"حضرت ابراہیم" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
م (قرآن کی روشنی میں)
م
(ایک ہی صارف کا 6 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 56: سطر 56:
 
قرآن میں 69 مرتبہ حضرت ابراہیم کا نام ذکر آیا ہے۔<ref>فیروزمہر، «مقایسہ قصہ ابراہیم علیہ السلام در قرآن و تورات‌»، ص۸۸</ref> اسی طرح ایک سورہ بھی ابراہیم کے نام سے موسوم ہے کیونکہ اس میں حضرت ابراہیم کا تذکرہ آیا ہے۔<ref>خرمشاہی، دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۴۰۔</ref> قرآن میں حضرت ابراہیم کے بارے میں آپ کی [[نبوت]] و [[امامت]] [[توحید]] کی طرف آپ کی دعوت، بیٹے کی قربانی، چار پرندوں کے زندہ ہونا اور آگ کے سرد ہونے کے معجزے کے بارے میں بحث ہوا ہے۔
 
قرآن میں 69 مرتبہ حضرت ابراہیم کا نام ذکر آیا ہے۔<ref>فیروزمہر، «مقایسہ قصہ ابراہیم علیہ السلام در قرآن و تورات‌»، ص۸۸</ref> اسی طرح ایک سورہ بھی ابراہیم کے نام سے موسوم ہے کیونکہ اس میں حضرت ابراہیم کا تذکرہ آیا ہے۔<ref>خرمشاہی، دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۴۰۔</ref> قرآن میں حضرت ابراہیم کے بارے میں آپ کی [[نبوت]] و [[امامت]] [[توحید]] کی طرف آپ کی دعوت، بیٹے کی قربانی، چار پرندوں کے زندہ ہونا اور آگ کے سرد ہونے کے معجزے کے بارے میں بحث ہوا ہے۔
  
=== نبوت، امامت اور مقام خلّت===<!--
+
=== نبوت، امامت اور مقام خلّت===
در [[آیہ|آیاتی]] چند از قرآن، از نبوت حضرت ابراہیم و دعوت او بہ توحید سخن آمدہ است۔<ref name=":0">سورہ مریم، آیہ۴۱تا۴۸ - سورہ انبیاء، آیہ ۵۱تا۵۷ - سورہ شعراء، آیہ ۶۹تا۸۲ - سورہ صافات، آیہ ۸۳تا۱۰۰ - سورہ زخرف، آیہ ۲۶و۲۷ - سورہ ممتحنہ، آیہ۴ - سورہ عنکبوت، آیہ ۱۶تا۲۵۔</ref> ہمچنین در آیہ ۳۵ [[سورہ احقاف]] از [[پیامبران اولوالعزم]] نام آمدہ است <ref name=":0" /> کہ طبق روایات، ابراہیم از جملۂ آنان و دومین پیامبر اولوالعزم پس از [[حضرت نوح(ع)]] است۔<ref>طباطبائی، المیزان، ج۱۸، ص۲۱۸ </ref> مطابق با آیہ ۱۲۴ [[سورہ بقرہ]]، خداوند [[حضرت ابراہیم]](ع) را پس از چند امتحان بہ مقام [[امامت]] نصب کرد۔ بہ نظر [[علامہ طباطبایی]] مقام امامت در این [[آیہ]] بہ معنای ہدایت باطنی است؛ مقامی کہ رسیدن بہ آن، لازمہ برخورداری از کمال وجودی و مقام معنوی ویژہ‌ای است کہ پس از مجاہدت‌ہای بسیار بہ دست می‌آید۔<ref>طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۳ق، ج۱، ص۲۷۲۔</ref>
+
قرآن کی متعدد [[آیہ|آیات]] میں حضرت ابراہیم کی نبوت اور توحید کی طرف آپ کی دعوت کی طرف اشارہ ہوا ہے۔<ref name=":0">سورہ مریم، آیہ۴۱تا۴۸ - سورہ انبیاء، آیہ ۵۱تا۵۷ - سورہ شعراء، آیہ ۶۹تا۸۲ - سورہ صافات، آیہ ۸۳تا۱۰۰ - سورہ زخرف، آیہ ۲۶و۲۷ - سورہ ممتحنہ، آیہ۴ - سورہ عنکبوت، آیہ ۱۶تا۲۵۔</ref> اسی طرح [[سورہ احقاف]] کی آیت نمبر 35 میں حضرت ابراہیم کو [[اولوالعزم انیباء]] میں سے قرار دیا ہے گیا ہے <ref name=":0" /> اور احادیث کی رو سے حضرت ابراہیم اولوالعزم انبیاء میں [[حضرت نوح]] کے بعد دوسرا اولوالعزم نبی ہیں۔<ref>طباطبائی، المیزان، ج۱۸، ص۲۱۸ </ref> [[سورہ بقرہ]] کی آیت نمبر 124 کے مطابق خدا نے [[حضرت ابراہیم]] کو کئی امتحانات کے ذریعے آزمانے کے بعد مقام [[امامت]] پر فائز فرمایا۔ [[علامہ طباطبایی]] کے مطابق [[آیت]] میں مقام امامت سے مراد باطنی ہدایت ہے؛ ایک ایسا مقام جس تک پہنچنے کے لئے وجودی کمال اور خاص معنوی مقام کی ضرورت ہوتی ہے جو بہت زیادہ محنت اور ریاضت کے بعد نصیب ہوتی ہے۔<ref>طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۳ق، ج۱، ص۲۷۲۔</ref>
  
بر اساس آیات قرآن، خداوند ابراہیم را بہ عنوان خلیل (دوست) برگزیدہ است۔<ref>سورہ نساء، آيہ۱۲۵۔</ref> از این‌رو بہ خلیل اللہ ملقب شدہ است۔ برپایہ روایاتی کہ در [[علل الشرائع (کتاب)|علل الشرایع]] نقل شدہ، کثرت [[سجدہ]]، ردنکردن خواستہ دیگران و درخواست نکردن از غیرخدا، اطعام دادن و عبادت شب از دلایل انتخاب او بہ عنوان خلیل از سوی خدا بودہ است۔<ref>صدوق، علل الشرایع، ۱۳۸۵ش، ج۱، ص۳۴و۳۵۔</ref>
+
قرآن کی آیات کے مطابق خدا نے حضرت ابراہیم کو خلیل اللہ کا مقام بھی عنایت فرمایا ہے۔<ref>سورہ نساء، آيہ۱۲۵۔</ref> اسی بنا پر آپ خلیل اللہ کے لقب سے ملقب ہوئے۔ [[علل الشرائع (کتاب)|علل الشرایع]] میں موجود بعض احادیث کے مطابق [[سجدہ]] کی کثرت، دوسروں کی حاجتوں کو رد نہ کرنا، خدا کے علاوہ کسی سے کوئی درخواست نہ کرنا، لوگوں کو کھانا کھلانا اور رات کے وقت عبادت و بندگی کی وجہ سے آپ کو خلیل اللہ کا مقام ملا تھا۔<ref>صدوق، علل الشرایع، ۱۳۸۵ش، ج۱، ص۳۴و۳۵۔</ref>
  
