"ابراہیم بن ادہم" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
(حوالہ جات)
(ایک ہی صارف کا 4 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 133: سطر 133:
 
{{خاتمہ}}
 
{{خاتمہ}}
 
{{اصحاب امام باقر}}
 
{{اصحاب امام باقر}}
 +
 +
[[زمرہ:امام باقر کے راوی]]
 +
[[زمرہ:دوسری صدی  ہجری کے صوفی]]
 +
[[زمرہ:عرفا]]
 +
[[زمرہ:امام سجاد کے ہم عصر]]
 +
[[زمرہ:مشایخ صوفیہ]]
  
 
[[fa:ابراهیم بن ادهم]]
 
[[fa:ابراهیم بن ادهم]]
 
[[ar:إبراهيم بن أدهم]]
 
[[ar:إبراهيم بن أدهم]]
 
[[en:Ibrahim b. Adham]]
 
[[en:Ibrahim b. Adham]]

نسخہ بمطابق 08:31, 12 فروری 2020

ابراہیم بن ادہم
إبراهيم بن أدهم.jpg
ذاتی کوائف
نام: ابراہیم بن ادہم
تاریخ پیدائش: ۸۰ یا ۱۰۰ھ
محل زندگی: بلخ، نیشاپور، مکہ اور شام
وفات: ۱۶۰ھ
مدفن: شام
صحابی: امام سجادؑ، امام باقرؑ و امام صادقؑ
حدیثی معلومات
نقل حدیث: امام باقرؑ
مشایخ: محمد بن زیاد جمحی، ابی اسحاق، مالک بن دینار، اعمش
شہرت: عرفان و زہد


اِبراہیم بن اَدہَم (۸۰-۱۶۱ھ) تین شیعہ ائمہؑ، یعنی امام سجادؑ، امام باقرؑ اور امام صادقؑ کے ہم عصر عرفاء میں سے تھے۔ ان کا نام متقدم شیعہ کتب رجال میں ذکر نہیں ہوا ہے، لیکن بعض انہیں شیعہ اور صوفی مذہب قرار دیتے ہیں۔

آپ کا تعلق بلخ کے اشراف اور حکمران خاندان سے تھا، لیکن اچانک زہد کی طرف مائل ہو گئے۔ ابراہیم توبہ کرنے کے بعد مکہ کی طرف چلا گیا اور وہاں پہنچ کر سفیان ثوری اور فضیل عیاض جیسے عرفاء کی ہم نشینی اختیار کی۔ کچھ عرصہ بعد شام چلا گیا اور آخر عمر تک وہیں مقیم رہے۔ انہیں بعض صوفی طریقت‌ جیسے طریقت ادہمیہ اور نقشبندیہ کا سربراہ مانا جاتا ہے۔

آپ کی زندگی، نصایح اور کردار و گفتار کا تذکرہ بہت سارے عرفانی آثار میں ملتا ہے۔ شادی اور صاحب فرزند ہونے کو زہد کے ساتھ ناسازگار مانتے تھے۔ شقیق بلخی آپ کے اہم ترین شاگردوں میں جانا گیا ہے۔

زندگی‌نامہ

ابراہیم بن ادہم بن سلیمان بن منصور بلخی دوسری صدی ہجری کے زاہد[1] اور عرفاء میں سے تھے۔[2] آپ کی کنیت ابواسحاق[3] اور آپ کو "العجلی" نیز کہا جاتا تھا۔[4] ابراہیم ادہم ۸۰ھ[5] یا ۱۰۰ھ[6] کو شہر بلخ کہ اس وقت خراسان کا حصہ تھا میں ایک ایرانی [7] یا عرب خاندان بنی‌ تمیم[8] میں پیدا ہوئے۔[9] کتاب تاریخ اسلام کے مولف ذہبی اس بات کے معتقد ہیں کہ ابراہیم ادہم ان کے والدین کے سفر حج کے دوران مکہ میں پیدا ہوئے تھے۔[10]

ابراہیم اور ان کے باپ دادا شہر بلخ کے امراء[11] حاکم[12] اور اشراف میں سے تھے،[13] لیکن تاریخی منابع کے مطابق انہوں نے تاج و تخت اور زرق و برق کی زندگی کو خیرباد کہہ کر زہد اور فقر کی زندگی گزارنی شروع کی اور عرفان و سلوک اور صوفی طرز زندگی اپنائی۔[14]

