"حضرت یوسف" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
(شادی اور اولاد)
(ہنری آثار اور حضرت یوسف)
سطر 99: سطر 99:
 
جناب یوسف کی وفات کے بعد، ہر گروہ آپ کو اپنے محلے میں دفن کرنا چاہتا تھا۔ اسی لیے اختلاف سے بچنے کے لیے آپ کو مرمر کے ایک صندوق میں رکھ کر دیائے نیل میں دفن کیا۔ کئی سالوں کے بعد حضرت موسی نے آپ کے جنازے کو وہاں سے نکال دیا<ref>مسعودی، اثبات الوصیۃ، ۱۳۸۴ش، ص۷۵.</ref> اور چھٹی اور ساتویں صدی ہجری کے مورخ یاقوت حَمَوی کے مطابق آپ کو فلسطین میں دفن کیا۔<ref>یاقوت حموی، معجم البلدان، ۱۹۹۵م، ج۱، ص۴۷۸.</ref>
 
جناب یوسف کی وفات کے بعد، ہر گروہ آپ کو اپنے محلے میں دفن کرنا چاہتا تھا۔ اسی لیے اختلاف سے بچنے کے لیے آپ کو مرمر کے ایک صندوق میں رکھ کر دیائے نیل میں دفن کیا۔ کئی سالوں کے بعد حضرت موسی نے آپ کے جنازے کو وہاں سے نکال دیا<ref>مسعودی، اثبات الوصیۃ، ۱۳۸۴ش، ص۷۵.</ref> اور چھٹی اور ساتویں صدی ہجری کے مورخ یاقوت حَمَوی کے مطابق آپ کو فلسطین میں دفن کیا۔<ref>یاقوت حموی، معجم البلدان، ۱۹۹۵م، ج۱، ص۴۷۸.</ref>
  
==ہنری آثار اور حضرت یوسف==
+
==ہنری آثار==
 
حضرت یوسف کا قصہ ہنری آثار، جیسے نقاشی، کاشی کاری، ادبیات، سینما اور ٹی وی پر بھی منعکس ہوتا رہا ہے۔ اور سنہ 2008ء میں ایک ٹی وی سیریل کی شکل میں یوسف پیغمبر کے نام سے نشر ہوئی۔<ref>[http://vista.ir/article/351963  «چهار سال با یوسف پیامبر»، وبگاه ویستا، تاریخ بازدید: ۱۱ شهریور ۱۳۹۸.]</ref>  
 
حضرت یوسف کا قصہ ہنری آثار، جیسے نقاشی، کاشی کاری، ادبیات، سینما اور ٹی وی پر بھی منعکس ہوتا رہا ہے۔ اور سنہ 2008ء میں ایک ٹی وی سیریل کی شکل میں یوسف پیغمبر کے نام سے نشر ہوئی۔<ref>[http://vista.ir/article/351963  «چهار سال با یوسف پیامبر»، وبگاه ویستا، تاریخ بازدید: ۱۱ شهریور ۱۳۹۸.]</ref>  
 
آٹھویں صدی ہجری کے ایرانی شاعر [[حافظ شیرازی]] نے اپنے مندرجہ ذیل شعر میں اس داستان کی طرف اشارہ کیا ہے:
 
آٹھویں صدی ہجری کے ایرانی شاعر [[حافظ شیرازی]] نے اپنے مندرجہ ذیل شعر میں اس داستان کی طرف اشارہ کیا ہے:

نسخہ بمطابق 06:38, 4 دسمبر 2019

بسم اللّه الرّحمن الرّحیم
حضرت یوسف
فلسطین میں حضرت یوسفؑ سے منسوب مقبرہ
فلسطین میں حضرت یوسفؑ سے منسوب مقبرہ
قرآنی نام: یوسف‏
جائے پیدائش: کنعان
رہائش: کنعان، مصر
مدفن: فلسطین
قوم کا نام: بنی‌ اسرائیل
قبل از: ببرز بن لاوی
بعد از: حضرت یعقوبؑ
مشہوراقارب: یعقوبؑ
ہم عصر پیغمبر: یعقوب
دین: توحیدی
عمر: 120 سال
قرآن میں نام کا تکرار: 27 مرتبہ
اہم واقعات: حضرت یوسف کا کنویں میں ڈالنا، یوسفؑ و زلیخا کا واقعہ، عزیز مصر کے منصب پر فائز ہونا، قحط سالی سے مصر والوں کی نجات
اولوالعزم انبیاء
حضرت محمدؐحضرت نوححضرت ابراہیمحضرت موسیحضرت عیسی