===ابراہیم، پدر پیامبران===
+
===ابو الانبیاء===
مطابق با قرآن ابراہیم جد تعدادی از پیامبران بعد از خود است۔<ref>سورہ عنکبوت، آیہ۲۷۔</ref> فرزند او اسحاق جد [[بنی‌اسرائیل]] است کہ از نسل او پیامبرانی از جملہ [[یعقوب]]، [[یوسف (پیامبر)|یوسف]]، [[داوود (پیامبر)|داوود]]، [[سلیمان (پیامبر)|سلیمان]]، [[ایوب (پیامبر)|ایوب]]، [[موسی (پیامبر)|موسی]]، [[ہارون (پیامبر)|ہارون]] و دیگر پیامبران بنی‌اسرائیل متولد شدند۔<ref>سورہ انعام، آیہ ۸۴۔</ref>
+
قرآن کی آیات کی مطابق حضرت ابراہیم اپنے بعد آنے والے چند انبیاء کے جد امجد ہیں۔<ref>سورہ عنکبوت، آیہ۲۷۔</ref> آپ کے بیٹے حضرت اسحاق [[بنی‌ اسرائیل]] کے جد ہیں ان کی نسل سے کئی انبیاء مبعوث ہوئے من جملہ ان میں [[حضرت یعقوب]]، [[حضرت یوسف]]، [[حضرت داوود]]، [[حضرت سلیمان]]، [[حضرت ایوب]]، [[حضرت موسی]]، [[حضرت ہارون]] اور دیگر بنی اسرائیل کے انبیاء شامل ہیں۔<ref>سورہ انعام، آیہ ۸۴۔</ref>
  
ہمچنین نسب [[حضرت عیسی]] از طریق مادرش [[مریم بنت عمران|مریم(ع)]] بہ [[حضرت یعقوب]] فرزند اسحاق می‌رسد۔<ref>مغنيہ، تفسير الكاشف‏، ۱۴۲۴ق‏، ج۱، ص۲۰۸</ref> بنابر [[روایات]] اسلامی نسب‌ [[حضرت محمد(ص)]] بہ [[اسماعیل (پیامبر)|اسماعیل]] پسر دیگر ابراہیم می‌رسد۔<ref>ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، دار المعرفۃ، ج۱، ص۲؛ ابن‌ عبدربہ‌، العقد الفرید، ۱۴۰۲ق‌، ج۵، ص۸۹</ref> بہ ہمین جہت او را ابوالانبیاء (پدر پیامبران) لقب دادہ‌اند۔<ref>سید قطب، فى ظلال القرآن، ۱۴۲۵ق، ج‏۵، ص۲۹۹۷</ref>
+
اسی طرح [[حضرت عیسی]] کا نسب بھی ان کی والدہ [[حضرت مریم]] کے ذریعے [[حضرت یعقوب]] فرزند حضرت اسحاق تک پہنچتی ہے۔<ref>مغنيہ، تفسير الكاشف‏، ۱۴۲۴ق‏، ج۱، ص۲۰۸</ref> اسلامی [[احادیث]] کے مطابق [[حضرت محمدؐ]] کا نسب آپ کے دوسرے بیٹے [[حضرت اسماعیل]] تک پہنچتا ہے۔<ref>ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، دار المعرفۃ، ج۱، ص۲؛ ابن‌ عبدربہ‌، العقد الفرید، ۱۴۰۲ق‌، ج۵، ص۸۹</ref> اسی مناسبت سے آپ ابوالانبیاء کے لقب سے بھی مشہور ہیں۔<ref>سید قطب، فى ظلال القرآن، ۱۴۲۵ق، ج‏۵، ص۲۹۹۷</ref>
  
 
=== معجزات===
 
=== معجزات===
طبق آیات [[قرآن]]، سردشدن آتش و زندہ‌شدن چہار پرندہ از معجزات حضرت ابراہیم بودہ‌اند:
+
[[قرآن]] کی آیات کے مطابق آگ کا سرد ہونا اور چار پرندوں کا زندہ ہونا حضرت ابراہیم کے معجزات میں سے ہیں:
* سردشدن آتش: طبق آیات ۵۷ تا ۷۰ [[سورہ انبیاء]]، ابراہیم پس از آنکہ دید قومش از پرستش بت‌ہا دست برنمی‌دارند، بت‌ہا را شکست و این‌ کار را بہ‌ بت‌ بزرگ‌ نسبت‌ داد و گفت اگر بت سخن می گوید، از او بپرسید۔ بت‌پرستان در برابر استدلال او فرو ماندند، اما دست از اعتقاد خود برنداشتہ، او را بہ سبب شکستن بت‌ہا در آتش انداختند؛ اما  آتش‌ بہ دستور الہی بر او سرد شد۔<ref>سورہ انبیاء، آیہ۵۷ تا ۷۰</ref>
+
* آگ کا سرد ہونا: [[سورہ انبیاء]] کی آیت نمبر 57 سے 70 تک کے مطابق جب حضرت ابراہیم نے دیکھا کہ ان کی قوم بتوں کی پوجا کرنے کو نہیں چھوڑ رہے، آپ نے ایک دین موقع پا کر تمام بتوں کو توڑ دیا اور اس کام کو بڑے بت کی طرف نسبت دیتے ہوئے کہا اگر یہ بول سکے تو اس سے پوچھ لو۔ بت‌ پرست آپ کی بات کا جواب نہ دی سکے لیکن وہ اپنے اعتقادات سے پیچھے نہ ہٹے اور حضرت ابراہیم کو ان کے بتوں کے توڑنے کے جرم میں آگ میں پھینک دیا لیکن خدا کے حکم سے آگ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیم صحیح و سالم اس سے باہر آگئے۔<ref>سورہ انبیاء، آیہ۵۷ تا ۷۰</ref>
  
* زندہ‌شدن [[چہار مرغ|چہار پرندہ]]: بنا بہ  آیہ ۲۶۰ [[سورہ بقرہ]] ، خداوند در پاسخ بہ درخواست حضرت ابراہیم برای دیدن زندہ‌شدن مردگان،  او را مأمور نمود کہ چہار پرندہ را [[ذبح شرعی|ذبح]] و با ہم مخلوط کند و بر فراز چند کوہ قرار دہد۔ او این کار را انجام داد و سپس پرندگان را فرا خواند۔ آنہا زندہ شدند و بہ سوی او آمدند۔  
+
* [[چار پرندوں کا زندہ ہونا]]: [[سورہ بقرہ]] کی آیت نمبر 260 کے مطابق حضرت ابراہیم نے خدا سے مردوں کے زندہ ہونے کی کیفیت سے متعلق سوال کیا جس کے جواب میں خدا نے انہیں چار پرندوں کو [[ذبح شرعی|ذبح]] کرنے اور ان کے گوشت کو مخلوط کر کے مختلف پہاڑوں پر رکھنے کا حکم دیا۔ حضرت ابراہیم نے ایسا ہی کیا اس کے بعد خدا کے حکم کے مطابق انہوں نے ان پرندوں کو آواز دی تو سارے پرندے زندہ ہو کر ان کے سامنے آگئے۔  
  
