"ابراہیم بن ادہم" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
(زندگی‌نامہ)
(وفات)
(ایک ہی صارف کا 4 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 38: سطر 38:
  
 
مختلف کتابوں من جملہ عرفانی آثار میں ان کی زندگی‌نامہ، کردار و گفتار اور نصایح سے متعلق مختلف مطالب ذکر کرتے ہیں۔<ref>نمونہ کے لئے ملاحظہ کریں: عطار نیشابوری، تذکرہ الأولیاء، ۱۹۰۵م، ص۹۴؛ قشیری، رسالہ قشیریہ، ۱۳۷۴ش، ص۳۴۵، ۴۳۰، ۴۵۵؛ ہجویری، کشف المحجوب، ۱۳۷۵ش، ص۱۲۹؛ مستملی بخاریی، شرح التعرف لمذہب التصوف، ۱۳۶۳ش، ج۱، ص۲۲۶؛ نسفی، راز ربانی اسرار الوحی سبحانی، ۱۳۷۸ش، ص۱۲۷، ۱۶۳؛ سہروردی، عوارف المعارف، ۱۳۷۵ش، ص۳؛ غزالی، ترجمہ احیاء علوم الدین، ۱۳۸۶ش، ج۳، ص۱۸۵؛ سلمی، مجموعۃ آثار السلمی، ۱۳۶۹ش، ج۱، ص۳۶۶؛ غزالی، کیمیای سعادت، ۱۳۸۳ش، ج۱، ص۳۶۳؛ میبدی، کشف الأسرار و عدۃ الأبرار، ۱۳۷۱ش، ج۵، ص۴۵۱؛ سمعانی، روح الأرواح فی شرح أسماء الملک الفتاح، ۱۳۸۴ش، ص۱۶۹، ۵۱۳؛ انصاریان، عرفان اسلامی، ۱۳۸۶ش، ج۲، ص۴۶۲؛ مشکینی، نصایح و سخنان چہاردہ معصوم(ع) و ہزار و یک سخن، ۱۳۸۲ش، ص۱۶۵؛ فقیر اصطہباناتی، خرابات، ۱۳۷۷ش، ص۹۲؛ فیض کاشانی، راہ روشن، ۱۳۷۲ش، ج۵، ص۲۲۰؛ دیلمی، ترجمہ إرشاد القلوب دیلمی، ۱۳۴۹ش، ج۲، ص۲۷۷؛ کراجکی، نزہۃ النواظر در ترجمہ معدن الجواہر، تہران، ص۷۷؛ جامی، نفحات الأنس، ۱۸۵۸م، ص۴</ref>بعد منابع مانند [[تذکرۃ الاولیاء (کتاب)|تذکرۃ الاولیای عطار نیشابوری]] میں ان کی [[خضر نبی]] کے ساتھ ملاقات اور [[اسم اعظم|خدا کے اسم اعظم]] سے ان کی آگاہی کے بارے میں بھی لکھتے ہیں۔<ref>عطار نیشابوری، تذکرہ الأولیاء، ۱۹۰۵م، ص۸۸؛ شیروانی، ریاض السیاحہ، ۱۳۶۱ش، ج۱، ص۱۱؛ ابن خمیس الموصلی، مناقب الأبرار و محاسن الأخیار فی طبقات الصوفیۃ، ۱۴۲۷ق، ج۱، ص۵۱۔ </ref>
 
