفتگو کرنا، اس بات کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔[28]

سارا کے بارے میں شیخ صدوق و علی بن ابراہیم قمی سے منقول بعض روایات میں جناب اسماعیل کی ولادت کے بعد ان کی حسادت و بد خلقی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صبر کا ذکر ہوا ہے۔[29] بعض معاصر محققین کے مطابق یہ روایات سند اور دلالت کے لحاظ سے ضعیف اور قابل قبول نہیں ہیں۔[30] توریت کے نقل کے مطابق، سارہ نے حضرت ابراہیم سے درخواست کی کہ وہ ہاجرہ اور اسماعیل کو گھر سے باہر نکال دیں۔ لیکن حضرت ابراہیم ان کی اس بات سے ناراض ہو گئے۔[31] لیکن بعد میں جب خداوند عالم نے انہیں اس کام کا حکم دیا تو وہ سارا کی بات پر عمل کرنے پر مجبور ہو گئے۔[32]

بعض روایات کے مطابق، عالم برزخ میں مومنین اور شیعہ بچوں کی تربیت سارا اور ابراہیم (ع) کے ذمہ ہے تا کہ ان کی تربیت کریں اور پھر ان کے والدین کو واپس کریں۔[33]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. حسنی عاملی، الأنبیاء حیاتہم-قصصہم، ۲۰۰۲ ع، ص۱۱۵.
  2. حسنی عاملی، الأنبیاء حیاتہم-قصصہم، ۲۰۰۲ ع، ص۱۱۵.
  3. حسنی عاملی، الأنبیاء حیاتہم-قصصہم، ۲۰۰۲ ع، ص۱۱۵.
  4. محلاتی، ریاحین الشریعہ، ۱۳۶۹ش، ج۵، ۱۱۶ و ۱۱۷.
  5. طبری، تاریخ طبری، ۱۳۷۵ش، ج۱، ص۱۸۲و ۱۸۳.
  6. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۱، ص۲۴۵.
  7. ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ۱۳۸۵ق، ج۱، ص۱۰۱؛ مقدسی، البدء و التاریخ، مکتبة الثقافة الدینیہ، ج۳، ص۵۱.
  8. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۸، ص۳۷۰.
  9. دقس، آشنایی با زنان قرآنی، ۱۳۸۹ش، ص۱۱۰ و ۱۱۱.
  10. ابن کثیر، البدایہ و النہایہ، ۱۴۰۷ق/۱۹۸۶م، ج۱، ص۱۵۰؛ فعال عراقی، داستان‌ های قرآن و تاریخ انبیاء در المیزان، ۱۳۷۸ش، ص۳۶۸
  11. ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ۱۳۸۵ق، ج۱، ص۱۰۱.
  12. ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ۱۳۸۵ق، ج۱، ص۱۰۱.
  13. ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ۱۳۸۵ق، ج۱، ص۱۰۱.
  14. ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ۱۳۸۵ق، ج۱، ص۱۰۱.
  15. مقدسی، البدء و التاریخ، مکتبة الثقافة الدینیہ، ج۳، ص۵۲.
  16. دقس، آشنایی با زنان قرآنی، ۱۳۸۹ش، ص۱۱۶-۱۱۹
  17. دقس، آشنایی با زنان قرآنی، ۱۳۸۹ش، ص۱۱۶-۱۱۹.
  18. طبری، تاریخ طبری، ۱۳۷۵ش، ج۱، ص۱۸۷.
  19. نگاه کریں: سوره هود، آیہ ۷۱-۷۳؛ سوره ذاریات، آیہ ۲۹ و ۳۰.
  20. مقدسی، البدء و التاریخ، مکتبة الثقافة الدینیہ، ج۳، ص۵۳.
  21. ابن خلدون، ديوان المبتدأ و الخبر، ۱۴۰۸ق، ج۲، ص۴۳.
  22. ابن خلدون، ديوان المبتدأ و الخبر، ۱۴۰۸ق، ج۲، ص۴۳.
  23. مقدسی، البدء و التاریخ، مکتبة الثقافة الدینیہ، ج۳، ص۵۲-۵۳.
  24. حسینی جلالی، مزارات اهل البیت و تاریخها، ۱۴۱۵ق، ص۲۵۴.
  25. عاشور، موسوعة اهل البیت، ۱۴۲۷ق، ج۷، ص۲۴.
  26. عاشور، موسوعة اهل البیت، ۱۴۲۷ق، ج۷، ص۲۴.
  27. امینی، مصحف فاطمی، ۱۳۸۲ش، ص۶۰.
  28. امینی، مصحف فاطمی، ۱۳۸۲ش، ص60.61
  29. صدوق، الخصال، ۱۴۰۳ق. ص۳۰۷؛ صدوق، معانی الأخبار، ۱۳۶۱ش، ص۱۲۸؛ قمی، تفسیر القمی، ۱۳۶۳ق، ج۱، ص۶۰.
  30. تہامی/ فرجامی، ساره ابراہیم(ع) کی زوجہ قرآن و روایات میں، ۱۳۸۷ش، ش۴۳، ص۹۶-۱۲۰.
  31. کتاب مقدس، سفر پیدایش، باب ۲۱، آیہ ۹-۱۵.
  32. کتاب مقدس، سفر پیدایش، باب ۲۱، آیہ ۹-۱۵.
  33. صدوق، من لا یحضره الفقیہ، ۱۴۱۳ق،‏ ج۳، ص۴۹۰؛ مجلسی، ۱۴۰۳ق‏،‏ ج۵، ص۲۹۳.


