خاتم‌ بخشی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

خاتَم‌ بَخشی یا انگوٹھی کا صدقہ، اس واقعے کی طرف اشارہ ہے جس میں امام علیؑ نے نماز میں رکوع کی حالت میں کسی سائل کو اپنی انگوٹھی کا صدقہ دیا تھا۔ اس واقعے کا تذکرہ جہاں شیعہ اور سنی حدیثی مصادر میں موجود ہے وہاں مفسرین کے مطابق آیت ولایت کا شأن نزول بھی یہی واقعہ ہے۔ اس واقعے کو حضرت علی ؑ کے فضائل میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔ بعض شیعہ فقہا اسی واقعے سے استناد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: نماز کی حالت میں بعض جزئی حرکات نماز کے بطلان کا سبب نہیں بنتے ہیں۔ اس حوالے سے بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ نماز کی حالت میں غیر الله کی طرف متوجہ ہونا اور سائل کی آواز سننا حضرت علیؑ کی نماز میں عرفانی حالت کے ساتھ سازگار نہیں ہے۔ جس کے جواب میں علما فرماتے ہیں کہ جس طرح حضرت علیؑ کی نماز خدا کیلئے تھی اسی طرح ان کا یہ انفاق بھی خدا کی خوشنودی کیلئے تھا لہذا ان دونوں میں کوئی منافات نہیں ہے۔

تفصیل واقعہ

احادیث کے مطابق ایک دن کوئی سائل مسجد نبوی میں داخل ہوا اوراس نے وہاں موجود لوگوں سے مدد کی درخواست کی لیکن کسی نے اسے کچھ نہیں دیا۔ اس موقعے پر سائل نے اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کر کے خدا سے شکایت کی: خدایا! تو گواہ رہنا ! میں نے تیرے نبی کی مسجد میں مدد کی درخواست کی پر کسی نے مجھے کچھ نہیں دیا۔ عین اسی وقت حضرت علیؑ</