حضرت یوسُف علیہ السلام حضرت یعقوبؑ کے فرزند اور بنی‌ ا‌سرائیل کے انبیاء میں سے تھے۔ آپ نے نبوت پر فائز ہونے کے ساتھ ساتھ چند سال تک مصر پر حکومت بھی کی۔ قرآن مجید میں ایک سورے کا نام بھی یوسف ہے جس میں آپ کے حالات زندگی تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔

حضرت یوسف کو بچپنے میں ان کے بھائیوں نے کنویں میں پھینکا، لیکن ایک گروہ نے انہیں نجات دی اور غلام کی حیثیت سے مصر لے جاکر عزیز مصر کے ہاتھوں بیچ دیا۔ عزیز مصر کی بیوی زلیخا آپ کے حسن کی گرویدہ ہوگئی اور حضرت یوسف کا انکے ساتھ رابطہ رکھنے سے انکار پر عزیز مصر کے ہاں ان پر خیانت کی تہمت لگائی اور یوں جیل بھیج دیا۔

کئی سال بعد آپؑ نے اپنی بے گناہی کو ثابت کیا اور جیل سے رہا ہوئے اور مصر کے بادشاہ کے خواب کی تعبیر کرنے اور مصر کو قحط سالی سے نجات دینے کے لیے راہ حل بتانے پر بادشاہ کے ہاں بہت محبوب ہوئے اور ان کے وزیر بنے۔

قرآن مجید میں مذکور حضرت یوسف کی داستان توریت میں ذکر شدہ واقعے سے کچھ مختلف ہے؛ جن میں سے ایک یہ کہ قرآن کے مطابق یوسفؑ کے بھائی حضرت یعقوب سے درخواست کرتے ہیں کہ انہیں ان کے ساتھ صحرا بھیجیں لیکن توریت کے مطابق حضرت یعقوب خود ہی جناب یوسفؑ کو بھائیوں کے ساتھ جانے کے لئے کہتے ہیں۔

حضرت یوسفؑ کی عمر 120 سال تک بتائی گئی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ فلسطین میں دفن ہوئے۔

مقام و منزلت

حضرت یوسف جناب یعقوبؑ کے بیٹے اور بنی اسرائیل کے نبی تھے۔ آپ کی والدہ کا نام راحیل تھا۔[1] آپ کے گیارہ بھائی تھے جن میں سے بنیامین اور آپ کی ماں ایک تھی۔[2] حضرت یوسفؑ بنیامین کے علاوہ باقی سب بھائیوں سے عمر میں چھوٹے تھے۔[3]

یوسفؑ کا نام قرآن مجید میں 27 مرتبہ ذکر ہوا ہے اور قرآن کی بارہویں سورت آپ ہی کے نام سے منسوب ہے۔ قرآن میں آپ کو اللہ تعالی کے مخلص بندوں میں سے قرار دیا ہے۔[4]جس کے بارے میں علامہ طباطبایی کا کہنا ہے کہ آپ نے نہ صرف زلیخا کی خواہش کے مطابق عمل نہیں کیا بلکہ دل میں بھی اس کام کی طرف کوئی رغبت نہیں رکھتے تھے۔[5] اسی طرح قرآن میں آپ کو محسنوں میں سے بھی شمار کیا گیا ہے۔[6]

نبوت

حضرت یوسفؑ کا شمار بزرگ انبیا میں ہوتا ہے۔[7] قرآنی آیات سے استناد کرتے ہوئے امام باقرؑ کی ایک روایت کے مطابق حضرت یوسف، نبی اور رسول تھے۔[8]تفسیر نمونہ کے مطابق حضرت یوسف کا خواب کہ جس میں گیارہ ستارے، سورج اور چاند کا انکو سجدہ کرنا، حضرت یوسف کا ثروت اور حکومت تک پہنچنے کے علاوہ مستقبل میں نبوت پر فائز ہونے کی طرف بھی اشارہ تھا۔[9] علامہ طباطبایی کا بھی کہنا ہے کہ سورہ یوسف کی چھٹی آیت کے مطابق حضرت یوسفؑ پر نعمت کے کامل ہونے سے مراد آپؑ کا نبوت پر فائز ہونا ہے۔[10]

