حمزہ بن موسی الکاظم

ویکی شیعہ سے
نظرثانی بتاریخ 07:18, 7 جولائی 2019 از Hakimi (تبادلۂ خیال | شراکتیں)
(فرق) → پرانا نسخہ | حالیہ نظرثانی (فرق) | →اگلا اعادہ (فرق)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بسم اللّه الرّحمن الرّحیم
حمزہ بن موسی الکاظم
ضریح مطهر امامزاده حمزه بن موسی علیه السلام.jpg
نام حمزہ بن موسی الکاظمؑ
مدفن شہر ری، ایران
سکونت شہر ری
والد امام موسی کاظمؑ
والدہ ام احمد
اولاد علی، قاسم، حمزی
مشہور امام زادے
عباس بن علی، زینب کبری، فاطمہ معصومہ، علی اکبر، علی اصغر، عبد العظیم حسنی، احمد بن موسی، سید محمد، سیدہ نفیسہ


حمزہ بن موسی بن جعفر الکاظم (ع) ساتویں امام کے فرزند ہیں۔ وہ ایک فاضل دانشمند تھے اور عوام کے مختلف طبقات میں خاص محبوبیت کے حامل تھے۔ بعض روایات کے مطابق مامون کے قریبی افراد نے انہیں قتل کرایا ہے۔

ایران اور دوسرے ممالک میں بہت سے روضے ان کی طرف منسوب ہیں لیکن صحیح یہ ہے کہ ان کا مقبرہ شہر ری میں شاہ عبد العظیم حسنی کے جوار میں واقع ہے۔

نسب و ولادت

حمزہ کے والد ساتویں امام حضرت موسی بن جعفر الکاظم (ع) اور ان کی والدہ کتاب منتخب التواریخ کے مولف کے مطابق ام احمد تھیں۔ اس قول کی بنیاد پر حمزہ، حضرت احمد بن موسی، جن کا لقب شاہ چراغ ہے، کے بھائی ہیں۔ اور ایک دوسرے قول کے مطابق ان کی والدہ ام ولد تھیں۔[1] آپ کی کنیت ابوالقاسم ذکر ہوئی ہے۔

تاریخی منابع میں آپ کے بارے میں اطلاعات اور مطالب کم ہونے کی وجہ سے آپ کی تاریخ ولادت کے سلسلہ میں کوئی اطلاع دسترس میں نہیں ہے۔

نظر بزرگان

جب شاہ عبد العظیم حسنی نے شہر ری کی طرف مراجعت کی تو آپ وہاں حمزہ بن موسی کی قبر کی زیارت کے لئے جاتے تھے اور آپ کی زیارت کے وقت اس طرح سے فرماتے تھے:

ھذا قبر خیر رجل من ولد موسی بن جعفر (ع)

شاہ عبد العظیم حسنی اپنی تمام تر جلالت و قدر و منزلت کے ساتھ مستقل ان کی زیارت کو جاتے تھے اور وہاں مدفون شخصیت کا تعارف اپنے مورد اطمینان اصحاب اور شاگرد کے طور پر کراتے تھے۔[2]

چوتھی صدی ہجری کے ایک دانشمند صاحب بن عباد کی طرف ایک رسالہ منسوب ہے جو انہوں نے حضرت شاہ عبد العظیم حسنی (ع) کے سلسلہ میں تالیف کیا تھا، اس میں انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے۔[3]

ضامن بن شدقم ان کے سلسلہ میں تحریر کرتے ہیں:

ایک ایسے فاضل دانشمند تھے جو دین کا تحفظ کرتے تھے، جلیل القدر، عالی رتبہ اور بلند مرتبہ تھے۔ جن کے اقتدار اور عزت کا شہرہ زبانزد خاص و عام تھا۔ عوام کے مختلف طبقوں میں ایک غیر معمولی اور خاص محبوبیت و مقبولیت کے حامل تھے۔[4]

علامہ مجلسی اپنی کتاب تحفۃ الزائر میں تحریر کرتے ہیں:

آپ کی قبر مطہر حضرت شاہ عبد العظیم حسنی کے جوار میں ہے اور ظاہرا آپ وہی امام زادہ ہیں جن کی سید (شاہ عبد العظیم) زیارت کے لئے جاتے تھے۔ اور آپ کی زیارت کرنا چاہئے۔ ایک بزرگوار نے نقل کیا ہے کہ حمزہ بن موسی کی کنیت ابو القاسم تھی۔

