"خطبہ فدکیہ کا متن" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
(«جب ابوبکر اور عمر نے حضرت فاطمہ سے فدک لینا چاہا اور یہ خبر آپؑ تک پہنچی ت...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا)
(کوئی فرق نہیں)

نسخہ بمطابق 13:22, 14 جنوری 2019

جب ابوبکر اور عمر نے حضرت فاطمہ سے فدک لینا چاہا اور یہ خبر آپؑ تک پہنچی تو سر پر ردا اوڑھی اور بنی ہاشم کی خواتین کے ایک گروہ میں مسجد کی جانب روانہ ہوئیں جبکہ آپ کی ردا زمین پر لگ رہی تھی۔ آپؑ پیغمبر اکرمؐ کی طرح راستہ چلتے ہوئے خلیفہ کے پاس پہنچی جبکہ ابوبکر مہاجر و انصار اور بعض دوسرے لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے۔ آپؑ اور دوسروں کے درمیان ایک پردہ ڈالا گیا، پھر آپؑ نے دلسوز آواز میں روئی اور سارے لوگ رونے لگے اور مسجد میں ایک تحریک کی شکل بن گئی۔ کچھ دیر کے لیے آپ کچھ دیر کے لیے خاموش ہوئی تو لوگوں کی سرگوشیاں اور نالہ و زاری بند ہوگئی۔ جذبات کنٹرول ہوگئے۔ پھر آپ نے اپنی بات کو اللہ تعالی کی حمد و ثنا سے شروع کیا، اللہ کے رسول پر درود بھیجا، اور دوبارہ لوگوں کے رونے کی آواز بلند ہوگئی، جب سکوت طاری ہوا تو آپ نے اپنی بات جاری رکھا اور فرمایا:[1]

خطبہ فدکیہ کا متن اور اردو ترجمہ

خطبہ فدکیہ کا متناردو ترجمہ
اَلْحَمْدُللَّـهِ عَلی ما اَنْعَمَ، وَ لَهُ الشُّكْرُ عَلی ما اَلْهَمَ، وَ الثَّناءُ بِما قَدَّمَ، مِنْ عُمُومِ نِعَمٍ اِبْتَدَاَها، وَ سُبُوغِ الاءٍ اَسْداها، وَ تَمامِ مِنَنٍ اَوْلاها، جَمَّ عَنِ الْاِحْصاءِ عَدَدُها، وَ نَأی عَنِ الْجَزاءِ اَمَدُها، وَ تَفاوَتَ عَنِ الْاِدْراكِ اَبَدُها، وَ نَدَبَهُمْ لاِسْتِزادَتِها بِالشُّكْرِ لاِتِّصالِها، وَ اسْتَحْمَدَ اِلَی الْخَلائِقِ بِاِجْزالِها، وَ ثَنی بِالنَّدْبِ اِلی اَمْثالِها.ميں خدا كى نعمتوں پر اس كى ستائش کرتی ہوں اور اس كى توفيقات پر شكر ادا كرتى ہوں اس كى بے شمار نعمتوں پر اس كى حمد و ثنا بجالاتى ہوں وہ نعمتيں جن كى كوئی انتہا نہيں اور ان كى تلافى اور تدارك نہیں كيا جاسكتا، ان كى انتہا كا تصور كرنا ممكن بھی نہيں، خدا ہم سے چاہتا ہے كہ ہم اس كى نعمتوں كو جانيں اور ان كا شكريہ ادا كريں تا كہ اللہ تعالى نعمتوں كو اور زيادہ كرے۔ خدا ہم سے چاہتا ہے كہ ہم اس كى نعمتوں كو جانيں اور ان كا شكرہ ادا كريں تا كہ اللہ تعالى مقامى نعمتوں كو اور زيادہ كرے۔ خدا نے ہم سے حمد و ثنا كو طلب كيا ہے تا كہ وہ اپنى نعمتوں كو ہمارے لئے زيادہ كرے۔
وَ اَشْهَدُ اَنْ لااِلهَ اِلاَّ اللَّـهُ وَحْدَهُ لاشَریكَ لَهُ، كَلِمَةٌ جَعَلَ الْاِخْلاصَ تَأْویلَها، وَ ضَمَّنَ الْقُلُوبَ مَوْصُولَها، وَ اَنارَ فِی التَّفَكُّرِ مَعْقُولَها، الْمُمْتَنِعُ عَنِ الْاَبْصارِ رُؤْیتُهُ، وَ مِنَ الْاَلْسُنِ صِفَتُهُ، وَ مِنَ الْاَوْهامِ كَیفِیتُهُ. اِبْتَدَعَ الْاَشْیاءَ لامِنْ شَیءٍ كانَ قَبْلَها، وَ اَنْشَاَها بِلاَاحْتِذاءِ اَمْثِلَةٍ اِمْتَثَلَها، كَوَّنَها بِقُدْرَتِهِ وَ ذَرَأَها بِمَشِیتِهِ، مِنْ غَیرِ حاجَةٍ مِنْهُ اِلی تَكْوینِها، وَ لافائِدَةٍ لَهُ فی تَصْویرِها، اِلاَّ تَثْبیتاً لِحِكْمَتِهِ وَ تَنْبیهاً عَلی طاعَتِهِ، وَ اِظْهاراً لِقُدْرَتِهِ وَ تَعَبُّداً لِبَرِیتِهِ، وَ اِعْزازاً لِدَعْوَتِهِ، ثُمَّ جَعَلَ الثَّوابَ عَلی طاعَتِهِ، وَ وَضَعَ الْعِقابَ عَلی مَعْصِیتِهِ، ذِیادَةً لِعِبادِهِ مِنْ نِقْمَتِهِ وَ حِیاشَةً لَهُمْ اِلی جَنَّتِهِ.ميں خدا كى توحيد اور يگانگى گواہى ديتى ہوں توحيد كا وہ كلمہ كہ اخلاص كو اس كى روح اور حقيقت قرار ديا گيا ہے اور دل ميں اس كى گواہى دے تا كہ اس سے نظر و فكر روشن ہو، وہ خدا كہ جس كو آنكھ كے ذريعے ديكھا نہيں جاسكتا اور زبان كے ذريعے اس كى وصف اور توصيف نہيں كى جاسكتى وہ كس طرح كا ہے يہ وہم نہيں آسكتا۔ عالم كو عدم سے پيدا كيا ہے اور اس كے پيدا كرنے ميں وہ محتاج نہ تھا اپنى مشيئت كے مطابق خلق كيا ہے۔ جہان كے پيا كرنے ميں اسے اپنے كسى فائدے كے حاصل كرنے كا قصد نہ تھا۔ جہان كو پيدا كيا تا كہ اپنى حكمت اور علم كو ثابت كرے اور اپنى اطاعت كى ياد دہانى كرے، اور اپنى قدرت كا اظہار كرے، اور بندوں كو عبادت كے لئے برانگيختہ كرے، اور اپنى دعوت كو وسعت دے، اپنى اطاعت كے لئے جزاء مقرر كى اور نافرمانى كے لئے سزا معين فرمائي۔ تا كہ اپنے بندوں كو عذاب سے نجات دے اور بہشت كى طرف لے جائے۔
وَ اَشْهَدُ اَنَّ اَبی مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ، اِخْتارَهُ قَبْلَ اَنْ اَرْسَلَهُ، وَ سَمَّاهُ قَبْلَ اَنْ اِجْتَباهُ، وَ اصْطَفاهُ قَبْلَ اَنْ اِبْتَعَثَهُ، اِذ الْخَلائِقُ بِالْغَیبِ مَكْنُونَةٌ، وَ بِسَتْرِ الْاَهاویلِ مَصُونَةٌ، وَ بِنِهایةِ الْعَدَمِ مَقْرُونَةٌ، عِلْماً مِنَ اللَّـهِ تَعالی بِمائِلِ الْاُمُورِ، وَ اِحاطَةً بِحَوادِثِ الدُّهُورِ، وَ مَعْرِفَةً بِمَواقِعِ الْاُمُورِ.ميں گواہى ديتى ہوں كہ ميرے والد محمد(ص) اللہ كے رسول اور اس كے بندے ہيں، پيغمبرى كے لئے بھيجنے سے پہلے اللہ نے ان كو چنا اور قبل اس كے كہ اسے پيدا كرے ان كا نام محمّد(ص) ركھا اور بعثت سے پہلے ان كا انتخاب اس وقت كيا جب كہ مخلوقات عالم غيب ميں پنہاں اور چھپى ہوئي تھى اور عدم كى سرحد سے ملى ہوئي تھي، چونكہ اللہ تعالى ہر شئي كے مستقبل سے باخبر ہے اور حوادث دہر سے مطلع ہے اور ان كے مقدرات كے موارد اور مواقع سے آگاہ ہے۔
اِبْتَعَثَهُ اللَّـهُ اِتْماماً لِاَمْرِهِ، وَ عَزیمَةً عَلی اِمْضاءِ حُكْمِهِ، وَ اِنْفاذاً لِمَقادیرِ رَحْمَتِهِ، فَرَأَی الْاُمَمَ فِرَقاً فی اَدْیانِها، عُكَّفاً عَلی نیرانِها، عابِدَةً لِاَوْثانِها، مُنْكِرَةً للَّـهِ مَعَ عِرْفانِها.