حالات زندگی

سورہ یوسف میں حضرت یوسف کے حالات زندگی تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ قرآن مجید میں ان کے قصے کو اَحْسَنُ الْقِصَص (سب سے اچھا قصہ) کے نام سے یاد کیا ہے۔[11] اور آپ کا بچپنا، کنویں میں پھینکنے، عزیز مصر کے ہاتھوں بیچنے، یوسفؑ و زلیخا کا واقعہ، جیل جانے، والد اور بھائیوں سے ملاقات اور مصر کی حکومت سب کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔[12]

کنویں میں پھینکنا اور مصر کی طرف منتقل ہونا

مزید دیکھئے: سورہ یوسف
جناب یوسف کو کنویں میں پھینکنے کی منظرکشی

قرآن کی سورہ یوسف میں آپ کے حالات زندگی تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔ قرآن کے مطابق، حضرت یوسفؑ خواب دیکھتا ہے کہ گیارہ ستارے، چاند اور سورج ان کے لیے سجدہ کر رہے ہیں اور یہ خواب حضرت یعقوبؑ کو بیان کرتے ہیں۔ جناب یعقوب، اس خواب کو بھائیوں کے پاس بیان کرنے سے منع کرتے ہیں کیونکہ وہ لوگ خطرناک سازش کرسکتے ہیں۔[13]

مفسروں نے گیارہ ستاروں سے مراد یوسف کے بھائی اور سورج و چاند سے مراد ان کے والدین لیا ہے کہ یوسفؑ دنیوی مقام و منزلت پر فائز ہونے کے بعد ان لوگوں نے آپ کی تعظیم کی۔[14]

حضرت یعقوب کے بیٹوں کا کہنا تھا کہ یوسفؑ اور ان کے بھائی بنیامین والد کے ہاں زیادہ عزیز ہیں۔[15]اس لیے ایک دن انہوں نے جناب یعقوب سے اجازت مانگی کہ وہ یوسفؑ کو ان کے ہمراہ صحرا بھیجے۔[16] صحرا میں انہوں نے یوسفؑ کو کنویں میں پھینک دیا اور واپس آکر جناب یعقوب سے کہا کہ انہیں بھیڑیے نے چیر پھاڑا ہے۔[17]قرآنی آیت کے مطابق، جناب یعقوبؑ نے ان کی بات پر یقین نہیں کیا[18] اور یوسفؑ کے فراق میں گریہ کر کے نابینا ہوگئے۔[19]

کسی قافلے نے یوسفؑ کو کنویں سے نکالا[20] اور غلام بنا کر مصر لے گئے اور عزیز مصر نے انہیں خریدا اور یوں عزیز مصر کے گھر تک پہنچ گئے۔[21]

یوسف کا جمال اور زلیخا اور آپ کا قصہ

قصص القرآن کی کتابوں کے مطابق یوسف ایک خوبرو جوان تھے۔[22]اسی لئے عزیز مصر کی بیوی زلیخا ان کی عاشق ہوگئی، لیکن یوسفؑ نے اپنے پر قابو کرتے ہوئے زلیخا کی درخواست کو رد کردیا۔[23]یہ بات شہر کے لوگوں تک پہنچی اور شہر کی خواتین میں سے ایک گروہ نے زلیخا کی مذمت کی۔ زلیخا نے ایک دعوت کا اہتمام کیا اور شہر کی عورتوں کو مدعو کیا۔ ان کو ایک چاقو اور میوہ تھما دیا۔ پھر یوسفؑ کو مجلس میں بلایا۔ جب آپؑ داخل ہوئے تو خواتین آپ کے حسن سے اتنی متاثر ہوئیں کہ اپنا ہاتھ کاٹنے لگیں۔[24]

اس واقعے کے بعد ہر دن کوئی نا کوئی عورت یوسفؑ سے غیر مشروع رابطے کی درخواست کرتی تھی تو آپؑ نے اللہ تعالی سے درخواست کی کہ ان سے نجات دے کر زندان بھیج دیں۔ اس کے چند دن بعد زلیخا کے حکم سے جیل بھیج دئے گئے۔[25]

