"اطعمہ و اشربہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
(خشکی کے جانور)
م
سطر 33: سطر 33:
 
==اصلی اور ثانوی احکام==
 
==اصلی اور ثانوی احکام==
 
[[فقہ]] میں کھانے پینے کے بارے میں جو احکام بیان ہوئے ہیں وہ اصلی احکام ہیں اور عادی حالات کے ہیں لیکن بعض اضطراری اور مجبوری حالات میں حرمت کے حکم میں تبدیلی آتی ہے۔ کیونکہ حالات عادی اور معمول کے مطابق نہیں ہیں۔
 
[[فقہ]] میں کھانے پینے کے بارے میں جو احکام بیان ہوئے ہیں وہ اصلی احکام ہیں اور عادی حالات کے ہیں لیکن بعض اضطراری اور مجبوری حالات میں حرمت کے حکم میں تبدیلی آتی ہے۔ کیونکہ حالات عادی اور معمول کے مطابق نہیں ہیں۔
 
 
  
 
===پینے کی چیزیں===
 
===پینے کی چیزیں===
 
پینے والی چیزیں اگرچہ فقہ میں ان تمام چیزوں کو شامل ہوتی ہیں جن کو پیا جاتا ہے لیکن فقہی مآخذ میں اطعمہ اور اشربہ کے باب میں جن پینے والی چیزوں کا ذکر ہوتا ہے وہ اکثر مست کرنے والی مایع چیزوں کے احکام کے بارے میں خاص ہے۔
 
پینے والی چیزیں اگرچہ فقہ میں ان تمام چیزوں کو شامل ہوتی ہیں جن کو پیا جاتا ہے لیکن فقہی مآخذ میں اطعمہ اور اشربہ کے باب میں جن پینے والی چیزوں کا ذکر ہوتا ہے وہ اکثر مست کرنے والی مایع چیزوں کے احکام کے بارے میں خاص ہے۔
 
  
 
==مسکرات کا حکم اور اس کا مآخذ==
 
==مسکرات کا حکم اور اس کا مآخذ==
 
مآخذ کے مطابق مسکر (مست کرنے والی) چیزیں مسلمانوں پر بعثت کے ابتدائی سالوں میں حرام نہیں ہوئی ہیں اس بارے میں زیادہ تاکید [[آیات مکی|مكی‌]] دو آیتیں <ref>اعراف(۷): ۳۲؛ نحل(۱۶):۶۷</ref> اور [[آیات مدنی‌|مدنی‌]] تین آیتوں<ref>نساء، آیه۴۳؛ بقره‌، آیه۲۱۹؛ مائده، آیه۹۰</ref>  میں ہوئی ہے۔<ref>مراجعہ کریں: سرخسی‌، المبسوط، ج۲۴، ص۲-۳؛ نیز طوسی‌، المبسوط، ج۷، ص۵۷-۵۸؛ ماوردی‌، الحاوی الکبیر، ج۱۳، ص۳۷۸-۳۸۴</ref>
 
مآخذ کے مطابق مسکر (مست کرنے والی) چیزیں مسلمانوں پر بعثت کے ابتدائی سالوں میں حرام نہیں ہوئی ہیں اس بارے میں زیادہ تاکید [[آیات مکی|مكی‌]] دو آیتیں <ref>اعراف(۷): ۳۲؛ نحل(۱۶):۶۷</ref> اور [[آیات مدنی‌|مدنی‌]] تین آیتوں<ref>نساء، آیه۴۳؛ بقره‌، آیه۲۱۹؛ مائده، آیه۹۰</ref>  میں ہوئی ہے۔<ref>مراجعہ کریں: سرخسی‌، المبسوط، ج۲۴، ص۲-۳؛ نیز طوسی‌، المبسوط، ج۷، ص۵۷-۵۸؛ ماوردی‌، الحاوی الکبیر، ج۱۳، ص۳۷۸-۳۸۴</ref>
 
  
 