 
===ہجرت===
 
===ہجرت===
در آیہ ۷۱ سورہ انبیاء در مورد ابراہیم(ع) آمدہ است: «ما او را بہ ہمراہ لوط بہ سرزمینی بردیم کہ در آن برای جہانیان برکت نہادہ‌ایم۔»<ref>سورہ انبیاء، آیہ۷۱</ref> برخی کتابہای تفسیری سرزمین مورد اشارہ در این آیہ را [[شام]]<ref>محلى و سیوطی، تفسير الجلالين‏، ۱۴۱۶ق، ص۴۰۲؛ ابوالفتوح رازى، روض الجنان، ۱۴۰۸ق، ج۱۵، ص۲۰۰</ref> یا [[فلسطین]] و [[بیت المقدس]]<ref>كاشانى، تفسير منہج الصادقين، ۱۳۳۶ش‏، ج۶، ص۸۔</ref> دانستہ‌اند۔ در روایت [[امام صادق(ع)]] نیز بیت المقدس بہ عنوان مقصد ہجرت ابراہیم(ع) معرفی شدہ است۔<ref>قطب راوندی، قصص الانبیاء، آستان قدس رضوی، ج‏۱، ص۲۹۸</ref>
+
سورہ انبیاء کی آیت نمبر 71 میں حضرت ابراہیم کے بارے میں آیا ہے ہے: {{قرآن کا متن|وَنَجَّيْنَاهُ وَلُوطًا إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا لِلْعَالَمِينَ |ترجمہ=اور ہم نے انہیں اور لوط کو نجات دی اور اس سر زمین (شام) کی طرف لے گئے جسے ہم نے دنیا جہان والوں کیلئے بابرکت بنایا ہے۔}}<ref>سورہ انبیاء، آیہ۷۱</ref> بعض تفسیروں میں اس آیت میں مورد اشارہ سرزمین کو [[شام]]<ref>محلى و سیوطی، تفسير الجلالين‏، ۱۴۱۶ق، ص۴۰۲؛ ابوالفتوح رازى، روض الجنان، ۱۴۰۸ق، ج۱۵، ص۲۰۰</ref> [[فلسطین]] یا [[بیت المقدس]]<ref>كاشانى، تفسير منہج الصادقين، ۱۳۳۶ش‏، ج۶، ص۸۔</ref> قرار دئے ہیں۔ [[امام صادقؑ]] سے منقول ایک حدیث میں بھی بیت المقدس کو حضرت ابراہیم کی ہجرت کا مقام قرار دیا ہے۔<ref>قطب راوندی، قصص الانبیاء، آستان قدس رضوی، ج‏۱، ص۲۹۸</ref>
  
===بنای کعبہ===
+
===خانہ کعبہ کی تعمیر===
در آیہ ۱۲۷ سورہ بقرہ آمدہ است کہ حضرت ابراہیم بہ کمک فرزندش [[اسماعیل]]، [[کعبہ]] را بنا نمود<ref>سورہ بقرہ، آیہ ۱۲۷</ref> و بہ فرمان خدا مردم را بہ مناسک [[حج]] دعوت کرد۔<ref>سورہ حج، آیہ ۲۷</ref> مطابق برخی روایات، کعبہ نخستین بار توسط [[حضرت آدم علیہ السلام]] بنا شد و ابراہیم آن را بازسازی کرد۔<ref>فيض كاشانى، تفسير الصافى‏،۱۴۱۵ق، ج۱، ص۱۸۹و۱۹۰‏</ref>
+
سورہ بقرہ کی آیت نمبر 127 میں آیا ہے کہ حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے [[اسماعیل]] کی مدد سے [[خانہ کعبہ]] کی تعمیر کی<ref>سورہ بقرہ، آیہ ۱۲۷</ref> اور خدا کے حکم سے لوگوں کو مناسک [[حج]] کی طرف دعوت دی۔<ref>سورہ حج، آیہ ۲۷</ref> بعض احادیث کے مطابق خانہ کعبہ کی بنیاأ پہلی بار [[حضرت آدم علیہ السلام]] نے رکھی۔<ref>فيض كاشانى، تفسير الصافى‏،۱۴۱۵ق، ج۱، ص۱۸۹و۱۹۰‏</ref>
 
 
===ذبح فرزند===
 
نوشتار اصلی: [[ذبیح‌اللہ]]
 
  
 +
===بیٹے کی قربانی===<!--
 +
{{اصلی|ذبیح‌ اللہ}}
 
یکی از امتحان‌ہای الہی حضرت ابراہیم مأمورشدن او بہ [[ذبح شرعی|ذبح]] فرزندش بود۔ مطابق با گزارش قرآن، ابراہیم در خواب دید کہ فرزندش را ذبح می‌کند۔ این موضوع را با پسرش در میان نہاد و فرزندش از او خواست کہ بہ فرمان خدا عمل کند؛ اما ہنگامى كہ ابراہيم، فرزندش را در قربان‌گاہ خواباند تا ذبح كند، ندا آمد: «اى ابراہيم، خوابت را تحقق دادى۔ بہ‌راستى ما نيكوكاران را اين‌‏گونہ پاداش مى‏‌دہيم [كہ نيّت پاک و خالصشان را بہ‌جاى عمل می‌پذیریم]۔ بہ‌يقين اين آزمايش روشن بود و ما فرزندت را در برابر قربانىِ بزرگى [از ذبح شدن‏] رہانيديم۔»<ref>سورہ صافات، آیہ۱۰۱ تا ۱۰۸</ref>
 
یکی از امتحان‌ہای الہی حضرت ابراہیم مأمورشدن او بہ [[ذبح شرعی|ذبح]] فرزندش بود۔ مطابق با گزارش قرآن، ابراہیم در خواب دید کہ فرزندش را ذبح می‌کند۔ این موضوع را با پسرش در میان نہاد و فرزندش از او خواست کہ بہ فرمان خدا عمل کند؛ اما ہنگامى كہ ابراہيم، فرزندش را در قربان‌گاہ خواباند تا ذبح كند، ندا آمد: «اى ابراہيم، خوابت را تحقق دادى۔ بہ‌راستى ما نيكوكاران را اين‌‏گونہ پاداش مى‏‌دہيم [كہ نيّت پاک و خالصشان را بہ‌جاى عمل می‌پذیریم]۔ بہ‌يقين اين آزمايش روشن بود و ما فرزندت را در برابر قربانىِ بزرگى [از ذبح شدن‏] رہانيديم۔»<ref>سورہ صافات، آیہ۱۰۱ تا ۱۰۸</ref>
  