مختلف کتابوں من جملہ عرفانی آثار میں ان کی زندگی‌نامہ، کردار و گفتار اور نصایح سے متعلق مختلف مطالب ذکر کرتے ہیں۔<ref>نمونہ کے لئے ملاحظہ کریں: عطار نیشابوری، تذکرہ الأولیاء، ۱۹۰۵م، ص۹۴؛ قشیری، رسالہ قشیریہ، ۱۳۷۴ش، ص۳۴۵، ۴۳۰، ۴۵۵؛ ہجویری، کشف المحجوب، ۱۳۷۵ش، ص۱۲۹؛ مستملی بخاریی، شرح التعرف لمذہب التصوف، ۱۳۶۳ش، ج۱، ص۲۲۶؛ نسفی، راز ربانی اسرار الوحی سبحانی، ۱۳۷۸ش، ص۱۲۷، ۱۶۳؛ سہروردی، عوارف المعارف، ۱۳۷۵ش، ص۳؛ غزالی، ترجمہ احیاء علوم الدین، ۱۳۸۶ش، ج۳، ص۱۸۵؛ سلمی، مجموعۃ آثار السلمی، ۱۳۶۹ش، ج۱، ص۳۶۶؛ غزالی، کیمیای سعادت، ۱۳۸۳ش، ج۱، ص۳۶۳؛ میبدی، کشف الأسرار و عدۃ الأبرار، ۱۳۷۱ش، ج۵، ص۴۵۱؛ سمعانی، روح الأرواح فی شرح أسماء الملک الفتاح، ۱۳۸۴ش، ص۱۶۹، ۵۱۳؛ انصاریان، عرفان اسلامی، ۱۳۸۶ش، ج۲، ص۴۶۲؛ مشکینی، نصایح و سخنان چہاردہ معصوم(ع) و ہزار و یک سخن، ۱۳۸۲ش، ص۱۶۵؛ فقیر اصطہباناتی، خرابات، ۱۳۷۷ش، ص۹۲؛ فیض کاشانی، راہ روشن، ۱۳۷۲ش، ج۵، ص۲۲۰؛ دیلمی، ترجمہ إرشاد القلوب دیلمی، ۱۳۴۹ش، ج۲، ص۲۷۷؛ کراجکی، نزہۃ النواظر در ترجمہ معدن الجواہر، تہران، ص۷۷؛ جامی، نفحات الأنس، ۱۸۵۸م، ص۴</ref>بعد منابع مانند [[تذکرۃ الاولیاء (کتاب)|تذکرۃ الاولیای عطار نیشابوری]] میں ان کی [[خضر نبی]] کے ساتھ ملاقات اور [[اسم اعظم|خدا کے اسم اعظم]] سے ان کی آگاہی کے بارے میں بھی لکھتے ہیں۔<ref>عطار نیشابوری، تذکرہ الأولیاء، ۱۹۰۵م، ص۸۸؛ شیروانی، ریاض السیاحہ، ۱۳۶۱ش، ج۱، ص۱۱؛ ابن خمیس الموصلی، مناقب الأبرار و محاسن الأخیار فی طبقات الصوفیۃ، ۱۴۲۷ق، ج۱، ص۵۱۔ </ref>
 +
=== زہد اختیار کرنا===
 +
مختلف اسلامی، منابع میں ابراہیم ادہم کی [[زہد]] کی طرف مائل ہونے اور ترک دنیا کے مختلف دلائل بیان کئے ہیں؛ من جملہ ان میں شکار کے دوران کسی غیبی آواز کا سننا،<ref>ابن کثیر، البدایہ و النہایہ، ۱۴۰۷ق، ج۱۰، ص۱۳۵؛ سلمی، طبقات الصوفیۃ، ۱۴۲۴ق، ص۱۵؛ ابن الملقن، طبقات الأولیاء، ۱۴۲۷ق، ص۳۷؛ مناوی، الکواکب الدریۃ فی تراجم السادۃ الصوفیۃ، ۱۹۹۹م، ج۱، ص۱۹۵؛ زقزوق، موسوعۃ التصوف الاسلامی، ۱۴۳۰ق، ص۲۰۲؛ ابن خمیس الموصلی، مناقب الأبرار و محاسن الأخیار فی طبقات الصوفیہ، ۱۴۲۷ق، ج۱، ص۵۱۔</ref> یا کسی ہرن کا گویا ہونا،<ref>ہجویری، کشف المحجوب، ۱۳۷۵ش، ص۱۲۸۔