==مُسکر مایعات==
 
==مُسکر مایعات==
 
مست کرنے والی مایع چیزوں کو پینا حرام ہونے میں اسلامی مذاہب کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے لیکن مصداق میں اختلاف ہے کہ کہ کونسی چیز مست کرنے والی ہے اور کونسی نہیں اس میں خاص کر‌ [[نبیذ]] <ref group="نوٹ"> شراب ، خرما یا کشمش کا شراب (فرهنگ فارسی معین</ref> اور [[فقاع|فقّاع‌]] تاریخ میں مختلف مذاہب کے درمیان مورد اختلاف رہے ہیں۔.<ref>بعض موارد کے لیے مراجعہ کریں: رودانی‌، صلة الخلف، ص۱۲۹؛ آقابزرگ‌، الذریعه، ج۲، ص۲۱۷</ref>
 
مست کرنے والی مایع چیزوں کو پینا حرام ہونے میں اسلامی مذاہب کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے لیکن مصداق میں اختلاف ہے کہ کہ کونسی چیز مست کرنے والی ہے اور کونسی نہیں اس میں خاص کر‌ [[نبیذ]] <ref group="نوٹ"> شراب ، خرما یا کشمش کا شراب (فرهنگ فارسی معین</ref> اور [[فقاع|فقّاع‌]] تاریخ میں مختلف مذاہب کے درمیان مورد اختلاف رہے ہیں۔.<ref>بعض موارد کے لیے مراجعہ کریں: رودانی‌، صلة الخلف، ص۱۲۹؛ آقابزرگ‌، الذریعه، ج۲، ص۲۱۷</ref>
 
  
 
==کھانے پینے کے بارے میں لکھی گئی کتابیں==
 
==کھانے پینے کے بارے میں لکھی گئی کتابیں==
اس بارے میں '''الاشربه‌''' کے نام سے بہت ساری کتابیں ملتی ہیں جن میں سے  [[معتزله]] کے علما جیسے‌ [[جعفر بن‌ مبشر]] اور [[ابوجعفر اسکافی]]<ref>مراجعہ کریں: ابن‌ ندیم‌، الفهرست، ص۲۰۸، ۲۱۳</ref>، اور [[اصحاب حدیث]] میں سے‌ [[احمد بن حنبل]] وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ <ref>مراجعہ کریں: I/507؛ GAS, دیگر کتابوں کے لئے مراجعہ کریں: ابن‌ ندیم‌، الفهرست، ص۲۸۶، جاهای مختلف؛ رودانی‌، صلة الخلف؛ آقابزرگ‌، الذریعه، ج۲، ص۱۰۴-۱۰۶</ref>
+
اس بارے میں '''الاشربه‌''' کے نام سے بہت ساری کتابیں ملتی ہیں جن میں سے  [[معتزله]] کے علما جیسے‌ [[جعفر بن‌ مبشر]] اور [[ابوجعفر اسکافی]]<ref>مراجعہ کریں: ابن‌ ندیم‌، الفهرست، ص۲۰۸، ۲۱۳</ref>، اور [[اصحاب حدیث]] میں سے‌ [[احمد بن حنبل]] وغیرہ قابل ذکر ہیں۔<ref>مراجعہ کریں: I/507؛ GAS, دیگر کتابوں کے لئے مراجعہ کریں: ابن‌ ندیم‌، الفهرست، ص۲۸۶، جاهای مختلف؛ رودانی‌، صلة الخلف؛ آقابزرگ‌، الذریعه، ج۲، ص۱۰۴-۱۰۶</ref>
 
صفویہ دور کے بعد بعض فقہی کتابیں‌ الاطعمه و الاشربه کے نام سے شیعہ فقہ میں لکھی گئی ہیں جیسے [[رضی‌ الدین‌ خوانساری‌]] (متوفی ۱۱۲۵ھ‌) کی کتاب قابل ذکر ہے۔<ref>مراجعہ کریں: آقابزرگ، الذریعه، ج۲، ص۲۱۷-۲۱۸</ref>
 