مختلف کتابوں من جملہ عرفانی آثار میں ان کی زندگی‌نامہ، کردار و گفتار اور نصایح سے متعلق مختلف مطالب ذکر کرتے ہیں۔[15]بعد منابع مانند تذکرۃ الاولیای عطار نیشابوری میں ان کی خضر نبی کے ساتھ ملاقات اور خدا کے اسم اعظم سے ان کی آگاہی کے بارے میں بھی لکھتے ہیں۔[16]

زہد اختیار کرنا

مختلف اسلامی، منابع میں ابراہیم ادہم کی زہد کی طرف مائل ہونے اور ترک دنیا کے مختلف دلائل بیان کئے ہیں؛ من جملہ ان میں شکار کے دوران کسی غیبی آواز کا سننا،[17] یا کسی ہرن کا گویا ہونا،[18] یا کسی مزدور کو دیکھنا جو کم ترین سہولیات زندگی کے ساتھ زندگی سے لطف اندوز ہونا۔[19] چنانچہ خود انہی کی زبانی نقل ہوا ہے کہ زہد کی طرف مائل ہونا اور ترک دنیا کے دلائل کو درج ذیل موراد بیان کرتے ہیں: قبر کی وحشت اور تنہائی سے خوف، قیامت کا طولانی سفر اور زاد راہ کا نہ ہونا، خدا کی جباریت اور کسی غذر کا نہ ہونا۔[20] [نوٹ 1]

ان کے مطابق زہد کی دنیا میں وارد ہونا اور صالحین کے مقام تک پہنچنے کے کچھ شرائط ہیں؛‌ من جملہ یہ کہ:نعمتوں کا دروازہ بند کرنا اور سختیوں کا دروازہ کھولنا، عزت کا دروازہ بند کرنا اور ذلت کا دروازہ کھولنا، آرام و راحت کا دروازہ بند کرنا اور جد و جہد کا دروازہ کھولنا، نیند کا دروازہ بند کرنا اور بیداری کا دروازہ کھولنا، بے نیازی کا دروازہ بند کرنا اور فقر و تندستی کا دروازہ کھولنا، آرزوؤں کا دروازہ بند کرنا اور موت کا دروازہ کھولنا۔[21]

معاصر قلم کار محسن قرائتی ابراہیم ادہم کے مورد نظر زہد کو اسلام کے منافی قرار دیتے ہیں[22] اور کہتے ہیں کہ اس طرح کی زہد سے پیغمبر اسلامؐ نے منع کیا ہے۔[23] ابراہیم ادہم شادی اور صاحب اولاد ہونے کو زہد کے منافی[24] اور گوشہ نشینی کو ضروری سمجھتے ہیں۔[25]

مکہ اور شام کی طرف ہجرت

ابراہیم ادہم توبہ کرنے کے بعد نیشاپور چلا گیا اور 9 سلا تک "البثراء" نامی پہاڑ کے کسی غار میں زندگی بسر کی[26] اور اس کے بعد انہوں نے مکہ ہجرت کی۔ [27] اہل سنت کے مورخ اور محدیث ذہبی کے مطابق انہوں نے ابومسلم خراسانی کے خوف سے بلخ سے باہر جانے کا ارادہ کیا تھا۔[28] ابراہیم ادہم مکہ میں سفیان ثوری اور فضیل بن عیاض جیسے عرفاء سے آشنا ہو گئے[29] اس کے بعد انہوں نے شام کا سفر کیا۔[30] ابراہیم ادہم کو شام میں زہد و عرفان کے رواج کا سبب قرار دیتے ہیں۔[31]

وفات

مختلف تاریخی منابع میں ابراہیم ادہم کی تاریخ وفات مختلف ہے اس بنا پر ۱۶۰ھ[32] ۱۶۱ھ[33]، ۱۶۲ھ[34]، یا ۱۶۶ھ[35] کو ان کی تاریخ وفات کے طور پر ذکر کئے ہیں۔ آپ طبیعی موت وفات پا گئے؛[36] اگرچہ بعض مورخین اس بات کے معتقد ہیں کہ آپ رومیوں کے ساتھ لڑی گئی کسی غزوہ یا جنگ میں[37] روم کے شہر "سوقین" میں مارا گیا۔[38] ان کے محل دفن کے بارے میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے اور شام کے ساحلی شہر منطقہ صور ان میں سے ایک ہے۔[39]