</ref> یا کسی مزدور کو دیکھنا جو کم ترین سہولیات زندگی کے ساتھ زندگی سے لطف اندوز ہونا۔<ref>مظاہری، اخلاق و جوان، ۱۳۸۷ش، ج۱، ص۱۰۳۔</ref> چنانچہ خود انہی کی زبانی نقل ہوا ہے کہ [[زہد]] کی طرف مائل ہونا اور ترک دنیا کے دلائل کو درج ذیل موراد بیان کرتے ہیں: [[وحشت قبر|قبر کی وحشت]] اور تنہائی سے خوف، [[قیامت]] کا طولانی سفر اور زاد راہ کا نہ ہونا، [[خدا]] کی جباریت اور کسی غذر کا نہ ہونا۔<ref>مشکینی، نصایح و سخنان چہاردہ معصوم(ع) و ہزار و یک سخن، ۱۳۸۲ش، ص۱۶۵۔</ref> {{نوٹ| ابراہیم بن ادہم کا زہد کی طرف مائل ہونے کے مزید دلائل بھی بیان کئے جاتے ہیں۔ مزید معلومات کے لئے رجوع کریں: عطار نیشابوری، تذکرہ الأولیاء، ۱۹۰۵م، ص۸۶؛ فاطمی، گنجینہ اخلاق؛ جامع الدرر فاطمی، ۱۳۸۴ش، ج۲، ص۱۵۴؛ مستملی بخاریی، شرح التعرف لمذہب التصوف، ۱۳۶۳ش، ج۱، ص۲۰۲۔}}
 +
 +
ان کے مطابق [[زہد]] کی دنیا میں وارد ہونا اور صالحین کے مقام تک پہنچنے کے کچھ شرائط ہیں؛‌ من جملہ یہ کہ:نعمتوں کا دروازہ بند کرنا اور سختیوں کا دروازہ کھولنا، عزت کا دروازہ بند کرنا اور ذلت کا دروازہ کھولنا، آرام و راحت کا دروازہ بند کرنا اور جد و جہد کا دروازہ کھولنا، نیند کا دروازہ بند کرنا اور بیداری کا دروازہ کھولنا، بے نیازی کا دروازہ بند کرنا اور فقر و تندستی کا دروازہ کھولنا، آرزوؤں کا دروازہ بند کرنا اور [[موت]] کا دروازہ کھولنا۔<ref>سہروردی، عوارف المعارف، ۱۳۷۵ش، ص۳۔</ref>
 +
 +
معاصر قلم کار [[محسن قرائتی]] ابراہیم ادہم کے مورد نظر زہد کو اسلام کے منافی قرار دیتے ہیں<ref>قرائتی، گناہ‌شناسی، ۱۳۸۶ش، ص۱۹۷۔</ref> اور کہتے ہیں کہ اس طرح کی زہد سے [[پیغمبر اسلامؐ]] نے منع کیا ہے۔<ref>قرائتی، گناہ‌شناسی، ۱۳۸۶ش، ص۱۹۷۔</ref> ابراہیم ادہم [[شادی]] اور صاحب اولاد ہونے کو زہد کے منافی<ref>عطار نیشابوری، تذکرہ الأولیاء، ۱۹۰۵م، ص۹۳؛ کاشانی، مجموعہ رسائل و مصنفات کاشانی، ۱۳۸۰ش، ص۵۴؛ شہید ثانی، منیۃ المرید، ۱۴۰۹ق، ص۲۲۸؛ فقیر اصطہباناتی، خرابات، ۱۳۷۷ش، ص۹۲۔</ref> اور گوشہ نشینی کو ضروری سمجھتے ہیں۔<ref>فقیر اصطہباناتی، خرابات، ۱۳۷۷ش، ص۹۲۔</ref>
 +
=== مکہ اور شام کی طرف ہجرت ===
 +