صفویہ دور کے بعد بعض فقہی کتابیں‌ الاطعمه و الاشربه کے نام سے شیعہ فقہ میں لکھی گئی ہیں جیسے [[رضی‌ الدین‌ خوانساری‌]] (متوفی ۱۱۲۵ھ‌) کی کتاب قابل ذکر ہے۔<ref>مراجعہ کریں: آقابزرگ، الذریعه، ج۲، ص۲۱۷-۲۱۸</ref>
 
== حوالہ جات ==
 
== حوالہ جات ==
سطر 57: سطر 52:
  
 
==مآخذ==
 
==مآخذ==
{{طومار}}
+
{{ستون آ|2}}
{{ستون-شروع|۲}}
+
* تهرانی، آقابزرگ، الذریعة.
* تهرانی، [[آقابزرگ]]. [[الذریعة]].
 
 
* ابن‌ رشد، محمد. بدایه المجتهد. بیروت‌. ۱۴۰۲ق‌/ ۱۹۸۲م‌.
 
* ابن‌ رشد، محمد. بدایه المجتهد. بیروت‌. ۱۴۰۲ق‌/ ۱۹۸۲م‌.
* [[ابن ندیم]]. [[الفهرست]].
+
* ابن ندیم، الفهرست.
 
* رودانی‌، محمد. صله الخلف‌. به‌ کوشش‌ محمد حجی‌. بیروت‌. ۱۴۰۸ق‌/۱۹۸۸م‌.
 
* رودانی‌، محمد. صله الخلف‌. به‌ کوشش‌ محمد حجی‌. بیروت‌. ۱۴۰۸ق‌/۱۹۸۸م‌.
 
* سرخسی‌، محمد. المبسوط. بیروت‌: دارالمعرفه‌.
 
* سرخسی‌، محمد. المبسوط. بیروت‌: دارالمعرفه‌.
* [[شهید ثانی]]، زین‌الدین‌. الروضه البهیه. به‌ کوشش‌ محمد کلان‌تر. بیروت‌. ۱۴۰۳ق‌/ ۱۹۸۳م‌.
+
* شهید ثانی، زین‌الدین‌. الروضه البهیه. به‌ کوشش‌ محمد کلان‌تر. بیروت‌. ۱۴۰۳ق‌/ ۱۹۸۳م‌.
* [[شیخ طوسی]]، محمد. المبسوط. به‌ کوشش‌ محمدباقر بهبودی‌. تهران‌: المکتبه المرتضویه‌.
+
* شیخ طوسی، محمد. المبسوط. به‌ کوشش‌ محمدباقر بهبودی‌. تهران‌: المکتبه المرتضویه‌.
 
* ماوردی‌، علی‌. الحاوی‌ الکبیر. به‌ کوشش‌ علی‌ محمد معوض‌ و دیگران‌. بیروت‌. دارالکتب‌ العلمیه‌.
 
* ماوردی‌، علی‌. الحاوی‌ الکبیر. به‌ کوشش‌ علی‌ محمد معوض‌ و دیگران‌. بیروت‌. دارالکتب‌ العلمیه‌.
 
* محقق‌ حلی‌، جعفر. شرائع‌ الاسلام‌. به‌ کوشش‌ عبدالحسین‌ محمدعلی‌. نجف‌. ۱۳۸۹ق‌/۱۹۶۹م‌.
 
* محقق‌ حلی‌، جعفر. شرائع‌ الاسلام‌. به‌ کوشش‌ عبدالحسین‌ محمدعلی‌. نجف‌. ۱۳۸۹ق‌/۱۹۶۹م‌.
 
* مرداوی‌، علی‌. الانصاف‌. به‌ کوشش‌ محمد حامد فقی‌. بیروت‌. ۱۳۷۷ق‌/۱۹۵۷م‌.
 
* مرداوی‌، علی‌. الانصاف‌. به‌ کوشش‌ محمد حامد فقی‌. بیروت‌. ۱۳۷۷ق‌/۱۹۵۷م‌.
{{خاتمہ}}
 
 
===انگلش مآخذ ===
 
{{چپ‌چین}}
 
 
* GAS.
 
* GAS.
 