مقام و منزلت

ابراہیم ادہم حسن بصری (متوفی ۱۱۰ھ)، مالک دینار، رابعہ عدویہ، شقیق بلخی اور معروف کرخی (متوفی ۲۰۰ھ) کے ساتھ اسلامی عرفان و تصوف کے پہلے طبقے میں شامل ہیں۔[40] [نوٹ 2] بعض معتقد ہیں کہ صوفی کا نام ہی ابراہیم ادہم کے زمانے سے رائج ہوا۔[41]

بلخ کے صوفی من جملہ ابراہیم ادہم مکتب بصرہ سے متأثر تھے اس بنا پر زہد، عبادت، خوف اور فقر میں بہت زیادہ شدت اختیار کرتے تھے۔[42] ابراہیم ادہم اسی طرح تصوف و عرفان کے چیدہ اشخاص من جملہ حسن بصری اور سفیان ثوری سے بھی متأثر تھے۔[43] لیکن شام کا مکتب تصوف کافی حد تک خود ابراہیم ادہم سے متأثر تھے[44] اور زہد اور عبادت‌ نیز صوفیانہ ریاضتوں میں ابراہیم ادہم سے متأثر تھے۔[45]

ابراہیم ادہم من جملہ محدثین میں بھی شمار ہوتے ہیں[46] اور اہل سنت کتب رجال میں ان کی بہت زیادہ مدح کی گئی ہے اور انہیں ابوحنیفہ اور سفیان ثوری کے اصحاب میں شمار کرتے ہیں۔[47] مذہب حنفیہ کے امام ابوحنیفہ [48] اور جنید بغدادی انہیں نہایت قابل احترام القاب کے ساتھ یاد کرتے ہیں؛[49] یہاں تک کہ یہ یالقاب عرفانی اشعار میں بھی استعمال ہوئے ہیں۔[50] صوفی شاعر اور قلم کار زین العابدین شیروانی (۱۱۹۴-۱۲۵۳ھ) کے مطابق متقدم شیعہ کتب رجال میں ابراہیم ادہم کا نام ذکر نہیں ہوا ہے۔[51] شیعہ فقیہ سید محسن اعرجی کاظمی (۱۱۳۰-۱۲۲۷ھ) ابراہیم ادہم کو کمیل بن زیاد، بشر بن حارث مروزی اور بایزید بسطامی کے ساتھ شیعہ صوفیوں میں سے قرار دیتے ہیں۔[52]

آپ کو بعض صوفی طریقت کے سربراہ مانے جاتے ہیں؛[53] اس بنا پر طریقت ادہمیہ[54] اور نقشبندیہ خود کو ابراہیم ادہم کے توسط سے امام سجادؑ سے متصل قرار دیتے ہیں۔[55] [نوٹ 3]

معصومینؑ سے ارتباط

ابراہیم ادہم امام سجادؑ، امام باقرؑ اور امام صادقؑ کے ہم عصر تھے اور ان ہستیوں کے ساتھ ان کے ارتباط کے بارے میں منابع میں آیا ہے۔ بعض منابع میں آیا ہے کہ آپ امام سجاد کے ملازم تھے۔[56] ابراہیم ادہم اور امام سجادؑ کی ملاقات اور امام کی طرف سے کئے جانے والے نصایح بھی شیعہ منابع میں ذکر ہوا ہے۔[57]

زین العابدین شیروانی ابراہیم ادہم اور امام باقر کی ملاقات کا ذکر کرتے ہیں[58] اور عصر قاجار کے شاعر اور صوفی محمدکاظم اسرار تبریزی (۱۲۶۵-۱۳۱۵ھ) انہیں امام محمد باقر کے مریدوں میں شمار کرتے ہیں۔[59] ان کے توسط سے امام باقرؑ سے بعض احادیث بھی حدیثی آثار میں ذکر ہوئی ہیں۔[60]

کتاب سفینۃ البحار اور دیگر منابع میں آیا ہے کہ امام صادقؑ کا کوفہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کے موقع پر ابراہیم ادہم بھی آپ کے مشایعت‌ کرنے والوں میں سے تھے[61] اور بعض منابع میں ابراہیم ادہم کو امام صادقؑ کا خادم قرار دیا ہے۔[62]

اساتید اور شاگرد

ابراہیم ادہم نے امام باقرؑ، محمد بن زیاد جمحی، ابی اسحاق، مالک بن دینار، اعمش اور اپنے والد سے احادیث نقل کی ہیں۔[63]