ابراہیم ادہم توبہ کرنے کے بعد [[نیشاپور]] چلا گیا اور 9 سلا تک "البثراء" نامی پہاڑ کے کسی غار میں زندگی بسر کی<ref>زبیدی، تاج العروس من جواہر القاموس، ۱۴۱۴ق، ج۶، ص۴۷۔</ref> اور اس کے بعد انہوں نے [[مکہ]] ہجرت کی۔ <ref>عطار نیشابوری، تذکرہ الأولیاء، ۱۹۰۵م، ص۸۷۔</ref> اہل سنت کے مورخ اور محدیث ذہبی کے مطابق انہوں نے [[ابومسلم خراسانی]] کے خوف سے بلخ سے باہر جانے کا ارادہ کیا تھا۔<ref>ذہبی، تاریخ الإسلام، ۱۴۱۳ق، ج۱۰،ص۴۴۔</ref> ابراہیم ادہم مکہ میں [[سفیان ثوری]] اور [[فضیل بن عیاض]] جیسے عرفاء سے آشنا ہو گئے<ref>سلمی، طبقات الصوفیۃ، ۱۴۲۴ق، ص۱۵؛ فقیر اصطہباناتی، خرابات، ۱۳۷۷ش، ص۱۲۹۔</ref> اس کے بعد انہوں نے شام کا سفر کیا۔<ref>ابن الملقن، طبقات الأولیاء، ۱۴۲۷ق، ص۳۷۔</ref> ابراہیم ادہم کو شام میں [[زہد]] و [[عرفان]] کے رواج کا سبب قرار دیتے ہیں۔<ref>کانون نشر و ترویج فرہنگ اسلامی حسنات اصفہان، سیری در سپہر اخلاق، ۱۳۸۹ش، ۱۳۸۹ش، ج۱، ص۱۰۷۔</ref>
 +
=== وفات ===
 +
مختلف تاریخی منابع میں ابراہیم ادہم کی تاریخ وفات مختلف ہے اس بنا پر [[سنہ ۱۶۰ ہجری قمری|۱۶۰ھ]]<ref>خوارزمی، ینبوع الأسرار، ۱۳۸۴ش، ج۱، ص۳۷۷۔</ref> [[سنہ ۱۶۱ ہجری قمری|۱۶۱ھ]]<ref>سلمی، طبقات الصوفیۃ، ۱۴۲۴ق، ص۱۵؛ ابن الملقن، طبقات الأولیاء، ۱۴۲۷ق، ص۳۹؛ روزبہان ثانی، تحفۃ أہل العرفان، ۱۳۸۲ش، ص۲۱۔</ref>، [[سنہ ۱۶۲ ہجری قمری|۱۶۲ھ]]<ref>ابن عماد حنبلی، شذرات الذہب، ۱۴۰۶ق، ج۲، ص۲۸۲؛ پیرجمال اردستانی، مرآت الأفراد، ۱۳۷۱ش، ص۳۳۲۔</ref>، یا [[سنہ ۱۶۶ ہجری قمری|۱۶۶ھ]]<ref>خوارزمی، ینبوع الأسرار، ۱۳۸۴ش، ج۱، ص۳۷۷۔</ref> کو ان کی تاریخ وفات کے طور پر ذکر کئے ہیں۔  آپ طبیعی موت وفات پا گئے؛<ref> خوارزمی، ینبوع الأسرار، ۱۳۸۴ش، ج۱، ص۳۷۷ بہ نقل از تذکرہ الاولیا</ref> اگرچہ بعض مورخین اس بات کے معتقد ہیں کہ آپ رومیوں کے ساتھ لڑی گئی کسی غزوہ یا جنگ میں<ref> روزبہان ثانی، تحفۃ أہل العرفان، ۱۳۸۲ش، ص۲۱۔</ref> [[روم]] کے شہر "سوقین" میں مارا گیا۔<ref>زبیدی، تاج العروس من جواہر القاموس،۱۴۱۴ق، ج۱۳، ص۲۳۲؛ خوارزمی، ینبوع الأسرار، ۱۳۸۴ش، ج۱، ص۳۷۷۔</ref> ان کے محل دفن کے بارے میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے اور [[شام]] کے ساحلی شہر منطقہ [[صور]] ان میں سے ایک ہے۔<ref>ابن الملقن، طبقات الأولیاء، ۱۴۲۷ق، ص۳۹؛ مزید معلومات کے لئے ملاحظہ کریں: زرکلی، الاعلام، ۱۹۸۹م، ج۱، ص۳۱۔</ref>
 +
 