فَاَنارَ اللَّـهُ بِاَبیمُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّـهُ عَلَیهِ و الِهِ ظُلَمَها، وَ كَشَفَ عَنِ الْقُلُوبِ بُهَمَها، وَ جَلی عَنِ الْاَبْصارِ غُمَمَها، وَ قامَ فِی النَّاسِ بِالْهِدایةِ، فَاَنْقَذَهُمْ مِنَ الْغِوایةِ، وَ بَصَّرَهُمْ مِنَ الْعِمایةِ، وَ هَداهُمْ اِلَی الدّینِ الْقَویمِ، وَ دَعاهُمْ اِلَی الطَّریقِ الْمُسْتَقیمِ. ثُمَّ قَبَضَهُ اللَّـهُ اِلَیهِ قَبْضَ رَأْفَةٍ وَ اخْتِیارٍ، وَ رَغْبَةٍ وَ ایثارٍ، فَمُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّـهُ عَلَیهِ و الِهِ مِنْ تَعَبِ هذِهِ الدَّارِ فی راحَةٍ، قَدْ حُفَّ بِالْمَلائِكَةِ الْاَبْرارِ وَ رِضْوانِ الرَّبِّ الْغَفَّارِ، وَ مُجاوَرَةِ الْمَلِكِ الْجَبَّارِ، صَلَّی اللَّـهُ عَلی أَبی نَبِیهِ وَ اَمینِهِ وَ خِیرَتِهِ مِنَ الْخَلْقِ وَ صَفِیهِ، وَ السَّلامُ عَلَیهِ وَ رَحْمَةُاللَّـهِ وَ بَرَكاتُهُ.

ثم التفت الی اهل المجلس و قالت:
خدا نے محمّد(ص) كو مبعوث كيا تا كہ اپنے امر كو آخر تك پہنچائے اور اپنے حكم كو جارى كردے، اور اپنے مقصد كو عملى قرار دے۔ لوگ دين ميں تفرق تھے اور كفر و جہالت كى آگ ميں جل رہے تھے، بتوں كى پرستش كرتے تھے اور خداوند عالم كے دستورات كى طرف توجہ نہيں كرتے تھے۔ پس حضرت محمّد(ص) كے وجود مبارك سے تاريكياں چھٹ گئيں اور جہالت اور نادانى دلوں سے دور ہوگئي، سرگردانى اور تحير كے پردے آنكھوں سے ہٹا ديئے گئے ميرے باپ لوگوں كى ہدايت كے لئے كھڑے ہوئے اور ان كو گمراہى سے نجات دلائي اور نابينا كو بينا كيا اور دين اسلام كى طرف راہنمائي فرمائي اور سيدھے راستے كى طرف دعوت دي، اس وقت خداوند عالم نے اپنے پيغمبر كى مہربانى اور اس كے اختيار اور رغبت سے اس كى روح قبض فرمائي۔ اب ميرے باپ اس دنيا كى سختيوں سے آرام ميں ہيں اور آخرت كے عالم ميں اللہ تعالى كے فرشتوں اور پروردگار كى رضايت كے ساتھ اللہ تعالى كے قرب ميں زندگى بسر كر رہے ہيں، امين اور وحى كے لئے چتے ہوئے پيغمبر پر درود ہو۔ آپ نے اس كے بعد مجمع كو خطاب کرتے ہوئے فرمايا۔
اَنْتُمْ عِبادَ اللَّـهِ نُصُبُ اَمْرِهِ وَ نَهْیهِ، وَ حَمَلَةُ دینِهِ وَ وَحْیهِ، وَ اُمَناءُ اللَّـهِ عَلی اَنْفُسِكُمْ، وَ بُلَغاؤُهُ اِلَی الْاُمَمِ، زَعیمُ حَقٍّ لَهُ فیكُمْ، وَ عَهْدٍ قَدَّمَهُ اِلَیكُمْ، وَ بَقِیةٍ اِسْتَخْلَفَها عَلَیكُمْ: كِتابُ اللَّـهِ النَّاطِقُ وَ الْقُرْانُ الصَّادِقُ، و النُّورُ السَّاطِعُ وَ الضِّیاءُ اللاَّمِعُ، بَینَةً بَصائِرُهُ، مُنْكَشِفَةً سَرائِرُهُ، مُنْجَلِیةً ظَواهِرُهُ، مُغْتَبِطَةً بِهِ اَشْیاعُهُ، قائِداً اِلَی الرِّضْوانِ اِتِّباعُهُ، مُؤَدٍّ اِلَی النَّجاةِ اسْتِماعُهُ، بِهِ تُنالُ حُجَجُ اللَّـهِ الْمُنَوَّرَةُ، وَ عَزائِمُهُ الْمُفَسَّرَةُ، وَ مَحارِمُهُ الْمُحَذَّرَةُ، وَ بَیناتُهُ الْجالِیةُ، وَ بَراهینُهُ الْكافِیةُ، وَ فَضائِلُهُ الْمَنْدُوبَةُ، وَ رُخَصُهُ الْمَوْهُوبَةُ، وَ شَرائِعُهُ الْمَكْتُوبَةُ.لوگو تم اللہ تعالى كے امر اور نہى كے نمائندے اور نبوت كے دين اور علوم كے حامل تمہيں اپنے اوپر امين ہونا چاہيئے، جن كو باقى اقوام تك دين كى تبليغ كرنى ہے تم ميں پيغمبر(ص) كا حقيقى جانشين موجود ہے اللہ تعالى نے تم سے پہلے عہد و پيمان اور چمكنے والانور ہے اس كى چشم بصيرت روش اور رتبے كے آرزومند ہيں اس كى پيروى كرنا انسان كو بہشت رضوان كى طرف ہدايت كرتا ہے اس كى باتوں كو سننا نجات كا سبب ہوتا ہے اس كے وجود كى بركت سے اللہ تعالى كے نورانى دلائل اور حجت كو دريافت كيا جاسكتا ہے اس كے وسيلے سے واجبات و محرمات اور مستحبات و مباح اور شريعت كے قوانين كو حاصل كيا جاسكتا ہے۔
فَجَعَلَ اللَّـهُ الْایمانَ تَطْهیراً لَكُمْ مِنَ الشِّرْكِ، وَ الصَّلاةَ تَنْزیهاً لَكُمْ عَنِ الْكِبْرِ،

وَ الزَّكاةَ تَزْكِیةً لِلنَّفْسِ وَ نِماءً فِی الرِّزْقِ،

وَ الصِّیامَ تَثْبیتاً لِلْاِخْلاصِ، وَ الْحَجَّ تَشْییداً لِلدّینِ، وَ الْعَدْلَ تَنْسیقاً لِلْقُلُوبِ،

وَ طاعَتَنا نِظاماً لِلْمِلَّةِ، وَ اِمامَتَنا اَماناً لِلْفُرْقَةِ،

وَ الْجِهادَ عِزّاً لِلْاِسْلامِ، وَ الصَّبْرَ مَعُونَةً عَلَی اسْتیجابِ الْاَجْرِ.
اللہ تعالى نے ايمان كو شرك سے پاك ہونے كا وسيلہ قرار ديا ہے۔۔ اللہ نے نماز واجب كى تا كہ تكبر سے روكاجائے زكوة كو وسعت رزق اور تہذيب نفس كے لئے واجب قرار ديا۔ روزے كو بندے كے اخلاص كے اثبات كے لئے واجب كيا۔ حج كو واجب كرنے سے دين كى بنياد كو استوار كيا، عدالت كو زندگى كے نظم اور دلوں كى نزديكى كے لئے ضرورى قرار ديا، اہلبيت كى اطاعت كو ملت اسلامى كے نظم كے لئے واجب قرار ديا اور امامت كے ذريعے اختلاف و افتراق كا سد باب كيا اور جہاد کو اسلام کے لئے عزت اور صبر کو اجر حاصل کرنے کے لیے مددگار قرار دیا۔
وَ الْاَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ مَصْلِحَةً لِلْعامَّةِ، وَ بِرَّ الْوالِدَینِ وِقایةً مِنَ السَّخَطِ، وَ صِلَةَ الْاَرْحامِ مَنْساءً فِی الْعُمْرِ وَ مَنْماةً لِلْعَدَدِ، وَ الْقِصاصَ حِقْناً لِلدِّماءِ، وَ الْوَفاءَ بِالنَّذْرِ تَعْریضاً لِلْمَغْفِرَةِ، وَ تَوْفِیةَ الْمَكائیلِ وَ الْمَوازینِ تَغْییراً لِلْبَخْسِ.امر بالمعروف كو عمومى مصلحت كے ماتحت واجب قرار ديا، ماں باپ كے ساتھ نيكى كو ان كے غضب سے مانع قرار ديا، اجل كے موخر ہونے اور نفوس كى زيادتى كے لئے صلہ رحمى كا دستور ديا، قتل نفس كو روكنے كے لئے قصاص كو واجب قرار ديا۔ نذر كے پورا كرنے كو گناہوں گا آمرزش كا سبب بنايا، ناپ تول میں دقت کو کم فروشی ختم کرنے کا سبب بنادیا۔
وَ النَّهْی عَنْ شُرْبِ الْخَمْرِ تَنْزیهاً عَنِ الرِّجْسِ، وَ اجْتِنابَ الْقَذْفِ حِجاباً عَنِ اللَّـعْنَةِ، وَ تَرْكَ السِّرْقَةِ ایجاباً لِلْعِصْمَةِ، وَ حَرَّمَ اللَّـهُ الشِّرْكَ اِخْلاصاً لَهُ بِالرُّبوُبِیةِ.

فَاتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقاتِهِ، وَ لاتَمُوتُنَّ اِلاَّ وَ اَنْتُمْ مُسْلِمُونَ، وَ اَطیعُوا اللَّـهَ فیما اَمَرَكُمْ بِهِ وَ نَهاكُمْ عَنْهُ، فَاِنَّهُ اِنَّما یخْشَی اللَّـهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ.