بادشاہ کے خواب کی تعبیر اور عزیز مصر بننا

حضرت یوسفؑ نے تعبیر خواب جاننے کی وجہ سے دو قیدیوں کے خواب کی تعبیر کی کہ ان میں سے ایک مارا جائے گا اور دوسرے کو جیل سے رہائی اور بادشاہ کے حضور مقام ملے گا۔[26]اس واقعے کے چند سال بعد، مصر کے بادشاہ نے خواب دیکھا کہ سات کمزور گائے، سات موٹی تازی گائے کھا رہی ہیں۔ نیز سات سرسبز خوشے اور سات خشک خوشے بھی دیکھا۔[27]کوئی بھی اس خواب کی تعبیر نہیں کرسکا یہاں تک کہ وہ قیدی آزاد ہو کر دربار میں پہنچا تھا، کو حضرت یوسف یاد آیا اور کہا کہ وہ اس خواب کی تعبیر کرسکتے ہیں۔[28]

وہ جیل گیا اور وہاں حضرت یوسف سے خواب کی تعبیر پوچھی، آپؑ نے کہا: تمہارے پاس سات سال میں پانی کی فراوانی ہوگی اس کے بعد سال خشک سالی ہوگی۔ یوں تجویز دی کہ سات سال کی قحط سالی کے لئے پہلے کے سات سال میں خوب کھیتی باڑی کریں، اور ضرورت سے زیادہ کے غلات کو خوشہ سمیت ذخیرہ کریں تاکہ صحیح رہ سکیں۔[29]

بادشاہ کو حضرت یوسف کی تعبیر اور اس کا راہ حل پسند آیا، حضرت یوسف کو دربار میں بلایا۔ آپ نے بادشاہ کے بھیجے ہوئے شخص سے کہا کہ وہ بادشاہ سے مصر کی عورتوں کا ہاتھ کاٹنے اور آپ کے گرفتار ہونے کے واقعے کو بھی بیان کرے۔ بادشاہ نے اس بارے میں تحقیق کیا اور شہر کی عورتوں کو دربار میں بلایا اور مصر کی عورتوں نے یوسفؑ کی بیگناہی کی گواہی دی اور زلیخا نے بھی اپنے گناہ کا اعتراف کیا۔[30]

خواب کی تعبیر اور بیگناہی ثابت ہونے کے بعد مصر کے بادشاہ نے آپؑ کو جیل سے آزاد کیا اور اپنے وزیر اور عزیز مصر کے منصب پر فائز کیا۔[31]

گھر والوں سے ملاقات

مصر کی خشک سالی کے دوران کنعان میں بھی قحط سالی آگئی۔ اسی لئے حضرت یعقوب نے بیٹوں کو گندم لانے کے لئے مصر بھیج دیا۔[32] حضرت یوسف نے بھائیوں کو دیکھتے ہی پہچان لیا، لیکن وہ آپ کو نہ پہچان سکے۔[33] آپ نے بھائیوں سے اچھا سلوک کیا[34] اور اپنی قمیص بھیج کر یعقوبؑ کی آنکھوں کی بینائی کو ٹھیک کردیا۔[35] اس کے بعد حضرت یعقوب اور ان کی اولاد ان سے ملنے مصر چلے گئے۔[36]

شادی اور اولاد

چوتھی صدی ہجری کے مسلمان مورخ مسعودی کے نقل کے مطابق، یوسفؑ نے مصر میں شادی کی اور دو بیٹے؛ اِفرائیم اور میشا پیدا ہوئے۔ افرائیم، یوشَع‌ بن‌ نون کے باپ تھے۔[37]

زلیخا سے شادی

بعض احادیث میں جناب یوسف عزیز مصر بننے کے بعد زلیخا سے شادی کرنے کا ذکر آیا ہے۔ مثال کے طور پر ایک حدیث میں یوں ذکر ہوا ہے کہ یوسف نے ایک عورت کو دیکھا جو کہہ رہی تھی کہ اللہ کا شکر ہے جس نے اطاعت کی وجہ سے غلام کو بادشاہ اور بادشاہ کو معصیت کی وجہ سے غلام بنا دیا۔ آپ نے اس سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ تو کہا میں زلیخا ہوں اور یوں اس کے ساتھ شادی کی۔[38] سید نعمت‌ الله جزایری کا کہنا ہے کہ زلیخا جناب یوسفؑ کے دعا کی بدولت جوان ہوئی اور پھر آپ نے اس سے شادی کی۔[39]