== حوالہ جات ==
 
== حوالہ جات ==
 
{{حوالہ جات2}}
 
{{حوالہ جات2}}

نسخہ بمطابق 08:51, 11 فروری 2020

ابراہیم بن ادہم
إبراهيم بن أدهم.jpg
ذاتی کوائف
نام: ابراہیم بن ادہم
تاریخ پیدائش: ۸۰ یا ۱۰۰ھ
محل زندگی: بلخ، نیشاپور، مکہ اور شام
وفات: ۱۶۰ھ
مدفن: شام
صحابی: امام سجادؑ، امام باقرؑ و امام صادقؑ
حدیثی معلومات
نقل حدیث: امام باقرؑ
مشایخ: محمد بن زیاد جمحی، ابی اسحاق، مالک بن دینار، اعمش
شہرت: عرفان و زہد


اِبراہیم بن اَدہَم (۸۰-۱۶۱ھ) تین شیعہ ائمہؑ، یعنی امام سجادؑ، امام باقرؑ اور امام صادقؑ کے ہم عصر عرفاء میں سے تھے۔ ان کا نام متقدم شیعہ کتب رجال میں ذکر نہیں ہوا ہے، لیکن بعض انہیں شیعہ اور صوفی مذہب قرار دیتے ہیں۔

آپ کا تعلق بلخ کے اشراف اور حکمران خاندان سے تھا، لیکن اچانک زہد کی طرف مائل ہو گئے۔ ابراہیم توبہ کرنے کے بعد مکہ کی طرف چلا گیا اور وہاں پہنچ کر سفیان ثوری اور فضیل عیاض جیسے عرفاء کی ہم نشینی اختیار کی۔ کچھ عرصہ بعد شام چلا گیا اور آخر عمر تک وہیں مقیم رہے۔ انہیں بعض صوفی طریقت‌ جیسے طریقت ادہمیہ اور نقشبندیہ کا سربراہ مانا جاتا ہے۔

آپ کی زندگی، نصایح اور کردار و گفتار کا تذکرہ بہت سارے عرفانی آثار میں ملتا ہے۔ شادی اور صاحب فرزند ہونے کو زہد کے ساتھ ناسازگار مانتے تھے۔ شقیق بلخی آپ کے اہم ترین شاگردوں میں جانا گیا ہے۔

زندگی‌نامہ

ابراہیم بن ادہم بن سلیمان بن منصور بلخی دوسری صدی ہجری کے زاہد[1] اور عرفاء میں سے تھے۔[2] آپ کی کنیت ابواسحاق[3] اور آپ کو "العجلی" نیز کہا جاتا تھا۔[4] ابراہیم ادہم ۸۰ھ[5] یا ۱۰۰ھ[6] کو شہر بلخ کہ اس وقت خراسان کا حصہ تھا میں ایک ایرانی [7] یا عرب خاندان بنی‌ تمیم[8] میں پیدا ہوئے۔[9] کتاب تاریخ اسلام کے مولف ذہبی اس بات کے معتقد ہیں کہ ابراہیم ادہم ان کے والدین کے سفر حج کے دوران مکہ میں پیدا ہوئے تھے۔[10]

ابراہیم اور ان کے باپ دادا شہر بلخ کے امراء[11] حاکم[12] اور اشراف میں سے تھے،[13] لیکن تاریخی منابع کے مطابق انہوں نے تاج و تخت اور زرق و برق کی زندگی کو خیرباد کہہ کر زہد اور فقر کی زندگی گزارنی شروع کی اور عرفان و سلوک اور صوفی طرز زندگی اپنائی۔[14]

مختلف کتابوں من جملہ عرفانی آثار میں ان کی زندگی‌نامہ، کردار و گفتار اور نصایح سے متعلق مختلف مطالب ذکر کرتے ہیں۔[15]بعد منابع مانند تذکرۃ الاولیای عطار نیشابوری میں ان کی خضر نبی کے ساتھ ملاقات اور خدا کے اسم اعظم سے ان کی آگاہی کے بارے میں بھی لکھتے ہیں۔[16]

زہد اختیار کرنا

مختلف اسلامی، منابع میں ابراہیم ادہم کی زہد کی طرف مائل ہونے اور ترک دنیا کے مختلف دلائل بیان کئے ہیں؛ من جملہ ان میں شکار کے دوران کسی غیبی آواز کا سننا،[17] یا کسی ہرن کا گویا ہونا،[18] یا کسی مزدور کو دیکھنا جو کم ترین سہولیات زندگی کے ساتھ زندگی سے لطف اندوز ہونا۔[19] چنانچہ خود انہی کی زبانی نقل ہوا ہے کہ زہد کی طرف مائل ہونا اور ترک دنیا کے دلائل کو درج ذیل موراد بیان کرتے ہیں: قبر کی وحشت اور تنہائی سے خوف، قیامت کا طولانی سفر اور زاد راہ کا نہ ہونا، خدا کی جباریت اور کسی غذر کا نہ ہونا۔[20] [نوٹ 1]