ثم قالت:
پليدى سے محفوظ رہنے كى غرض سے شراب خورى پر پابندى لگائي، بہتان اور زنا كى نسبت دينے كى لعنت سے روكا، چورى نہ كرنے كو پاكى اور عفت كا سبب بتايا۔ اللہ تعالى كے ساتھ شرك، كو اخلاص كے ماتحت ممنوع قرار ديا۔ پس تقوى اور پرہيزگارى كو اپناؤ جسطرح اپنانے کا حق ہے۔ دنیا سے مسلمان ہوئے بغیر مت جانا، اللہ تعالى كے اوامر و نواہى كى اطاعت كرو، صرف علماء اور دانشمند خدا سے ڈرتے ہيں۔ پھر فرمایا:
اَیهَا النَّاسُ! اِعْلَمُوا اَنّی فاطِمَةُ وَ اَبی مُحَمَّدٌ، اَقُولُ عَوْداً وَ بَدْءاً، وَ لااَقُولُ ما اَقُولُ غَلَطاً، وَ لااَفْعَلُ ما اَفْعَلُ شَطَطاً، لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ اَنْفُسِكُمْ عَزیزٌ عَلَیهِ ما عَنِتُّمْ حَریصٌ عَلَیكُمْ بِالْمُؤْمِنینَ رَؤُوفٌ رَحیمٌ.

فَاِنْ تَعْزُوهُ وَتَعْرِفُوهُ تَجِدُوهُ اَبی دُونَ نِسائِكُمْ،وَ اَخَا ابْنِ عَمّی دُونَ رِجالِكُمْ، وَ لَنِعْمَ الْمَعْزِی اِلَیهِ صَلَّی اللَّـهُ عَلَیهِ وَ الِهِ.