ان کا سب سے معروف‌ شاگرد شقیق بلخی ہیں جو بزرگ عرفاء اور امام کاظمؑ کے شاگردوں میں سے تھے[64] اور مشہور کے مطابق آپ [65] ابراہیم ادہم کے مرید اور تربیت‌یافتہ[66] یا ساتھی اور ہم صحبت تھے۔[67]

شعر اور ادبیات میں ان کا تذکرہ

ابراہیم ادہم کی شیوہ زندگی، کردار اور نصایح کی عکاسی شعرا کے اشعار خاص کر عارفان میں دیکھا جا سکتا ہے یہاں تک کہ مختلف موضوعات جیسے زندگی‌نامہ،[68] توبہ کی داستان، زہد کی طرف مائل ہونا،[69]سبب ہجرت،[70] حضرت خضر کے ساتھ ملاقات،[71] مناجات،[72] کرامات‌،[73] اور دیگر مختلف موضوعات میں[74] ان کی حکایات کو شعر کی صورت میں بیان کئے گئے ہیں۔

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. سہرودی، عوارف المعارف، ۱۳۷۵ش، ص۴۔
  2. طباطبایی، شیعہ در اسلام، ۱۳۷۸ش، ص۱۱۰۔
  3. سلمی، طبقات الصوفیۃ، ۱۴۲۴ق، ص۱۵؛ ہجویری، کشف المحجوب، ۱۳۷۵ش، ص۱۲۸۔
  4. ابن کثیر، البدایہ و النہایہ، ۱۴۰۷، ج۱۰، ص۱۳۵۔
  5. فقیر اصطہباناتی، خرابات، ۱۳۷۷ش، ص۱۲۹۔
  6. ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ۱۴۰۶ق، ج۷، ص۳۸۷-۳۸۸۔
  7. پیرجمال اردستانی، مرآت الأفراد، ۱۳۷۱ش، ص۳۳۲۔
  8. ذہبی، تاریخ الإسلام، ۱۴۱۳ق، ج۱۰، ص۴۴؛ فقیر اصطہباناتی، خرابات، ۱۳۷۷ش، ص۱۲۹۔
  9. سلمی، طبقات الصوفیہ، ۱۴۲۴ق، ص۱۵۔
  10. ذہبی، تاریخ الإسلام، ۱۴۱۳ق، ج۱۰، ص۴۵۔
  11. سلمی، طبقات الصوفیۃ، ۱۴۲۴ق، ص۱۵۔
  12. مطہری، مجموعہ آثار، ۱۳۷۷ش، ص۴۸۔
  13. ذہبی، تاریخ الإسلام، ۱۴۱۳ق، ج۱۰، ص۴۵؛ خوارزمی، ینبوع الأسرار، ۱۳۸۴ش، ج۱، ص۳۷۷۔
  14. سجادی، فرہنگ معارف اسلامی، ۱۳۷۳ش، ج۱، ص۱۲۶؛ مطہری، مجموعہ آثار، ۱۳۷۷ش، ص۲۳۷۔
  15. نمونہ کے لئے ملاحظہ کریں: عطار نیشابوری، تذکرہ الأولیاء، ۱۹۰۵م، ص۹۴؛ قشیری، رسالہ قشیریہ، ۱۳۷۴ش، ص۳۴۵، ۴۳۰، ۴۵۵؛ ہجویری، کشف المحجوب، ۱۳۷۵ش، ص۱۲۹؛ مستملی بخاریی، شرح التعرف لمذہب التصوف، ۱۳۶۳ش، ج۱، ص۲۲۶؛ نسفی، راز ربانی اسرار الوحی سبحانی، ۱۳۷۸ش، ص۱۲۷، ۱۶۳؛ سہروردی، عوارف المعارف، ۱۳۷۵ش، ص۳؛ غزالی، ترجمہ احیاء علوم الدین، ۱۳۸۶ش، ج۳، ص۱۸۵؛ سلمی، مجموعۃ آثار السلمی، ۱۳۶۹ش، ج۱، ص۳۶۶؛ غزالی، کیمیای سعادت، ۱۳۸۳ش، ج۱، ص۳۶۳؛ میبدی، کشف الأسرار و عدۃ الأبرار، ۱۳۷۱ش، ج۵، ص۴۵۱؛ سمعانی، روح الأرواح فی شرح أسماء الملک الفتاح، ۱۳۸۴ش، ص۱۶۹، ۵۱۳؛ انصاریان، عرفان اسلامی، ۱۳۸۶ش، ج۲، ص۴۶۲؛ مشکینی، نصایح و سخنان چہاردہ معصوم(ع) و ہزار و یک سخن، ۱۳۸۲ش، ص۱۶۵؛ فقیر اصطہباناتی، خرابات، ۱۳۷۷ش، ص۹۲؛ فیض کاشانی، راہ روشن، ۱۳۷۲ش، ج۵، ص۲۲۰؛ دیلمی، ترجمہ إرشاد القلوب دیلمی، ۱۳۴۹ش، ج۲، ص۲۷۷؛ کراجکی، نزہۃ النواظر در ترجمہ معدن الجواہر، تہران، ص۷۷؛ جامی، نفحات الأنس، ۱۸۵۸م، ص۴
  16. عطار نیشابوری، تذکرہ الأولیاء، ۱۹۰۵م، ص۸۸؛ شیروانی، ریاض السیاحہ، ۱۳۶۱ش، ج۱، ص۱۱؛ ابن خمیس الموصلی، مناقب الأبرار و محاسن الأخیار فی طبقات الصوفیۃ، ۱۴۲۷ق، ج۱، ص۵۱۔
  17. ابن کثیر، البدایہ و النہایہ، ۱۴۰۷ق، ج۱۰، ص۱۳۵؛ سلمی، طبقات الصوفیۃ، ۱۴۲۴ق، ص۱۵؛ ابن الملقن، طبقات الأولیاء، ۱۴۲۷ق، ص۳۷؛ مناوی، الکواکب الدریۃ فی تراجم السادۃ الصوفیۃ، ۱۹۹۹م، ج۱، ص۱۹۵؛ زقزوق، موسوعۃ التصوف الاسلامی، ۱۴۳۰ق، ص۲۰۲؛ ابن خمیس الموصلی، مناقب الأبرار و محاسن الأخیار فی طبقات الصوفیہ، ۱۴۲۷ق، ج۱، ص۵۱۔
  18. ہجویری، کشف المحجوب، ۱۳۷۵ش، ص۱۲۸۔
  19. مظاہری، اخلاق و جوان، ۱۳۸۷ش، ج۱، ص۱۰۳۔
  20. مشکینی، نصایح و سخنان چہاردہ معصوم(ع) و ہزار و یک سخن، ۱۳۸۲ش، ص۱۶۵۔
  21. سہروردی، عوارف المعارف، ۱۳۷۵ش، ص۳۔
  22. قرائتی، گناہ‌شناسی، ۱۳۸۶ش، ص۱۹۷۔
  23. قرائتی، گناہ‌شناسی، ۱۳۸۶ش، ص۱۹۷۔
  24. عطار نیشابوری، تذکرہ الأولیاء، ۱۹۰۵م، ص۹۳؛ کاشانی، مجموعہ رسائل و مصنفات کاشانی، ۱۳۸۰ش، ص۵۴؛ شہید ثانی، منیۃ المرید، ۱۴۰۹ق، ص۲۲۸؛ فقیر اصطہباناتی، خرابات، ۱۳۷۷ش، ص۹۲۔
  25. فقیر اصطہباناتی، خرابات، ۱۳۷۷ش، ص۹۲۔
  26. زبیدی، تاج العروس من جواہر القاموس، ۱۴۱۴ق، ج۶، ص۴۷۔
  27. عطار نیشابوری، تذکرہ الأولیاء، ۱۹۰۵م، ص۸۷۔
  28. ذہبی، تاریخ الإسلام، ۱۴۱۳ق، ج۱۰،ص۴۴۔
  29. سلمی، طبقات الصوفیۃ، ۱۴۲۴ق، ص۱۵؛ فقیر اصطہباناتی، خرابات، ۱۳۷۷ش، ص۱۲۹۔
  30. ابن الملقن، طبقات الأولیاء، ۱۴۲۷ق، ص۳۷۔
  31. کانون نشر و ترویج فرہنگ اسلامی حسنات اصفہان، سیری در سپہر اخلاق، ۱۳۸۹ش، ۱۳۸۹ش، ج۱، ص۱۰۷۔
  32. خوارزمی، ینبوع الأسرار، ۱۳۸۴ش، ج۱، ص۳۷۷۔
  33. سلمی، طبقات الصوفیۃ، ۱۴۲۴ق، ص۱۵؛ ابن الملقن، طبقات الأولیاء، ۱۴۲۷ق، ص۳۹؛ روزبہان ثانی، تحفۃ أہل العرفان، ۱۳۸۲ش، ص۲۱۔
