حج تمتع

ویکی شیعہ سے
نظرثانی بتاریخ 09:22, 10 اگست 2019 از Hakimi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) (وجہ نامگزاری)
(فرق) → پرانا نسخہ | حالیہ نظرثانی (فرق) | →اگلا اعادہ (فرق)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مشہور احکام
رساله عملیه.jpg
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاع
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضہسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ


حجّ تَمَتُّع، حج کے اقسام میں سے ہے۔ حج تمتع اس شخص پر واجب ہے جس کا محل سکونت مکہ سے 16 فرسخ یا 48 میل سے زیادہ فاصلے پر واقع ہو۔ حج تمتع دو حصوں، عمرہ تمتع اور حج تمتع پر مشتمل ہے۔

وجہ نامگذاری

حج کی تین قسمیں ہیں، حج تمتع، حج اِفراد اور حج قران
تمتع، استفادہ کرنا اور منفعت لینے کو کہا جاتا ہے[1] اسی لئے حج کی اس قسم کو "حج" اور "عمرہ" کے درمیان محرّمات احرام سے بہرہ مند ہو سکنے کی بنا پر "حج تمتّع" کہا جاتا ہے، حالانکہ حج کی اس قسم میں "عمرہ" ، "حج" کا جزء ہے اور شریعت کی نگاہ میں یہ دونوں ایک ہی عمل شمار ہوتے ہیں۔ اس بنا پر "حج تمتّع اور عمرہ تمتّع" کے درمیان محرمات احرام کا حلال ہونا گویا خود حج کے دوران ان سے بہرہ مند ہونے کی طرح ہے اس وجہ سے اسے "تمتّع" نام رکھا گیا ہے۔[2]

حکم

تفصیلی مضمون: حکم شرعی

حج تمتّع "آفاقی" شخص کا وظیفہ ہے، آفاقی سے مراد وہ شخص ہے جو مکہ سے 12 یا 16 فرسخ سے زیادہ فاصلے پر زندگی گزار رہا ہو۔[3] مستحب حج میں حج کے تینوں اقسام میں سے کسی ایک کو انتخاب کرنے میں حاجی مخیر ہے۔[4]

کیفیت

حج تمتّع دو حصوں پر مشتمل ہے: عمرہ تمتّع اور حج تمتّع۔

عمرہ تمتع

عمرہ تمتّع پانچ اعمال پر مشتمل ہے:

  1. احرام: کسی ایک میقات سے حج کے مہینوں (شوّال، ذوالقعدہ اور ذی الحجّہ) میں احرام باندھنا۔
  2. طواف: کعبہ کے گرد سات چکر لگانا۔
  3. نماز طواف: دو رکعت نماز مقام ابراہیمؑ کے پیچھے۔
  4. سعی بین صفا و مروہ: صفا اور مروہ کے درمیان سات مرتبہ آنا جانا۔
  5. تقصیر: تقصیر کے ساتھ "مُحرِم" "احرام" سے خارج ہو جاتا ہے اور وہ تمام چیزیں جو احرام کی وجہ سے حرام ہو گئی تھیں اس پر دوبارہ حلال ہو جاتی ہیں۔

حج تمتع

حج تمتع 13 اعمال پر مشتمل ہے:

  1. احرام: مکہ سے ایسے وقت میں احرام باندھنا کہ وقوف عرفات کو درک کر سکے۔ اگرچہ یوم ترویہ 8 ذی الحجہ کو احرام باندھنا افضل ہے۔
  2. وقوف عرفات: روز عرفہ زوال سے غروب تک میدان عرفات میں توقف کرنا۔
  3. مشعر الحرام میں عید قربان کی رات طلوع آفتاب تک توقف کرنا۔
  4. رمی جمرہ عقبہ: سب سے چھوٹے شیطان کو عید قربان کے دن سات کنکریاں مارنا۔
  5. قربانی: منا میں عید کے دن قربانی کرنا اور ایک قول کی بنا پر اس کے گوشت کو کھنا۔
  6. حلق یا تقصیر: منا میں عید کے دن سر کے بال منڈوانا یا چھوٹا کرنا۔
  7. طواف زیارت: خانہ کعبہ کا سات چکر کاٹنا۔
  8. نماز طواف زیارت: دو رکعت نماز مقام حضرت ابراہیمؑ کے پیچھے۔
  9. سعی بین صفا و مروہ: سات مرتبہ صفا اور مروہ کے درمیان رفت و آمد۔
  10. طواف نساء۔
  11. نماز طواف نساء: دو رکعت نماز مقام حضرت ابراہیمؑ کے پیچھے۔
  12. بیتوتہ: ایام تشریق (ذی الحجہ کی گیارہ، بارہ اور تیرہویں رات) منا میں رات گزارنا۔
  13. رمی جمرات: گیارہ، بارہ اور تیرہ ذی الحجہ کے دن تینوں شیاطین کو کنکریاں مارنا۔

