خزیمہ بن ثابت

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
خزیمہ بن ثابت
معلومات شخصیت
مکمل نام خُزَیمَہ بن ثابِت بن فاکہ بن ثَعْلَبَہ بن ساعده انصاری
لقب ذو الشہادتین
مہاجر/انصار انصار
دینی مشخصات
جنگوں میں شرکت جنگ بدر، جنگ احد، جنگ موتہ، جنگ صفین و جنگ جمل۔
وجہ شہرت صحابی رسول خدا (ص) و امام علی (ع)، مخالف خلفائے ثلاثہ، نقل روایت۔


خُزَیمَہ بن ثابِت بن فاکہ بن ثَعْلَبَہ بن ساعده انصاری، پیغمبر اکرم (ص) اور حضرت علی (ع) کے ان اصحاب میں سے ہیں جو اپنے قبیلے میں سب سے پہلے اسلام لائے۔ ایک گھوڑے کے معاملہ میں آنحضرت (ص) کے حق میں گواہی دینے کی وجہ سے آپ (ص) نے انہیں ذو الشہادتین کے لقب سے سرفراز کیا۔ وہ جنگ صفین میں امام علی (ع) کے لشکر کی طرف سے جنگ کرتے ہوئے شہید ہوئے۔

نام، نسب و کنیت

خُزَیمَہ بن ثابِت، بن فاکہ بن ثَعْلَبَہ بن ساعده انصاری، اہل مدینہ ہیں اور ان کا تعلق قبیلہ اوس کی شاخ بنی حطمہ سے ہے۔ آپ پیغمبر اسلام (ص) اور امام علی (ع) کے اصحاب میں سے ہیں۔

ان کی والدہ کبشہ بنت اوس کا تعلق قبیلہ بنی ساعدہ سے تھا۔ خزیمہ کی کنیت ابو عمارہ ذکر ہوئی ہے۔ اسلام سے پہلے ان کی زندگی کے سلسلہ میں کوئی معلومات میسر نہیں ہے۔

ان کا اسلام لانا

ان کے اسلام لانے کے زمانہ کے سلسلہ میں اختلاف ہے۔ بعض نے ان کے اسلام لانے کا زمانہ جنگ بدر (سن 2 ہجری) سے پہلے اور ایک گروہ نے اس کے بعد اور جنگ احد (سن 3 ہجری) سے قبل نقل کیا ہے۔ اسلام لانے کے بعد انہیں عمیر بن عدی بن خرشہ کے ساتھ اپنے قبیلہ کے بتوں کو توڑنے کی ذمہ داری دی گئی۔

لقب ذو الشہادتین

خزیمہ بن ثابت، ذوالشہادتین کے لقب سے مشہور ہیں۔ اس لئے کہ انہوں نے ایک معاملہ میں گواہی طلب ہونے کے بعد اس کے صحیح ہونے سلسلہ میں گواہی دی اور رسول خدا (ص) نے ان کی گواہی کو دو عادل افراد کی گواہی کے برابر قرار دیا۔ ان کی گواہی پیغمبر اکرم (ص) کے ایک اسب کے بارے میں تھی جس کا نام مرتجز تھا جسے آنحضرت نے ایک اعرابی سے خریدا تھا۔ بعد اس اعرابی نے بعض منافقین کے بھڑکانے میں آ کر اس معاملہ سے انکار کر دیا تو خزیمہ نے رسول خدا (ص) کے حق میں گواہی دی۔ حضرت نے خزیمہ سے پوچھا: تم نے کیسے گواہی دے دے جبکہ تم اس وقت ہمارے ساتھ موجود نہیں تھے؟ خزیمہ نے جواب دیا: میں جانتا ہوں کہ آپ ہمہشہ حق بات بولتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ میں اللہ کی طرف سے آپ کے ذریعہ لائے دین کی تو تصدیق کروں لیکن ایک بد بخت اعرابی سے ایک گھوڑا خریدنے کے سلسلہ میں آپ کے دعوی کی تصدیق نہ کروں؟ اس کے بعد رسول خدا (ص) نے فرمایا: خزیمہ جس کے بھی نفع یا نقصان کے بارے میں گواہی دیں، اس کے سلسلہ میں ان کی ایک گواہی کافی ہے۔ (یعنی دو گواہ کے برابر ہے)۔ خزیمہ کا اس طرح سے شہادت دینا ظاہرا رسول خدا (ص) اور دین اسلام پر ان کے محکم ایمان کی وجہ سے تھا۔ اس چیز نے ان کی حیثیت میں بے پناہ اضافہ کر دیا تھا اور اس بات پر مدینہ والے اوس ہوں یا خزرج سب افتخار کرتے تھے۔ قبیلہ اوس کے لوگ کہتے تھے: وہ شخص، جس کی گواہی کو رسول خدا (ص) نے دو لوگوں کی گواہی کے برابر قرار دیا ہے، ہم میں ہے۔