محدث قمی آپ کی شان میں فرماتے ہیں:

یقینا حمزہ بن موسی (ع) ایک جلیل القدر سید تھے۔ اور جناب شاہ عبد العظیم حسنی کے جوار میں ایک قبر ہے جس پر شاندار قبہ موجود ہے وہ آپ کی طرف منسوب ہے اور مومنین کی زیارت گاہ ہے۔[5]

نجاشی کی روایت میں ذکر ہوا ہے کہ جس وقت حضرت شاہ عبد العظیم حسنی شہر ری میں عباسیوں اور ان کے کارندوں کی نظروں سے بچ کر خفیہ طور پر زندگی گزار رہے تھے۔ دن میں آپ روزہ رکھتے تھے اور شب میں نماز میں مشغول رہتے تھے اور خفیہ طور پر باہر نکلتے تھے اور ایک قبر کی زیارت کو جاتے تھے اور فرماتے تھے: یہ قبر امام موسی بن جعفر کی اولاد میں سے ایک فرزند کی ہے۔[6]

شہادت یا وفات

آپ کی تاریخ شہادت کے سلسلہ میں کوئی معتبر اطلاع دسترس میں نہیں ہے، آپ کی حیات پر لکھے جانے والے مصادر میں اس موضوع کا کوئی تذکرہ موجود نہیں ہے اور علماء و مورخین نے اس بارے میں کوئی تحقیق انجام نہیں دی ہے۔

بعض روایات کے مطابق، مامون کی طرف داری کرنے والے ایک گروہ نے آپ کے خلاف شورش برپا کرکے آپ کو قتل کر ڈالا اور آپ کے جاننے والوں اور دوستوں نے آپ کو ری کے ایک باغ میں دفن کر دیا۔[7]

سید محسن امین عاملی اپنی کتاب اعیان الشیعہ میں بحار الانوار سے نقل کرتے ہیں:

حمزہ بن موسی علیہ السلام اپنے بھائی امام علی رضا علیہ السلام کی خدمت کے لئے خراسان کی طرف محو سفر تھے۔ آپ ہمیشہ امام کی خدمت میں منہمک رہتے تھے اور امام کے ضروری امور کو انجام دینے کی سعی کرتے تھے۔ جب آپ سوسمر (ایک قریہ کا نام ہے جس کے محل وقوع کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے) نامی مقام پر پہچے تو مامون کے کاروندوں میں سے بعض نے ان پر حملہ کر دیا اور انہیں قتل کر ڈالا۔ آپ کے بھائی امام رضا علیہ السلام نے آپ کو ایک باغ میں دفن کیا۔[8]

اولاد

علی: انتقال کے وقت لا ولد تھے، شہر شیراز میں باب اسطخر میں مدفون ہیں۔[9]

قاسم: قاسم اعرابی کے نام سے معروف تھے، ان کی نسل سے بہت سے سادات باقی ہیں۔[10]

حمزہ: ان کی نسل سے بہت سے سادات خراسان و بلخ میں باقی ہیں، شاہان صفویہ حمزہ بن حمزہ کی اولاد میں سے تھے۔[11]

آپ سے منسوب روضے

ایران اور دوسرے ممالک میں بہت سے روضے حمزہ بن موسی الکاظم علیہ السلام سے منسوب ہیں۔ جن میں سے بعض یہ ہیں: کاشمر، ماہ شہر اور ھندیجان کے درمیان، شیراز، بوانات فارس، کازرون، قم، اسفراین، سیرجان کرمان، حلہ، شیروان، کاخران (شمال اردبیل سے تین کیلو میٹر کے فاصلہ پر)، تبریز، قزوین اور شہر ری۔

ری کے روضہ پر موجود قرائن

محمد حسین حسینی جلالی اپنی کتاب مزارات اھل و تایخھا میں تحریر کرتے ہیں: شہر ری میں عبد العظیم حسنی کے سکونت اختیار کرنے کے دلائل میں سے ایک حمزہ بن موسی الکاظم علیہ السلام ہیں۔ یہ واقعیت ان کے زیارت نامہ میں اس طرح سے بیان ہوئی ہے: اے موسی بن جعفر (ع) کی اولاد میں سے بہترین کی زیارت کرنے والے۔[12]