جناب یوسف کی جائے ولادت اور نبوت کا نقشہ

ارتکاب تَرک اولی

مزید دیکھئے: ترک اولی

سورہ یوسف کی آیت 42 کے مطابق، جب حضرت یوسفؑ زندان میں تھے تو اس وقت ایک قیدی کو آزادی کی خبر دی اور کہا: بادشاہ کے پاس میری بے گناہی کو بیان کرو، لیکن شیطان نے اسے بھلا دیا اور اسی وجہ سے مزید کئی سال تک حضرت یوسفؑ زندان میں رہے۔ اس بارے میں مفسروں کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض کا کہنا ہے کہ شیطان نے حضرت یوسف کے ذہن سے خدا کی یاد کو بھلا دیا جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ شیطان کی وجہ سے وہ قیدی بھول گیا اور جناب یوسفؑ کی بے گناہی کو بادشاہ کے پاس بیان نہ کرسکے۔ علامہ طباطبائی پہلے نظرئے کو قرآن کے ساتھ سازگار نہیں سمجھتے ہیں؛ کیونکہ ایک طرف سے قرآن مجید میں جناب یوسفؑ کو مخلصین میں سے قرار دیا گیا ہے اور دوسری طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ شیطان کسی بھی صورت میں مخلصوں کے ذہن میں نفوذ نہیں کر سکتا ہے۔[40]

بہر حال مفسروں نے جناب یوسفؑ کے عمل کو ترک اولی سے تعبیر کیا ہے؛ کیونکہ انبیاء اور وہ لوگ جو توحید کے اعلی مراتب پر فائز ہیں ان سے اسی مقدار میں دنیوی اسباب سے متوسل ہونا مناسب نہیں ہے۔[41]

یوسف کا قصہ اور قرآن و توریت کا باہمی فرق

علامہ طباطبائی کے نقل کے مطابق قرآن مجید کے برخلاف،[42] توریت میں یوں آیا ہے کہ جناب یوسفؑ نے چاند، سورج اور ستاروں کا سجدہ کرنے کے خواب کو اپنے بھائیوں سے کہدیا اور انہوں نے یہ سوچ کر کہ کہیں بعد میں یہ ہم پر حاکم نہ بنے، حسد کرنے لگے۔ نیز توریت کے مطابق جب خواب کو اپنے باپ سے نقل کیا تو جناب یعقوبؑ غصہ ہوئے اور کہا: کیا میں، تمہاری ماں اور گیارہ بھائی تمہیں سجدہ کریں گے؟![43]

دوسرا فرق یہ ہے کہ قرآن کے مطابق، یوسف کے بھائیوں نے آپؑ کو اپنے ساتھ صحرا لے جانے کی جناب یعقوب سے درخواست کی اور حضرت یعقوب نے آپؑ کو صحرا بھیج دیا،[44] لیکن تورات کے مطابق جناب یعقوب نے خود ہی جناب یوسفؑ سے کہا کہ بھائیوں کے ساتھ صحرا چلا جائے تاکہ بھائیوں اور گوسفندوں کی خیریت دریافت کر سکے۔[45]

وفات و محل دفن

چوتھی صدی ہجری کے مورخ، مسعودی کے مطابق جناب یوسفؑ کی عمر 120 سال تھی۔ اور رحلت کے وقت اللہ تعالی کی طرف سے وحی ہوئی کہ جو نور اور حکمت ہاتھ میں ہے اسے ببرز بن لاوی بن یعقوب کے حوالے کرے۔ اس وقت آپؑ نے ببرز بن لاوی اور بنی اسرائیل کے 80 مردوں کو جمع کیا اور ان سے کہا کہ انقریب ایک گروہ تم پر غالب آئے گا اور تمہیں سخت عذاب سے دوچار کرے گا، یہاں تک کہ لاوی کی اولاد میں سے موسی نامی کسی کے ذریعے تمہاری مدد کرے گا۔[46] جناب یوسف کی وفات کے بعد، ہر گروہ آپ کو اپنے محلے میں دفن کرنا چاہتا تھا۔ اسی لیے اختلاف سے بچنے کے لیے آپ کو مرمر کے ایک صندوق میں رکھ کر دیائے نیل میں دفن کیا۔ کئی سالوں کے بعد حضرت موسی نے آپ کے جنازے کو وہاں سے نکال دیا[47] اور چھٹی اور ساتویں صدی ہجری کے مورخ یاقوت حَمَوی کے مطابق آپ کو فلسطین میں دفن کیا۔[48]