ان کے مطابق زہد کی دنیا میں وارد ہونا اور صالحین کے مقام تک پہنچنے کے کچھ شرائط ہیں؛‌ من جملہ یہ کہ:نعمتوں کا دروازہ بند کرنا اور سختیوں کا دروازہ کھولنا، عزت کا دروازہ بند کرنا اور ذلت کا دروازہ کھولنا، آرام و راحت کا دروازہ بند کرنا اور جد و جہد کا دروازہ کھولنا، نیند کا دروازہ بند کرنا اور بیداری کا دروازہ کھولنا، بے نیازی کا دروازہ بند کرنا اور فقر و تندستی کا دروازہ کھولنا، آرزوؤں کا دروازہ بند کرنا اور موت کا دروازہ کھولنا۔[21]

معاصر قلم کار محسن قرائتی ابراہیم ادہم کے مورد نظر زہد کو اسلام کے منافی قرار دیتے ہیں[22] اور کہتے ہیں کہ اس طرح کی زہد سے پیغمبر اسلامؐ نے منع کیا ہے۔[23] ابراہیم ادہم شادی اور صاحب اولاد ہونے کو زہد کے منافی[24] اور گوشہ نشینی کو ضروری سمجھتے ہیں۔[25]

مکہ اور شام کی طرف ہجرت

ابراہیم ادہم توبہ کرنے کے بعد نیشاپور چلا گیا اور 9 سلا تک "البثراء" نامی پہاڑ کے کسی غار میں زندگی بسر کی[26] اور اس کے بعد انہوں نے مکہ ہجرت کی۔ [27] اہل سنت کے مورخ اور محدیث ذہبی کے مطابق انہوں نے ابومسلم خراسانی کے خوف سے بلخ سے باہر جانے کا ارادہ کیا تھا۔[28] ابراہیم ادہم مکہ میں سفیان ثوری اور فضیل بن عیاض جیسے عرفاء سے آشنا ہو گئے[29] اس کے بعد انہوں نے شام کا سفر کیا۔[30] ابراہیم ادہم کو شام میں زہد و عرفان کے رواج کا سبب قرار دیتے ہیں۔[31]

وفات

مختلف تاریخی منابع میں ابراہیم ادہم کی تاریخ وفات مختلف ہے اس بنا پر ۱۶۰ھ[32] ۱۶۱ھ[33]، ۱۶۲ھ[34]، یا ۱۶۶ھ[35] کو ان کی تاریخ وفات کے طور پر ذکر کئے ہیں۔ آپ طبیعی موت وفات پا گئے؛[36] اگرچہ بعض مورخین اس بات کے معتقد ہیں کہ آپ رومیوں کے ساتھ لڑی گئی کسی غزوہ یا جنگ میں[37] روم کے شہر "سوقین" میں مارا گیا۔[38] ان کے محل دفن کے بارے میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے اور شام کے ساحلی شہر منطقہ صور ان میں سے ایک ہے۔[39]