 
قرآن نام فرزند ابراہیم را کہ بہ ذبح او مأمور  شد، نبردہ است۔ درخصوص آن، ہم میان [[شیعہ|شیعیان]] و ہم میان [[اہل سنت و جماعت|اہل سنت]] اختلاف‌نظر وجود دارد۔  برخی می‌گویند [[اسماعیل (پیامبر)|اسماعیل]] بودہ و برخی دیگر آن را [[اسحاق (پیامبر)|اسحاق]] می‌دانند۔<ref>نگاہ کنید بہ قرطبی، الجامع لاحکام القرآن، ۱۳۶۴ش، ج۱۶، ص۱۰۰؛ البرہان فى تفسير القرآن، ج‏۴، ص۶۱۶ تا ۶۲۲۔</ref> [[شیخ طوسی]] معتقد است از روایات شیعہ برمی‌آید کہ اسماعیل بودہ است۔<ref>طوسى، التبيان في تفسير القرآن، دار إحياء التراث العربی، ج۸، ص۵۱۸</ref> [[ملاصالح مازندرانی]] در [[شرح فروع کافی ملاصالح مازندرانی (کتاب)|شرح فروع کافی]] این نظر را دیدگاہ مشہور بین علمای شیعہ دانست است۔<ref>مازندرانی، شرح فروع الکافی، ۱۴۲۹ق، ج۴، ص۴۰۲۔</ref>
 
قرآن نام فرزند ابراہیم را کہ بہ ذبح او مأمور  شد، نبردہ است۔ درخصوص آن، ہم میان [[شیعہ|شیعیان]] و ہم میان [[اہل سنت و جماعت|اہل سنت]] اختلاف‌نظر وجود دارد۔  برخی می‌گویند [[اسماعیل (پیامبر)|اسماعیل]] بودہ و برخی دیگر آن را [[اسحاق (پیامبر)|اسحاق]] می‌دانند۔<ref>نگاہ کنید بہ قرطبی، الجامع لاحکام القرآن، ۱۳۶۴ش، ج۱۶، ص۱۰۰؛ البرہان فى تفسير القرآن، ج‏۴، ص۶۱۶ تا ۶۲۲۔</ref> [[شیخ طوسی]] معتقد است از روایات شیعہ برمی‌آید کہ اسماعیل بودہ است۔<ref>طوسى، التبيان في تفسير القرآن، دار إحياء التراث العربی، ج۸، ص۵۱۸</ref> [[ملاصالح مازندرانی]] در [[شرح فروع کافی ملاصالح مازندرانی (کتاب)|شرح فروع کافی]] این نظر را دیدگاہ مشہور بین علمای شیعہ دانست است۔<ref>مازندرانی، شرح فروع الکافی، ۱۴۲۹ق، ج۴، ص۴۰۲۔</ref>
 
-->
 
-->
 
==خاندان==
 
عہد عتیق کی روایت کے مطابق ابراہیم کا تعلق جریرہ العرب کے قبیلے آرامی سے ہے.<ref>سوسہ، ۲۵۲</ref> اور بعض محققان نے ابراہیم کو آموریانی کہا ہے جو کہ جزیرہ عرب سے عراق اور شام کی طرف گئے<ref>کلر</ref> آرامیھا حران کے نزدیک بلیخ اور خابور کے مقام پر زندگی بسر کرتے تھے اور ظاہراً دوسری ہجری کے اوسط میں اور نام سے ایک شہر رونما ہوا اور اکثر آرامیوں نے شہر کی طرف مہاجرت کی، لیکن جب اور دوسرے قبیلوں کے حملے سے ویران ہو گیا دوبارہ سب مہاجر اپنے اصلی وطن کی طرف واپس لوٹ گئے. ابراہیم کے والد اس خاندان میں سے تھے جنہوں نے  اور کے بعد حران کی جانب مہاجرت کی<ref>اپشتاین‌، ۱۱ ؛ سوسہ، ۴۴۶</ref> جس طرح کہ آرمیان کی ہجرت کے بارے میں بیان ہوا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم کے خاندان نے دوسری ہجری قمری کے اوائل میں اس علاقے سے کوچ کیا<ref>سوسہ، ۲۵۲</ref> مورخان اور مولفان قدیم نے بھی حران کو ابراہیم کے والد کا وطن کہا ہے. <ref>طبری‌، تاریخ‌، ۱/۳۴۶؛ نووی‌، ۱(۱)/۱۰۱</ref>
 
 
==والد==
 
ابراہیم کے والد کے نام میں قرآن اور مفسران کے درمیان اختلاف ہے. عہد عتیق میں اس نام کو ترح کہا ہے<ref>پید، ۱۱: ۲۴، متن‌ عبری‌؛ قس‌</ref> اور [[قرآن]] نے آزر کہا ہے.<ref>انعام‌ /۶/۷۴</ref> مفسران اور لغت شناسان نے اس واژہ کو بیگانہ اور معرب کہا ہے.<ref>جوالیقی‌، ۱۵</ref> آج کے دور میں کہا گیا ہے کہ یہ نام  العاذار (العاذر، الیعزر) تحریف ہوا ہے اور عہد عتیق کے مطابق ابراہیم خادم کا نام تھا<ref>پید، ۱۵: ۲؛ جفری‌،۵۳-۵۵</ref> اور قرآن کی تفسیر میں اس کے بارے میں اختلاف ہے، کچھ تفسیر کے مطابق آزر حضرت ابراہیم کے والد کا نام ہے جب کہ بعض نے اس کی نفی کی ہے.
 
اور بعض مفسرین اور مورخین نے ابراہیم کے والد کا نام تارح ذکر کیا ہے.<ref>مثلاً: ابن‌ ہشام‌، ۱/۲، ۳؛ طبری‌، تاریخ‌، ۱/۳۴۶؛ ابن‌ قتیبہ، ۳۰</ref> اور آزر کا نام جو قرآن میں بیان ہوا ہے کچھ روایات کے مطابق خود [[پیغمبر اسلام (ص)]] نے اس کی تائید کی ہے.<ref>بخاری‌، ۴/۱۳۹</ref> بعض نے آزر کو یار اور انباز کا معنی دیا ہے. اس صورت میں یہ آیت [۱۴][۱۵]<font color=blue>{{حدیث|«واِذْقال‌َ اِبراہیم‌ُ لِاَبیہِ آزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصناماً...»}}</font>"<ref>انعام‌</ref> اس طرف اشارہ کرے گی کہ ابراہیم کے والد بتوں کی پرستش میں قوم کے یار اور انباز تھے. اور بعض نے آزر کا نام بتی کو دیا ہے جس کی پوجا ابراہیم کے والد کرتے تھے، اور مذکورہ آیت میں  «اصناماً»  کو اس کا بدل کہا ہے،<ref>میبدی‌، ۳/۴۰۲</ref> بعض دیگر نے تارح کو ابراہیم کے والد اور آزر کو ابراہیم کا چچا کہا ہے اور تذکر دیا ہے کہ عربی میں اب کو چچا کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں، اگرچہ قرآن نے اسماعیل کو [[یعقوب]] کا والد معرفی کیا ہے. ظاہراً آخری وجہ پیغمبر اسلام(ص) کی حدیث کے تحت بیان ہوا ہے جس میں آپ(ص) نے فرمایا:‌<font color=blue>{{حدیث|« نَقَلَنی‌ اللّہُ مِن‌ اَصلاب‌ِ الطّاہرین‌ِ الی‌ اَرحام‌ِ الطّاہرات‌ِ...»}}</font> پیغمبر اکرم (ص) کے سب نیاکان موحد تھا. اس لئے طوسی نے اس کے بعد کہ نسب شناسان نے ابراہیم کے والد کو تارح کہا ہے، آزر کو ابراہیم کی جد مادری سے نسبت دی ہے.
 