بعض روایات کے مطابق، مامون کی طرف داری کرنے والے ایک گروہ نے آپ کے خلاف شورش برپا کرکے آپ کو قتل کر ڈالا اور آپ کے جاننے والوں اور دوستوں نے آپ کو ری کے ایک باغ میں دفن کر دیا۔

حرز الدین کہتے ہیں: حمزہ کا مقبرہ شہر ری میں معروف اور مشہور ہے اور وہ سید عبد العظیم حسنی کے جنوبی رواق کی سمت میں واقع ہے۔ اس کے اوپر ایک بلند و استوار گنبد اور قیمتی ضریح موجود ہے۔ کسی کے لئے یہ بات مخفی نہیں ہے کہ حمزہ بن موسی بن جعفر (ع) کے روضے کے سلسلے میں مختلف شہروں کے روضات کی طرف نسبت دی جاتی ہے۔ جن میں سے مشہور ترین روضوں میں شہر ری کا روضہ ہے۔ ان کا شمار علماء، بزرگان، فقہاء اور متقی انسان میں ہوتا ہے۔انہوں نے اپنے بھائی امام رضا علیہ السلام کی امامت کو قبول کیا تھا، وہ مدینہ میں امام کی خدمت بجا لاتے تھے اور امام کے حکم کی تعمیل کرتے تھے۔ ان کا شمار امام رضا (ع) کے اصحاب میں ہوتا ہے اور آپ سفر و حضر میں امام کی خدمت بجا لاتے تھے۔[13]

خوانساری نے اپنی کتاب روضات الجنات میں[14] اور رضا قلی خان ھدایت نے اپنی تالیف روضۃ الصفای ناصری میں[15] حمزہ کا روضہ شہر ری میں تحریر کیا ہے۔

سید عبد الرزاق کمونہ حسینی تحریر کرتے ہیں: شہر ری میں حمزہ بن موسی کا روضہ واقع ہے جیسا کہ سید مھدی قزوینی نے اپنی تالیف فلک النجاۃ میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے۔

ان محقق اور ماہر نسب کے قول کے مطابق، حمزہ ایک فاضل اور پرہیز گار انسان تھے اور وہ اپنے بھائی امام رضا علیہ السلام کی صادقانہ پیروی کرتے تھے اور ہمیشہ ان کی رضایت کے طلبگار تھے۔[16]

دوسرے شواہد

ایک عالم دین اپنے والد کا قول نقل کرتے ہیں: میں عراق کے شہر حلہ کے اطراف میں تبلیغ کے لئے گیا ہوا تھا۔ وہاں پر ایک مزار ہے جو حمزہ بن موسی الکاظم کے نام سے معروف ہے۔

لوگ ان کے سلسلہ میں کرامات نقل کرتے ہیں، میں ان کی زیارت کے لئے گیا کیونکہ میرے نزدیک ثابت ہو چکا تھا کہ ان کا روضہ شہر ری ہے۔

ایک دن قریہ کے لوگوں نے مجھ سے خواہش ظاہر کی کہ میں ان کی زیارت کے لئے جاوں تو میں انہیں جواب دیا کہ میں جس روضہ کے بارے میں نہیں جانتا ہوں اس کی زیارت کے لئے نہیں جاتا ہوں۔ میرے انکار کی وجہ سے لوگوں کی رغبت اس روضہ کی زیارت کے سلسلہ میں کم ہوگئی۔

اس شب اچانک ایک سید میرے پاس آئے، سلام کیا اور میرے پاس بیٹھ کر گویا ہوئے: مولانا، کل آپ حمزہ بن موسی الکاظم کے علاقہ میں مومنین کے مہمان تھے لیکن آپ وہاں زیارت کے لئے نہیں گئے؟ میں نے کہا: ہاں، تو انہوں نے پوچھا کیوں؟ میں نے کہا: میں انہیں نہیں پہچانتا ہوں، میرے خیال میں حمزہ بن موسی الکاظم (ع) کا روضہ شہر ری میں ہے تو انہوں نے کہا: بہت سی باتیں مشہور ہو جاتی ہیں جبکہ حقیقت کچھ اور ہوتی ہے۔ یہ حمزہ کی قبر نہیں ہے بلکہ ابو علی حمزہ بن قاسم علوی عباسی کی قبر ہے جو حضرت عباس بن علی (ع) کی اولاد میں سے ہیں، وہ صاحب اجازہ علما اور محدثین میں سے ہیں، سوانح نگار علما نے ان کے علم اور تقوی کی تعریف کی ہے۔