مآخذ

  • ابن‌ اثیر، عز الدین علی، الكامل فی التاریخ، ترجمہ ابو القاسم حالت و عباس خلیلی، تہران، مؤسسہ مطبوعاتی علمی، ۱۳۷۱ش.
  • ابن‌ اثیر، علی‌ بن ابی‌الکرم، الکامل فی التاریخ، بیروت، دارصادر، ۱۳۸۵ق.
  • ابن‌ خلدون، عبد الرحمن‌ بن محمد، العبر: تاریخ ابن خلدون، ترجمہ عبد المحمد آیتی، مؤسسہ (پژوہشگاه) مطالعات و تحقیقات فرہنگی، چاپ اول، ۱۳۶۳ش.
  • ابن‌ كثیر، ابو الفداء اسماعیل بن عمر، البدایہ و النهایہ، بیروت، دارالفكر، ۱۴۰۷ق/ ۱۹۸۶م.
  • ابن‌ ہشام، عبد الملک بن ہشام، سیره النبویہ، تصحیح: مصطفی سقا، بیروت، دارالمعرفۃ، بی‌تا.
  • بورونی، علی، زنان ابراہیم در روایات و تواریخ یہودی، مسیحی و اسلامی، مشہد، دانشگاه فردوسی، تاریخ‌پژوہی، پاییز و زمستان ۱۳۸۷ش، ش۳۶ و ۳۷، ص۱۲۱.
  • ترجمہ تفسیری کتاب مقدس، تہران، اساطیر، ۱۳۷۷ش.
  • تہامی، فاطمه‌ سادات/ فرجامی، اعظم، سارا ابراهیم(ع)کی زوجہ، قرآن و روایات میں، صحیفہ مبین، تہران، پژوہشکده قرآن و عترت-معاونت فرہنگی دانشگاه آزاد، پاییز۱۳۸۷ش، ش۴۳، ص۹۶-۱۲۰.
  • حسنی عاملی، عبدالصاحب، الأنبیاء حیاتہم-قصصہم، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، ۲۰۰۲م.
  • دقس، فؤاد حمدو، آشنایی با زنان قرآنی، ترجمہ فاطمہ حیدری، تہران، مشعر، ۱۳۸۹ش.
  • صدوق، محمد بن علی، الخصال، تصحیح علی‌اکبر غفاری، جامعہ مدرسین حوزه علمیہ قم، ۱۴۰۳ق.
  • صدوق، محمد بن علی، معانی الأخبار، قم، دفتر انتشارات اسلامی، ۱۳۶۱ش.
  • صدوق، محمد بن علی، من لایحضره الفقیہ، تصحیح:علی‌اکبر غفاری، قم‏، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزه علمیہ قم‏، چاپ دوم‏، ۱۴۱۳ق.
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ترجمہ ابو القاسم پاینده، تہران، اساطیر، چاپ پنجم، ۱۳۷۵ش.
  • فعال عراقی، حسین، داستان‌ ہای قرآن و تاریخ انبیاء در المیزان، تہران، سبحان، ۱۳۷۸ش، نسخه اینترنتی قائمیہ اصفہان.
  • قمی، علی‌ بن ابراہیم، تفسیر القمی، سیدطیب موسوی جزائری کی کوشش، قم، دارالکتاب، ۱۳۶۳ش.
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تصحیح علی‌اکبر غفاری، تہران، دارالکتب الاسلامیۃ، ۱۴۰۷ق.
  • مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، بیروت‏، دار إحیاء التراث العربی، چاپ دوم، ۱۴۰۳ق‏.
  • مقدسی، محمد بن‌ طاہر، البدء و التاریخ، ترجمہ محمد رضا شفیعی کدکنی، تہران، آگہ، چاپ اول، ۱۳۷۴ش.
  • محدثہ ہونا فضیلت ہے یا خاص خصوصیت؟، گروه تاریخ و سیره معصومین پایگاه اینترنتی موسسہ فرہنگی و اطلاع رسانی تبیان، تاریخ انتشار: ۱۲-۱۱-۱۳۹۵ش، تاریخ بازدید: ۰۳-۰۲-۱۳۹۶ش.
  • محلاتی، ذبیح‌الله، ریاحین الشریعہ در ترجمہ بانوان مسلمان شیعہ، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، ۱۳۶۹ش.
  • مرتضوی، سید ضیاء، ساره ہمسر قہرمان توحید؛ حاجر، محاجر سرزمین توحید، قم، مجلہ پیام زن - پرتال نشریات دفتر تبلیغات اسلامی حوزه علمیه قم، فروردین ۱۳۷۸ش، ش۸۵، تاریخ بازدید: ۰۳-۰۲-۱۳۹۶ش.