فَبَلَّغَ الرِّسالَةَ صادِعاً بِالنَّذارَةِ، مائِلاً عَنْ مَدْرَجَةِ الْمُشْرِكینَ، ضارِباً ثَبَجَهُمْ، اخِذاً بِاَكْظامِهِمْ، داعِیاً اِلی سَبیلِ رَبِّهِ بِالْحِكْمَةِ و الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ، یجُفُّ الْاَصْنامَ وَ ینْكُثُ الْهامَّ، حَتَّی انْهَزَمَ الْجَمْعُ وَ وَ لَّوُا الدُّبُرَ.
اے لوگو! جان لو میں فاطمہ ہوں اور ميرے باپ محمدؐ ہیں، اب ميں تمہيں ابتداء سے آخر تك كے واقعات اور امور سے آگاہ كرتى ہوں تمہيں علم ہونا چاہيئے ميں جھوٹ نہيں بولتى اور گناہ كا ارتكاب نہيں كرتي۔ اللہ تعالى نے تمہارے لئے پيغمبرؐ جو تم ميں سے تھا بھيجا ہے تمہارى تكليف سے اسے تكليف ہوتى تھى اور وہ تم سے محبت كرتے تھے اور مومنين كے حق ميں مہربان اور دل سوز تھے۔ لوگو وہ پيغمبر ميرے باپ تھے نہ تمہارى عورت كے باپ، ميرے شوہر كے چچازاد بھائي تھے نہ تمہارے مردوں كے بھائي، كتنى عمدہ محمّد(ص) سے نسبت ہے۔ جناب محمد(ص) نے اپنى رسالت كو انجام ديا اور مشركوں كى راہ و روش پر حملہ آور ہوئے اور ان كى پشت پر سخت ضرب وارد كى ان كا گلا پكڑا اور دانائي اور نصيحت سے خدا كى طرف دعوت دي، بتوں كو توڑا اور ان كے سروں كو سرنگوں كيا كفار نے شكست كھائي اور شكست كھا كر بھاگے۔
حَتَّی تَفَرَّی اللَّـیلُ عَنْ صُبْحِهِ، وَ اَسْفَرَ الْحَقُّ عَنْ مَحْضِهِ، و نَطَقَ زَعیمُالدّینِ، وَ خَرَسَتْ شَقاشِقُ الشَّیاطینِ، وَ طاحَ وَ شیظُ النِّفاقِ، وَ انْحَلَّتْ عُقَدُ الْكُفْرِ وَ الشَّقاقِ، وَ فُهْتُمْ بِكَلِمَةِ الْاِخْلاصِ فی نَفَرٍ مِنَ الْبیضِ الْخِماصِ. وَ كُنْتُمْ عَلی شَفا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ، مُذْقَةَ الشَّارِبِ، وَ نُهْزَةَ الطَّامِعِ، وَ قُبْسَةَ الْعِجْلانِ، وَ مَوْطِیءَ الْاَقْدامِ، تَشْرَبُونَ الطَّرْقَ، وَ تَقْتاتُونَ الْقِدَّ، اَذِلَّةً خاسِئینَ، تَخافُونَ اَنْ یتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِكُمْ، فَاَنْقَذَكُمُ اللَّـهُ تَبارَكَ وَ تَعالی بِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّـهُ عَلَیهِ وَ الِهِ بَعْدَ اللَّـتَیا وَ الَّتی، وَ بَعْدَ اَنْ مُنِی بِبُهَمِ الرِّجالِ، وَ ذُؤْبانِ الْعَرَبِ، وَ مَرَدَةِ اَهْلِ الْكِتابِ. تاريكياں دور ہوگئيں اور حق واضح ہوگيا، دين كے رہبر كى زبان گويا ہوئي اور شياطين خاموش ہوگئے، نفاق كے پيروكار ہلاك ہوئے كفر اور اختلاف كے رشتے ٹوٹ گئے گروہ اہلبيت كى وجہ سے شہادت كا كلمہ جارى كيا، جب كہ تم دوزخ كے كنارے كھڑے تھے اور وہ ظالموں كا تر اور لذيذ لقمہ بن چكے تھے اور آگ كى تلاش كرنے والوں كے لئے مناسب شعلہ تھے۔ تم قبائل كے پاؤں كے نيچے ذليل تھے گندا پانى پيتے تھے اور حيوانات كے چمڑوں اور درختوں كے پتوں سے غذا كھاتے تھے دوسروں كے ہميشہ ذليل و خوار تھے اور اردگرد كے قبائل سے خوف و ہراس ميں زندگى بسر كرتے تھے ان تمام بدبختيوں كے بعد خدا نے محمد(ص) كے وجود كى بركت سے تمہيں نجات دى حالانكہ ميرے باپ كو عربوں ميں سے بہادر اور عرب كے بھيڑيوں اور اہل كتاب كے سركشوں سے واسطہ تھا
كُلَّما اَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ اَطْفَأَهَا اللَّـهُ، اَوْ نَجَمَ قَرْنُ الشَّیطانِ، اَوْ فَغَرَتْ فاغِرَةٌ مِنَ الْمُشْرِكینَ، قَذَفَ اَخاهُ فی لَهَواتِها، فَلاینْكَفِیءُ حَتَّی یطَأَ جِناحَها بِأَخْمَصِهِ، وَ یخْمِدَ لَهَبَها بِسَیفِهِ، مَكْدُوداً فی ذاتِ اللَّـهِ، مُجْتَهِداً فی اَمْرِ اللَّـهِ، قَریباً مِنْ رَسُولِاللَّـهِ، سَیداً فی اَوْلِیاءِ اللَّـهِ، مُشَمِّراً ناصِحاً مُجِدّاً كادِحاً، لاتَأْخُذُهُ فِی اللَّـهِ لَوْمَةَ لائِمٍ. وَ اَنْتُمَ فی رَفاهِیةٍ مِنَ الْعَیشِ، و ادِعُونَ فاكِهُونَ آمِنُونَ، تَتَرَبَّصُونَ بِنَا الدَّوائِرَ، وَ تَتَوَكَّفُونَ الْاَخْبارَ، وَ تَنْكُصُونَ عِنْدَ النِّزالِ، وَ تَفِرُّونَ مِنَ الْقِتالِ.جتنا وہ جنگ كى آگ كو بھڑكاتے تھے خدا سے خاموش كرديتا تھا جب كوئي شياطين ميں سے سر اٹھاتا يا مشركوں ميں سے كوئي بھى كھولتا تو محمد(ص) اپنے بھائي على (ع) كو ان كے گلے ميں اتار ديتے اور حضرت على (ع) ان كے سر اور مغز كو اپنى طاقت سے پائمال كرديتے اور جب تك ان كى روشن كى ہوئي آگ كو اپنى تلوار سے خاموش نہ كرديتے جنگ كے ميدان سے واپس نہ لوٹتے اللہ كى رضا كے لئے ان تمام سختيوں كا تحمل كرتے تھے اور خدا كى راہ ميں جہاد كرتے تھے، اللہ كے رسول كے نزديك تھے۔ على (ع) خدا دوست تھے، ہميشہ جہاد كے لئے آمادہ تھے، وہ تبليغ اور جہاد كرتے تھے اور تم اس حالت ميں آرام اور خوشى ميں خوش و خرم زندگى گزار رہے تھے اور كسى خبر كے منتظر اور فرصت ميں رہتے تھے دشمن كے ساتھ لڑائي لڑنے سے ا جتناب كرتے تھے اور جنگ كے وقت فرار كرجاتے تھے
فَلَمَّا اِختارَ اللَّـهُ لِنَبِیهِ‌دار اَنْبِیائِهِ وَ مَأْوی اَصْفِیائِهِ، ظَهَرَ فیكُمْ حَسْكَةُ النِّفاقِ، وَ سَمَلَ جِلْبابُ الدّینِ، وَ نَطَقَ كاظِمُ الْغاوینَ، وَ نَبَغَ خامِلُ الْاَقَلّینَ، وَ هَدَرَ فَنیقُ الْمُبْطِلینَ، فَخَطَرَ فی عَرَصاتِكُمْ، وَ اَطْلَعَ الشَّیطانُ رَأْسَهُ مِنْ مَغْرَزِهِ، هاتِفاً بِكُمْ، فَأَلْفاكُمْ لِدَعْوَتِهِ مُسْتَجیبینَ، وَ لِلْغِرَّةِ فیهِ مُلاحِظینَ، ثُمَّ اسْتَنْهَضَكُمْ فَوَجَدَكُمْ خِفافاً، وَ اَحْمَشَكُمْ فَاَلْفاكُمْ غِضاباً، فَوَسَمْتُمْ غَیرَ اِبِلِكُمْ، وَ وَرَدْتُمْ غَیرَ مَشْرَبِكُمْ. هذا، وَ الْعَهْدُ قَریبٌ، وَالْكَلْمُ رَحیبٌ، وَ الْجُرْحُ لَمَّا ینْدَمِلُ، وَ الرَّسُولُ لَمَّا یقْبَرُ، اِبْتِداراً زَعَمْتُمْ خَوْفَ الْفِتْنَةِ، اَلا فِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوا، وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحیطَةٌ بِالْكافِرینَ.جب خدا نے اپنے پيغمبر كو دوسرے پيغمبروں كى جگہ كى طرف منتقل كيا تو تمہارے اندرونى كينے اور دوروئي ظاہر ہوگئي دين كا لباس كہنہ ہوگيا اور گمراہ لوگ باتيں كرنے لگے، پست لوگوں نے سر اٹھايا اور باطل كا اونٹ آواز ديتے لگا اور اپنى دم ہلانے لگا اور شيطان نے اپنا سركمين گاہ سے باہر نكالا اور تمہيں اس نے اپنى طرف دعوت دى اور تم نے بغير سوچے اس كى دعوت قبول كرلى اور اس كا احترام كيا تمہيں اس نے ابھارا اور تم حركت ميں آگئے اس نے تمہيں غضبناك ہونے كا حكم ديا اور تم غضبناك ہوگئے۔ لوگو وہ اونٹ جو تم ميں سے نہيں تھا تم نے اسے با علامت بناكر اس جگہ بيٹھايا جو اس كى جگہ نہيں تھي، حالانكہ ابھى پيغمبر(ص) كى موت كو زيادہ وقت نہيں گزرا ہے ابھى تك ہمارے دل كے زخم بھرے نہيں تھے اور نہ شگاف پر ہوئے تھے، ابھى پيغمبر(ص) كو دفن بھى نہيں كيا تھا كہ تم نے فتنے كے خوف كے بہانے سے خلافت پر قبضہ كرليا، ليكن خبردار رہو كہ تم فتنے ميں داخل ہوچكے ہو اور دوزخ نے كافروں كا احاطہ كر ركھا ہے
فَهَیهاتَ مِنْكُمْ، وَ كَیفَ بِكُمْ، وَ اَنَّی تُؤْفَكُونَ، وَ كِتابُ اللَّـهِ بَینَ اَظْهُرِكُمْ، اُمُورُهُ ظاهِرَةٌ، وَ اَحْكامُهُ زاهِرَةٌ، وَ اَعْلامُهُ باهِرَةٌ، و زَواجِرُهُ لائِحَةٌ، وَ اَوامِرُهُ واضِحَةٌ، وَ قَدْ خَلَّفْتُمُوهُ وَراءَ ظُهُورِكُمْ، أَرَغْبَةً عَنْهُ تُریدُونَ؟ اَمْ بِغَیرِهِ تَحْكُمُونَ؟ بِئْسَ لِلظَّالمینَ بَدَلاً، وَ مَنْ یبْتَغِ غَیرَ الْاِسْلامِ دیناً فَلَنْ یقْبَلَ مِنْهُ، وَ هُوَ فِی الْاخِرَةِ مِنَ الْخاسِرینِ.افسوس تمہيں كيا ہوگيا ہے اور كہاں چلے جارہے ہو؟ حالانكہ اللہ كى كتاب تمہارے درميان موجود ہے اور اس كے احكام واضح اور اس كے اوامر و نواہى ظاہر ہيں تم نے قرآن كى مخالفت كى اور اسے پس پشت ڈال ديا، كيا تمہارا ارادہ ہے كہ قرآن سے اعراض اور روگرداني كرلو؟ يا قرآن كے علاوہ كسى اور ذريعے سے قضاوت اور فيصلے كرتا چاہتے تو؟ ليكن تم كو علم ہونا چاہيئے كہ جو شخص بھى اسلام كے علاوہ كسى دوسرے دين كو اختيار كرے گا وہ قبول نہيں كيا جائے گا اور آخرت ميں وہ خسارہ اٹھانے والوں ميں سے ہوگا۔
ثُمَّ لَمْ تَلْبَثُوا اِلی رَیثَ اَنْ تَسْكُنَ نَفْرَتَها، وَ یسْلَسَ قِیادَها،ثُمَّ اَخَذْتُمْ تُورُونَ وَ قْدَتَها، وَ تُهَیجُونَ جَمْرَتَها، وَ تَسْتَجیبُونَ لِهِتافِ الشَّیطانِ الْغَوِی، وَ اِطْفاءِ اَنْوارِالدّینِ الْجَلِی، وَ اِهْمالِ سُنَنِ النَّبِی الصَّفِی، تُسِرُّونَ حَسْواً فِی ارْتِغاءٍ، وَ تَمْشُونَ لِاَهْلِهِ وَ وَلَدِهِ فِی الْخَمَرِ وَ الضَّرَّاءِ، وَ نَصْبِرُ مِنْكُمْ عَلی مِثْلِ حَزِّ الْمَدی، وَ وَخْزِ السنان فی الحشا. وَ اَنْتُمُ الانَ تَزْعُمُونَ اَنْ لااِرْثَ لَنا أَفَحُكْمَ الْجاهِلِیةِ تَبْغُونَ، وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللَّـهِ حُكْماً لِقَومٍ یوقِنُونَ، أَفَلاتَعْلَمُونَ؟ بَلی، قَدْ تَجَلَّی لَكُمْ كَالشَّمْسِ الضَّاحِیةِ أَنّی اِبْنَتُهُ.اتنا صبر بھى نہ كرسكے كہ وہ فتنے كى آگ كو خاموش كرے اور اس كى قيادت آسان ہوجائے بلكہ آگ كو تم نے روشن كيا اور شيطان كى دعوت كو قبول كرليا اور دين كے چراغ اور سنت رسول خدا(ص) كے خاموش كرنے ميں مشغول ہوگئے ہو۔ كام كو الٹا ظاہر كرتے ہو اور پيغمبر(ص) كے اہلبيت كے ساتھ مكر و فريب كرتے ہو، تمہارے كام اس چھرى كے زخم اور نيزے كے زخم كى مانند ہيں جو پيٹ كے اندر واقع ہوئے ہوں۔ كيا تم يہ عقيدہ ركھتے ہو كہ ہم پيغمبر(ص) سے ميراث نہيں لے سكتے، كيا تم جاہليت كے قوانين كى طرف لوٹنا چاہتے ہو ؟ حالانكہ اسلام كے قانون تمام قوانين سے بہتر ہيں، كيا تمہيں علم نہيں كہ ميں رسول خدا(ص) كى بيٹى ہوں كيوں نہيں جانتے ہو اور تمہارے سامنے آفتاب كى طرح يہ روشن ہے
اَیهَا الْمُسْلِمُونَ! أَاُغْلَبُ عَلی اِرْثی؟ یابْنَ اَبیقُحافَةَ! اَفی كِتابِ اللَّـهِ تَرِثُ اَباكَ وَ لااَرِثُ اَبی؟ لَقَدْ جِئْتَ شَیئاً فَرِیاً، اَفَعَلی عَمْدٍ تَرَكْتُمْ كِتابَ اللَّـهِ وَ نَبَذْتُمُوهُ وَراءَ ظُهُورِكُمْ، إذْ یقُولُ «وَ وَرِثَ سُلَیمانُ داوُدَ» (۱) وَ قالَ فیما اقْتَصَّ مِنْ خَبَرِ زَكَرِیا اِذْ قالَ: «فَهَبْ لی مِنْ لَدُنْكَ وَلِیاً یرِثُنی وَ یرِثُ مِنْ الِیعْقُوبَ»، (۲) وَ قالَ: «وَ اوُلُوا الْاَرْحامِ بَعْضُهُمْ اَوْلی بِبَعْضٍ فی كِتابِ اللَّـهِ»، (۳) وَ قالَ «یوصیكُمُ اللَّـهُ فی اَوْلادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیینِ»، (۴) وَ قالَ «اِنْ تَرَكَ خَیراً الْوَصِیةَ لِلْوالِدَینِ وَالْاَقْرَبَینِ بِالْمَعْرُوفِ حَقّاً عَلَی الْمُتَّقینَ». (۵)مسلمانوں كيا يہ درست ہے كہ ميں اپنے باپ كى ميراث سے محروم ہوجاؤں؟ اے ابوبكر آيا خدا كى كتاب ميں تو لكھا ہے كہ تم اپنے باپ سے ميراث لو اور ميں اپنے باپ كى ميراث سے محروم رہوں؟ كيا خدا قرآن ميں نہيں كہتا كہ سليمان داود كے وارث ہوئے.وَ وَرِثَ سُلَیمانُ داوُدَ كيا قرآن ميں يحيى عليہ السلام كا قول نقل نہيں ہوا كہ خدا سے انہوں نے عرض كى پروردگار مجھے فرزند عنايت فرما تا كہ وہ ميرا وارث قرار پائے او آل يعقوب كا بھى وارث ہو كيا خدا قرآن ميں نہيں فرماتا كہ بعض رشتہ دار بعض دوسروں كے وارث ہوتے ہيں؟ كيا خدا قرآن ميں نہيں فرماتا كہ اللہ نے حكم ديا كہ لڑكے، لڑكيوں سے دوگنا ارث ليں؟ كيا خدا قرآن ميں نہيں فرماتا كہ تم پر مقرر كرديا كہ جب تمہارا كوئي موت كے نزديك ہو تو وہ ماں، باپ اور رشتہ داروں كے لئے وصيت كرے كيونكہ پرہيزگاروں كے لئے ايسا كرنا عدالت كا مقتضى ہے
وَ زَعَمْتُمْ اَنْ لاحَظْوَةَ لی، وَ لااَرِثُ مِنْ اَبی، وَ لارَحِمَ بَینَنا، اَفَخَصَّكُمُ اللَّـهُ بِایةٍ اَخْرَجَ اَبی مِنْها؟ اَمْ هَلْ تَقُولُونَ: اِنَّ اَهْلَ مِلَّتَینِ لایتَوارَثانِ؟ اَوَ لَسْتُ اَنَا وَ اَبی مِنْ اَهْلِ مِلَّةٍ واحِدَةٍ؟ اَمْ اَنْتُمْ اَعْلَمُ بِخُصُوصِ الْقُرْانِ وَ عُمُومِهِ مِنْ اَبی وَابْنِ عَمّی؟ فَدُونَكَها مَخْطُومَةً مَرْحُولَةً تَلْقاكَ یوْمَ حَشْرِكَ.