جب صبح ہوئی اور میں نے رجال کی کتابوں کا مطالعہ کیا تو پایا کہ ان سید کی بات صحیح تھی اور یہ روضہ ابو علی حمزہ بن قاسم علوی کا ہے۔

جس وقت قریہ کے لوگ میرے پاس ملاقات کے لئے آئے تو وہ سید بھی ان کے ساتھ تھے، میں نے ان کا شکریہ ادا کیا کہ آپ رات میں میرے پاس اور آپ نے مجھے اس حقیقت سے آگاہ کیا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کو اس حقیقت کا علم کیسے اور کہاں سے ہوا؟ انہوں نے جواب دیا: خدا کی قسم، میں رات میں آپ کے پاس نہیں آیا بلکہ آج میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اور کل کی شب تو میں بستی میں تھا ہی نہیں بلکہ باہر گیا ہوا تھا۔

مجھے شک نہیں ہے کہ وہ شخص جو سحر کے وقت میرے پاس تشریف لائے تھے وہ امام زمانہ علیہ السلام تھے اور ان کی فرمان یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ امام زادہ حمزہ بن موسی علیہ السلام شہر ری میں مدفون ہیں۔[17]

حوالہ جات

  1. انس الکتبی الحسنی، ص۱۱۲
  2. بحارالانوار، ج۴۸، ص۳۱۲
  3. مستدرک الوسایل، محدث نوری، ج۱۳، ص۶۱۲ و۶۱۳
  4. تحفةالازهار جلد دوم، قسم دوم، ۳۲۲
  5. منتهی الامال، ج۳ ص۱۵۶۷
  6. منتهی الآمال، حاج شیخ عباس قمی، ج۳ ص۱۵۶۷
  7. خاک پاکان، ص۳۱۴
  8. امین، ج۶ ص۲۵۱
  9. سراج الانساب، ۷۶
  10. فخر رازی،۹۶؛ الفخری، ص۲۰
  11. فخررازی، ۹۶؛ الفخری، ص۲۰
  12. خاک پاکان، محمد حسین حسینی جلالی، ترجمه: قربان علی اسماعیلی، ص۳۱۴
  13. مراقد المعارف، حرزالدین، ج۱، ص۲۶۲ و۲۶۷
  14. مراقد المعارف، حرزالدین،ج۴، ص۲۱۲
  15. مراقد المعارف، حرزالدین ج۱۱، ص۶۳۴
  16. ق کمونه حسینی، ترجمه عبدالعلی صاحبی، ص۱۲۹
  17. محمد شریف رازی، ص۵۸ و ۵۹


منابع

  • امین سید محسن، اعیان الشیعه، بیروت، دارالتعارف، ۱۴۰۶.
  • حسینی جلالی محمد حسین، خاک پاکان، ترجمه: قربان علی اسماعیلی، ص۳۱۴.
  • رازی محمد شریف، اختران فروزان ری و تهران، ص۵۸و۵۹.
  • ضامن بن شدقم، تحفه الازهار، تحقیق کامل سلمان الجبوری، تهران، دفتر نشر مکتوب، ۱۳۷۸.
  • فخررازی، الشجره المبارکه فی انساب الطالبیه، قم، منشورات کتابخانه آیه الله مرعشی، ۱۴۰۹ق.
  • قمی شیخ عباس، منتهی الامال، تحقیق ناصر باقری بیدهندی، انتشارات دلیل، قم، ۱۳۷۹.
  • الکتبی الحسنی انس، الاصول فی ذریه البضه الرسول، مدینه، دارالمجتبی، ۱۴۲۰ق.
  • کمونه حسینی سید عبدالرزاق، آرامگاه‌های خاندان پاک پیامبر و بزرگان
  • صحابه و تابعین، ترجمه عبد العلی صاحبی، ص۱۲۹.
  • گیلانی، سید احمد بن محمد بن عبدالرحمن، سراج الانساب، منشورات کتابخانه آیه الله مرعشی، قم، ۱۴۰۹.
  • مروزی الازورقانی اسماعیل، الفخری فی انساب الطالبین، قم، منشورات کتابخانه آیه الله مرعشی، ۱۰۴۹ق.

بیرونی روابط

  • امام زادہ حمزہ اور ان کی اولاد تا امام خمینی