اس باب کے بارے میں اور بھی روایات موجود ہیں، جیسے کہ ایک روایت میں آزر کے کلمے کی نکوہش کی ہے <ref>طوسی‌،۴/۱۷۵؛ رازی‌، ۱۳/۳۸؛قرطبی‌،۷/۲۲؛ میبدی‌، ۳/۴۰۲</ref> لیکن رازی نے ان تمام توجہیات کو بی اساس کہا ہے اور اشارہ کیا ہے کہ اگر آزر کا نام جو کہ قرآن میں ابراہیم کے والد کو کہا گیا ہے، درست نہ ہوتا تو پیغمبر (ص) کے زمانے میں یہودی آپ(ص) کو ضرور تکذیب کرتے کیونکہ یہود آپ(ص) کو ہمیشہ تکذیب کرتے تھے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نام یہودیوں کی نگاہ میں درست تھا. اور اس کے آخر میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ اگر تارح کو ابراہیم کے والد کے عنوان سے قبول کر لیں تو یہ بھی ماننا پڑھے گا کہ تارح اور آزر میں سے ایک آپ کا نام اور ایک آپ کا لقب تھا.<ref>۱۳/۳۷، ۳۸</ref> جیسے کہ اسرائیل یعقوب کا لقب تھا.<ref>میبدی‌، ۳/۴۰۱؛ محمد شاکر، ذیل‌ المعرب‌ جوالیقی‌، ۳۵۹</ref>
 
 
==ولادت اور زادگاہ کی تاریخ==
 
ابراہیم کی ولادت کے بارے میں کوئی خاص سند یا خاص تاریخ کا ذکر نہیں ہوا ہے <ref>پید، ۱۱: ۲۶</ref> زمانے جدید میں اکثر مورخین نے سنہ ٢٠ ق کو ابراہیم کی ولادت کی تاریخ کہا ہے اور بعض نے اس کو ١٩٩٦ ق کہا ہے.<ref>ہاکس‌، ۴؛ قس‌: سوسہ، ۲۵۰، ۲۵۱</ref>
 
 
==پیدائش==
 
ابراہیم کی ولادت کی جگہ کے بارے میں اختلاف ہے. عہد عتیق کے مطابق ابراہیم کی ولادت اور میں ہوئی <ref>پید، ۱۱: ۲۸-۳۰</ref> لیکن بعض نے آپ کی محل ولادت کو الورکاء (اوروک) اور بعض اسلامی منابع کے مطابق کوثی نام دکے شہر جو کہ جدید دور میں تل ابراہیم کے نام سے مشہور ہے وہاں ہوئی ہے.<ref>طبری‌، تاریخ‌، ۱/۲۵۲؛ یاقوت‌، ذیل‌ کوثی‌</ref> اور ابن بطوطہ (ص١٠١) میں (برس یا نمرود کا برس، بابل کے مقام) عراق میں ابراہیم کی ولادت ہوئی تھی. اور ابراہیم کی جای ولادت کو حران بھی کہا گیا ہے. <ref>ثعلبی‌، ۷۲</ref> یا سب محقیقین اس بات پر متفق ہیں کہ اور میں ابراہیم کی ولادت ہوئی اور وہی پر آپ بڑے ہوئے.
 
 
==مہاجرت==
 
قرآن کریم کی روایت کے مطابق، ابراہیم نے جب بتوں کی پوجا عام تھی اس زمانے میں لوگوں کو خدائے واحد کی پرستش کی طرف دعوت دی.<ref>انعام‌ /۶/۷۶-۷۹</ref> اور یہ قرآنی روایت یہود کے درمیان معروف تھی اور یوسفوس نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے <ref>دائرۃ المعارف‌ دین‌۱</ref>اور یہودی کتب میں اس کے بعد والے دور کے بارے میں بھی دیکھا گیا ہے.<ref>جودائیکا،II/۱۱۷</ref> بعض روایت کے مطابق یہ واقعہ ابراہیم کا اپنی قوم کے ساتھ مناقشے کے وقت پیش آیا در واقع ابراہیم کا اپنی قوم کو خداوند کی [[توحید|واحدنیت]] کی دعوت کے وقت تھا (طوسی ٤/١٨٥، ١٨٦) مسعوی کے بقول، حضرت ابراہیم  کی بیوی سارہ اور آپ کا بھانجا لوط اور بیٹا ھاران وہ پہلے تھے جنہوں نے حضرت ابراہیم کی دعوت کو قبول کیا.<ref>مروج‌، ۱/۵۷</ref>
 
اور ابراہیم کی اسی دعوت کو جو کہ آپ نے اپنی قوم، والد و... دی قرآن کے مطابق اسی کام نے آپ کو مہاجرت پر مجبور کیا اور اس کو ادیان سامی میں خاص اہمیت حاصل ہے. اور عہد عتیق میں اس مہاجرت کے بارے میں کوئی خاص بات نہیں کی گئی اور حران کی جانب حرکت کوحضرت ابراہیم کے والد سے نسبت دی گئی ہے. کہ جنہوں نے اپنے بیٹے ھاران کی وفات کے بعد، اور سے ہجرت کی اور اپنے خاندان والوں کو ترک کر دیا.<ref>پید، ۱۱: ۲۸-۳۲</ref>
 
قرآن میں اس ہجرت کے جغفرافیائی مقصد کے بارے میں کچھ بیان نہیں ہوا ہے لیکن مہاجرت کی وجہ کو بخوبی بیان کی ہے.
 