عصر پیغمبر (ص) میں

خزیمہ بن ثابت ان مسلمانوں میں سے تھے جنہوں نے جنگ بدر اور اس کے بعد کی جنگوں اور غزوات میں شرکت کی۔ ایک روایت کے مطابق انہوں نے پہلی جنگ احد میں شرکت کی۔ اگرچہ غزوات کے حالات تحریر کرنے والے مورخین نے ان کا نام جنگ احد میں شریک افراد پیغمبر اکرم (ص) کے اصحاب میں نہیں کیا ہے اور نقل ہوا ہے کہ انہوں نے جنگ احد کے بعد سے غزوات میں شرکت کی ہے۔ فتح مکہ میں انہوں نے اپنے ہاتھوں میں اپنے قبیلہ بنی خطمہ کا پرچم بلند کیا ہوا تھا۔ بعض اہل سنت منابع نے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ آنحضرت (ص) کی پیشانی پر سجدہ کر رہے ہیں۔ جب انہوں نے اپنے خواب کو بیان کیا تو رسول خدا (ص) نے ان کی خواب کی تصدیق کرتے ہوئے انہیں اجازت دی کہ وہ آپ (ص) کی پیشانی پر سجدہ کریں۔

خزیمہ بن ثابت نے جنگ موتہ (سن 8 ہجری) میں شرکت کی اور اس جنگ کے تن بن حملہ میں ایک رومی سے جنگ کی اور اسے قتل کیا۔ جس کے نتیجہ میں انہیں اس سے کچھ جواہرات غنیمت میں ملے۔ بعد میں انہوں نے ان جواہرات کو بیچ کر بنی خطمہ کے درمیان میں ایک نخلستان خریدا۔

خلیفہ اول کی خلافت سے انکار

اصلی مقالہ: واقعہ سقیفہ بنی ساعدہ

بعض منابع نے خزیمہ کے سقیفہ بنی ساعدہ میں موجود ہونے کی بات نقل کی ہیں۔ ان منابع کی گزارش کے مطابق انہوں نے میں اس میں پہلے مقرر کے عنوان سے انصار کے فضائل بیان کئے اور ان سے چاہا کہ وہ کسی انسان کا انتخاب کریں جسے قریش مانتے ہوں اور جس کے شر سے انصار محفوظ رہیں۔

خزیمہ بن ثابت نے پیغمبر اکرم (ص) کی رحلت کے بعد بعض دیگر اصحاب اور اکثر بنی ہاشم کی طرح امر خلافت کے لئے حضرت علی (ع) کی طرف رجوع کیا اور حضرت ابو بکر کی خلافت کو قبول نہیں کیا اور خلافت کے سلسلہ میں ابو بکر سے بحث کی۔ خزیمہ نے شہادت دی کہ روز غدیر خم آنحضرت (ص) نے فرمایا: من کنت مولاہ فہذا علی مولاہ۔ جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی مولا ہیں، اور اس بیان کے ذریعہ سے انہوں نے علی (ع) کی ولایت، اخوت اور جانشینی کی گواہی دی۔

خزیمہ کا نام ان 12 افراد میں ذکر ہوا ہے جنہوں نے ابو بکر کی خلافت کو قبول نہیں کیا تھا اور ان تمام لوگوں نے تقریریں کرکے ان سے چاہا کہ وہ خلافت سے دست بردار ہو جائیں۔ ابو بکر کے سلسلہ میں خزیمہ کے اقوال اس طرح سے نقل ہوئے ہیں: اے ابو بکر کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول خدا (ص) نے میری گواہی کو دو لوگوں کے برابر قرار دیا ہے؟ ابو بکر نے کہا: ہاں۔ تو خزیمہ نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کی قسم، میں رسول خدا (ص) سے سنا۔ آپ نے فرمایا: میرے اہل بیت حق و باطل کو جدا کرنے والے ہیں اور ایسے رہبر ہیں جن کی اقتدا کی جاتی ہے۔

