"ابراہیم بن ادہم" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
(«{{خانہ معلومات راوی | عنوان =ابراہیم بن ادہم | تصویر =إبراهيم بن أ...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا)
 
م
سطر 30: سطر 30:
  
 
آپ کی زندگی، نصایح اور کردار و گفتار کا تذکرہ بہت سارے عرفانی آثار میں ملتا ہے۔ شادی اور صاحب فرزند ہونے کو زہد کے ساتھ ناسازگار مانتے تھے۔ شقیق بلخی آپ کے اہم ترین شاگردوں میں جانا گیا ہے۔
 
آپ کی زندگی، نصایح اور کردار و گفتار کا تذکرہ بہت سارے عرفانی آثار میں ملتا ہے۔ شادی اور صاحب فرزند ہونے کو زہد کے ساتھ ناسازگار مانتے تھے۔ شقیق بلخی آپ کے اہم ترین شاگردوں میں جانا گیا ہے۔
 +
 +
[[fa:ابراهیم بن ادهم]]
 +
[[ar:إبراهيم بن أدهم]]
 +
[[en:Ibrahim b. Adham]]

نسخہ بمطابق 12:39, 10 فروری 2020

ابراہیم بن ادہم
إبراهيم بن أدهم.jpg
ذاتی کوائف
نام: ابراہیم بن ادہم
تاریخ پیدائش: ۸۰ یا ۱۰۰ھ
محل زندگی: بلخ، نیشاپور، مکہ اور شام
وفات: ۱۶۰ھ
مدفن: شام
صحابی: امام سجادؑ، امام باقرؑ و امام صادقؑ
حدیثی معلومات
نقل حدیث: امام باقرؑ
مشایخ: محمد بن زیاد جمحی، ابی اسحاق، مالک بن دینار، اعمش
شہرت: عرفان و زہد


اِبراہیم بن اَدہَم (۸۰-۱۶۱ھ) تین شیعہ ائمہؑ، یعنی امام سجادؑ، امام باقرؑ اور امام صادقؑ کے ہم عصر عرفاء میں سے تھے۔ ان کا نام متقدم شیعہ کتب رجال میں ذکر نہیں ہوا ہے، لیکن بعض انہیں شیعہ اور صوفی مذہب قرار دیا ہے۔

آپ کا تعلق بلخ کے اشراف اور حکمران خاندان سے تھا، لیکن اچانک زہد کی طرف مائل ہو گئے۔ ابراہیم توبہ کرنے کے بعد مکہ کی طرف چلا گیا اور وہاں پہنچ کر سفیان ثوری اور فضیل عیاض جیسے عرفاء کی ہم نشینی اختیار کی۔ کچھ عرصہ بعد شام چلا گیا اور آخر عمر تک وہیں مقیم رہے۔ انہیں بعض صوفی طریقت‌ جیسے طریقت ادہمیہ اور نقشبندیہ کا سربراہ مانا جاتا ہے۔

آپ کی زندگی، نصایح اور کردار و گفتار کا تذکرہ بہت سارے عرفانی آثار میں ملتا ہے۔ شادی اور صاحب فرزند ہونے کو زہد کے ساتھ ناسازگار مانتے تھے۔ شقیق بلخی آپ کے اہم ترین شاگردوں میں جانا گیا ہے۔