حوالہ جات

  1. سہرودی، عوارف المعارف، ۱۳۷۵ش، ص۴۔
  2. طباطبایی، شیعہ در اسلام، ۱۳۷۸ش، ص۱۱۰۔
  3. سلمی، طبقات الصوفیۃ، ۱۴۲۴ق، ص۱۵؛ ہجویری، کشف المحجوب، ۱۳۷۵ش، ص۱۲۸۔
  4. ابن کثیر، البدایہ و النہایہ، ۱۴۰۷، ج۱۰، ص۱۳۵۔
  5. فقیر اصطہباناتی، خرابات، ۱۳۷۷ش، ص۱۲۹۔
  6. ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ۱۴۰۶ق، ج۷، ص۳۸۷-۳۸۸۔
  7. پیرجمال اردستانی، مرآت الأفراد، ۱۳۷۱ش، ص۳۳۲۔
  8. ذہبی، تاریخ الإسلام، ۱۴۱۳ق، ج۱۰، ص۴۴؛ فقیر اصطہباناتی، خرابات، ۱۳۷۷ش، ص۱۲۹۔
  9. سلمی، طبقات الصوفیہ، ۱۴۲۴ق، ص۱۵۔
  10. ذہبی، تاریخ الإسلام، ۱۴۱۳ق، ج۱۰، ص۴۵۔
  11. سلمی، طبقات الصوفیۃ، ۱۴۲۴ق، ص۱۵۔
  12. مطہری، مجموعہ آثار، ۱۳۷۷ش، ص۴۸۔
  13. ذہبی، تاریخ الإسلام، ۱۴۱۳ق، ج۱۰، ص۴۵؛ خوارزمی، ینبوع الأسرار، ۱۳۸۴ش، ج۱، ص۳۷۷۔
  14. سجادی، فرہنگ معارف اسلامی، ۱۳۷۳ش، ج۱، ص۱۲۶؛ مطہری، مجموعہ آثار، ۱۳۷۷ش، ص۲۳۷۔
  15. نمونہ کے لئے ملاحظہ کریں: عطار نیشابوری، تذکرہ الأولیاء، ۱۹۰۵م، ص۹۴؛ قشیری، رسالہ قشیریہ، ۱۳۷۴ش، ص۳۴۵، ۴۳۰، ۴۵۵؛ ہجویری، کشف المحجوب، ۱۳۷۵ش، ص۱۲۹؛ مستملی بخاریی، شرح التعرف لمذہب التصوف، ۱۳۶۳ش، ج۱، ص۲۲۶؛ نسفی، راز ربانی اسرار الوحی سبحانی، ۱۳۷۸ش، ص۱۲۷، ۱۶۳؛ سہروردی، عوارف المعارف، ۱۳۷۵ش، ص۳؛ غزالی، ترجمہ احیاء علوم الدین، ۱۳۸۶ش، ج۳، ص۱۸۵؛ سلمی، مجموعۃ آثار السلمی، ۱۳۶۹ش، ج۱، ص۳۶۶؛ غزالی، کیمیای سعادت، ۱۳۸۳ش، ج۱، ص۳۶۳؛ میبدی، کشف الأسرار و عدۃ الأبرار، ۱۳۷۱ش، ج۵، ص۴۵۱؛ سمعانی، روح الأرواح فی شرح أسماء الملک الفتاح، ۱۳۸۴ش، ص۱۶۹، ۵۱۳؛ انصاریان، عرفان اسلامی، ۱۳۸۶ش، ج۲، ص۴۶۲؛ مشکینی، نصایح و سخنان چہاردہ معصوم(ع) و ہزار و یک سخن، ۱۳۸۲ش، ص۱۶۵؛ فقیر اصطہباناتی، خرابات، ۱۳۷۷ش، ص۹۲؛ فیض کاشانی، راہ روشن، ۱۳۷۲ش، ج۵، ص۲۲۰؛ دیلمی، ترجمہ إرشاد القلوب دیلمی، ۱۳۴۹ش، ج۲، ص۲۷۷؛ کراجکی، نزہۃ النواظر در ترجمہ معدن الجواہر، تہران، ص۷۷؛ جامی، نفحات الأنس، ۱۸۵۸م، ص۴
  16. عطار نیشابوری، تذکرہ الأولیاء، ۱۹۰۵م، ص۸۸؛ شیروانی، ریاض السیاحہ، ۱۳۶۱ش، ج۱، ص۱۱؛ ابن خمیس الموصلی، مناقب الأبرار و محاسن الأخیار فی طبقات الصوفیۃ، ۱۴۲۷ق، ج۱، ص۵۱۔