* Horten, M. & Wiedemann, Eilhard, X Avicennas Lehre vom Regenbogen nach seiner Werk al - Schifa n , Meteorologische Zeitschrift, 1913.
 
* Horten, M. & Wiedemann, Eilhard, X Avicennas Lehre vom Regenbogen nach seiner Werk al - Schifa n , Meteorologische Zeitschrift, 1913.
{{پایان چپ‌چین}}
+
{{ستون خ}}
  
 
==بیرونی روابط==
 
==بیرونی روابط==
 
*[http://www.cgie.org.ir/fa/publication/entryview/9866 دایرة المعارف بزرگ اسلامی]
 
*[http://www.cgie.org.ir/fa/publication/entryview/9866 دایرة المعارف بزرگ اسلامی]
 
 
{{فروع دین}}
 
{{فروع دین}}
  

نسخہ بمطابق 17:24, 6 فروری 2018

مشہور احکام
220px
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاع
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضہسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ


اَطْعِمَه‌ و اَشْرِبَه‌، فقہ کے ابواب میں سے ایک باب ہے جو کھانے اور پینے کے احکام سے مختص ہے۔ یہ احکام اس باب کے علاوہ شکار اور ذبح، طہارت، حج اور مکاسب کے ابواب میں بھی بیان ہوئے ہیں۔

مشہور احکام
220px
نماز
واجب نمازیں یومیہ نمازیںنماز جمعہنماز عیدنماز آیاتنماز میت
مستحب نمازیں نماز تہجدنماز غفیلہنماز جعفر طیارنماز امام زمانہنماز استسقاءنماز شب قدرنماز وحشتنماز شکرنماز استغاثہدیگر نمازیں
دیگر عبادات
روزہخمسزکاتحججہاد
امر بالمعروف و نہی عن المنکرتولیتبری
احکام طہارت
وضوغسلتیممنجاساتمطہرات
مدنی احکام
وکالتوصیتضمانتکفالتارث
عائلی احکام
شادی بیاهمتعہتعَدُّدِ اَزواجنشوز
طلاقمہریہرضاعہمبستریاستمتاع
عدالتی احکام
قضاوتدیّتحدودقصاصتعزیر
اقتصادی احکام
خرید و فروخت (بیع)اجارہقرضہسود
دیگر احکام
حجابصدقہنذرتقلیدکھانے پینے کے آدابوقفاعتکاف
متعلقہ موضوعات
بلوغفقہشرعی احکامتوضیح المسائل
واجبحراممستحبمباحمکروہ


کھانے والی چیزیں

ایک عام تقسیم کے مطابق کھانے والی چیزیں دو گروہ میں تقسیم ہوتی ہیں یا جانوروں سے حاصل ہوتی ہیں یا جانوروں کے علاوہ کسی اور چیز سے حاصل ہوتی ہیں۔

الف. حیوانات

جانوروں سے حاصل ہونے والی چیزوں میں بھی بحث دو حصوں پر مشتمل ہے جانوروں کی تقسیم بندی نیز حرام گوشت اور حلال گوشت جانوروں کی پہچان۔ جانور تین قسم کے ہیں:

خشکی کے جانور

  • خشکی کے جانور: جو دو قسم کے ہیں:
  1. پالتو جانور.
  2. غیر پالتو جانور: اس قسم کے جانور بھی ان کے خوراک کو دیکھ کر دو قسموں میں تقسیم ہوتے ہیں:
    1. وہ جانور جو گھاس کھانے میں مشترک ہیں۔
    2. وہ جانور جس کے کاٹنے والے دانت ہیں اور گوشتخوار ہیں۔

دریایی جانور

  • دریایی جانور: بعض مذاہب میں ان جانوروں کی اقسام بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے لیکہ شیعہ مذہب میں دریائی جانور بھی مچھلی اور غیر مچھلی میں تقسیم ہوتے ہیں اور مچھلی بھی دو قسم کی ہے یا بدن پر چھلکے ہیں یا نہیں۔
  • پرندے: پرندے بھی دو طرح کے ہیں پنجہ ہے یا پنجہ نہیں۔