فَنِعْمَ الْحَكَمُ اللَّـهُ، وَ الزَّعیمُ مُحَمَّدٌ، وَ الْمَوْعِدُ الْقِیامَةُ، وَ عِنْدَ السَّاعَةِ یخْسِرُ الْمُبْطِلُونَ، وَ لاینْفَعُكُمْ اِذْ تَنْدِمُونَ، وَ لِكُلِّ نَبَأٍ مُسْتَقَرٌّ، وَ لَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ یأْتیهِ عَذابٌ یخْزیهِ، وَ یحِلُّ عَلَیهِ عَذابٌ مُقیمٌ.

ثم رمت بطرفها نحو الانصار، فقالت:
كيا تم گمان كرتے ہو كہ ميں باپ سے نسبت نہيں ركھتي؟ كيا ارث والى آيات تمہارے لئے مخصوص ہيں اور ميرے والد ان سے خارج ہيں يا اس دليل سے مجھے ميراث سے محروم كرتے ہو جو دو مذہب كے ايك دوسرے سے ميراث نہيں لے سكتے؟ كيا ميں اور ميرا باپ ايك دين پر نہ تھے؟ آيا تم ميرے باپ اور ميرے چچازاد على (ع) سے قرآن كو بہتر سمجھتے ہو؟ اے ابوبكر فدك اور خلافت تسليم شدہ تمہيں مبارك ہو، ليكن قيامت كے دن تم سے ملاقات كروں گى كہ جب حكم اور قضاوت كرنا خدا كے ہاتھ ميں ہوگا اور محمد(ص) بہترين پيشوا ہيں۔ اے قحافہ كے بيٹے، ميرا تيرے ساتھ وعدہ قيامت كا دن ہے كہ جس دن بيہودہ لوگوں كا نقصان واضح ہوجائے گا اور پھر پشيمان ہونا فائدہ نہ دے گا اور ہر خبر (کے وقوع) کا ایک وقت مقرر ہے اور عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس پر عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کر دے گا اور کس پر دائمی عذاب نازل ہوتا ہے۔ آپ اس كے بعد انصار كى طرف متوجہ ہوئيں اور فرمايا:
یا مَعْشَرَ النَّقیبَةِ وَ اَعْضادَ الْمِلَّةِ وَ حَضَنَةَ الْاِسْلامِ! ما هذِهِ الْغَمیزَةُ فی حَقّی وَ السِّنَةُ عَنْ ظُلامَتی؟ اَما كانَ رَسُولُاللَّـهِ صَلَّی اللَّـهُ عَلَیهِ وَ الِهِ اَبی یقُولُ: «اَلْمَرْءُ یحْفَظُ فی وُلْدِهِ»، سَرْعانَ ما اَحْدَثْتُمْ وَ عَجْلانَ ذا اِهالَةٍ، وَ لَكُمْ طاقَةٌ بِما اُحاوِلُ، وَ قُوَّةٌ عَلی ما اَطْلُبُ وَ اُزاوِلُ.

اَتَقُولُونَ ماتَ مُحَمَّدٌ؟ فَخَطْبٌ جَلیلٌ اِسْتَوْسَعَ وَ هْنُهُ، وَاسْتَنْهَرَ فَتْقُهُ، وَ انْفَتَقَ رَتْقُهُ، وَ اُظْلِمَتِ الْاَرْضُ لِغَیبَتِهِ، وَ كُسِفَتِ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ وَ انْتَثَرَتِ النُّجُومُ لِمُصیبَتِهِ، وَ اَكْدَتِ الْامالُ، وَ خَشَعَتِ الْجِبالُ، وَ اُضیعَ الْحَریمُ، وَ اُزیلَتِ الْحُرْمَةُ عِنْدَ مَماتِهِ.

فَتِلْكَ وَاللَّـهِ النَّازِلَةُ الْكُبْری وَ الْمُصیبَةُ الْعُظْمی، لامِثْلُها نازِلَةٌ، وَ لابائِقَةٌ عاجِلَةٌ اُعْلِنَ بِها، كِتابُ اللَّـهِ جَلَّ ثَناؤُهُ فی اَفْنِیتِكُمْ، وَ فی مُمْساكُمْ وَ مُصْبِحِكُمْ، یهْتِفُ فی اَفْنِیتِكُمْ هُتافاً وَ صُراخاً وَ تِلاوَةً وَ اَلْحاناً، وَ لَقَبْلَهُ ما حَلَّ بِاَنْبِیاءِ اللَّـهِ وَ رُسُلِهِ، حُكْمٌ فَصْلٌ وَ قَضاءٌ حَتْمٌ.

«وَ ما مُحَمَّدٌ اِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ اَفَاِنْ ماتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلی اَعْقابِكُمْ وَ مَنْ ینْقَلِبْ عَلی عَقِبَیهِ فَلَنْ یضُرَّ اللَّـهَ شَیئاً وَ سَیجْزِی اللَّـهُ شَیئاً وَ سَیجْزِی اللَّـهُ الشَّاكِرینَ». (۶)
اے ملت كے مددگار جوانو اور اسلام كى مدد كرنے والو كيوں حق كے ثابت كرنے ميں سستى كر رہے ہو اور جو ظلم مجھ پر ہوا ہے اس سے خواب غفلت ميں ہو؟ كيا ميرے والد نے نہيں فرمايا كہ كسى كا احترام اس كى اولاد ميں بھى محفوظ ہوتا ہے يعنى اس كے احترام كى وجہ سے اس كى اولاد كا احترام كيا كرو؟ كتنا جلدى فتنہ برپا كيا ہے تم نے؟ اور كتنى جلدى ہوى اور ہوس ميں مبتلا ہوگئے ہو؟ تم اس ظلم كے ہٹانے ميں جو مجھ پر ہوا ہے قدرت ركھتے ہو اور ميرے مدعا اور خواستہ كے برلانے پر طاقت ركھتے ہو۔ كيا كہتے ہو كہ محمد(ص) مرگئے؟ جى ہاں ليكن يہ ايك بہت بڑى مصيبت ہے كہ ہر روز اس كا شگاف بڑھ رہا ہے اور اس كا خلل زيادہ ہو رہا ہے۔ آنجناب(ص) كى غيبت سے زمين تاريك ہوگئي ہے سورج اور چاند بے رونق ہوگئے ہيں آپ كى مصيبت پر ستارے تتربتر ہوگئے ہيں، اميديں ٹوٹ گئيں، پہاڑ متزلزل اور ريزہ ريزہ ہوگئے ہيں پيغمبر(ص) كے احترام كى رعايت نہيں كى گئي، قسم خدا كى يہ ايك بہت بڑى مصيبت تھى كہ جس كى مثال ابھى تگ ديكھى نہيں گئي اللہ كى كتاب جو صبح اور شام كو پڑھى جا رہى ہے آپ كى اس مصيبت كى خبر ديتى ہے كہ پيغمبر(ص) بھى عام لوگوں كى طرح مريں گے، قرآن ميں ارشاد ہوتا ہے كہ اور حضرت محمد (ص) نہیں ہیں مگر پیغمبر جن سے پہلے تمام پیغمبر گزر چکے ہیں تو کیا اگر وہ وفات پا جائیں یا قتل کر دیئے جائیں تو تم الٹے پاؤں (کفر کی طرف) پلٹ جاؤگے اور جو کوئی الٹے پاؤں پھرے گا تو وہ ہرگز اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا اور عنقریب خدا شکرگزار بندوں کو جزا دے گا۔
اَیها بَنی قیلَةَ! ءَ اُهْضَمُ تُراثَ اَبی وَ اَنْتُمْ بِمَرْأی مِنّی وَ مَسْمَعٍ وَ مُنْتَدی وَ مَجْمَعٍ، تَلْبَسُكُمُ الدَّعْوَةُ وَ تَشْمَلُكُمُ الْخُبْرَةُ، وَ اَنْتُمْ ذَوُو الْعَدَدِ وَ الْعُدَّةِ وَ الْاَداةِ وَ الْقُوَّةِ، وَ عِنْدَكُمُ السِّلاحُ وَ الْجُنَّةُ، تُوافیكُمُ الدَّعْوَةُ فَلاتُجیبُونَ، وَ تَأْتیكُمُ الصَّرْخَةُ فَلاتُغیثُونَ، وَ اَنْتُمْ مَوْصُوفُونَ بِالْكِفاحِ، مَعْرُوفُونَ بِالْخَیرِ وَ الصَّلاحِ، وَ النُّخْبَةُ الَّتی انْتُخِبَتْ، وَ الْخِیرَةُ الَّتِی اخْتیرَتْ لَنا اَهْلَ الْبَیتِ.