  
 
==یکتا پرستی کی دعوت==
 
==یکتا پرستی کی دعوت==

نسخہ بمطابق 19:19, 10 نومبر 2019

بسم اللّه الرّحمن الرّحیم
حضرت ابراہیم
حضرت ابراہیم آتش نمرود میں، استاد فرشچیان کا فنی شاہکار
حضرت ابراہیم آتش نمرود میں، استاد فرشچیان کا فنی شاہکار
قرآنی نام: ابراہیم
کتاب کا نام: صحف
مشہوراقارب: اسماعیلاسحاقہاجرسارہآذرتارخ
معجزات: چار پرندوں کا واقعہ
ہم عصر پیغمبر: حضرت لوط
دین: حنیف
مخالفین: نمرود
اہم واقعات: حضرت اسماعیل کی قربانی
اولوالعزم انبیاء
حضرت محمدؐحضرت نوححضرت ابراہیمحضرت موسیحضرت عیسی

حضرت ابراہیم علیہ السلام جو ابراہیم خلیل کے نام سے مشہور ہیں اللہ کے دوسرے اولوالعزم پیغمبر ہیں۔ حضرت ابراہیم بین النہرین میں پیغمبری پر مبعوث ہوئے اور اپنے زمانے کے حکمراں نمرود اور وہاں کے باسیوں کو توحید کی طرف دعوت دی۔ ان کی دعوت پر بہت کم لوگوں نے ایمان لے آیا اور جب حضرت ابراہیم ان کی طرف سے مایوس ہو گئے تو آپ نے فلسطین کی طرف مہاجرت کی۔

قرآن کی آیات کی رو سے ان کی بت پرست قوم نے حضرت ابراہیم کو ان کے بتوں کو توڑنے کے جرم میں آگ میں پھینکا لیکن خدا کے حکم سے آگ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیم اس سے بحفاظت باہر آگئے۔

حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق آپ کے دو بیٹے اور جانشین ہیں۔ قوم بنی‌ اسرائیل جس سے خدا کے بہت سارے انبیاء مبعوث ہوئے ہیں، اسی طرح حضرت عیسی کی والدہ ماجدہ حضرت مریم کا نسب حضرت اسحاق کے ذریعے حضرت ابراہیم تک پہنچتا ہے۔ پیغمبر اسلام کا نسب بھی حضرت اسماعیل کے ذریعے حضرت ابراہیم تک پہنچتا ہے۔

قرآن میں خانہ کعبہ کی تعمیر اور لوگوں کو حج کی طرف دعوت دینے کو حضرت ابراہیم کی طرف نسبت دیتے ہوئے انہیں خلیل اللہ یعنی اللہ کا دوست قرار دیا ہے۔ قرآن کے مطابق خدا نے حضرت ابراہم کو مختلف امتحانات میں جملہ اپنے بیٹے کی قربآنی دینے میں مبتلاء کرنے کے بعد آپ کو نبوت کے علاوہ امامت کے مقام پر بھی فائز فرمایا۔

سوانح حیات

ولادت اور وفات

اکثر محققین‌ بیسویں صدی قبل از مسیح کو حضرت ابراہیم‌ کی تاریخ ولادت قرار دیتے ہیں اور ان میں سے بعض نے آپ کی تاریخ پیدائش کو سنہ 1996 قبل از مسیح قرار دیا ہے۔[1] اسلامی متون میں کئی شہروں کو آپ کی جای پیدائش قرار دئے گئے ہیں۔ تاریخ طبری کے مطابق بعض نے عراق کے شہر بابل کے نواحی مقام کوثا کو آپ کی جای پیدائش قرار دیا ہیں جہاں اس وقت نمرود حکومت کیا کرتا تھا جبکہ بعض دیگر مورخین نے الورکاء (اوروک‌) یا حرّان‌ کو آپ کی جائی ولادت قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ بعض میں آپ کے والد ماجد نے آپ کو شہر بابل لے آیا تھا۔[2] امام صادقؑ سے منقول ایک حدیث میں "کوثا" کو حضرت ابراہیم کی جائی ولادت اور نمرود کا محل سکونت قرار دی گئی ہے۔[3] چھٹی صدی ہجری کے نامور سیاح ابن‌ بطوطہ‌ نے عراق کے شہر حلہ‌ اور بغداد کے درمیان "بُرص‌" نامی جگہ کو آپ کی جای ولادت کے طور پر نام لیا ہے۔[4]

حضرت ابراہیم 179 یا 200 سال کی عمر میں فلسطین کے شہر حبرون جسے آجکل الخلیل کہا جاتا ہے میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔[5]

فلسطین کے شہر الخلیل میں حضرت ابراہیم کا مزار

والد ماجد

حضرت ابراہیم کے والد ماجد کے نام کے بارے میں مورخین کے درمیان اختلاف‌ پایا جاتا ہے۔ عہد عتیق‌ میں ان کا نام "ترح‌" آیا ہے[6] اسلامی تاریخیِ متون میں تارُخ[7] یا تارَح[8] ذکر ہوا ہے۔ قرآن میں آیا ہے: "سانچہ:متن قرآ­ن[9] اس آیت سے استناد کرتے ہوئے بعض اہل سنت مفسرین نے آزر کو حضرت ابراہیم کا والد قرار دیا ہے؛[10] لیکن شیعہ مفسرین شیعہ اس آیت میں "اَب" کو والد کے معنی میں نہیں لیتے۔[11] ان کے مطابق عربی میں لفظ "اَب" والد کے علاوہ چچا، دادا اور سرپرست کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔[12]

بعض تاریخی منابع کے مطابق جی سال حضرت ابراہیم پیدا ہوئے، نمرود کے حکم سے پیدا ہونے والے ہر یچے کو قتل کر دیا جاتا تھا؛ کیونکہ اس وقت کے نجومیوں نے یہ پیشگن گوئی کی تھی کہ اس سال ایک بچہ پیدا ہو گا جو نمرود کے دین کا مخالف ہوگا اور ان کے بتوں کو توڑ ڈالے گا۔ اس وجہ سے حضرت ابراہیم کی ماں نمرودیوں سے کے خوف سے حضرت ابراہیم کو اپنے گھر کے نزدیک ایک غار میں رکھا اور پندرہ مہینے کے بعد رات کو حضرت ابراہیم کو اس غار سے باہر لے آئی۔[13]

شادی اور اولاد

حضرت ابراہیم کی زوجہ سارہ تھیں اور تورات کے مطابق حضرت ابراہیم نے اور کلدانیان میں ان سے شادی کی۔[14] تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم نے اپنی سوتیلی بہن سے شادی کی تھی؛[15] لیکن شیعہ احادیث کے مطابق سارہ حضرت ابراہیم کی چچازاد اور حضرت لوط کی بہن تھی۔[16] ان احادیث میں سے ایک حدیث کے مطابق حضرت ابراہیم نے کوثا میں سارا سے شادی کی، سارہ ایک مالدار خاتون تھی اور حضرت ابراہیم کی زوجیت میں آنے کے بعد اپنی تمام دولت حضرت ابراہیم کے اختیار میں دے دیا اور حضرت ابراہیم نے اس میں مزید نفع پہنچایا یہاں تک کہ اس علاقے میں ان سے زیادہ کوئی مالدار شخص نہیں ہوا کرتا تھا۔[17]