ب. غیر جانور

یہ اکثر مختلف جڑی بوٹیوں کو شامل ہے لیکن فقہ میں بعض مخصوص موضوعات جیسے مٹی اور نجاسات کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے۔ فقہ میں ایسے موضوعات ان کو دو عنوان «کھانے والی چیزیں» اور «نہ کھائی جانے والی چیزوں» میں تقسیم ہوتے ہیں۔

بعض کھانے والی چیزوں کا حرم ہونے کا مآخذ

بعض کھانے پینے والی چیزیں حرام ہونے کا سبب قرآن مجید کی بعض آیات ہیں جہاں ان کو استعمال کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ خاص کر بعض آیات میں مردار، خون اور سور کا گوشت کو حرام قرار دیا ہے۔[1] اور یہ منع سنت نبوی میں کھانے والی چیزوں کے بارے میں زیادہ بیان ہوئی ہے اور مذکورہ موارد کے علاوہ بعض دیگر موارد کو بھی ان کے ساتھ شامل کیا ہے۔

فقہی اختلاف کا منشاء

کھانے پینے کی مختلف چیزوں کی شرعی حکم کے بارے میں مختلف مذاہب کے فقہا باہم فرق کرنے کی کچھ وجوہات ہیں:

  1. آیات کو سمجھنے میں فرق
  2. متعارض احادیث کا وجود
  3. طیبات کا حلال ہونا اور خبائث کا حرام ہونے میں طیب اور خبیث کی عرفی تعریف میں اختلاف [2]

اصلی اور ثانوی احکام

فقہ میں کھانے پینے کے بارے میں جو احکام بیان ہوئے ہیں وہ اصلی احکام ہیں اور عادی حالات کے ہیں لیکن بعض اضطراری اور مجبوری حالات میں حرمت کے حکم میں تبدیلی آتی ہے۔ کیونکہ حالات عادی اور معمول کے مطابق نہیں ہیں۔

پینے کی چیزیں

پینے والی چیزیں اگرچہ فقہ میں ان تمام چیزوں کو شامل ہوتی ہیں جن کو پیا جاتا ہے لیکن فقہی مآخذ میں اطعمہ اور اشربہ کے باب میں جن پینے والی چیزوں کا ذکر ہوتا ہے وہ اکثر مست کرنے والی مایع چیزوں کے احکام کے بارے میں خاص ہے۔

مسکرات کا حکم اور اس کا مآخذ

مآخذ کے مطابق مسکر (مست کرنے والی) چیزیں مسلمانوں پر بعثت کے ابتدائی سالوں میں حرام نہیں ہوئی ہیں اس بارے میں زیادہ تاکید مكی‌ دو آیتیں [3] اور مدنی‌ تین آیتوں[4] میں ہوئی ہے۔[5]

مُسکر مایعات

مست کرنے والی مایع چیزوں کو پینا حرام ہونے میں اسلامی مذاہب کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے لیکن مصداق میں اختلاف ہے کہ کہ کونسی چیز مست کرنے والی ہے اور کونسی نہیں اس میں خاص کر‌ نبیذ [نوٹ 1] اور فقّاع‌ تاریخ میں مختلف مذاہب کے درمیان مورد اختلاف رہے ہیں۔.[6]

کھانے پینے کے بارے میں لکھی گئی کتابیں

اس بارے میں الاشربه‌ کے نام سے بہت ساری کتابیں ملتی ہیں جن میں سے معتزله کے علما جیسے‌ جعفر بن‌ مبشر اور ابوجعفر اسکافی[7]، اور اصحاب حدیث میں سے‌ احمد بن حنبل وغیرہ قابل ذکر ہیں۔[8] صفویہ دور کے بعد بعض فقہی کتابیں‌ الاطعمه و الاشربه کے نام سے شیعہ فقہ میں لکھی گئی ہیں جیسے رضی‌ الدین‌ خوانساری‌ (متوفی ۱۱۲۵ھ‌) کی کتاب قابل ذکر ہے۔[9]