ہنری آثار

حضرت یوسف کا قصہ ہنری آثار، جیسے نقاشی، کاشی کاری، ادبیات، سینما اور ٹی وی پر بھی منعکس ہوتا رہا ہے۔ اور سنہ 2008ء میں ایک ٹی وی سیریل کی شکل میں یوسف پیغمبر کے نام سے نشر ہوئی۔[49] آٹھویں صدی ہجری کے ایرانی شاعر حافظ شیرازی نے اپنے مندرجہ ذیل شعر میں اس داستان کی طرف اشارہ کیا ہے:

یوسف گم‌گشتہ بازآید بہ کنعان غم مخور کلبہ احزان شود روزی گلستان غم مخور [50]

حوالہ جات

  1. صحفی، قصہ ہای قرآن، ۱۳۷۹ش، ص۱۰۶.
  2. صحفی، قصہ ہای قرآن، ۱۳۷۹ش، ص۱۰۶.
  3. صحفی، قصہ های قرآن، ۱۳۷۹ش، ص۸۷.
  4. سورہ یوسف، آیہ 24۔
  5. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۱، ص۱۳۰.
  6. سورہ انعام، آیہ 84۔
  7. جزایری، النورالمبین فی قصص الانبیاء و المرسلین، ۱۴۲۳ق، ص۲۵۹.
  8. قطب‌الدین راوندی، قصص‌الانبیاء، ۱۴۳۰ق، ص۳۴۸.
  9. ملاحظہ کریں: مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۹، ص۳۱۰.
  10. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۱، ص۸۲.
  11. سوره یوسف، آیہ 3۔
  12. سوره یوسف، آیات۸ تا ۱۰۰.
  13. سورہ یوسف، آیہ ۴و۵.
  14. ابن‌کثیر، قصص‌الانبیاء، ۱۴۱۶ق/۱۹۹۶م، ص۱۹۱.
  15. سورہ یوسف، آیہ 8۔
  16. سورہ یوسف، آیہ ۱۲.
  17. سورہ یوسف،‌ آیہ 17۔
  18. سورہ یوسف،‌ آیہ ۱۸.
  19. سوره یوسف، آیہ ۸۴.
  20. سورہ یوسف، آیہ ۱۰و۱۹.
  21. سورہ یوسف، آیہ ۲۱.
  22. ملاحظہ کریں: جزایری، النورالمبین فی قصص الانبیاء و المرسلین، ۱۴۲۳ق، ص۲۱۷؛ بلاغی، قصص قرآن، ۱۳۸۰ش، ص۹۸؛ صحفی، قصہ ہای قرآن، ۱۳۷۹ش، ص۱۱۴و۱۱۵.
  23. صحفی، قصہ ہای قرآن، ۱۳۷۹ش، ص۱۱۵و۱۱۶؛ نیز ملاحظہ کریں: سورہ یوسف، آیہ ۲۳.
  24. صحفی، قصہ ہای قرآن، ۱۳۷۹ش، ص۱۱۷و۱۱۸؛ نیز ملاحظہ کریں: سورہ یوسف، آیہ ۳۰و۳۱.
  25. جزایری، النورالمبین فی قصص الانبیاء و المرسلین، ۱۴۲۳ق، ص۲۲۱؛ نیز ملاحظہ کریں: سورہ یوسف، آیہ ۳۳تا۳۵.
  26. بلاغی، قصص قرآن، ص۱۰۵تا۱۰۶؛ نیز ملاحظہ کریں: سورہ یوسف آیہ ۴۱.
  27. جزایری، النورالمبین فی قصص الانبیاء و المرسلین، ۱۴۲۳ق، ص۲۲۳؛ نیز ملاحظہ کریں: سورہ یوسف، آیہ ۴۳.
  28. جزایری، النورالمبین فی قصص الانبیاء و المرسلین، ۱۴۲۳ق، ص۲۲۳؛ نیز ملاحظہ کریں: سورہ یوسف، آیہ ۴۴و۴۵.
  29. جزایری، النورالمبین فی قصص الانبیاء و المرسلین، ۱۴۲۳ق، ص۲۲۳؛ نیز ملاحظہ کریں: سورہ یوسف آیہ ۴۷تا۴۹.
  30. بلاغی، قصص قرآن، ص۱۰۵تا۱۰۶؛ نیز ملاحظہ کریں: سورہ یوسف آیہ ۵۰و۵۱.
  31. بلاغی، قصص قرآن، ص۱۰۸.
  32. بلاغی، قصص قرآن، ص۱۱۰.
  33. بلاغی، قصص قرآن، ص۱۰۹؛ نیز ملاحظہ کریں: سورہ یوسف، آیہ ۵۸.
  34. بلاغی، قصص قرآن، ص۱۱۰؛ نیز ملاحظہ کریں: سورہ یوسف، آیہ ۵۹.
  35. بلاغی، قصص قرآن، ص۱۱۹؛ نیز ملاحظہ کریں: سورہ یوسف، آیہ ۹۳تا۹۶.
  36. بلاغی، قصص قرآن، ص۱۱۹؛ نیز ملاحظہ کریں: سورہ یوسف، آیہ۱۰۰.
  37. مسعودی، اثبات الوصیۃ، ۱۳۸۴ش، ص۴۹.
  38. قطب‌ الدین راوندی، قصص‌ الانبیاء، ۱۴۳۰ق، ص۳۵۱.
  39. جزایری، النورالمبین فی قصص الانبیاء و المرسلین، ۱۴۲۳ق، ص۲۳۴.
  40. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۱، ص۱۸۱.
  41. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ،۱۳۷۴ش، ج۹، ص۴۱۴.
  42. سورہ یوسف، آیہ ۴.
  43. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۱، ۲۶۱.
  44. سورہ یوسف، آیہ ۱۲.
  45. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۱، ص۲۶۱.
  46. مسعودی، اثبات الوصیۃ، ۱۳۸۴ش، ص۷۴.
  47. مسعودی، اثبات الوصیۃ، ۱۳۸۴ش، ص۷۵.
  48. یاقوت حموی، معجم البلدان، ۱۹۹۵م، ج۱، ص۴۷۸.
  49. «چهار سال با یوسف پیامبر»، وبگاه ویستا، تاریخ بازدید: ۱۱ شهریور ۱۳۹۸.
  50. حافظ،غزلیات، غزل ۲۵۵