حضرت ابراہیم کو سارہ سے کوئی اولاد نہیں ہوئی؛ اس بنا پر سارہ نے اپنی کنیز ہاجر کو حضرت ابراہیم کے لئے بخش دی جس سے حضرت اسماعیل پیدا ہوئے۔[18] اس کے کچھ عرصہ بعد ابراہیم کو سارہ سے بھی اولاد ہوئی جس کا نام حضرت اسحاق رکھا گیا۔ حضرت اسحاق کی ولادت حضرت اسماعیل سے 5 یا 13 سال بعد ہوئی۔[19] بعض مورخین کے مطابق حضرت اسحاق کی ولادت کے وقت حضرت ابراہیم کی عمر 100 سال سے بھی اوپر تھی اور سارہ بھی 90 سال کی تھی۔[20] ایک دوسری تاریخ کے مطابق حضرت اسحاق حضرت اسماعیل سے 30 سال چھوٹے تھے اور اس وقت حضرت ابراہیم کی عمر 120 سال تھی۔[21]

کہا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم نے سارہ کی وفات کے بعد دو اور عورتوں سے بھی شادی کی جس میں سے ایک سے آپ کے 4 بیٹے جبکہ دوسری بیوی سے 7 بیٹے ہوئے یوں مجموعی طور پر حضرت ابراہیم کے 13 بیٹے تھے۔[22]

قرآن کی روشنی میں

قرآن میں 69 مرتبہ حضرت ابراہیم کا نام ذکر آیا ہے۔[23] اسی طرح ایک سورہ بھی ابراہیم کے نام سے موسوم ہے کیونکہ اس میں حضرت ابراہیم کا تذکرہ آیا ہے۔[24] قرآن میں حضرت ابراہیم کے بارے میں آپ کی نبوت و امامت توحید کی طرف آپ کی دعوت، بیٹے کی قربانی، چار پرندوں کے زندہ ہونا اور آگ کے سرد ہونے کے معجزے کے بارے میں بحث ہوا ہے۔

نبوت، امامت اور مقام خلّت

قرآن کی متعدد آیات میں حضرت ابراہیم کی نبوت اور توحید کی طرف آپ کی دعوت کی طرف اشارہ ہوا ہے۔[25] اسی طرح سورہ احقاف کی آیت نمبر 35 میں حضرت ابراہیم کو اولوالعزم انیباء میں سے قرار دیا ہے گیا ہے [25] اور احادیث کی رو سے حضرت ابراہیم اولوالعزم انبیاء میں حضرت نوح کے بعد دوسرا اولوالعزم نبی ہیں۔[26] سورہ بقرہ کی آیت نمبر 124 کے مطابق خدا نے حضرت ابراہیم کو کئی امتحانات کے ذریعے آزمانے کے بعد مقام امامت پر فائز فرمایا۔ علامہ طباطبایی کے مطابق آیت میں مقام امامت سے مراد باطنی ہدایت ہے؛ ایک ایسا مقام جس تک پہنچنے کے لئے وجودی کمال اور خاص معنوی مقام کی ضرورت ہوتی ہے جو بہت زیادہ محنت اور ریاضت کے بعد نصیب ہوتی ہے۔[27]

قرآن کی آیات کے مطابق خدا نے حضرت ابراہیم کو خلیل اللہ کا مقام بھی عنایت فرمایا ہے۔[28] اسی بنا پر آپ خلیل اللہ کے لقب سے ملقب ہوئے۔ علل الشرایع میں موجود بعض احادیث کے مطابق سجدہ کی کثرت، دوسروں کی حاجتوں کو رد نہ کرنا، خدا کے علاوہ کسی سے کوئی درخواست نہ کرنا، لوگوں کو کھانا کھلانا اور رات کے وقت عبادت و بندگی کی وجہ سے آپ کو خلیل اللہ کا مقام ملا تھا۔[29]

ابو الانبیاء

قرآن کی آیات کی مطابق حضرت ابراہیم اپنے بعد آنے والے چند انبیاء کے جد امجد ہیں۔[30] آپ کے بیٹے حضرت اسحاق بنی‌ اسرائیل کے جد ہیں ان کی نسل سے کئی انبیاء مبعوث ہوئے من جملہ ان میں حضرت یعقوب، حضرت یوسف، حضرت داوود، حضرت سلیمان، حضرت ایوب، حضرت موسی، حضرت ہارون اور دیگر بنی اسرائیل کے انبیاء شامل ہیں۔[31]

اسی طرح حضرت عیسی کا نسب بھی ان کی والدہ حضرت مریم کے ذریعے حضرت یعقوب فرزند حضرت اسحاق تک پہنچتی ہے۔[32] اسلامی احادیث کے مطابق حضرت محمدؐ کا نسب آپ کے دوسرے بیٹے حضرت اسماعیل تک پہنچتا ہے۔[33] اسی مناسبت سے آپ ابوالانبیاء کے لقب سے بھی مشہور ہیں۔[34]

معجزات

قرآن کی آیات کے مطابق آگ کا سرد ہونا اور چار پرندوں کا زندہ ہونا حضرت ابراہیم کے معجزات میں سے ہیں:

  • آگ کا سرد ہونا: سورہ انبیاء کی آیت نمبر 57 سے 70 تک کے مطابق جب حضرت ابراہیم نے دیکھا کہ ان کی قوم بتوں کی پوجا کرنے کو نہیں چھوڑ رہے، آپ نے ایک دین موقع پا کر تمام بتوں کو توڑ دیا اور اس کام کو بڑے بت کی طرف نسبت دیتے ہوئے کہا اگر یہ بول سکے تو اس سے پوچھ لو۔ بت‌ پرست آپ کی بات کا جواب نہ دی سکے لیکن وہ اپنے اعتقادات سے پیچھے نہ ہٹے اور حضرت ابراہیم کو ان کے بتوں کے توڑنے کے جرم میں آگ میں پھینک دیا لیکن خدا کے حکم سے آگ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیم صحیح و سالم اس سے باہر آگئے۔[35]
  • چار پرندوں کا زندہ ہونا: سورہ بقرہ کی آیت نمبر 260 کے مطابق حضرت ابراہیم نے خدا سے مردوں کے زندہ ہونے کی کیفیت سے متعلق سوال کیا جس کے جواب میں خدا نے انہیں چار پرندوں کو ذبح کرنے اور ان کے گوشت کو مخلوط کر کے مختلف پہاڑوں پر رکھنے کا حکم دیا۔ حضرت ابراہیم نے ایسا ہی کیا اس کے بعد خدا کے حکم کے مطابق انہوں نے ان پرندوں کو آواز دی تو سارے پرندے زندہ ہو کر ان کے سامنے آگئے۔

ہجرت

سورہ انبیاء کی آیت نمبر 71 میں حضرت ابراہیم کے بارے میں آیا ہے ہے: وَنَجَّيْنَاهُ وَلُوطًا إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا لِلْعَالَمِينَ (ترجمہ: اور ہم نے انہیں اور لوط کو نجات دی اور اس سر زمین (شام) کی طرف لے گئے جسے ہم نے دنیا جہان والوں کیلئے بابرکت بنایا ہے۔)[36] بعض تفسیروں میں اس آیت میں مورد اشارہ سرزمین کو شام[37] فلسطین یا بیت المقدس[38] قرار دئے ہیں۔ امام صادقؑ سے منقول ایک حدیث میں بھی بیت المقدس کو حضرت ابراہیم کی ہجرت کا مقام قرار دیا ہے۔[39]