حوالہ جات

  1. بقره‌، آیه۱۷۳؛ مائده، آیه ۳؛ انعام، آیه۱۴۵؛ نحل، آیه ۱۱۵
  2. اعراف، آیه۱۵۷. تفصیل‌ کیلیے مراجعہ کریں: ماوردی‌، الحاوی الکبیر، ج۵، ص۱۳۷ کے‌ بعد؛ ابن‌ رشد، الفهرست، ج۱، ص۴۶۴ کے‌ بعد؛ محقق‌ حلی‌، شرایع الاسلام، ج۳، ص۲۱۷ کے بعد؛ مرداوی‌، الانصاف، ج۱۰، ص۳۰۴ کے بعد؛ شهید ثانی‌، الروضه البهیه، ج۲، ص۲۷۷ کے‌ بعد
  3. اعراف(۷): ۳۲؛ نحل(۱۶):۶۷
  4. نساء، آیه۴۳؛ بقره‌، آیه۲۱۹؛ مائده، آیه۹۰
  5. مراجعہ کریں: سرخسی‌، المبسوط، ج۲۴، ص۲-۳؛ نیز طوسی‌، المبسوط، ج۷، ص۵۷-۵۸؛ ماوردی‌، الحاوی الکبیر، ج۱۳، ص۳۷۸-۳۸۴
  6. بعض موارد کے لیے مراجعہ کریں: رودانی‌، صلة الخلف، ص۱۲۹؛ آقابزرگ‌، الذریعه، ج۲، ص۲۱۷
  7. مراجعہ کریں: ابن‌ ندیم‌، الفهرست، ص۲۰۸، ۲۱۳
  8. مراجعہ کریں: I/507؛ GAS, دیگر کتابوں کے لئے مراجعہ کریں: ابن‌ ندیم‌، الفهرست، ص۲۸۶، جاهای مختلف؛ رودانی‌، صلة الخلف؛ آقابزرگ‌، الذریعه، ج۲، ص۱۰۴-۱۰۶
  9. مراجعہ کریں: آقابزرگ، الذریعه، ج۲، ص۲۱۷-۲۱۸


مآخذ

  • تهرانی، آقابزرگ، الذریعة.
  • ابن‌ رشد، محمد. بدایه المجتهد. بیروت‌. ۱۴۰۲ق‌/ ۱۹۸۲م‌.
  • ابن ندیم، الفهرست.
  • رودانی‌، محمد. صله الخلف‌. به‌ کوشش‌ محمد حجی‌. بیروت‌. ۱۴۰۸ق‌/۱۹۸۸م‌.
  • سرخسی‌، محمد. المبسوط. بیروت‌: دارالمعرفه‌.
  • شهید ثانی، زین‌الدین‌. الروضه البهیه. به‌ کوشش‌ محمد کلان‌تر. بیروت‌. ۱۴۰۳ق‌/ ۱۹۸۳م‌.
  • شیخ طوسی، محمد. المبسوط. به‌ کوشش‌ محمدباقر بهبودی‌. تهران‌: المکتبه المرتضویه‌.
  • ماوردی‌، علی‌. الحاوی‌ الکبیر. به‌ کوشش‌ علی‌ محمد معوض‌ و دیگران‌. بیروت‌. دارالکتب‌ العلمیه‌.
  • محقق‌ حلی‌، جعفر. شرائع‌ الاسلام‌. به‌ کوشش‌ عبدالحسین‌ محمدعلی‌. نجف‌. ۱۳۸۹ق‌/۱۹۶۹م‌.
  • مرداوی‌، علی‌. الانصاف‌. به‌ کوشش‌ محمد حامد فقی‌. بیروت‌. ۱۳۷۷ق‌/۱۹۵۷م‌.
  • GAS.
  • Horten, M. & Wiedemann, Eilhard, X Avicennas Lehre vom Regenbogen nach seiner Werk al - Schifa n , Meteorologische Zeitschrift, 1913.

بیرونی روابط


خطا در حوالہ: <ref> tags exist for a group named "نوٹ", but no corresponding <references group="نوٹ"/> tag was found, or a closing </ref> is missing