قاتَلْتُمُ الْعَرَبَ، وَ تَحَمَّلْتُمُ الْكَدَّ وَ التَّعَبَ، وَ ناطَحْتُمُ الْاُمَمَ، وَ كافَحْتُمُ الْبُهَمَ، لانَبْرَحُ اَوْ تَبْرَحُونَ، نَأْمُرُكُمْ فَتَأْتَمِرُونَ، حَتَّی اِذا دارَتْ بِنا رَحَی الْاِسْلامِ، وَ دَرَّ حَلَبُ الْاَیامِ، وَ خَضَعَتْ نُعْرَةُ الشِّرْكِ، وَ سَكَنَتْ فَوْرَةُ الْاِفْكِ، وَ خَمَدَتْ نیرانُ الْكُفْرِ، وَ هَدَأَتْ دَعْوَةُ الْهَرَجِ، وَ اسْتَوْسَقَ نِظامُ الدّینِ، فَاَنَّی حِزْتُمْ بَعْدَ الْبَیانِ، وَاَسْرَرْتُمْ بَعْدَ الْاِعْلانِ، وَ نَكَصْتُمْ بَعْدَ الْاِقْدامِ، وَاَشْرَكْتُمْ بَعْدَ الْایمانِ؟

بُؤْساً لِقَوْمٍ نَكَثُوا اَیمانَهُمْ مِنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ، وَ هَمُّوا بِاِخْراجِ الرَّسُولِ وَ هُمْ بَدَؤُكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ، اَتَخْشَوْنَهُمْ فَاللَّـهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُؤمِنینَ.
اے فرزندان قیلہ: (انصار کا گروہ) کيا يہ مناسب ہے كہ ميں باپ كى ميراث سے محروم رہوں جب كہ تم يہ ديكھ رہے ہو اور سن رہے ہو اور يہاں موجود ہو ميرى پكار تم تك پہنچ چكى ہے اور تمام واقعہ سے مطلع ہو، تمہارى تعداد زيادہ ہے اور تم طاقت ور اور اسلحہ بدست ہو، ميرے استغاثہ كى آواز تم تك پہنچتى ہے ليكن تم اس پر لبيك نہيں كہتے ميرى فرياد كو سنتے ہو ليكن ميرى فرياد رسى نہيں كرتے تم بہادرى ميں معروف اور نيكى اور خير سے موصوف ہو، خود نخبہ ہو اور نخبہ كى اولاد ہو تم ہم اہلبيت كے لئے منتخب ہوئے ہو، عربوں كے ساتھ تم نے جنگيں كيں اور سختيوں كو برداشت كيا، قبائل سے لڑے ہو، بہادروں سے پنجہ آزمائي كى ہے جب ہم اٹھ كھڑے ہوتے تھے تم بھى اٹھ كھڑے ہوتے تھے ہم حكم ديتے تھے تم اطاعت كرتے تھے یہاں تک کہ اسلام نے رونق پائی اور غنائم زيادہ ہوئے اور مشركين تسليم ہوگئے اور ان كا جھوٹا وقار اور جوش ختم ہوگيا، کفر کی آگ بجھ گئی، ہرج و مرج کی صدائیں خاموش ہوگئیں اور دين كا نظام مستحكم ہوگيا، پھر کیوں اقرار کے بعد اپنے ایمان پر حیران ہوگئے؟ ظاہر ہونے کے بعد کیوں چھپ گئے؟ کیوں پیشقدمی کے بعد پیچھے لوٹ گئے اور ایمان کے بعد شرک انتخاب کیا؟ وای ہو ان لوگوں پر جنہوں نے عہد کے بعد اپنی قَسموں کو توڑ ڈالا پیغمبر(ص) کو (وطن سے) نکالنے کا ارادہ کیا اور پھر تمہارے برخلاف لڑائی میں پہل بھی کی۔ تم ان سے ڈرتے ہو؟ اللہ زیادہ حقدار ہے اس بات کا کہ اس سے ڈرو اگر تم مؤمن ہو۔
اَلا، وَ قَدْ أَری اَنْ قَدْ اَخْلَدْتُمْ اِلَی الْخَفْضِ، وَ اَبْعَدْتُمْ مَنْ هُوَ اَحَقُّ بِالْبَسْطِ وَ الْقَبْضِ، وَ خَلَوْتُمْ بِالدَّعَةِ، وَ نَجَوْتُمْ بِالضّیقِ مِنَ السَّعَةِ، فَمَجَجْتُمْ ما وَعَبْتُمْ، وَ دَسَعْتُمُ الَّذی تَسَوَّغْتُمْ، فَاِنْ تَكْفُرُوا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمیعاً فَاِنَّ اللَّـهَ لَغَنِی حَمیدٌ.

اَلا، وَ قَدْ قُلْتُ ما قُلْتُ هذا عَلی مَعْرِفَةٍ مِنّی بِالْخِذْلَةِ الَّتی خامَرْتُكُمْ، وَ الْغَدْرَةِ الَّتِی اسْتَشْعَرَتْها قُلُوبُكُمْ، وَ لكِنَّها فَیضَةُ النَّفْسِ، وَ نَفْثَةُ الْغَیظِ، وَ حَوَزُ الْقَناةِ، وَ بَثَّةُ الصَّدْرِ، وَ تَقْدِمَةُ الْحُجَّةِ، فَدُونَكُمُوها فَاحْتَقِبُوها دَبِرَةَ الظَّهْرِ، نَقِبَةَ الْخُفِّ، باقِیةَ الْعارِ، مَوْسُومَةً بِغَضَبِ الْجَبَّارِ وَ شَنارِ الْاَبَدِ، مَوْصُولَةً بِنارِ اللَّـهِ الْمُوقَدَةِ الَّتی تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْئِدَةِ.

فَبِعَینِ اللَّـهِ ما تَفْعَلُونَ، وَ سَیعْلَمُ الَّذینَ ظَلَمُوا اَی مُنْقَلَبٍ ینْقَلِبُونَ، وَ اَنَا اِبْنَةُ نَذیرٍ لَكُمْ بَینَ یدَی عَذابٌ شَدیدٌ، فَاعْمَلُوا اِنَّا عامِلُونَ، وَ انْتَظِرُوا اِنَّا مُنْتَظِرُونَ.
لوگو ميں گويا ديكھ رہى كہ تم پستى كى طرف جارہے ہو، اس آدمى كو جو حكومت كرنے كا اہل ہے اسے دور ہٹا رہے ہو اور تم گوشہ ميں بيٹھ كر عيش اور نوش ميں مشغول ہوگئے ہو زندگى اور جہاد كے وسيع ميدان سے قرار كر كے راحت طلبى كے چھوٹے محيط ميں چلے گئے ہو، جو كچھ تمہارے اندر تھا اسے تم نے ظاہر كرديا ہے اور جو كچھ پى چكے تھے اسے اگل ديا ہے ليكن آگاہ رہو اگر تم اور تمام روئے زمين كے لوگ كافر ہوجائيں تو خدا تمہارا محتاج نہيں ہے۔ اے لوگو جو كچھ مجھے كہنا چاہيئے تھا ميں نے كہہ ديا ہے حالانكہ ميں جانتى ہوں كہ تم ميرى مدد نہيں كروگے۔ تمہارے منصوبے مجھ سے مخفى نہيں، ليكن كيا كروں دل ميں ايك درد تھا كہ جس كو ميں نے بہت ناراحتى كے باوجود ظاہر كرديا ہے تا كہ تم پر حجت تمام ہوجائے۔ اب فدك اور خلافت كو خوب مضبوطى سے پكڑے ركھو ليكن تمہيں يہ معلوم ہونا چاہيئے كہ اس ميں مشكلات اور دشوارياں موجود ہيں اور اس كا ننگ و عار ہميشہ كے لئے تمہارے دامن پہ باقى رہ جائے گا، اللہ تعالى كا خشم اور غصہ اس پر مزيد ہوگا اور اس كى جزا جہنم كى آگ ہوگى اللہ تعالى تمہارے كردار سے آگاہ ہے، بہت جلد ستم گار اپنے اعمال كے نتائج ديكھ ليں گے۔ لوگو ميں تمہارے اس نبى كى بيٹى ہوں كہ جو تمہيں اللہ كے عذاب سے ڈراتا تھا۔ جو كچھ كرسكتے ہو اسے انجام دو ہم بھى تم سے انتقام ليں گے تم بھى انتظار كرو ہم بھى منتظر ہيں
فأجابها أبوبكر عبداللَّـه بن عثمان، و قال:

یا بِنْتَ رَسُولِ اللَّـهِ! لَقَدْ كانَ اَبُوكِ بِالْمُؤمِنینَ عَطُوفاً كَریماً، رَؤُوفاً رَحیماً، وَ عَلَی الْكافِرینَ عَذاباً اَلیماً وَ عِقاباً عَظیماً، اِنْ عَزَوْناهُ وَجَدْناهُ اَباكِ دُونَ النِّساءِ، وَ اَخا اِلْفِكِ دُونَ الْاَخِلاَّءِ، اثَرَهُ عَلی كُلِّ حَمیمٍ وَ ساعَدَهُ فی كُلِّ اَمْرٍ جَسیمِ، لایحِبُّكُمْ اِلاَّ سَعیدٌ، وَ لایبْغِضُكُمْ اِلاَّ شَقِی بَعیدٌ.