  17. ابن کثیر، البدایہ و النہایہ، ۱۴۰۷ق، ج۱۰، ص۱۳۵؛ سلمی، طبقات الصوفیۃ، ۱۴۲۴ق، ص۱۵؛ ابن الملقن، طبقات الأولیاء، ۱۴۲۷ق، ص۳۷؛ مناوی، الکواکب الدریۃ فی تراجم السادۃ الصوفیۃ، ۱۹۹۹م، ج۱، ص۱۹۵؛ زقزوق، موسوعۃ التصوف الاسلامی، ۱۴۳۰ق، ص۲۰۲؛ ابن خمیس الموصلی، مناقب الأبرار و محاسن الأخیار فی طبقات الصوفیہ، ۱۴۲۷ق، ج۱، ص۵۱۔
  18. ہجویری، کشف المحجوب، ۱۳۷۵ش، ص۱۲۸۔
  19. مظاہری، اخلاق و جوان، ۱۳۸۷ش، ج۱، ص۱۰۳۔
  20. مشکینی، نصایح و سخنان چہاردہ معصوم(ع) و ہزار و یک سخن، ۱۳۸۲ش، ص۱۶۵۔
  21. سہروردی، عوارف المعارف، ۱۳۷۵ش، ص۳۔
  22. قرائتی، گناہ‌شناسی، ۱۳۸۶ش، ص۱۹۷۔
  23. قرائتی، گناہ‌شناسی، ۱۳۸۶ش، ص۱۹۷۔
  24. عطار نیشابوری، تذکرہ الأولیاء، ۱۹۰۵م، ص۹۳؛ کاشانی، مجموعہ رسائل و مصنفات کاشانی، ۱۳۸۰ش، ص۵۴؛ شہید ثانی، منیۃ المرید، ۱۴۰۹ق، ص۲۲۸؛ فقیر اصطہباناتی، خرابات، ۱۳۷۷ش، ص۹۲۔
  25. فقیر اصطہباناتی، خرابات، ۱۳۷۷ش، ص۹۲۔
  26. زبیدی، تاج العروس من جواہر القاموس، ۱۴۱۴ق، ج۶، ص۴۷۔
  27. عطار نیشابوری، تذکرہ الأولیاء، ۱۹۰۵م، ص۸۷۔
  28. ذہبی، تاریخ الإسلام، ۱۴۱۳ق، ج۱۰،ص۴۴۔
  29. سلمی، طبقات الصوفیۃ، ۱۴۲۴ق، ص۱۵؛ فقیر اصطہباناتی، خرابات، ۱۳۷۷ش، ص۱۲۹۔
  30. ابن الملقن، طبقات الأولیاء، ۱۴۲۷ق، ص۳۷۔
  31. کانون نشر و ترویج فرہنگ اسلامی حسنات اصفہان، سیری در سپہر اخلاق، ۱۳۸۹ش، ۱۳۸۹ش، ج۱، ص۱۰۷۔
  32. خوارزمی، ینبوع الأسرار، ۱۳۸۴ش، ج۱، ص۳۷۷۔
  33. سلمی، طبقات الصوفیۃ، ۱۴۲۴ق، ص۱۵؛ ابن الملقن، طبقات الأولیاء، ۱۴۲۷ق، ص۳۹؛ روزبہان ثانی، تحفۃ أہل العرفان، ۱۳۸۲ش، ص۲۱۔
  34. ابن عماد حنبلی، شذرات الذہب، ۱۴۰۶ق، ج۲، ص۲۸۲؛ پیرجمال اردستانی، مرآت الأفراد، ۱۳۷۱ش، ص۳۳۲۔
  35. خوارزمی، ینبوع الأسرار، ۱۳۸۴ش، ج۱، ص۳۷۷۔
  36. خوارزمی، ینبوع الأسرار، ۱۳۸۴ش، ج۱، ص۳۷۷ بہ نقل از تذکرہ الاولیا
  37. روزبہان ثانی، تحفۃ أہل العرفان، ۱۳۸۲ش، ص۲۱۔
  38. زبیدی، تاج العروس من جواہر القاموس،۱۴۱۴ق، ج۱۳، ص۲۳۲؛ خوارزمی، ینبوع الأسرار، ۱۳۸۴ش، ج۱، ص۳۷۷۔
  39. ابن الملقن، طبقات الأولیاء، ۱۴۲۷ق، ص۳۹؛ مزید معلومات کے لئے ملاحظہ کریں: زرکلی، الاعلام، ۱۹۸۹م، ج۱، ص۳۱۔
  1. ابراہیم بن ادہم کا زہد کی طرف مائل ہونے کے مزید دلائل بھی بیان کئے جاتے ہیں۔ مزید معلومات کے لئے رجوع کریں: عطار نیشابوری، تذکرہ الأولیاء، ۱۹۰۵م، ص۸۶؛ فاطمی، گنجینہ اخلاق؛ جامع الدرر فاطمی، ۱۳۸۴ش، ج۲، ص۱۵۴؛ مستملی بخاریی، شرح التعرف لمذہب التصوف، ۱۳۶۳ش، ج۱، ص۲۰۲۔