دوسری طرف جمع آوری قرآن کریم کے سلسلہ میں حضرت ابو بکر کے ساتھ ان کے تعاون کا ذکر ہوا ہے۔ خلیفہ دوم اور خلیفہ سوم کے زمانہ خلافت میں ان کے کردار کی بارے میں کوئی اطلاع دسترس میں نہیں ہے۔

حضرت علی (ع) کے دور میں

خزیمہ نے حضرت علی (ع) سے بیعت کے سلسلہ میں اپنے الفاظ میں انہیں خلافت کے لائق ترین انسان، ایمان کے اعتبار سے برترین شخص، خدا کی معرفت کے سلسلہ میں دانا ترین فرد اور رسول خدا (ص) کے سب سے قریبی افراد میں قرار دیا ہے اور انہوں نے اس بارے میں اشعار بھی نظم کئے ہیں۔

جنگ جمل میں

جنگ صفین میں اور شہادت

عمار کے باغی گروہ کے ذریعہ قتل کی گواہی

روات حدیث میں

مدح علی (ع) میں ان کے اشعار

اولاد

حوالہ جات


مآخذ

  • ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، چاپ محمد ابو الفضل ابراہیم، قاہره، ۸۷ـ۱۳۸۵/ ۶۷ـ ۱۹۶۵ ع
  • ابن اثیر، اُسْد الغابہ فی معرفة الصحابہ، چاپ محمدابراہیم بنا و محمداحمد عاشور و محمود عبدالوہاب فاید، قاہره ۱۳۹۰ـ۱۳۹۳/۱۹۷۰ـ۱۹۷۳ ع
  • ابن اثیر، الکامل فی التاریخ
  • ابن بابویہ، امالی الصدوق، چاپ حسین اعلمی، بیروت ۱۴۰۰/۱۹۸۰
  • ابن بابویہ، کتاب الخصال، صححہ و علق علیہ: علی اکبر الغفاری، قم: مؤسسہ النشر الاسلامی، ۱۴۱۶ق
  • ابن حجر عسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ، چاپ علی محمد بجاوی، بیروت ۱۴۱۲/۱۹۹۲
  • ابن حجر عسقلانی، تہذیب التہذیب، چاپ صدقی جمیل عطار، بیروت ۱۴۱۵/۱۹۹۵
  • ابن سعد (بیروت)
  • ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، نجف ۱۳۷۶/۱۹۵۶
  • ابن عبد البر، الاستیعاب فی معرفہ الاصحاب، چاپ علی محمد بجاوی، بیروت، ۱۴۱۲/۱۹۹۲
  • ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، چاپ علی شیری، بیروت ۱۴۱۵/۱۹۹۵
  • ابن قتیبہ، المعارف، چاپ ثروت عکاشہ، قاہره ۱۳۸۸/۱۹۶۹
  • ابن کلبی، جمہرةالنسب، چاپ ناجی حسن، بیروت ۱۴۰۷/۱۹۸۶ ع
  • امین
  • تستری
  • ذہبی
  • طبری، تاریخ (بیروت).
  • طوسی، محمد بن حسن، رجال الطوسی، چاپ جواد قیومی اصفہانی، قم ۱۴۱۵
  • نہج البلاغہ، ترجمہ سید جعفر شہیدی، تہران ۱۳۷۰
  • محمد بن عمر کشی، اختیار معرفة الرجال المعروف برجال الکشی، (تلخیص) محمد بن حسن طوسی، چاپ حسن مصطفوی، مشہد ۱۳۴۸
  • کلینی
  • مسعودی، مروج (بیروت)
  • محمد بن محمد مفید، الجمل و النصرہ لسیدالعترة فی حرب البصرہ، چاپ علی میر شریفی، قم ۱۴۱۶/۱۳۷۴
  • مقدسی، مطہر بن طاہر، البدء و التاریخ، چاپ کلمان ہوار، پاریس ۱۹۱۶ ع
  • نصر بن مزاحم منقری، وقعہ صفین، چاپ عبد السلام محمد ہارون، قاہره ۱۳۸۲
  • نووی، محی الدین، تہذیب الاسماء و اللغات، مصر، ادارة الصباعہ المنیریہ (افست تہران)
  • علی بن ابی بکر ہروی، الاشارات الی معرفة الزیارات، چاپ جانین سوردیل ـ طومین، دمشق ۱۹۵۳ ع
  • یعقوبی، تاریخ