مآخذ

  • ابن‌ طاووس، علی بن موسی، المجتنی من الدعاء المجتبی، قم،‌ دار الذخائر، چاپ اول، ۱۴۱۱ھ۔
  • ابن‌ کثیر، قصص‌الانبیاء و اخبار الماضین (خلاصۃ تاریخ ابن‌ کثیر)، تدوین محمد بن احمد کنعان، بیروت، مؤسسۃ المعارف، چاپ اول، ۱۴۱۶ق/۱۹۹۶ء۔
  • بلاغی، صدر الدین، قصص قرآن، تہران، امیر کبیر، چاپ ہفدہم، ۱۳۸۰ھ۔
  • «چہار سال با یوسف پیامبر»، وبگاہ ویستا، تاریخ بازدید: ۱۱ شہریور ۱۳۹۸.
  • جزایری، نعمت‌ اللہ، النور المبین فی قصص الانبیاء و المرسلین، بیروت، دار الاضوا، چاپ دوم، ۱۴۲۳ھ۔
  • حافظ شیرازی، شمس‌ الدین محمد، غزلیات حافظ، غزل ۲۵۵، وبگاہ گنجور، تاریخ بازدید ۳۱ شہریور ۱۳۹۸شمسی ہجری۔
  • صحفی، سید محمد، قصہ‌ہای قرآن، قم، اہل بیت، چاپ دوم، ۱۳۷۹شمسی ہجری۔
  • ضیاءآبادی، محمد، تفسیر سورہ یوسف، تہران، موسسہ بنیاد خیریہ الزہرا(علیہا السلام)، ۱۳۸۸شمسی ہجری۔
  • طباطبایی، سید محمد حسین، المیزان فى تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ پنجم، ۱۴۱۷ھ۔
  • قطب‌ الدین راوندی، سعید بن ہبۃاللہ، قصص‌الانبیاء الحاوی لاحادیث کتاب النبوہ للشیخ الصدوق، قم، انتشارات علامہ مجلسی، ۱۳۸۸شمسی ہجری۔
  • مسعودی، علی بن حسین، اثبات الوصیۃ للامام علی بن ابی طالب علیہ‌السلام، قم، اسماعیلیان، چاپ سوم، ۱۳۸۴شمسی ہجری۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران،‌ دار الکتب الإسلامیۃ، چاپ اول، ۱۳۷۴شمسی ہجری۔
  • یاقوت حموی، معجم‌ البلدان، بیروت دار صادر، چاپ دوم، ۱۹۹۵ء۔

بیرونی روابط