خانہ کعبہ کی تعمیر

سورہ بقرہ کی آیت نمبر 127 میں آیا ہے کہ حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے اسماعیل کی مدد سے خانہ کعبہ کی تعمیر کی[40] اور خدا کے حکم سے لوگوں کو مناسک حج کی طرف دعوت دی۔[41] بعض احادیث کے مطابق خانہ کعبہ کی بنیاأ پہلی بار حضرت آدم علیہ السلام نے رکھی۔[42]

بیٹے کی قربانی

یکتا پرستی کی دعوت

ابراہیم نے سب سے پہلے آزر کو یکتا پرستی کی دعوت دی تھی. قرآن کریم کی سورت میں اس دعوت کے بارے میں آیا ہے، جیسے کہ دیکھا جائے گا کہ ابراہیم نے دو بار آزر کے ساتھ اس کی قوم کے دین کے بارے میں مناقشہ کیا ہے، اور دو بار کے بعد آزر نے ابراہیم کو اپنے سے دور کیا اور حضرت ابراہیم نے ہجرت کی. آزر کی پہلی مخالفت کی وجہ حضرت ابراہیم کا بتوں کو توڑنا اور پھر اس کا قصور بڑے بت پر نسبت دینا اور قوم کو کہنا کہ اس کی وجہ بڑے بت سے ہی سوال کیا جائے جب کہ بت بولنے پر قادر نہیں اور قوم اس حجت پر خاموش ہو گئے، اور آخر میں حضرت ابراہیم کو آگ میں ڈالا گیا. پرودگار نے آگ کو آپ کے لئے ٹھنڈا کر دیا اور لوط کے ہمراہ آپ کو قوم کی جنگ سے نجات دی.[43]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. سجادی، «ابراہیم خلیل(ع)»، ص۴۹۹
  2. طبری‌، تاریخ الامم والملوک، ۱۹۶۷م، ج۱، ص۲۳۳
  3. قطب راوندی، قصص الانبیاء، آستان قدس رضوی، ج‏۱، ص۲۹۸
  4. ابن بطوطہ، ص‌ ۱۰۱۔
  5. طبري‌، تاريخ الأمم والملوك، ۱۹۶۷م، ج۱، ص۳۱۲؛ ابن كثير، البدايۃ و النہايۃ، ج۱، ص۱۷۴۔
  6. پیدایش، ۱۱: ۲۴، متن‌ عبری‌؛ قس‌: ترجمہ فارسی‌ میں تارح‌ آیا ہے
  7. طبری‌، تاریخ الامم والملوک، ۱۹۶۷م، ج۱، ص۲۳۳
  8. ابن کثیر، البدایہ و النہایہ، ۱۹۸۶م، ج۱، ص۱۴۲؛ ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، دار المعرفۃ، ج۱، ص۲
  9. سورہ انعام ، آیہ ۷۴
  10. فخر رازی، مفاتیح الغیب، ۱۴۲۰ق، ج۱۳، ص۳۱۔
  11. ابوالفتوح رازى، روض الجنان و روح الجنان، ۱۴۰۸ق، ج۷، ص۳۴۰و۳۴۱؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۵، ص۳۰۳۔
  12. برای نمونہ نگاہ کنید بہ طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۷، ص۱۶۵۔
  13. طبری‌، تاریخ الامم والملوک، ۱۹۶۷م، ج۱، ص۲۳۴
  14. پیدایش، ۱۱: ۲۹
  15. پیدایش، ۲۰: ۱۲
  16. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۷، ص۲۲۹؛ عیاشی، تفسير عیاشی،۱۳۸۰ق، ج‏۲، ص۲۵۴۔
  17. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۷، ص۲۲۹
  18. ابن اثیر، الکامل، ۱۳۸۵ق، ج۱، ص۱۰۱۔
  19. مسعودی، إثبات الوصیۃ، ۱۳۸۴ش، ص۴۱-۴۲
  20. مسعودی، إثبات الوصیۃ، ۱۳۸۴ش، ص۴۶۔
  21. ابن سعد، الطبقات‏ الكبرى، ۱۴۱۰ق، ج۱، ص۴۱
  22. ابن سعد، الطبقات‏ الكبرى، ۱۴۱۰ق، ج۱، ص۴۱
  23. فیروزمہر، «مقایسہ قصہ ابراہیم علیہ السلام در قرآن و تورات‌»، ص۸۸
  24. خرمشاہی، دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۲۴۰۔
  25. 25.0 25.1 سورہ مریم، آیہ۴۱تا۴۸ - سورہ انبیاء، آیہ ۵۱تا۵۷ - سورہ شعراء، آیہ ۶۹تا۸۲ - سورہ صافات، آیہ ۸۳تا۱۰۰ - سورہ زخرف، آیہ ۲۶و۲۷ - سورہ ممتحنہ، آیہ۴ - سورہ عنکبوت، آیہ ۱۶تا۲۵۔
  26. طباطبائی، المیزان، ج۱۸، ص۲۱۸
  27. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۳ق، ج۱، ص۲۷۲۔
  28. سورہ نساء، آيہ۱۲۵۔
  29. صدوق، علل الشرایع، ۱۳۸۵ش، ج۱، ص۳۴و۳۵۔
  30. سورہ عنکبوت، آیہ۲۷۔
  31. سورہ انعام، آیہ ۸۴۔
  32. مغنيہ، تفسير الكاشف‏، ۱۴۲۴ق‏، ج۱، ص۲۰۸
  33. ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، دار المعرفۃ، ج۱، ص۲؛ ابن‌ عبدربہ‌، العقد الفرید، ۱۴۰۲ق‌، ج۵، ص۸۹
  34. سید قطب، فى ظلال القرآن، ۱۴۲۵ق، ج‏۵، ص۲۹۹۷
  35. سورہ انبیاء، آیہ۵۷ تا ۷۰
  36. سورہ انبیاء، آیہ۷۱
  37. محلى و سیوطی، تفسير الجلالين‏، ۱۴۱۶ق، ص۴۰۲؛ ابوالفتوح رازى، روض الجنان، ۱۴۰۸ق، ج۱۵، ص۲۰۰
  38. كاشانى، تفسير منہج الصادقين، ۱۳۳۶ش‏، ج۶، ص۸۔
  39. قطب راوندی، قصص الانبیاء، آستان قدس رضوی، ج‏۱، ص۲۹۸
  40. سورہ بقرہ، آیہ ۱۲۷
  41. سورہ حج، آیہ ۲۷
  42. فيض كاشانى، تفسير الصافى‏،۱۴۱۵ق، ج۱، ص۱۸۹و۱۹۰‏
  43. انبیاء /۲۱/۵۶ -۷۱