حجاج کرام حج کے اعمال کو یا مذکورہ ترتیب کے ساتھ انجام دے یا یہ کہ حلق یا تقصیر کے بعد منا میں ٹھر کر وہاں کے اعمال کو بجا لانے کے بعد بارہ ذی الحجہ کے دن زوال کے وقت مکہ لوٹے اور وہاں پر مکہ کے اعمال (طواف، نماز طواف، سعی، طواف نساء اور نماز طواف النساء) کو بجا لایے۔[5]

احکام

جس شخص کا وظیفہ "حج تمتّع" ہے وہ عام حالات میں اپنے "حج" کو حج قِران یا اِفراد میں تبدیل نہیں کر سکتا ایسا کرنے کی صورت میں اس کے گردن سے حج ادا نہیں ہو گا۔ لیکن اضطراری اور مجبوری کی حالت میں جیسے وقت تنگ ہو یا کوئی اور شرعی عذر پیدا ہو جائے مثلا عورت کیلئے حیض آجائے تو اس صورت میں وہ تبدیل کر سکتا ہے۔[6]

مستحب حج کو حج تمتّع کی صورت میں انجام دینا مستحب ہے اگرچہ حاجی مخیر ہے کہ حج کی جس قسم کو بھی انتخاب کرے۔[7]

قول مشہور کی بنا پر حلق یا تقصیر کے ذریعے سوائے عورتوں سے ہمبستر ہونا اور خوشبو کے باقی تمام محرّمات احرام حاجی پر حلال ہو جاتی ہیں۔[8] طواف زیارت، نماز طواف اور سعی کے بعد قول مشہور کی بنا پر خوشبو بھی حلال ہو جاتی ہے۔ [9] اور طواف نساء اور اس کی نماز کے بعد عورتوں کے ساتھ ہمبستری بھی حلال ہو جاتی ہے۔[10]

شرایط

حج تمتع حج کے عمومی شرائط کے علاوہ درج ذیل شرائط کا حامل ہے:

  1. نیت: عمرہ تمتّع کیلئے احرام باندھنے وقت حج تمتّع کی نیت کرنا۔
  2. حج کے مہینوں میں انجام پانا: یعنی شوّال، ذوالقعدہ اور ذی الحجہ میں واقع ہو [11]
  3. عمرہ تمتّع اور حج دونوں کو ایک ہی سال انجام دینا۔
  4. حج تمتّع کیلئے مکہ سے احرام باندھنا۔ اس حوالے سے سب سے افضل مکان مسجد الحرام اور مسجد الحرام میں سب سے افضل جگہ مقام ابراہیم یا حجر اسماعیل علیہما السّلام ہے۔ [12]

خصوصیات

حج تمتّع حج قران اور اِفراد کے مقابلے میں درج ذیل خصوصیات کا حامل ہے:

  1. حج تمتّع میں عمرہ اور حج ایک دوسرے سے وابستہ ہیں اور یہ دونوں جدائی ناپذیر ہیں، حج قران اور حج افراد کے برخلاف کہ جس میں ان کا عمرہ اصلا واجب نہیں ہے مگر یہ کہ نذر وغیرہ کیا ہو۔
  2. حج تمتّع میں "عمرہ" "حج" سے پہلے انجام دیا جاتا ہے جبکہ باقیوں میں حج کے بعد انجام دیا جاتا ہے۔
  3. حج تمتّع میں "عمرہ" بھی "حج" کی طرح حج کی ایام میں بجا لانا ضروری ہے جبکہ باقیوں میں اگر واجب بھی ہو تو حج کے مناسک کے بعد بہی انجام دیا جا سکتا ہے۔
  4. حج تمتّع میں "عمرہ" اور "حج" دونوں کو ایک ہی سال انجام دینا ضروری ہے باقیوں کے برخلاف۔
  5. قول مشہور کی بنا پر "حج تمتّع" میں عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد مکے سے خارج ہونا صرف حج کیلئے احرام باندھنے کے ساتھ ہے مگر یہ کہ ایک مہینے سے پہلے مکے میں دوبارہ لوٹ کر آئے۔ جبکہ دوسرے دو قسموں میں جب چاہے بغیر احرام کے مکے سے خارج ہو سکتے ہیں۔
  6. حج تمتّع میں میقات حج خود مکہ ہے؛ لیکن جج قران اور حج افراد میں پانچ میقات میں سے ایک یا شخص کا اپنا گھر ہے اگر گھر میقات کی بنستب مکہ سے قریب ہو تو۔
  7. حج تمتّع میں عمرہ کیلئے میقات مشہور میقات میں سے ایک یا ایک ایسی جگہ جو میقات کے حکم میں ہو۔ عمرہ مفردہ اور قران کے برخلاف کہ ان دونوں قسموں میں اس شخص کیلئے جو "حرم" میں ہے ادنی الحلّ ارو اس شخص کیلئے جو "حرم" سے باہر ہے میقات میں سے ایک یا اپنا گھر ہے۔
  8. عمرہ تمتّع میں مُحرِم مکہ کے گھروں کو دیکھنے کے بعد تلبیہ کہنا چھوڑ دے گا جبکہ عمرہ مفردہ میں اگر احرام کیلئے مکہ سے باہر گیا ہو تو کعبہ نظر آتے وقت تلبیہ کہنا چھوڑ دیتا ہے لیکن اگر مکہ سے باہر نہ گیا ہو تو حرم میں داخل ہوتے وقت تلبیہ کہنا چھوڑ دے۔ عمرہ مفردہ میں تلبیہ کہنا بند کرنے کے بارے میں اور بھی اقوال ہیں۔
  9. عمرہ تمتّع میں طواف نساء نہیں ہے؛ لکین عمرہ قران اور عمرہ افراد میں قول مشہور کی بنا پر طواف النساء ہے۔
  10. حج تمتّع میں طواف زیارت اور سعی کو وقوف عرفات اور مشعر پر مقدم کرنا عام حالت میں جائز نہیں ہے؛ جبکہ حج قِران اور حج افراد میں قول مشہور کی بنا پر یہ چیز جائز ہے۔
  11. مفرِد اور قارن (یعنی وہ شخص جو حج افراد یا حج قران انجام دے) کیلئے طواف زیارت، سعی اور طواف نساء کو ایام تشریق کے بعد ذی الحجہ کے مہینے میں انجام دینا جائز ہے؛ متمتّع کے برخلاف کہ یہ کام اس کیلئے یا حرام یا مکروہ ہے۔ بنابر اختلاف اقوال ۔
  12. ایک قول کی بنا پر حج تمتّع میں حج کیلئے احرام باندھنے کے بعد طواف مستحب بجا لانا حرام ہے؛ لیکن باقی دو قسموں میں تمام فقہاء بالاتفاق جواز پر فتوی دیتے ہیں۔
  13. حج تمتّع میں احرام صرف تلبیہ کے ساتھ باندھی جاتی ہے جبکہ حج قران میں قول مشہور کی بنا پر تلبیہ علاوہ اشعار اور تقلید کے ساتھ بھی جائز ہے۔
  14. حج تمتّع میں قربانی واجب ہے جبکہ باقی دو قسموں میں مستحب ہے۔
  15. مُفْرِد کیلئے حج تمتّع کی طرف عدول کرنا جائز ہے؛ لیکن متمتّع کیلئے حج تمتّع سے حج افراد کی طرف عدول کرنا عام حالت میں حائز نہیں ہے۔ حج قران میں نہ اس کی طرف عدول جائز ہے اور نہ اس سے عدول جائز ہے۔[13]

حوالہ جات

  1. ابن‌اثیر، النہایہ فی غریب الحدیث و الاثر، ۱۳۶۷ش، ج۵، ص۲۹۲.
  2. مستند الشیعۃ، ج۱۱، ص۲۰۶ ۲۰۷؛ جواہر الکلام، ج۱۸، ص۲.
  3. جواہر الکلام، ج۱۸، ص۵.
  4. مناسک حج، م۱۱
  5. جواہرالکلام، ج۱۸، ص۳ ۴؛ العروۃ الوثقی ۴/ ۶۰۹ ۶۱۰.
  6. جواہر الکلام، ج۱۸، ص۱۰.
  7. جواہر الکلام، ج۱۸، ص۱۰ ۱۱.
  8. جواہر الکلام، ج۱۹، ص۲۵۱.
  9. جواہر الکلام، ج۱۹، ص۲۵۸ ۲۵۷.
  10. جواہر الکلام، ج۱۹، ص۲۵۸ ۲۵۹.
  11. البتہ اس بارے میں اختلاف موجود ہے کہ آیا ذی الحجہ کا پورا مہینہ ایام حج ہے یا فقط دسویں تاریخ تک ایام حج میں شامل ہے۔
  12. جواہرالکلام، ج۱۸، ص۱۱-۱۸؛ مہذّب الاحکام، ج۱۲، ص۳۴۷-۳۶۰.
  13. جواہرالکلام، ج۱۸، ص۷۴ ۷۹؛ مہذّب الاحکام، ج۱۲، ص۳۴۶ ۳۴۷.


مآخذ

  • سبزواری، سیدعبدالاعلی، مہذب الاحکام فی بیان الحلال و الحرام، مؤسسہ المنار، قم، ۱۴۱۳ق.
  • نجفی، محمد حسن، جواہرالکلام فی شرح شرایع الاسلام،‌ دار احیاءالثراث العربی، بیروت، ۱۴۰۴ق.
  • نراقی، احمد بن محمد، مستند الشیعہ فی احکام الشریعہ، مؤسسہ آل البیت علیہم السلام، قم، ۱۴۱۵ق.