  34. ابن عماد حنبلی، شذرات الذہب، ۱۴۰۶ق، ج۲، ص۲۸۲؛ پیرجمال اردستانی، مرآت الأفراد، ۱۳۷۱ش، ص۳۳۲۔
  35. خوارزمی، ینبوع الأسرار، ۱۳۸۴ش، ج۱، ص۳۷۷۔
  36. خوارزمی، ینبوع الأسرار، ۱۳۸۴ش، ج۱، ص۳۷۷ بہ نقل از تذکرہ الاولیا
  37. روزبہان ثانی، تحفۃ أہل العرفان، ۱۳۸۲ش، ص۲۱۔
  38. زبیدی، تاج العروس من جواہر القاموس،۱۴۱۴ق، ج۱۳، ص۲۳۲؛ خوارزمی، ینبوع الأسرار، ۱۳۸۴ش، ج۱، ص۳۷۷۔
  39. ابن الملقن، طبقات الأولیاء، ۱۴۲۷ق، ص۳۹؛ مزید معلومات کے لئے ملاحظہ کریں: زرکلی، الاعلام، ۱۹۸۹م، ج۱، ص۳۱۔
  40. احمدپور، کتاب‌شناخت اخلاق اسلامی، گزارش تحلیلی میراث مکاتب اخلاق اسلامی، ۱۳۸۵ش، ص۳۷۔
  41. احمدپور، کتاب‌شناخت اخلاق اسلامی، گزارش تحلیلی میراث مکاتب اخلاق اسلامی، ۱۳۸۵ش، ص۳۷
  42. سلمی، مجموعۃ آثار أبوعبد الرحمن سلمی، ۱۳۶۹ش، ج۲، ص۳۵۸۔
  43. کانون نشر و ترویج فرہنگ اسلامی حسنات اصفہان، سیری در سپہر اخلاق، ۱۳۸۹ش، ج۱، ص۱۰۷۔
  44. کانون نشر و ترویج فرہنگ اسلامی حسنات اصفہان، سیری در سپہر اخلاق، ۱۳۸۹ش، ج۱، ص۱۰۷۔
  45. کانون نشر و ترویج فرہنگ اسلامی حسنات اصفہان، سیری در سپہر اخلاق، ۱۳۸۹ش، ج۱، ص۱۰۷۔
  46. دائرہ المعارف بزرگ اسلامی، ج۱، ذیل واژہ ابراہیم ادہم، ص۴۰۵
  47. شیروانی، ریاض السیاحۃ، ۱۳۶۱ش، ج۱، ص۱۲۔
  48. عطار نیشابوری، تذکرہ الأولیاء، ۱۹۰۵م، ص۸۶۔
  49. عطار نیشابوری، تذکرہ الأولیاء، ۱۹۰۵م، ص۸۵۔
  50. اسیری لاہیجی، أسرار الشہود فی معرفہ الحق المعبود، بی‌تا، ص۱۸۲۔
  51. شیروانی، ریاض السیاحہ، ۱۳۶۱ش، ج۱، ص۱۱۔
  52. اعرجی کاظمی، عدۃ الرجال، ۱۴۱۵ق، ج۲، ص۶۰۔
  53. شیروانی، ریاض السیاحہ، ۱۳۶۱ش، ج۱، ص۷؛ میرزا شیرازی، مناہج أنوار المعرفۃ فی شرح مصباح الشریعۃ، ۱۳۶۳ش، ج۱، ص۶۴۵۔
  54. گولپینارلی، مولانا جلال الدین، ۱۳۶۳ش، ص۲۴۶؛ مشکور، فرہنگ فرق اسلامی، ۱۳۷۲ش، ص۳۰۹۔
  55. میرزا شیرازی، مناہج أنوار المعرفۃ فی شرح مصباح الشریعۃ، ۱۳۶۳ش، ج۱، ص۶۴۵۔
  56. شیروانی، ریاض السیاحہ، ۱۳۶۱ش، ج۱، ص۱۹۰۔
  57. نمازی شاہرودی، مستدرکات علم رجال الحدیث، ۱۴۱۴ق، ج۱، ص۱۱۸؛ قمی، سفینۃ البحار، ۱۴۱۴ق، ج۱، ص۲۸۹۔
  58. شیروانی، ریاض السیاحہ، ۱۳۶۱ش، ج۱، ص۱۹۰۔
  59. تبریزی، منظر الأولیاء، ۱