فَاَنْتُمْ عِتْرَةُ رَسُولِاللَّـهِ الطَّیبُونَ، الْخِیرَةُ الْمُنْتَجَبُونَ، عَلَی الْخَیرِ اَدِلَّتُنا وَ اِلَی الْجَنَّةِ مَسالِكُنا، وَ اَنْتِ یا خِیرَةَ النِّساءِ وَ ابْنَةَ خَیرِ الْاَنْبِیاءِ، صادِقَةٌ فی قَوْلِكِ، سابِقَةٌ فی وُفُورِ عَقْلِكِ، غَیرَ مَرْدُودَةٍ عَنْ حَقِّكِ، وَ لامَصْدُودَةٍ عَنْ صِدْقِكِ.

وَ اللَّـهِ ما عَدَوْتُ رَأْی رَسُولِاللَّـهِ، وَ لاعَمِلْتُ اِلاَّ بِاِذْنِهِ، وَ الرَّائِدُ لایكْذِبُ اَهْلَهُ، وَ اِنّی اُشْهِدُ اللَّـهَ وَ كَفی بِهِ شَهیداً، اَنّی سَمِعْتُ رَسُولَاللَّـهِ یقُولُ: «نَحْنُ مَعاشِرَ الْاَنْبِیاءِ لانُوَرِّثُ ذَهَباً وَ لافِضَّةًّ، وَ لاداراً وَ لاعِقاراً، وَ اِنَّما نُوَرِّثُ الْكِتابَ وَ الْحِكْمَةَ وَ الْعِلْمَ وَ النُّبُوَّةَ، وَ ما كانَ لَنا مِنْ طُعْمَةٍ فَلِوَلِی الْاَمْرِ بَعْدَنا اَنْ یحْكُمَ فیهِ بِحُكْمِهِ».
اس کے جوا ب میں ابو بکر (عبد اللہ بن عثمان)نے یوں جواب دیتے ہوئے کہا:

دختر رسول خداؐ: آپ کے بابا مومنین پر بہت مہربان۔رحم وکرم کرنے والے اور صاحب عطوفت تھے۔وہ کافروں کے لئے دردناک عذاب اور سخت ترین قہرالہی تھے۔آپ اگر ان کی نسبتوں پر غور کریں تو وہ تمام عورتوں میں صرف آپ کے باپ تھے اور تمام چاہنے والوں میں صرف آپ کے شوہر کے چاہنے والے تھے اور انھوں نے بھی ہر سخت مر حلہ پر نبیؐ کا سا تھ دیا ہے۔آپ کا دوست نیک بخت اور سعید انسان کے علاوہ کوئی نہیں ہو سکتا ہے او ر آ پ کا دشمن شقی اور بد بخت کے علاوہ کوئی نہیں ہوسکتا۔ آپ رسول اکرمؐ کی پاکیزہ عترت اور ان کے منتخب پسندیدہ افراد ہیں۔آپ ہی حضرات راہ خیر میں ہمارے رہنما اور جنت کی طرف ہمیں لے جانے والے ہیں۔اور خود آپ اے تمام خواتین عالم میں منتخب اور خیر الانبیاء کی دختر۔یقیناًاپنے کلام میں صادق اور کمال عقل میں سب پر مقدم ہیں۔آپ کو نہ آپ کے حق سے روکا جا سکتا ہے اور نہ آپ کی صداقت کا انکار کیا جا سکتا ہے مگر خدا کی قسم میں نے رسولؐ کی رأے میں عدول نہیں کیا ہے اور نہ کو ئی کام ان کی اجازت کے بغیر کیا ہے اور میر کارواں قافلہ سے خیانت بھی نہیں کر سکتا ہے۔میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں اور وہی گواہی کے لئے کافی ہے کہ میں نے خود رسول اکرمؐ سے سنا ہے کہ ہم گر وہ انبیأ ۔سونے چاندی اور خانہ وجایداد کا مالک نہیں بناتے ہیں۔ہماری وراثت کتاب، حکمت، علم ونبوت ہے اور جو کچھ مال دنیا ہم سے بچ جاتا ہے وہ ہمارے بعد ولی امر کے اختیار میں ہوتا ہے۔وہ جو چاہے فیصلہ کر سکتا ہے۔

وَ قَدْ جَعَلْنا ما حاوَلْتِهِ فِی الْكِراعِ وَ السِّلاحِ، یقاتِلُ بِهَا الْمُسْلِمُونَ وَ یجاهِدُونَ الْكُفَّارَ، وَ یجالِدُونَ الْمَرَدَةَ الْفُجَّارَ، وَ ذلِكَ بِاِجْماعِ الْمُسْلِمینَ، لَمْ اَنْفَرِدْ بِهِ وَحْدی، وَ لَمْ اَسْتَبِدْ بِما كانَ الرَّأْی عِنْدی، وَ هذِهِ حالی وَ مالی، هِی لَكِ وَ بَینَ یدَیكِ، لاتَزْوی عَنْكِ وَ لانَدَّخِرُ دُونَكِ، وَ اَنَّكِ، وَ اَنْتِ سَیدَةُ اُمَّةِ اَبیكِ وَ الشَّجَرَةُ الطَّیبَةُ لِبَنیكِ، لایدْفَعُ مالَكِ مِنْ فَضْلِكِ، وَ لایوضَعُ فی فَرْعِكِ وَ اَصْلِكِ، حُكْمُكِ نافِذٌ فیما مَلَّكَتْ یدای، فَهَلْ‌ترین اَنْ اُخالِفَ فی ذاكَ اَباكِ (صَلَّی اللَّـهُ عَلَیهِ وَ الِهِ وَ سَلَّمَ). اور میں نے آپ کے تمام مطلوبہ اموال کو سامان جنگ کے لئے مخصوص کر دیا ہے جس کے ذریعہ مسلمان کفار سے جہاد کریں گے اور سرکش فاجروں سے مقابلہ کریں گے اور یہ کام مسلمانوں کے اتفاق رأے سے کیا ہے(۶) ۔یہ تنہا میری رأے نہیں ہیں اور نہ میں نے ذاتی طور پر طے کیا ہے۔ یہ میرا ذاتی مال اور سرمایہ آپ کے لئے حاضر ہے اور آپ کی خدمت میں ہے جس میں کو ئی کوتاہی نہیں کی جا سکتی ہے۔ آپ تو اپنے باپ کی امت کی سردار ہیں اور اپنی اولاد کے لئے شجرۂ طیبہ ہیں۔آپ کے فضل وشرف کا انکار نہیں کیا جا سکتاہے اور آپ کے اصل وفرع کو گرایا نہیں جا سکتا ہے۔آپ کا حکم تو میری تمام املاک میں بھی نافذ ہے تو کیسے ممکن ہے میں اس مألہ میں آپ کے بابا کی مخالفت کر دوں؟
فقالت:

سُبْحانَاللَّـهِ، ما كانَ اَبی رَسُولُاللَّـهِ عَنْ كِتابِ اللَّـهِ صادِفاً، وَ لالِاَحْكامِهِ مُخالِفاً، بَلْ كانَ یتْبَعُ اَثَرَهُ، وَ یقْفُو سُوَرَهُ، اَفَتَجْمَعُونَ اِلَی الْغَدْرِ اِعْتِلالاً عَلَیهِ بِالزُّورِ، وَ هذا بَعْدَ وَفاتِهِ شَبیهٌ بِما بُغِی لَهُ مِنَ الْغَوائِلِ فی حَیاتِهِ، هذا كِتابُ اللَّـهِ حُكْماً عَدْلاً وَ ناطِقاً فَصْلاً، یقُولُ: «یرِثُنی وَ یرِثُ مِنْ الِیعْقُوبَ»، وَ یقُولُ: «وَ وَرِثَ سُلَیمانُ داوُدَ».

بَینَ عَزَّ وَ جَلَّ فیما وَزَّعَ مِنَ الْاَقْساطِ، وَ شَرَعَ مِنَ الْفَرائِضِ وَالْمیراثِ، وَ اَباحَ مِنْ حَظِّ الذَّكَرانِ وَ الْاِناثِ، ما اَزاحَ بِهِ عِلَّةَ الْمُبْطِلینَ وَ اَزالَ التَّظَنّی وَ الشُّبَهاتِ فِی الْغابِرینَ، كَلاَّ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْراً، فَصَبْرٌ جَمیلٌ وَ اللَّـهُ الْمُسْتَعانُ عَلی ما تَصِفُونَ.
یہ سن کر جناب فاطمہ زہرا ؑ نے فرمایا:

سبحان اللہ۔ نہ میرا باپ احکام خدا سے روکنے والا تھا اور نہ اس کا مخالف تھا۔وہ آثار قرآن کا اتباع کرتا تھا اور اس کے سوروں کے ساتھ چلتا تھا۔ کیا تم لوگوں کا مقصد یہ ہے کہ اپنی غداری کا الزام اسکے سر ڈال دو۔ یہ ان کے انتقال کے بعد ایسی ہی سازش ہے جیسی ان کی زندگی میں کی گئی تھی۔ دیکھو یہ کتاب خدا حاکم عادل اور قول فیصل ہے جو اعلان کر رہی ہے کہ خدایا وہ ولی دیدے جو میرا بھی وارث ہو اور آل یعقوب کا بھی وارث ہو اورسلمان ؑ داؤدؑ کے وارث ہوئے۔

خدائے عز وجل نے تمام حصے اور فرا ئض کے تمام احکام بیان کر دیے ہیں جہاں لڑکوں اور لڑکیوں کے حقوق کی بھی وضاحت کر دی ہے اور اس طرح تمام اہل باطل کے بہانوں کو باطل کر دیا ہے اور قیامت تک کے تمام شبہات اور خیالات کو ختم کر دیا ہے۔ یقینایہ تم لوگوں کے نفس نے ایک بات گڑھ لی ہے تو اب میں بھی صبر جمیل سے کام لے رہی ہوں اور اللہ ہی تمہارے بیانات کے بارے میں میرا مدد گار ہے۔
فقال أبوبكر: صَدَقَ اللَّـهُ وَ رَسُولُهُ وَ صَدَقَتْ اِبْنَتُهُ، مَعْدِنُ الْحِكْمَةِ، وَ مَوْطِنُ الْهُدی وَ الرَّحْمَةِ، وَ رُكْنُ الدّینِ، وَ عَینُ الْحُجَّةِ، لااَبْعَدُ صَوابَكِ وَ لااُنْكِرُ خِطابَكِ، هؤُلاءِ الْمُسْلِمُونَ بَینی وَ بَینَكِ قَلَّدُونی ما تَقَلَّدْتُ، وَ بِاتِّفاقٍ مِنْهُمْ اَخَذْتُ ما اَخَذْتُ، غَیرَ مَكابِرٍ وَ لامُسْتَبِدٍّ وَ لامُسْتَأْثِرٍ، وَ هُمْ بِذلِكَ شُهُودٌ.(اس کے بعد ابوبکر نے کہا) اللہ، رسولؐ اور رسولؐ کی بیٹی سب سچے ہیں۔آپ حکمت کے معادن، ہدایت ورحمت کا مرکز، دین کے رکن ، حجت خدا کا سر چشمہ ہیں۔میں نہ آپ کے حرف راست کو دور پھینک سکتا ہوں اور نہ آپ کے بیان کا انکار کر سکتا ہوں۔مگر یہ ہمارے اورآپ کے سامنے مسلمان ہیں۔جنہوں نے مجھے خلافت کی ذمہ داری دی ہے اور میں نے ان کے اتفاق رائے سے یہ عہدہ سنبھالا ہے۔اس میں نہ میری بڑا ئی شامل ہے نہ خود را ئی اور نہ شوق حکومت۔ یہ سب میری اس بات کے گواہ ہیںیہ ابو بکر کی پہلی کشش تھی جس میں انہوں نے مسلمانوں کے جذبات اور ان کی رائے کو حضرت زہراؑ کی نصرت سے منحرف کیا اور اس کے لئے انہوں نے امت کی صلاح و فلاح اور سنت رسولؐ کے اتباع کا حوالہ دے کر رائے عامہ کو اپنی ظاہر داری کے ذریعہ گمراہ کیا۔
فالتفت فاطمة علیهاالسلام الی النساء، و قالت: مَعاشِرَ الْمُسْلِمینَ الْمُسْرِعَةِ اِلی قیلِ الْباطِلِ، الْمُغْضِیةِ عَلَی الْفِعْلِ الْقَبیحِ الْخاسِرِ، اَفَلاتَتَدَبَّرُونَ الْقُرْانَ اَمْعَلی قُلُوبٍ اَقْفالُها، كَلاَّ بَلْ رانَ عَلی قُلُوبِكُمْ ما اَسَأْتُمْ مِنْ اَعْمالِكُمْ، فَاَخَذَ بِسَمْعِكُمْ وَ اَبْصارِكُمْ، وَ لَبِئْسَ ما تَأَوَّلْتُمْ، وَ ساءَ ما بِهِ اَشَرْتُمْ، وَ شَرَّ ما مِنْهُ اِعْتَضْتُمْ، لَتَجِدَنَّ وَ اللَّـهِ مَحْمِلَهُ ثَقیلاً، وَ غِبَّهُ وَ بیلاً، اِذا كُشِفَ لَكُمُ الْغِطاءُ، وَ بانَ ما وَرائَهُ الضَّرَّاءُ، وَ بَدا لَكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ ما لَمْ تَكُونُوا تَحْتَسِبُونَ، وَ خَسِرَ هُنالِكَ الْمُبْطِلُونَ. جسے سن کر جناب فاطمہ زہراؑ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئیں اورفرمایا:

اے گروہ مسلمین جو حرف باطل کی طرف تیزی سے سبقت کرنے والے اور فعل قبیح سے چشم پوشی کرنے والے ہو۔ کیا تم قرآن پر غور نہیں کرتے ہواور کیا تمھارے دلوں پر تالے پڑے ہؤے ہیں۔یقیناًتمھارے اعمال نے تمھارے دلوں کو زنگ آلود کر دیا ہے اور تمھاری سماعت اور بصارت کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔تم نے بد ترین تاویل سے کام لیا ہے۔

اور بدترین راستہ کی نشان دہی کی ہے اور بد ترین معاوضہ پر سودا کیا ہے۔ عنقریب تم اس بوجھ کی سنگینی کا احساس کرو گے اور اس کے انجام کو بہت درد ناک پاؤ گے جب پردے اٹھا ئے جائیں گے اور پس پردہ کے نقصانات سامنے آجا ئیں گے اور خدا کی طرف سے وہ چیزیں سامنے آجأے گی جن کا تمھیں وہم گمان بھی نہیں ہے اور اہل باطل خسارہ کو بر داشت کریں گے۔
ثم عطفت علی قبر النبی صلی اللَّـه علیه و آله، و قالت:پھر جناب فاطمہ زہراؑ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئیں اور فرمایا:

قَدْ كانَ بَعْدَكَ اَنْباءٌ وَهَنْبَثَةٌ، لَوْ كُنْتَ شاهِدَها لَمْ تَكْثِرِ الْخُطَبُ،

اِنَّا فَقَدْ ناكَ فَقْدَ الْاَرْضِ وابِلَها، وَ اخْتَلَّ قَوْمُكَ فَاشْهَدْهُمْ وَ لاتَغِبُ،

وَ كُلُّ اَهْلٍ لَهُ قُرْبی وَ مَنْزِلَةٌ، عِنْدَ الْاِلهِ عَلَی الْاَدْنَینِ مُقْتَرِبُ،

اَبْدَتْ رِجالٌ لَنا نَجْوی صُدُورِهِمُ، لمَّا مَضَیتَ وَ حالَتْ دُونَكَ التُّرَبُ

تَجَهَّمَتْنا رِجالٌ وَ اسْتُخِفَّ بِنا، لَمَّا فُقِدْتَ وَ كُلُّ الْاِرْثِ مُغْتَصَبُ،

وَ كُنْتَ بَدْراً وَ نُوراً یسْتَضاءُ بِهِ، عَلَیكَ تُنْزِلُ مِنْ ذِی الْعِزَّةِ الْكُتُبُ،

وَ كانَ جِبْریلُ بِالْایاتِ یؤْنِسُنا، فَقَدْ فُقِدْتَ وَ كُلُّ الْخَیرِ مُحْتَجَبُ،

فَلَیتَ قَبْلَكَ كانَ الْمَوْتُ صادِفُنا، لَمَّا مَضَیتَ وَ حالَتْ دُونَكَ الْكُتُبُ۔

بابا آپؐ کے بعد بڑی نئی نئی خبریں اور مصیبتیں سامنے آئیں کہ اگر آپ سامنے ہوتے تو مصا ئب کی یہ کثرت نہ ہوتی۔ہم نے آپ کو ویسے ہی کھو دیا جیسے زمین ابر کرم سے محروم ہو جأے۔ اور اب آپ کی قوم بالکل ہی منحرف ہو گئی ہے۔

ذرا آپ آکر دیکھ تو لیں دنیا کا جو خاندان خدا کی نگاہ میں قرب ومنزلت رکھتا ہے وہ دوسروں کی نگاہ میں محترم ہوتا ہے مگر ہمارا کوئی احترام نہیں ہے کچھ لوگوں نے اپنے دل کے کینوں کا اس وقت اظہار کیا جب آپ اس دنیا سے چلے گئے اور میرے اورآپ کے درمیان خاک قبر حائل ہوگئی۔لوگوں نے ہمارے اوپر ہجوم کرلیا اور آپ کے بعد ہم کو بے قدر وقیمت سمجھ کر ہماری میراث کو ہضم کر لیا۔ آپ کی حیثیت ایک بدر کامل اور نور مجسم کی تھی جس سے روشنی حاصل کی جاتی تھی اور اس پر ربِّ عزت کے پیغامات نازل ہوتے تھے۔

جبریل آیات الہی سے ہمارے لئے سامان انس فراہم کرتے تھے مگر آپ کیا گئے کہ ساری نیکیاں پس پر دہ چلی گئیں۔ کاش مجھے آپ سے پہلے موت آگئی ہوتی اور میں آپ کے اور اپنے درمیان خاک کے حا ئل ہونے سے پہلے مر گئی ہوتی۔

حوالہ جات

  1. خطبہ فدکیہ کے لیے مراجعہ کریں: شرح نہج البلاغة لابن أبي الحديد، ج :16، ص:211ـ249، بحار الأنوار، ج:43، ص:148.